قرآني·Qurani
اردو

إقامة الصلاة وسننها

630 احادیث · #803–1432

حدیث 1233 — سنن ابن ماجه 5:431
صحیحصحیحصحیحصحیح - Bukhari And Muslim
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَبَا بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فِي مَرَضِهِ فَكَانَ يُصَلِّي بِهِمْ فَوَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ خِفَّةً فَخَرَجَ وَإِذَا أَبُو بَكْرٍ يَؤُمُّ النَّاسَ فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ اسْتَأْخَرَ فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَىْ كَمَا أَنْتَ فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ حِذَاءَ أَبِي بَكْرٍ إِلَى جَنْبِهِ فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِصَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلاَةِ أَبِي بَكْرٍ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرض الموت میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، وہ لوگوں کو نماز پڑھایا کرتے تھے ( ایک مرتبہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طبیعت میں کچھ ہلکا پن محسوس کیا تو باہر نکلے، اس وقت ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز پڑھا رہے تھے، جب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو پیچھے ہٹنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کیا: اپنی جگہ رہو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر کے برابر ان کے پہلو میں بیٹھ گئے، ابوبکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کر رہے تھے، اور لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اقتداء کر رہے تھے۔
حدیث 1234 — سنن ابن ماجه 5:432
صحیحصحیحصحیحIsnaad Sahih
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، مِنْ كِتَابِهِ فِي بَيْتِهِ قَالَ سَلَمَةُ بْنُ نُبَيْطٍ أَنْبَأَنَا عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنْ نُبَيْطِ بْنِ شَرِيطٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ أُغْمِيَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي مَرَضِهِ ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ ‏"‏ أَحَضَرَتِ الصَّلاَةُ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا نَعَمْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ مُرُوا بِلاَلاً فَلْيُؤَذِّنْ وَمُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ - أَوْ لِلنَّاسِ - ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَيْهِ فَأَفَاقَ فَقَالَ ‏"‏ أَحَضَرَتِ الصَّلاَةُ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا نَعَمْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ مُرُوا بِلاَلاً فَلْيُؤَذِّنْ وَمُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَيْهِ فَأَفَاقَ فَقَالَ ‏"‏ أَحَضَرَتِ الصَّلاَةُ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا نَعَمْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ مُرُوا بِلاَلاً فَلْيُؤَذِّنْ وَمُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَتْ عَائِشَةُ إِنَّ أَبِي رَجُلٌ أَسِيفٌ فَإِذَا قَامَ ذَلِكَ الْمُقَامَ يَبْكِي لاَ يَسْتَطِيعُ فَلَوْ أَمَرْتَ غَيْرَهُ ‏.‏ ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَيْهِ فَأَفَاقَ فَقَالَ ‏"‏ مُرُوا بِلاَلاً فَلْيُؤَذِّنْ وَمُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ فَإِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ أَوْ صَوَاحِبَاتُ يُوسُفَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَأُمِرَ بِلاَلٌ فَأَذَّنَ وَأُمِرَ أَبُو بَكْرٍ فَصَلَّى بِالنَّاسِ ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَجَدَ خِفَّةً فَقَالَ ‏"‏ انْظُرُوا لِي مَنْ أَتَّكِئُ عَلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏ فَجَاءَتْ بَرِيرَةُ وَرَجُلٌ آخَرُ فَاتَّكَأَ عَلَيْهِمَا فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ ذَهَبَ لِيَنْكُصَ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ أَنِ اثْبُتْ مَكَانَكَ ثُمَّ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ حَتَّى جَلَسَ إِلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ حَتَّى قَضَى أَبُو بَكْرٍ صَلاَتَهُ ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قُبِضَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَمْ يُحَدِّثْ بِهِ غَيْرُ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ ‏.‏
سالم بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر مرض الموت میں بے ہوشی طاری ہوئی، پھر ہوش میں آئے، تو آپ نے پوچھا: کیا نماز کا وقت ہو گیا؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلال کو حکم دو کہ وہ اذان دیں، اور ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ، پھر آپ پر بے ہوشی طاری ہوئی، پھر ہوش آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا نماز کا وقت ہو گیا؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلال کو حکم دو کہ وہ اذان دیں، اور ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں پھر آپ پر بے ہوشی طاری ہوئی، پھر ہوش آیا، تو فرمایا: کیا نماز کا وقت ہو گیا؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: جی ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلال کو حکم دو کہ وہ اذان دیں، اور ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میرے والد نرم دل آدمی ہیں، جب اس جگہ پر کھڑے ہوں گے تو رونے لگیں گے، نماز نہ پڑھا سکیں گے، اگر آپ ان کے علاوہ کسی اور کو حکم دیتے ( تو بہتر ہوتا ) ! پھر آپ پر بے ہوشی طاری ہو گئی، پھر ہوش آیا، تو فرمایا: بلال کو حکم دو کہ وہ اذان کہیں، اور ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، تم تو یوسف ( علیہ السلام ) کے ساتھ والیوں جیسی ہو بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا گیا، تو انہوں نے اذان دی، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا گیا تو انہوں نے لوگوں کو نماز پڑھائی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طبیعت میں کچھ ہلکا پن محسوس کیا تو فرمایا: دیکھو کسی کو لاؤ جس پر میں ٹیک دے کر ( مسجد جا سکوں ) بریرہ رضی اللہ عنہا اور ایک شخص آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں پر ٹیک لگایا، جب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کی آمد محسوس کی تو پیچھے ہٹنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا کہ اپنی جگہ پر رہو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں بیٹھ گئے یہاں تک کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنی نماز پوری کی، پھر اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا۔ ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث غریب ہے، نصر بن علی کے علاوہ کسی اور نے اس کو روایت نہیں کیا ہے۔
حدیث 1235 — سنن ابن ماجه 5:433
حسنحسنضعیف
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الأَرْقَمِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ لَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مَرَضَهُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ كَانَ فِي بَيْتِ عَائِشَةَ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ ادْعُوا لِي عَلِيًّا ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَدْعُو لَكَ أَبَا بَكْرٍ قَالَ ‏"‏ ادْعُوهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ حَفْصَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَدْعُو لَكَ عُمَرَ قَالَ ‏"‏ ادْعُوهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ أُمُّ الْفَضْلِ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَدْعُو لَكَ الْعَبَّاسَ قَالَ ‏"‏ نَعَمْ ‏"‏ ‏.‏ فَلَمَّا اجْتَمَعُوا رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ رَأْسَهُ فَنَظَرَ فَسَكَتَ فَقَالَ عُمَرُ قُومُوا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏.‏ ثُمَّ جَاءَ بِلاَلٌ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلاَةِ فَقَالَ ‏"‏ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ رَقِيقٌ حَصِرٌ وَمَتَى لاَ يَرَاكَ يَبْكِي وَالنَّاسُ يَبْكُونَ فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ ‏.‏ فَخَرَجَ أَبُو بَكْرٍ فَصَلَّى بِالنَّاسِ فَوَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً فَخَرَجَ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ وَرِجْلاَهُ تَخُطَّانِ فِي الأَرْضِ فَلَمَّا رَآهُ النَّاسُ سَبَّحُوا بِأَبِي بَكْرٍ فَذَهَبَ لِيَسْتَأْخِرَ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَىْ مَكَانَكَ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَجَلَسَ عَنْ يَمِينِهِ وَقَامَ أَبُو بَكْرٍ فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يَأْتَمُّ بِالنَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَالنَّاسُ يَأْتَمُّونَ بِأَبِي بَكْرٍ ‏.‏ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مِنَ الْقِرَاءَةِ مِنْ حَيْثُ كَانَ بَلَغَ أَبُو بَكْرٍ ‏.‏ قَالَ وَكِيعٌ وَكَذَا السُّنَّةُ ‏.‏ قَالَ فَمَاتَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي مَرَضِهِ ذَلِكَ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہوسلمل اس بیماری میں مبتلا ہوئے جس میں آپ کی وفات ہوئی، اس وقت آپ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علی ( رضی اللہ عنہ ) کو بلاؤ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے رسول! کیا ہم ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلا دیں؟ آپ صلی اللہعلیہ وسلم نے فرمایا: انہیں بلاؤ حفصہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے رسول! کیا عمر رضی اللہ عنہ کو بلا دیں؟ آپ نے فرمایا: بلا دو ، ام الفضل نے کہا: اللہ کے رسول! کیا ہم عباس کو بلا دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں جب سب لوگ جمع ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھا کر ان لوگوں کی طرف دیکھا، اور خاموش رہے، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے اٹھ جاؤ ۱؎، پھر بلال رضی اللہ عنہ آپ کو نماز کی اطلاع دینے کے لیے آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے رسول! ابوبکر رضی اللہ عنہ نرم دل آدمی ہیں، پڑھنے میں ان کی زبان رک جاتی ہے، اور جب آپ کو نہ دیکھیں گے تو رونے لگیں گے، اور لوگ بھی رونا شروع کر دیں گے، لہٰذا اگر آپ عمر رضی اللہ عنہ کو حکم دیں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ( تو بہتر ہو ) ، لیکن ابوبکر رضی اللہ عنہ نکلے، اور انہوں نے لوگوں کو نماز پڑھائی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طبیعت میں کچھ ہلکا پن محسوس کیا، تو دو آدمیوں پر ٹیک دے کر تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں پاؤں زمین پر گھسٹ رہے تھے، جب لوگوں نے آپ کو آتے دیکھا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو «سبحان الله» کہا، وہ پیچھے ہٹنے لگے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اشارہ کیا کہ اپنی جگہ پر رہو، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف آئے، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دائیں جانب بیٹھ گئے، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے رہے، ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کر رہے تھے، اور لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اقتداء کر رہے تھے، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قراءت وہاں سے شروع کی جہاں تک ابوبکر رضی اللہ عنہ پہنچے تھے ۲؎۔ وکیع نے کہا: یہی سنت ہے، راوی نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسی مرض میں انتقال ہو گیا۔
حدیث 1236 — سنن ابن ماجه 5:434
صحیحصحیحصحیحصحیح Muslim
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ تَخَلَّفَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَانْتَهَيْنَا إِلَى الْقَوْمِ وَقَدْ صَلَّى بِهِمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَكْعَةً فَلَمَّا أَحَسَّ بِالنَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ذَهَبَ يَتَأَخَّرُ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنْ يُتِمَّ الصَّلاَةَ قَالَ ‏ "‏ وَقَدْ أَحْسَنْتَ كَذَلِكَ فَافْعَلْ ‏"‏ ‏.‏
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( ایک سفر میں ) پیچھے رہ گئے، اور ہم اس وقت لوگوں کے پاس پہنچے جب عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ انہیں ایک رکعت پڑھا چکے تھے، جب انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد محسوس کی تو پیچھے ہٹنے لگے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو نماز مکمل کرنے کا اشارہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے اچھا کیا، ایسے ہی کیا کرو ۱؎۔
حدیث 1237 — سنن ابن ماجه 5:435
صحیحصحیحصحیح - Bukhari And Muslim
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتِ اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَدَخَلَ عَلَيْهِ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ يَعُودُونَهُ فَصَلَّى النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ جَالِسًا فَصَلَّوْا بِصَلاَتِهِ قِيَامًا فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ أَنِ اجْلِسُوا فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ ‏ "‏ إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ. فَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا. وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا. وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا ‏"‏ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے، تو آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کچھ لوگ آپ کی عیادت کے لیے اندر آئے، آپ نے بیٹھ کر نماز پڑھائی، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کیا کہ بیٹھ جاؤ، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: امام اس لیے بنایا گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، لہٰذا جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، اور جب رکوع سے سر اٹھائے تو تم بھی اپنا سر اٹھاؤ، اور جب بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر پڑھو ۱؎۔
حدیث 1238 — سنن ابن ماجه 5:436
صحیحصحیحصحیحصحیح - Bukhari And Muslim
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ صُرِعَ عَنْ فَرَسٍ فَجُحِشَ شِقُّهُ الأَيْمَنُ فَدَخَلْنَا نَعُودُهُ وَحَضَرَتِ الصَّلاَةُ فَصَلَّى بِنَا قَاعِدًا وَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ قُعُودًا فَلَمَّا قَضَى الصَّلاَةَ قَالَ ‏ "‏ إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا أَجْمَعِينَ ‏"‏ ‏.‏
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے سے گر گئے، تو آپ کے دائیں جانب خراش آ گئی، ہم آپ کی عیادت کے لیے گئے، اتنے میں نماز کا وقت ہو گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بیٹھ کر نماز پڑھائی، اور ہم نے آپ کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پوری کر لی تو فرمایا: امام اس لیے بنایا گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، لہٰذا جب وہ «الله أكبر» کہے، تو تم بھی «الله أكبر» کہو، اور جب رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، اور جب «سمع الله لمن حمده‏» کہے، تو تم لوگ «ربنا ولك الحمد‏» کہو، اور جب سجدہ کرے تو تم سب لوگ سجدہ کرو، اور جب بیٹھ کر نماز پڑھائے تو تم سب لوگ بیٹھ کر نماز پڑھو ۔
حدیث 1239 — سنن ابن ماجه 5:437
صحیحصحیحصحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ وَإِنْ صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا وَإِنْ صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: امام اس لیے بنایا گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، لہٰذا جب وہ «الله أكبر» کہے، تو تم بھی «الله أكبر» کہو، اور جب رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، اور جب «سمع الله لمن حمده‏» کہے تو تم بھی «ربنا ولك الحمد‏» کہو، اور اگر وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو، اور اگر بیٹھ کر پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر پڑھو ۔
حدیث 1240 — سنن ابن ماجه 5:438
صحیحصحیحصحیحصحیح Muslim
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ وَهُوَ قَاعِدٌ وَأَبُو بَكْرٍ يُكَبِّرُ يُسْمِعُ النَّاسَ تَكْبِيرَهُ فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا فَرَآنَا قِيَامًا فَأَشَارَ إِلَيْنَا فَقَعَدْنَا فَصَلَّيْنَا بِصَلاَتِهِ قُعُودًا فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ ‏ "‏ إِنْ كِدْتُمْ أَنْ تَفْعَلُوا فِعْلَ فَارِسَ وَالرُّومِ يَقُومُونَ عَلَى مُلُوكِهِمْ وَهُمْ قُعُودٌ فَلاَ تَفْعَلُوا ائْتَمُّوا بِأَئِمَّتِكُمْ إِنْ صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا وَإِنْ صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا ‏"‏ ‏.‏
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تو ہم نے آپ کے پیچھے نماز پڑھی، آپ بیٹھے ہوئے تھے، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ تکبیر کہہ رہے تھے تاکہ لوگ سن لیں، آپ ہماری جانب متوجہ ہوئے تو ہمیں کھڑے دیکھ کر ہماری جانب اشارہ کیا، ہم بیٹھ گئے، پھر ہم نے آپ کے ساتھ بیٹھ کر نماز پڑھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو فرمایا: اس وقت تم فارس اور روم والوں کی طرح کرنے والے تھے کہ وہ لوگ اپنے بادشاہوں کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں، اور بادشاہ بیٹھے رہتے ہیں، لہٰذا تم ایسا نہ کرو، اپنے اماموں کی اقتداء کرو، اگر وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھائیں تو کھڑے ہو کر نماز پڑھو، اور اگر بیٹھ کر نماز پڑھائیں تو بیٹھ کر نماز پڑھو ۱؎۔
حدیث 1241 — سنن ابن ماجه 5:439
صحیحصحیححسن SahihIsnaad Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، وَحَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ، سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ قَالَ قُلْتُ لأَبِي يَا أَبَتِ إِنَّكَ قَدْ صَلَّيْتَ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ وَعَلِيٍّ هَا هُنَا بِالْكُوفَةِ، نَحْوًا مِنْ خَمْسِ سِنِينَ. فَكَانُوا يَقْنُتُونَ فِي الْفَجْرِ؟ فَقَالَ: أَىْ بُنَىَّ مُحْدَثٌ ‏.‏
ابومالک سعد بن طارق اشجعی کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے کہا: ابا جان! آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پھر ابوبکرو عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے پیچھے اور کوفہ میں تقریباً پانچ سال تک علی رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی ہے، تو کیا وہ لوگ نماز فجر میں دعائے قنوت پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: بیٹے یہ نئی بات ہے ۱؎۔
حدیث 1242 — سنن ابن ماجه 5:440
MawduMawduضعیف
حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ بَكْرٍ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْلَى، زُنْبُورٌ حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنِ الْقُنُوتِ فِي الْفَجْرِ ‏.‏
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز فجر میں دعائے قنوت پڑھنے سے منع کر دیا گیا۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔