قرآني·Qurani
اردو

الآداب

170 احادیث · #3657–3826

حدیث 3737 — سنن ابن ماجه 33:81
صحیحصحیحصحیحصحیح - Agreed Upon
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِالْبَقِيعِ فَنَادَى رَجُلٌ رَجُلاً يَا أَبَا الْقَاسِمِ فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ إِنِّي لَمْ أَعْنِكَ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ تَسَمَّوْا بِاسْمِي وَلاَ تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي ‏"‏ ‏.‏
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مقبرہ بقیع میں تھے کہ ایک شخص نے دوسرے کو آواز دی: اے ابوالقاسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی جانب متوجہ ہوئے، تو اس نے عرض کیا کہ میں نے آپ کو مخاطب نہیں کیا، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ میرے نام پر نام رکھو، لیکن میری کنیت پر کنیت نہ رکھو ۔
حدیث 3738 — سنن ابن ماجه 33:82
حسنحسنضعیفضعیف
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ صُهَيْبٍ، أَنَّ عُمَرَ، قَالَ لِصُهَيْبٍ مَا لَكَ تَكْتَنِي بِأَبِي يَحْيَى وَلَيْسَ لَكَ وَلَدٌ ‏.‏ قَالَ كَنَّانِي رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِأَبِي يَحْيَى ‏.‏
حمزہ بن صہیب سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے صہیب رضی اللہ عنہ سے کہا کہ تم اپنی کنیت ابویحییٰ کیوں رکھتے ہو؟ حالانکہ تمہیں کوئی اولاد نہیں ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری کنیت ابویحییٰ رکھی ہے ۱؎۔
حدیث 3739 — سنن ابن ماجه 33:83
صحیحصحیحصحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ مَوْلًى، لِلزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ، ‏.‏ أَنَّهَا قَالَتْ لِلنَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كُلُّ أَزْوَاجِكَ كَنَّيْتَهُ غَيْرِي ‏.‏ قَالَ ‏ "‏ فَأَنْتِ أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ نے اپنی تمام بیویوں کی کنیت رکھی، صرف میں ہی باقی ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم «ام عبداللہ» ہو ۔
حدیث 3740 — سنن ابن ماجه 33:84
صحیحصحیحصحیحصحیح - Agreed Upon
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَأْتِينَا فَيَقُولُ لأَخٍ لِي وَكَانَ صَغِيرًا ‏ "‏ يَا أَبَا عُمَيْرٍ ‏"‏ ‏.‏
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، تو میرا ایک چھوٹا بھائی تھا، آپ اسے ابوعمیر کہہ کر پکارتے تھے ۱؎۔
حدیث 3741 — سنن ابن ماجه 33:85
صحیحصحیححسن SahihIsnaad Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ دَاوُدَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي جَبِيرَةَ بْنِ الضَّحَّاكِ، قَالَ فِينَا نَزَلَتْ مَعْشَرَ الأَنْصَارِ ‏{وَلاَ تَنَابَزُوا بِالأَلْقَابِ‏)‏ قَدِمَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَالرَّجُلُ مِنَّا لَهُ الاِسْمَانِ وَالثَّلاَثَةُ فَكَانَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ رُبَّمَا دَعَاهُمْ بِبَعْضِ تِلْكَ الأَسْمَاءِ فَيُقَالُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ يَغْضَبُ مِنْ هَذَا ‏.‏ فَنَزَلَتْ ‏{وَلاَ تَنَابَزُوا بِالأَلْقَابِ}‏ ‏.‏
ابوجبیرہ بن ضحاک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ «ولا تنابزوا بالألقاب» ہم انصار کے بارے میں نازل ہوئی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ہمارے پاس ( مدینہ ) تشریف لائے تو ہم میں سے ہر ایک کے دو دو، تین تین نام تھے، بسا اوقات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ان کا کوئی ایک نام لے کر پکارتے، تو آپ سے عرض کیا جاتا: اللہ کے رسول! فلاں شخص فلاں نام سے غصہ ہوتا ہے، تو اس وقت یہ آیت کریمہ نازل ہوئی: «ولا تنابزوا بالألقاب» کسی کو برے القاب سے نہ پکارو ۱؎۔
حدیث 3742 — سنن ابن ماجه 33:86
صحیحصحیحصحیح Muslim
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنْ نَحْثُوَ فِي وُجُوهِ الْمَدَّاحِينَ التُّرَابَ ‏.‏
مقداد بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تعریف کرنے والوں کے منہ میں مٹی ڈالنے کا حکم دیا ہے۔
حدیث 3743 — سنن ابن ماجه 33:87
حسنحسنIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ مَعْبَدٍ الْجُهَنِيِّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ ‏ "‏ إِيَّاكُمْ وَالتَّمَادُحَ فَإِنَّهُ الذَّبْحُ ‏"‏ ‏.‏
معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: تم آپس میں ایک دوسرے کی منہ پر مدح و تعریف کرنے سے بچو، کیونکہ اس طرح تعریف کرنا گویا ذبح کرنا ہے ۱؎۔
حدیث 3744 — سنن ابن ماجه 33:88
صحیحصحیحصحیحصحیح - Agreed Upon
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ مَدَحَ رَجُلٌ رَجُلاً عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏"‏ وَيْحَكَ قَطَعْتَ عُنُقَ صَاحِبِكَ ‏"‏ ‏.‏ مِرَارًا ثُمَّ قَالَ ‏"‏ إِنْ كَانَ أَحَدُكُمْ مَادِحًا أَخَاهُ فَلْيَقُلْ أَحْسِبُهُ وَلاَ أُزَكِّي عَلَى اللَّهِ أَحَدًا ‏"‏ ‏.‏
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک آدمی کی تعریف کی تو آپ نے فرمایا: افسوس! تم نے اپنے بھائی کی گردن کاٹ دی ، اس جملہ کو آپ نے کئی بار دہرایا، پھر فرمایا: تم میں سے اگر کوئی آدمی اپنے بھائی کی تعریف کرنا چاہے تو یہ کہے کہ میں ایسا سمجھتا ہوں، لیکن میں اللہ تعالیٰ کے اوپر کسی کو پاک نہیں کہہ سکتا ۱؎۔
حدیث 3745 — سنن ابن ماجه 33:89
صحیحصحیححسن Sahihحسن
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ الْمُسْتَشَارُ مُؤْتَمَنٌ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس سے مشورہ لیا جائے وہ امانت دار ہے ( لہٰذا وہ ایمانداری سے مشورہ دے ) ۔
حدیث 3746 — سنن ابن ماجه 33:90
صحیحصحیححسن
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ الْمُسْتَشَارُ مُؤْتَمَنٌ ‏"‏ ‏.‏
ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس سے مشورہ لیا جائے وہ امانت دار ہے ( لہٰذا وہ دیانتداری سے مشورہ دے ) ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔