قرآني·Qurani
اردو

إقامة الصلاة وسننها

630 احادیث · #803–1432

حدیث 1183 — سنن ابن ماجه 5:381
صحیحصحیحصحیححسن
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ سُئِلَ عَنِ الْقُنُوتِ، فِي صَلاَةِ الصُّبْحِ فَقَالَ كُنَّا نَقْنُتُ قَبْلَ الرُّكُوعِ وَبَعْدَهُ ‏.‏
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان سے نماز فجر میں دعائے قنوت کے متعلق پوچھا گیا کہ کب پڑھی جائے؟ تو انہوں نے کہا: ہم رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد دونوں طرح دعائے قنوت پڑھا کرتے تھے ۱؎۔
حدیث 1184 — سنن ابن ماجه 5:382
صحیحصحیحصحیحصحیح - Bukhari And Muslim
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنِ الْقُنُوتِ، فَقَالَ قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بَعْدَ الرُّكُوعِ ‏.‏
محمد (محمد بن سیرین) کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے دعائے قنوت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کے بعد دعائے قنوت پڑھی۔
حدیث 1185 — سنن ابن ماجه 5:383
صحیحصحیحصحیحصحیح Muslim
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ وِتْرِ، رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَتْ: مِنْ كُلِّ اللَّيْلِ قَدْ أَوْتَرَ. مِنْ أَوَّلِهِ وَأَوْسَطِهِ، وَانْتَهَى وِتْرُهُ، حِينَ مَاتَ، فِي السَّحَرِ ‏.‏
مسروق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز وتر کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے ہر حصے میں وتر پڑھا، کبھی رات کے شروع حصے میں، کبھی درمیانی حصے میں، اور وفات کے قریبی ایام میں اپنا وتر صبح صادق کے قریب پڑھا۔
حدیث 1186 — سنن ابن ماجه 5:384
حسن Sahihحسن SahihIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: مِنْ كُلِّ اللَّيْلِ قَدْ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم. مِنْ أَوَّلِهِ وَأَوْسَطِهِ، وَانْتَهَى وِتْرُهُ إِلَى السَّحَرِ ‏.‏
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے ہر حصہ میں کبھی شروع میں، اور کبھی بیچ میں، صبح صادق کے طلوع تک نماز وتر پڑھا۔
حدیث 1187 — سنن ابن ماجه 5:385
صحیحصحیحصحیحصحیح Muslim
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي غَنِيَّةَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ مَنْ خَافَ مِنْكُمْ أَنْ لاَ يَسْتَيْقِظَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ، فَلْيُوتِرْ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ ثُمَّ لْيَرْقُدْ. وَمَنْ طَمِعَ مِنْكُمْ أَنْ يَسْتَيْقِظَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ، فَلْيُوتِرْ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ. فَإِنَّ قِرَاءَةَ آخِرِ اللَّيْلِ مَحْضُورَةٌ. وَذَلِكَ أَفْضَلُ ‏"‏ ‏.‏
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کو یہ ڈر ہو کہ وہ رات کے آخری حصے میں بیدار نہ ہو سکے گا تو رات کی ابتداء ہی میں وتر پڑھ لے اور سو جائے، اور جس کو امید ہو کہ وہ رات کے آخری حصہ میں بیدار ہو جائے گا تو رات کے آخری حصہ میں وتر پڑھے کیونکہ آخر رات کی قراءت میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور یہ افضل ہے ۔
حدیث 1188 — سنن ابن ماجه 5:386
صحیحصحیحصحیح
حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ، أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمَدِينِيُّ وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ مَنْ نَامَ عَنِ الْوِتْرِ أَوْ نَسِيَهُ، فَلْيُصَلِّ إِذَا أَصْبَحَ، أَوْ ذَكَرَهُ ‏"‏ ‏.‏
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو نماز وتر سے سو جائے، یا اسے بھول جائے، تو صبح کے وقت یا جب یاد آ جائے پڑھ لے ۔
حدیث 1189 — سنن ابن ماجه 5:387
صحیحصحیحصحیحصحیح Muslim
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَأَحْمَدُ بْنُ الأَزْهَرِ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ أَوْتِرُوا قَبْلَ أَنْ تُصْبِحُوا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى فِي هَذَا الْحَدِيثَ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ حَدِيثَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَاهٍ ‏.‏
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صبح صادق سے پہلے وتر پڑھ لو ۔ محمد بن یحییٰ کہتے ہیں کہ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ عبدالرحمٰن بن زید کی حدیث ضعیف ہے۔
حدیث 1190 — سنن ابن ماجه 5:388
صحیحصحیحIsnaad Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ الْوِتْرُ حَقٌّ. فَمَنْ شَاءَ فَلْيُوتِرْ بِخَمْسٍ. وَمَنْ شَاءَ فَلْيُوتِرْ بِثَلاَثٍ. وَمَنْ شَاءَ فَلْيُوتِرْ بِوَاحِدَةٍ ‏"‏ ‏.‏
ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وتر حق ( ثابت ) ہے، لہٰذا جس کا جی چاہے پانچ رکعت وتر پڑھے، اور جس کا جی چاہے تین رکعت پڑھے، اور جس کا جی چاہے ایک رکعت پڑھے ۔
حدیث 1191 — سنن ابن ماجه 5:389
صحیحصحیحصحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ قُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَفْتِنِي عَنْ وِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏.‏ قَالَتْ كُنَّا نُعِدُّ لَهُ سِوَاكَهُ وَطَهُورَهُ فَيَبْعَثُهُ اللَّهُ فِيمَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَهُ مِنَ اللَّيْلِ فَيَتَسَوَّكُ وَيَتَوَضَّأُ ثُمَّ يُصَلِّي تِسْعَ رَكَعَاتٍ لاَ يَجْلِسُ فِيهَا إِلاَّ عِنْدَ الثَّامِنَةِ فَيَدْعُو رَبَّهُ فَيَذْكُرُ اللَّهَ وَيَحْمَدُهُ وَيَدْعُوهُ ثُمَّ يَنْهَضُ وَلاَ يُسَلِّمُ ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي التَّاسِعَةَ ثُمَّ يَقْعُدُ فَيَذْكُرُ اللَّهَ وَيَحْمَدُهُ وَيَدْعُو رَبَّهُ وَيُصَلِّي عَلَى نَبِيِّهِ ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمًا يُسْمِعُنَا ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ مَا يُسَلِّمُ وَهُوَ قَاعِدٌ فَتِلْكَ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً فَلَمَّا أَسَنَّ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَأَخَذَ اللَّحْمُ أَوْتَرَ بِسَبْعٍ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ مَا سَلَّمَ ‏.‏
سعد بن ہشام کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: ام المؤمنین! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وتر کے بارے میں بتائیے، تو انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مسواک اور وضو کا پانی تیار رکھتے، پھر اللہ تعالیٰ جب چاہتا رات میں آپ کو بیدار کر دیتا، آپ مسواک اور وضو کرتے، پھر نو رکعتیں پڑھتے، بیچ میں کسی بھی رکعت پر نہ بیٹھتے، ہاں آٹھویں رکعت پر بیٹھتے، اپنے رب سے دعا کرتے، اس کا ذکر کرتے اور حمد کرتے ہوئے اسے پکارتے، پھر اٹھ جاتے، سلام نہ پھیرتے اور کھڑے ہو کر نویں رکعت پڑھتے، پھر بیٹھتے اور اللہ کا ذکر اور اس کی حمد و ثنا کرتے، اور اپنے رب سے دعا کرتے، اور اس کے نبی پر درود ( صلاۃ ) پڑھتے، پھر اتنی آواز سے سلام پھیرتے کہ ہم سن لیتے، سلام پھیرنے کے بعد بیٹھے بیٹھے دو رکعت پڑھتے، یہ سب گیارہ رکعتیں ہوئیں، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر زیادہ ہو گئی، اور آپ کا جسم مبارک بھاری ہو گیا، تو آپ سات رکعتیں وتر پڑھتے اور سلام پھیرنے کے بعد دو رکعت پڑھتے تھے۔
حدیث 1192 — سنن ابن ماجه 5:390
صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ زُهَيْرٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يُوتِرُ بِسَبْعٍ أَوْ بِخَمْسٍ لاَ يَفْصِلُ بَيْنَهُنَّ بِتَسْلِيمٍ وَلاَ كَلاَمٍ ‏.‏
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سات یا پانچ رکعتیں وتر پڑھتے تھے، اور ان کے درمیان سلام اور کلام سے فصل نہیں کرتے تھے۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔