قرآني·Qurani
اردو

إقامة الصلاة وسننها

630 احادیث · #803–1432

حدیث 1303 — سنن ابن ماجه 5:501
ضعیفضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ مَا كَانَ شَىْءٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِلاَّ وَقَدْ رَأَيْتُهُ إِلاَّ شَىْءٌ وَاحِدٌ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ يُقَلَّسُ لَهُ يَوْمَ الْفِطْرِ ‏.‏ قَالَ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ سَلَمَةَ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا ابْنُ دِيزِيلَ، حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عَامِرٍ، ح وَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عَامِرٍ، ح وَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَامِرٍ، نَحْوَهُ ‏.‏
قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جتنی چیزیں تھیں، وہ سب میں نے دیکھیں سوائے ایک چیز کے، وہ یہ کہ عید الفطر کے روز آپ کے لیے گانا بجانا ہوتا تھا۔
حدیث 1304 — سنن ابن ماجه 5:502
صحیحصحیحصحیحصحیح
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ يَغْدُو إِلَى الْمُصَلَّى فِي يَوْمِ الْعِيدِ وَالْعَنَزَةُ تُحْمَلُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَإِذَا بَلَغَ الْمُصَلَّى نُصِبَتْ بَيْنَ يَدَيْهِ فَيُصَلِّي إِلَيْهَا وَذَلِكَ أَنَّ الْمُصَلَّى كَانَ فَضَاءً لَيْسَ فِيهِ شَىْءٌ يُسْتَتَرُ بِهِ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید کے دن عید گاہ کی جانب صبح جاتے، اور آپ کے سامنے نیزہ لے جایا جاتا، جب آپ عید گاہ پہنچ جاتے تو آپ کے آگے نصب کر دیا جاتا، آپ اس کے سامنے کھڑے ہو کر نماز عید پڑھاتے، اس لیے کہ عید گاہ ایک کھلا میدان تھا اس میں کوئی ایسی چیز نہ تھی جسے نماز کے لیے سترہ بنایا جاتا۔
حدیث 1305 — سنن ابن ماجه 5:503
صحیحصحیحصحیح - Bukhari And Muslim
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِذَا صَلَّى يَوْمَ عِيدٍ أَوْ غَيْرَهُ نُصِبَتِ الْحَرْبَةُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَيُصَلِّي إِلَيْهَا وَالنَّاسُ مِنْ خَلْفِهِ ‏.‏ قَالَ نَافِعٌ فَمِنْ ثَمَّ اتَّخَذَهَا الأُمَرَاءُ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید یا کسی اور دن جب ( میدان میں ) نماز پڑھتے تو نیزہ آپ کے آگے نصب کر دیا جاتا، آپ اس کی جانب رخ کر کے نماز پڑھتے، اور لوگ آپ کے پیچھے ہوتے۔ نافع کہتے ہیں کہ اسی وجہ سے امراء نے اسے اختیار کر رکھا ہے۔
حدیث 1306 — سنن ابن ماجه 5:504
صحیحصحیحصحیحIsnaad Sahih
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ صَلَّى الْعِيدَ بِالْمُصَلَّى مُسْتَتِرًا بِحَرْبَةٍ ‏.‏
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید گاہ میں عید کی نماز نیزہ کو سترہ بنا کے ادا فرمائی۔
حدیث 1307 — سنن ابن ماجه 5:505
صحیحصحیحصحیحصحیح Muslim
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانٍ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنْ نُخْرِجَهُنَّ فِي يَوْمِ الْفِطْرِ وَالنَّحْرِ ‏.‏ قَالَ قَالَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ فَقُلْنَا أَرَأَيْتَ إِحْدَاهُنَّ لاَ يَكُونُ لَهَا جِلْبَابٌ قَالَ ‏ "‏ فَلْتُلْبِسْهَا أُخْتُهَا مِنْ جِلْبَابِهَا ‏"‏ ‏.‏
ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم عورتوں کو عیدین میں لے جائیں، ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ بتائیے اگر کسی عورت کے پاس چادر نہ ہو تو ( کیا کرے؟ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی ساتھ والی اسے اپنی چادر اڑھا دے ۔
حدیث 1308 — سنن ابن ماجه 5:506
صحیحصحیحصحیحصحیح - Bukhari And Muslim
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ أَخْرِجُوا الْعَوَاتِقَ وَذَوَاتِ الْخُدُورِ لِيَشْهَدْنَ الْعِيدَ وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِينَ ‏.‏ وَلِيَجْتَنِبَنَّ الْحُيَّضُ مُصَلَّى النَّاسِ ‏"‏ ‏.‏
ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کنواری اور پردہ نشیں عورتوں کو عید گاہ لے جاؤ تاکہ وہ عید میں اور مسلمانوں کی دعا میں حاضر ہوں، البتہ حائضہ عورتیں نماز کی جگہ سے الگ بیٹھیں ۔
حدیث 1309 — سنن ابن ماجه 5:507
ضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ يُخْرِجُ بَنَاتِهِ وَنِسَاءَهُ فِي الْعِيدَيْنِ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیٹیوں اور بیویوں کو عیدین میں عید گاہ لے جاتے تھے۔
حدیث 1310 — سنن ابن ماجه 5:508
صحیحصحیحصحیح LighairihiIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ أَبِي رَمْلَةَ الشَّامِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ رَجُلاً، سَأَلَ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ هَلْ شَهِدْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عِيدَيْنِ فِي يَوْمٍ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ فَكَيْفَ كَانَ يَصْنَعُ قَالَ صَلَّى الْعِيدَ ثُمَّ رَخَّصَ فِي الْجُمُعَةِ ثُمَّ قَالَ ‏ "‏ مَنْ شَاءَ أَنْ يُصَلِّيَ فَلْيُصَلِّ ‏"‏ ‏.‏
ایاس بن ابورملہ شامی کہتے ہیں کہ میں نے ایک آدمی کو زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے پوچھتے ہوئے سنا: کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کبھی ایک ہی دن دو عید میں حاضر رہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، اس آدمی نے کہا: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید پڑھائی پھر جمعہ کے بارے میں رخصت دے دی اور فرمایا: جو پڑھنا چاہے پڑھے ۱؎۔
حدیث 1311 — سنن ابن ماجه 5:509
صحیحصحیحضعیفضعیف
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنِي مُغِيرَةُ الضَّبِّيُّ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ اجْتَمَعَ عِيدَانِ فِي يَوْمِكُمْ هَذَا فَمَنْ شَاءَ أَجْزَأَهُ مِنَ الْجُمُعَةِ وَإِنَّا مُجَمِّعُونَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ‏"‏ ‏.‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُغِيرَةَ الضَّبِّيِّ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ نَحْوَهُ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے آج کے دن میں دو عیدیں جمع ہوئی ہیں، لہٰذا جو جمعہ نہ پڑھنا چاہے اس کے لیے عید کی نماز ہی کافی ہے، اور ہم تو ان شاءاللہ جمعہ پڑھنے والے ہیں ۔
حدیث 1312 — سنن ابن ماجه 5:510
صحیحصحیح Lighairihiضعیفضعیف
حَدَّثَنَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ، حَدَّثَنَا مِنْدَلُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ اجْتَمَعَ عِيدَانِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَصَلَّى بِالنَّاسِ ثُمَّ قَالَ ‏ "‏ مَنْ شَاءَ أَنْ يَأْتِيَ الْجُمُعَةَ فَلْيَأْتِهَا وَمَنْ شَاءَ أَنْ يَتَخَلَّفَ فَلْيَتَخَلَّفْ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں دو عیدیں ( عید اور جمعہ ) اکٹھا ہو گئیں، تو آپ نے لوگوں کو عید پڑھائی، پھر فرمایا جو جمعہ کے لیے آنا چاہے آئے، اور جو نہ چاہے نہ آئے ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔