قرآني·Qurani
اردو

إقامة الصلاة وسننها

630 احادیث · #803–1432

حدیث 1153 — سنن ابن ماجه 5:351
صحیحصحیحصحیحصحیح - Bukhari And Muslim
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ، مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكِ ابْنِ بُحَيْنَةَ، قَالَ مَرَّ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِرَجُلٍ وَقَدْ أُقِيمَتْ صَلاَةُ الصُّبْحِ وَهُوَ يُصَلِّي فَكَلَّمَهُ بِشَىْءٍ لاَ أَدْرِي مَا هُوَ فَلَمَّا انْصَرَفَ أَحَطْنَا بِهِ نَقُولُ لَهُ مَاذَا قَالَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ قَالَ لِي ‏ "‏ يُوشِكُ أَحَدُكُمْ أَنْ يُصَلِّيَ الْفَجْرَ أَرْبعًا ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن مالک بن بحینہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کے پاس سے گزرے جو نماز پڑھ رہا تھا، اور نماز فجر کے لیے اقامت کہی جا رہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کچھ کہا جو میری سمجھ میں نہیں آیا، جب وہ شخص نماز سے فارغ ہوا تو ہم اس کے گرد یہ پوچھنے کے لیے جمع ہو گئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے کیا کہا تھا؟ اس شخص نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: قریب ہے کہ اب تم میں سے کوئی فجر کی نماز چار رکعت پڑھے ۱؎۔
حدیث 1154 — سنن ابن ماجه 5:352
صحیحصحیحصحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ رَأَى النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ رَجُلاً يُصَلِّي بَعْدَ صَلاَةِ الصُّبْحِ رَكْعَتَيْنِ فَقَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ أَصَلاَةَ الصُّبْحِ مَرَّتَيْنِ؟ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ إِنِّي لَمْ أَكُنْ صَلَّيْتُ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ قَبْلَهَا فَصَلَّيْتُهُمَا ‏.‏ قَالَ فَسَكَتَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏.‏
قیس بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا جو نماز فجر کے بعد دو رکعت پڑھ رہا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا نماز فجر دو بار پڑھ رہے ہو؟ ، اس شخص نے کہا: میں نماز فجر سے پہلے کی دو رکعت سنت نہ پڑھ سکا تھا، تو میں نے اب ان کو پڑھ لیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے ۱؎۔
حدیث 1155 — سنن ابن ماجه 5:353
صحیحصحیحصحیح
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَيَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ نَامَ عَنْ رَكْعَتَىِ الْفَجْرِ. فَقَضَاهُمَا بَعْدَ مَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ سو گئے، اور فجر کی سنتیں نہ پڑھ سکے، تو ان کی قضاء سورج نکلنے کے بعد کی۔
حدیث 1156 — سنن ابن ماجه 5:354
ضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ قَابُوسَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَرْسَلَ أَبِي إِلَى عَائِشَةَ أَىُّ صَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ أَحَبَّ إِلَيْهِ أَنْ يُوَاظِبَ عَلَيْهَا؟ قَالَتْ: كَانَ يُصَلِّي أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ. يُطِيلُ فِيهِنَّ الْقِيَامَ، وَيُحْسِنُ فِيهِنَّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ ‏.‏
قابوس اپنے والد (ابوظبیان) سے روایت کرتے ہیں کہ میرے والد نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ( یہ پوچھنے کے لیے ) بھیجا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( ان سنتوں میں سے ) کس سنت پر مداومت پسند فرماتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے پہلے چار رکعت پڑھتے تھے، ان میں قیام لمبا، اور رکوع و سجود اچھی طرح کرتے تھے۔
حدیث 1157 — سنن ابن ماجه 5:355
صحیحصحیحضعیف
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ عُبَيْدَةَ بْنِ مُعَتِّبٍ الضَّبِّيِّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ سَهْمِ بْنِ مِنْجَابٍ، عَنْ قَزَعَةَ، عَنْ قَرْثَعٍ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعًا إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ لاَ يَفْصِلُ بَيْنَهُنَّ بِتَسْلِيمٍ وَقَالَ ‏ "‏ إِنَّ أَبْوَابَ السَّمَاءِ تُفْتَحُ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ ‏"‏ ‏.‏
ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے پہلے سورج ڈھلنے کے بعد چار رکعت پڑھتے تھے اور بیچ میں سلام سے فصل نہیں کرتے تھے، اور فرماتے: سورج ڈھلنے کے بعد آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں ۔
حدیث 1158 — سنن ابن ماجه 5:356
ضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَزَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِذَا فَاتَتْهُ الأَرْبَعُ قَبْلَ الظُّهْرِ صَلاَّهَا بَعْدَ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ لَمْ يُحَدِّثْ بِهِ إِلاَّ قَيْسٌ عَنْ شُعْبَةَ. ‏‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ظہر سے پہلے چار رکعتیں فوت ہو جاتیں تو آپ ان کو ظہر کے بعد کی دونوں رکعتوں کے بعد پڑھ لیتے۔ ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث صرف قیس بن ربیع نے شعبہ سے روایت کی ہے
حدیث 1159 — سنن ابن ماجه 5:357
MunkarMunkarضعیفضعیف
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ أَرْسَلَ مُعَاوِيَةُ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَانْطَلَقْتُ مَعَ الرَّسُولِ فَسَأَلَ أُمَّ سَلَمَةَ فَقَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بَيْنَمَا هُوَ يَتَوَضَّأُ فِي بَيْتِي لِلظُّهْرِ وَكَانَ قَدْ بَعَثَ سَاعِيًا وَكَثُرَ عِنْدَهُ الْمُهَاجِرُونَ وَكَانَ قَدْ أَهَمَّهُ شَأْنُهُمْ إِذْ ضُرِبَ الْبَابُ فَخَرَجَ إِلَيْهِ فَصَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ جَلَسَ يَقْسِمُ مَا جَاءَ بِهِ ‏.‏ قَالَتْ فَلَمْ يَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّى الْعَصْرِ ‏.‏ ثُمَّ دَخَلَ مَنْزِلِي فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ قَالَ ‏ "‏ أَشْغَلَنِي أَمْرُ السَّاعِي أَنْ أُصَلِّيَهُمَا بَعْدَ الظُّهْرِ فَصَلَّيْتُهُمَا بَعْدَ الْعَصْرِ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن حارث کہتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک شخص بھیجا، قاصد کے ساتھ میں بھی گیا، اس نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا، تو انہوں نے کہا کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں نماز ظہر کے لیے وضو کر رہے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ وصول کرنے والا ایک شخص روانہ کیا تھا، آپ کے پاس مہاجرین کی بھیڑ تھی، اور ان کی بدحالی نے آپ کو فکر میں مبتلا کر رکھا تھا کہ اتنے میں کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا، آپ باہر نکلے، ظہر پڑھائی پھر بیٹھے، اور صدقہ وصول کرنے والا جو کچھ لایا تھا اسے تقسیم کرنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم عصر تک ایسے ہی تقسیم کرتے رہے، پھر آپ میرے گھر میں داخل ہوئے، اور دو رکعت پڑھی، اور فرمایا: صدقہ وصول کرنے والے کے معاملے نے مجھے ظہر کے بعد دو رکعت سنت کی ادائیگی سے مشغول کر دیا تھا، اب نماز عصر کے بعد میں نے وہی دونوں رکعتیں پڑھی ہیں ۔
حدیث 1160 — سنن ابن ماجه 5:358
صحیحصحیحصحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشُّعَيْثِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ مَنْ صَلَّى قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعًا، وَبَعْدَهَا أَرْبَعًا، حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ ‏"‏ ‏.‏
ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ظہر سے پہلے چار رکعتیں اور ظہر کے بعد چار رکعتیں پڑھیں تو اللہ تعالیٰ اسے جہنم پر حرام کر دے گا ۔
حدیث 1161 — سنن ابن ماجه 5:359
حسنحسنحسن
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، وَأَبِي، وَإِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ السَّلُولِيِّ، قَالَ سَأَلْنَا عَلِيًّا عَنْ تَطَوُّعِ، رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِالنَّهَارِ فَقَالَ إِنَّكُمْ لاَ تُطِيقُونَهُ فَقُلْنَا أَخْبِرْنَا بِهِ نَأْخُذْ مِنْهُ مَا اسْتَطَعْنَا ‏.‏ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِذَا صَلَّى الْفَجْرَ يُمْهِلُ حَتَّى إِذَا كَانَتِ الشَّمْسُ مِنْ هَاهُنَا - يَعْنِي مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ - بِمِقْدَارِهَا مِنْ صَلاَةِ الْعَصْرِ مِنْ هَا هُنَا - يَعْنِي مِنْ قِبَلِ الْمَغْرِبِ - قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ. ثُمَّ يُمْهِلُ حَتَّى إِذَا كَانَتِ الشَّمْسُ مِنْ هَا هُنَا - يَعْنِي مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ - مِقْدَارَهَا مِنْ صَلاَةِ الظُّهْرِ مِنْ هَا هُنَا قَامَ فَصَلَّى أَرْبَعًا. وَأَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ. وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَهَا. وَأَرْبَعًا قَبْلَ الْعَصْرِ. يَفْصِلُ بَيْنَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ بِالتَّسْلِيمِ عَلَى الْمَلاَئِكَةِ الْمُقَرَّبِينَ وَالنَّبِيِّينَ. وَمَنْ تَبِعَهُمْ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُؤْمِنِينَ ‏.‏ قَالَ عَلِيٌّ: فَتِلْكَ سِتَّ عَشْرَةَ رَكْعَةً. تَطَوُّعُ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِالنَّهَارِ. وَقَلَّ مَنْ يُدَاوِمُ عَلَيْهَا ‏.‏ قَالَ وَكِيعٌ: زَادَ فِيهِ أَبِي: فَقَالَ حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ: يَا أَبَا إِسْحَاقَ مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِحَدِيثِكَ هَذَا مِلْءَ مَسْجِدِكَ هَذَا ذَهَبًا ‏.‏
عاصم بن ضمرہ سلولی کہتے ہیں کہ ہم نے علی رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہوسلم کے دن کی نفل نماز کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: تم ان کو ادا نہ کر سکو گے، ہم نے کہا کہ آپ ہمیں بتائیے، ہم ان میں سے جتنی ادا کر سکیں گے اتنی لے لیں گے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر پڑھنے کے بعد رکے رہتے یہاں تک کہ جب سورج مشرق ( پورب ) کی جانب سے اتنا بلند ہو جاتا جتنا کہ عصر کے وقت مغرب ( پچھم ) کی جانب سے ہوتا ہے تو کھڑے ہوتے اور دو رکعت پڑھتے، ۱؎ پھر ٹھہر جاتے یہاں تک کہ جب سورج ( پورب ) کی جانب سے اتنا بلند ہو جاتا جتنا ظہر کے وقت مغرب ( پچھم ) کی طرف سے بلند ہوتا ہے، تو آپ کھڑے ہوتے اور چار رکعت پڑھتے، ۲؎ اور جب سورج ڈھل جاتا تو نماز ظہر سے پہلے چار رکعت اور اس کے بعد دو رکعت پڑھتے، اور چار رکعت عصر سے پہلے جن میں ہر دو رکعت کے درمیان مقرب فرشتوں، انبیاء کرام اور ان کے پیروکار مسلمانوں اور مومنوں پر سلام بھیج کر فصل کرتے۔ علی رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ سب سولہ رکعتیں ہوئیں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دن میں بطور نفل پڑھتے، اور ایسے لوگ بہت کم ہیں جو پابندی کے ساتھ انہیں پڑھتے رہیں۔ راوی حدیث وکیع کہتے ہیں کہ میرے والد نے اس حدیث میں اتنا اضافہ کیا کہ حبیب بن ابی ثابت نے ابواسحاق سے کہا کہ اے ابواسحاق! اگر اس حدیث کے بدلے مجھے تمہاری اس مسجد بھر سونا ملتا تو میں پسند نہیں کرتا۔
حدیث 1162 — سنن ابن ماجه 5:360
صحیحصحیحصحیحصحیح - Bukhari And Muslim
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، وَوَكِيعٌ، عَنْ كَهْمَسٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏"‏ بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلاَةٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَهَا ثَلاَثًا قَالَ فِي الثَّالِثَةِ ‏"‏ لِمَنْ شَاءَ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر اذان اور اقامت کے درمیان نماز ہے، آپ نے یہ جملہ تین بار فرمایا، اور تیسری مرتبہ میں کہا: اس کے لیے جو چاہے ۱؎۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔