حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنْ قِرَاءَةِ النَّبِيِّ، ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ كَانَ يَمُدُّ صَوْتَهُ مَدًّا .
قتادہ کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی آواز کو کھینچتے تھے۔
حدیث 1354 — سنن ابن ماجه 5:552
حسن Sahihحسن SahihصحیحIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ بُرْدِ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَىٍّ، عَنْ غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ أَتَيْتُ عَائِشَةَ فَقُلْتُ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَجْهَرُ بِالْقُرْآنِ أَوْ يُخَافِتُ بِهِ قَالَتْ رُبَّمَا جَهَرَ وَرُبَّمَا خَافَتَ . قُلْتُ اللَّهُ أَكْبَرُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي هَذَا الأَمْرِ سَعَةً .
غضیف بن حارث کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا، اور ان سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن بلند آواز سے پڑھتے تھے یا آہستہ؟ انہوں نے کہا: کبھی بلند آواز سے پڑھتے تھے اور کبھی آہستہ، میں نے کہا: اللہ اکبر، شکر ہے اس اللہ کا جس نے اس معاملہ میں وسعت رکھی ہے۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات میں تہجد پڑھتے تو یہ دعا پڑھتے: «اللهم لك الحمد أنت نور السموات والأرض ومن فيهن ولك الحمد أنت قيام السموات والأرض ومن فيهن ولك الحمد أنت مالك السموات والأرض ومن فيهن ولك الحمد أنت الحق ووعدك حق ولقاؤك حق وقولك حق والجنة حق والنار حق والساعة حق والنبيون حق ومحمد حق اللهم لك أسلمت وبك آمنت وعليك توكلت وإليك أنبت وبك خاصمت وإليك حاكمت فاغفر لي ما قدمت وما أخرت وما أسررت وما أعلنت أنت المقدم وأنت المؤخر لا إله إلا أنت ولا إله غيرك ولا حول ولا قوة إلا بك» اے اللہ! تیری حمد و ثناء ہے، تو آسمان و زمین اور ان میں کی تمام چیزوں کا نور ہے، تیری حمد و ثناء ہے، تو آسمان و زمین اور ان میں کی تمام چیزوں کی تدبیر کرنے والا ہے، تیری حمد و ثناء ہے، تو آسمان و زمین اور ان میں کی تمام چیزوں کا مالک ہے، تیری حمد و ثناء ہے، تو برحق ہے، تیرا وعدہ سچا ہے، تیری ملاقات برحق ہے، تیری بات سچی ہے، جنت و جہنم برحق ہیں، قیامت برحق ہے، انبیاء برحق ہیں، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم برحق ہیں، اے اللہ! میں نے تیرے آگے گردن جھکائی، اور تجھ پر ایمان لایا، اور تجھ ہی پر بھروسہ کیا، اور تیری ہی طرف رجوع کیا، اور تیری ہی دلیلوں سے لڑا، اور تیری ہی طرف انصاف کے لیے آیا، تو میرے اگلے اور پچھلے ظاہر اور پوشیدہ گناہوں کو بخش دے، تو ہی آگے کرنے والا ہے، تو ہی پیچھے کرنے والا ہے، تو ہی معبود ہے، تیرے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، اور تیرے سوا کسی کا زور اور طاقت نہیں
(عاصم بن حمید کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز تہجد کی ابتداء کس چیز سے کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: تم نے مجھ سے ایک ایسی چیز کے متعلق سوال کیا ہے کہ تم سے پہلے کسی نے بھی اس کے متعلق یہ سوال نہیں کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم دس مرتبہ «الله أكبر»، دس مرتبہ «الحمد لله»، دس مرتبہ «سبحان الله»، دس مرتبہ «استغفرالله» کہتے، اور اس کے بعد یہ دعا پڑھتے: «اللهم اغفر لي واهدني وارزقني وعافني» اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھے ہدایت دے، مجھے رزق دے، اور مجھے عافیت دے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے دن جگہ کی تنگی سے پناہ مانگتے تھے ) ۔
حدیث 1357 — سنن ابن ماجه 5:555
حسنحسنحسنصحیح Muslim
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْيَمَامِيُّ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ بِمَا كَانَ يَسْتَفْتِحُ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ صَلاَتَهُ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ قَالَتْ كَانَ يَقُولُ " اللَّهُمَّ رَبَّ جِبْرَئِيلَ وَمِيكَائِيلَ وَإِسْرَافِيلَ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ أَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ اهْدِنِي لِمَا اخْتُلِفَ فِيهِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِكَ إِنَّكَ لَتَهْدِي إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ " . قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ احْفَظُوهُ جِبْرَئِيلُ مَهْمُوزَةً فَإِنَّهُ كَذَا عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ .
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات میں قیام کرتے تو کس دعا سے اپنی نماز شروع کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ یہ دعا پڑھتے تھے: «اللهم رب جبرئيل وميكائيل وإسرافيل فاطر السموات والأرض عالم الغيب والشهادة أنت تحكم بين عبادك فيما كانوا فيه يختلفون اهدني لما اختلف فيه من الحق بإذنك إنك لتهدي إلى صراط مستقيم» اے اللہ! جبرائیل، ۱؎ میکائیل، اور اسرافیل کے رب، آسمان و زمین کے پیدا کرنے والے، غائب اور حاضر کے جاننے والے، تو اپنے بندوں کے درمیان ان کے اختلافی امور میں فیصلہ کرتا ہے، تو اپنے حکم سے اختلافی امور میں مجھے حق کی راہنمائی فرما، بیشک تو ہی راہ راست کی راہنمائی فرماتا ہے۔ عبدالرحمٰن بن عمر کہتے ہیں: یاد رکھو جبرائیل ہمزہ کے ساتھ ہے کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا ہی منقول ہے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز عشاء کے بعد سے فجر تک گیارہ رکعت پڑھتے تھے، اور ہر دو رکعت پر سلام پھیرتے، اور ایک رکعت وتر پڑھتے تھے، اور ان رکعتوں میں سجدہ اتنا طویل کرتے کہ کوئی سر اٹھانے سے پہلے پچاس آیتیں پڑھ لے، اور جب مؤذن صبح کی پہلی اذان سے فارغ ہو جاتا تو آپ کھڑے ہوتے، اور دو ہلکی رکعتیں پڑھتے۔
حدیث 1359 — سنن ابن ماجه 5:557
ShadhShadhصحیحصحیح Muslim
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَلاَثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً .
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات میں تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے۔
حدیث 1360 — سنن ابن ماجه 5:558
صحیحصحیحصحیحصحیح
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ تِسْعَ رَكَعَاتٍ
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات میں نو رکعتیں پڑھتے تھے ۱؎۔
حدیث 1361 — سنن ابن ماجه 5:559
صحیحصحیح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ مَيْمُونٍ أَبُو عُبَيْدٍ الْمَدِينِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، قَالَ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ عَنْ صَلاَةِ، رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِاللَّيْلِ فَقَالاَ ثَلاَثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً مِنْهَا ثَمَانٍ وَيُوتِرُ بِثَلاَثٍ وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْفَجْرِ .
عامر شعبی کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز کے متعلق پوچھا تو ان دونوں نے کہا: تیرہ رکعت، ان میں آٹھ رکعت ( تہجد کی ہوتی ) اور تین رکعت وتر ہوتی، اور دو رکعت فجر کے بعد کی۔
حدیث 1362 — سنن ابن ماجه 5:560
صحیحصحیحصحیحصحیح Muslim
حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعِ بْنِ ثَابِتٍ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ، أَخْبَرَهُ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ قُلْتُ لأَرْمُقَنَّ صَلاَةَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ اللَّيْلَةَ . قَالَ فَتَوَسَّدْتُ عَتَبَتَهُ أَوْ فُسْطَاطَهُ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ أَوْتَرَ فَتِلْكَ ثَلاَثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً .
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے جی میں کہا کہ میں آج رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ضرور دیکھوں گا، میں نے آپ کی چوکھٹ یا خیمہ پر ٹیک لگا لیا، آپ کھڑے ہوئے، آپ نے دو ہلکی رکعتیں پڑھیں، پھر اس کے بعد دو رکعتیں کافی لمبی پڑھیں، پھر دو رکعتیں پچھلی دو رکعتوں سے کچھ ہلکی پڑھیں، پھر دو رکعتیں پچھلی دو رکعتوں سے ہلکی پڑھیں، پھر دو رکعتیں پچھلی دو رکعتوں سے ہلکی پڑھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں، پھر وتر ادا کی تو یہ سب تیرہ رکعتیں ہوئیں ۱؎۔