قرآني·Qurani
اردو

الآداب

170 احادیث · #3657–3826

حدیث 3817 — سنن ابن ماجه 33:161
ضعیفضعیفضعیفIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْمُغِيرَةِ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ كَانَ فِي لِسَانِي ذَرَبٌ عَلَى أَهْلِي وَكَانَ لاَ يَعْدُوهُمْ إِلَى غَيْرِهِمْ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ ‏ "‏ أَيْنَ أَنْتَ مِنَ الاِسْتِغْفَارِ تَسْتَغْفِرُ اللَّهَ فِي الْيَوْمِ سَبْعِينَ مَرَّةً ‏"‏ ‏.‏
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اپنے گھر والوں پر زبان درازی کرتا تھا، لیکن اپنے گھر والوں کے سوا کسی اور سے زبان درازی نہ کرتا تھا، میں نے اس کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا: تم استغفار کیوں نہیں کیا کرتے، تم ہر روز ستر بار استغفار کیا کرو ۔
حدیث 3818 — سنن ابن ماجه 33:162
صحیحصحیحصحیحIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عِرْقٍ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بُسْرٍ، يَقُولُ قَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ طُوبَى لِمَنْ وَجَدَ فِي صَحِيفَتِهِ اسْتِغْفَارًا كَثِيرًا ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مبارکبادی ہے اس شخص کے لیے جو اپنے صحیفہ ( نامہ اعمال ) میں کثرت سے استغفار پائے ۔
حدیث 3819 — سنن ابن ماجه 33:163
ضعیفضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُصْعَبٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ مَنْ لَزِمَ الاِسْتِغْفَارَ جَعَلَ اللَّهُ لَهُ مِنْ كُلِّ هَمٍّ فَرَجًا وَمِنْ كُلِّ ضِيقٍ مَخْرَجًا وَرَزَقَهُ مِنْ حَيْثُ لاَ يَحْتَسِبُ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے استغفار کو لازم کر لیا تو اللہ تعالیٰ اسے ہر غم اور تکلیف سے نجات دے گا، اور ہر تنگی سے نکلنے کا راستہ پیدا فرما دے گا، اسے ایسی جگہ سے رزق عطا فرمائے گا، جہاں سے اسے وہم و گمان بھی نہ ہو گا ۱؎۔
حدیث 3820 — سنن ابن ماجه 33:164
ضعیفضعیفضعیفحسن
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَلَىِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ يَقُولُ ‏ "‏ اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنَ الَّذِينَ إِذَا أَحْسَنُوا اسْتَبْشَرُوا وَإِذَا أَسَاءُوا اسْتَغْفَرُوا ‏"‏ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: «اللهم اجعلني من الذين إذا أحسنوا استبشروا وإذا أساءوا استغفروا» اے اللہ مجھے ان لوگوں میں سے بنا دے جو نیک کام کرتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں، اور جب برا کام کرتے ہیں تو اس سے استغفار کرتے ہیں ۔
حدیث 3821 — سنن ابن ماجه 33:165
صحیحصحیحصحیحصحیح Muslim
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ يَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا وَأَزِيدُ وَمَنْ جَاءَ بِالسَّيِّئَةِ فَجَزَاءُ سَيِّئَةٍ مِثْلُهَا أَوْ أَغْفِرُ وَمَنْ تَقَرَّبَ مِنِّي شِبْرًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ ذِرَاعًا وَمَنْ تَقَرَّبَ مِنِّي ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ بَاعًا وَمَنْ أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً وَمَنْ لَقِيَنِي بِقِرَابِ الأَرْضِ خَطِيئَةً ثُمَّ لاَ يُشْرِكُ بِي شَيْئًا لَقِيتُهُ بِمِثْلِهَا مَغْفِرَةً ‏"‏ ‏.‏
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: جو شخص ایک نیکی کرے گا اس کو اسی طرح دس نیکیوں کا ثواب ملے گا، اور میں اس پر زیادہ بھی کر سکتا ہوں، اور جو شخص ایک برائی کرے گا اس کو ایک ہی برائی کا بدلہ ملے گا، یا میں بخش دوں گا، اور جو شخص مجھ سے ( عبادت و طاعت کے ذریعہ ) ایک بالشت قریب ہو گا، تو میں اس سے ایک ہاتھ نزدیک ہوں گا، اور جو شخص مجھ سے ایک ہاتھ نزدیک ہو گا تو میں اس سے ایک «باع» یعنی دونوں ہاتھ قریب ہو گا، اور جو شخص میرے پاس ( معمولی چال سے ) چل کر آئے گا، تو میں اس کے پاس دوڑ کر آؤں گا، اور جو شخص مجھ سے زمین بھر گناہوں کے ساتھ ملے گا، اس حال میں کہ وہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو میں اس کے گناہوں کے برابر بخشش لے کر اس سے ملوں گا ۔
حدیث 3822 — سنن ابن ماجه 33:166
صحیحصحیحصحیحصحیح Muslim
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ يَقُولُ اللَّهُ سُبْحَانَهُ أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي وَأَنَا مَعَهُ حِينَ يَذْكُرُنِي فَإِنْ ذَكَرَنِي فِي نَفْسِهِ ذَكَرْتُهُ فِي نَفْسِي وَإِنْ ذَكَرَنِي فِي مَلإٍ ذَكَرْتُهُ فِي مَلإٍ خَيْرٍ مِنْهُمْ وَإِنِ اقْتَرَبَ إِلَىَّ شِبْرًا اقْتَرَبْتُ إِلَيْهِ ذِرَاعًا وَإِنْ أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں اپنے بندے کے گمان کے ساتھ ہوں، جیسا وہ گمان مجھ سے رکھے، اور میں اس کے ساتھ ہوں جب وہ میرا ذکر کرتا ہے، اگر وہ میرا دل میں ذکر کرتا ہے تو میں بھی دل میں اس کا ذکر کرتا ہوں، اور اگر وہ میرا ذکر لوگوں میں کرتا ہے تو میں ان لوگوں سے بہتر لوگوں میں اس کا ذکر کرتا ہوں، اور اگر وہ مجھ سے ایک بالشت نزدیک ہوتا ہے تو میں ایک ہاتھ اس کے قریب ہوتا ہوں، اور اگر وہ چل کر میرے پاس آتا ہے تو میں اس کی جانب دوڑ کر آتا ہوں ۱؎۔
حدیث 3823 — سنن ابن ماجه 33:167
صحیحصحیحصحیحصحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَوَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ يُضَاعَفُ لَهُ الْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِمِائَةِ ضِعْفٍ ‏.‏ قَالَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ إِلاَّ الصَّوْمَ فَإِنَّهُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کا ہر عمل دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: سوائے روزے کے کیونکہ وہ میرے لیے ہے میں خود ہی اس کا بدلہ دوں گا ۔
حدیث 3824 — سنن ابن ماجه 33:168
صحیحصحیحصحیحصحیح - Agreed Upon
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ سَمِعَنِي النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَأَنَا أَقُولُ، لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ أَلاَ أَدُلُّكَ عَلَى كَلِمَةٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ قُلْ لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ ‏"‏ ‏.‏
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے «لا حول ولا قوة إلا بالله» گناہوں سے دوری اور عبادات و طاعت کی قوت صرف اللہ رب العزت کی طرف سے ہے پڑھتے ہوئے سنا تو فرمایا: عبداللہ بن قیس! کیا میں تمہیں وہ کلمہ نہ بتلاؤں جو جنت کے خزانوں میں سے ایک حزانہ ہے ؟ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں، ضرور بتائیے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم «لا حول ولا قوة إلا بالله» کہا کرو ۔
حدیث 3825 — سنن ابن ماجه 33:169
صحیحصحیحصحیحصحیح
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏"‏ أَلاَ أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ ‏"‏ ‏.‏
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: کیا میں تمہیں وہ کلمہ نہ بتاؤں جو جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے ؟ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں، ضرور بتائیے، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ کلمہ «لا حول ولا قوة إلا بالله» ہے ۔
حدیث 3826 — سنن ابن ماجه 33:170
صحیحصحیح Lighairihiحسن
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ الْمَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْنٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي زَيْنَبَ، مَوْلَى حَازِمِ بْنِ حَرْمَلَةَ عَنْ حَازِمِ بْنِ حَرْمَلَةَ، قَالَ مَرَرْتُ بِالنَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ لِي ‏ "‏ يَا حَازِمُ أَكْثِرْ مِنْ قَوْلِ لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ فَإِنَّهَا مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ ‏"‏ ‏.‏
حازم بن حرملہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ( ایک روز ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا تو آپ نے مجھ سے فرمایا: اے حازم! تم «لا حول ولا قوة إلا بالله» کثرت سے پڑھا کرو، کیونکہ یہ کلمہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔