قرآني·Qurani
اردو

الأطعمة

120 احادیث · #3251–3370

حدیث 3271 — سنن ابن ماجه 29:21
ضعیفضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا أَبُو الْيَمَانِ الْبَرَّاءُ، قَالَ حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي أَمُّ عَاصِمٍ، قَالَتْ دَخَلَ عَلَيْنَا نُبَيْشَةُ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَنَحْنُ نَأْكُلُ فِي قَصْعَةٍ فَقَالَ قَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ مَنْ أَكَلَ فِي قَصْعَةٍ فَلَحِسَهَا اسْتَغْفَرَتْ لَهُ الْقَصْعَةُ ‏"‏ ‏.‏
ام عاصم بیان کرتی ہیں کہ ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام نبیشہ رضی اللہ عنہ آئے، اس وقت ہم ایک بڑے پیالے میں کھانا کھا رہے تھے، انہوں نے کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: جو شخص کسی بڑے پیالے میں کھاتا ہے پھر چاٹ کر صاف کرتا ہے، اس کے لیے یہ پیالہ استغفار کرتا ہے ۔
حدیث 3272 — سنن ابن ماجه 29:22
ضعیفضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ، بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ وَنَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ قَالاَ حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ رَاشِدٍ أَبُو الْيَمَانِ، حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ هُذَيْلٍ يُقَالُ لَهُ نُبَيْشَةُ الْخَيْرِ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيْنَا نُبَيْشَةُ وَنَحْنُ نَأْكُلُ فِي قَصْعَةٍ لَنَا فَقَالَ حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ مَنْ أَكَلَ فِي قَصْعَةٍ ثُمَّ لَحِسَهَا اسْتَغْفَرَتْ لَهُ الْقَصْعَةُ ‏"‏ ‏.‏
معلی بن راشد ابوالیمان بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے میری دادی نے ہذیل کے نبیشہ الخیر نامی شخص سے نقل کیا کہ ایک بار جب ہم اپنے ایک بڑے پیالے میں کھا رہے تھے نبیشہ رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے اور کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جو شخص کسی پیالے میں کھائے، اور اسے چاٹ کر صاف کر لے تو یہ پیالہ اس کے لیے استغفار کرے گا ۔
حدیث 3273 — سنن ابن ماجه 29:23
Very DaifVery Daifضعیفضعیف
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلاَنِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ إِذَا وُضِعَتِ الْمَائِدَةُ فَلْيَأْكُلْ مِمَّا يَلِيهِ وَلاَ يَتَنَاوَلْ مِنْ بَيْنِ يَدَىْ جَلِيسِهِ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب دستر خوان لگایا جائے تو ہر شخص کو اس جانب سے کھانا چاہیئے جو اس سے قریب ہو، وہ اپنے ساتھی کے سامنے سے نہ کھائے ۔
حدیث 3274 — سنن ابن ماجه 29:24
ضعیفضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا الْعَلاَءُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي السَّوِيَّةِ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عِكْرَاشٍ، عَنْ أَبِيهِ، عِكْرَاشِ بْنِ ذُؤَيْبٍ قَالَ أُتِيَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِجَفْنَةٍ كَثِيرَةِ الثَّرِيدِ وَالْوَدَكِ فَأَقْبَلْنَا نَأْكُلُ مِنْهَا فَخَبَطْتُ يَدِي فِي نَوَاحِيهَا فَقَالَ ‏"‏ يَا عِكْرَاشُ كُلْ مِنْ مَوْضِعٍ وَاحِدٍ فَإِنَّهُ طَعَامٌ وَاحِدٌ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ أُتِينَا بِطَبَقٍ فِيهِ أَلْوَانٌ مِنَ الرُّطَبِ فَجَالَتْ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي الطَّبَقِ وَقَالَ ‏"‏ يَا عِكْرَاشُ كُلْ مِنْ حَيْثُ شِئْتَ فَإِنَّهُ غَيْرُ لَوْنٍ وَاحِدٍ ‏"‏ ‏.‏
عکراش بن ذویب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک لگن لایا گیا جس میں بہت سا ثرید اور روغن تھا، ہم سب اس میں سے کھانے لگے، میں اپنا ہاتھ پیالے میں ہر طرف پھرا رہا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عکراش! ایک جگہ سے کھاؤ، اس لیے کہ یہ پورا ایک ہی کھانا ہے ، پھر ایک طبق لایا گیا جس میں مختلف اقسام کی تازہ کھجوریں تھیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ طبق میں چاروں طرف گھومنے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عکراش! جہاں سے جی چاہے کھاؤ، اس لیے کہ اس میں کئی طرح کی کھجوریں ہیں ۔
حدیث 3275 — سنن ابن ماجه 29:25
صحیحصحیححسنIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عِرْقٍ الْيَحْصُبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أُتِيَ بِقَصْعَةٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ كُلُوا مِنْ جَوَانِبِهَا وَدَعُوا ذُرْوَتَهَا يُبَارَكْ فِيهَا ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک پیالا لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے اطراف سے کھاؤ، اور اس کی چوٹی یعنی درمیان کو چھوڑ دو کہ اس میں برکت ہوتی ہے ۔
حدیث 3276 — سنن ابن ماجه 29:26
صحیحصحیححسن
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ، عُمَرُ بْنُ الدَّرَفْسِ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي قَسِيمَةَ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الأَسْقَعِ اللَّيْثِيِّ، قَالَ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِرَأْسِ الثَّرِيدِ فَقَالَ ‏ "‏ كُلُوا بِسْمِ اللَّهِ مِنْ حَوَالَيْهَا وَاعْفُوا رَأْسَهَا فَإِنَّ الْبَرَكَةَ تَأْتِيهَا مِنْ فَوْقِهَا ‏"‏ ‏.‏
واثلہ بن اسقع لیثی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثرید کے اونچے حصہ پر ہاتھ رکھا، اور فرمایا: بسم اللہ کہہ کر اس کے اطراف سے کھاؤ، اور اس کے اونچے حصہ کو چھوڑ دو، اس لیے کہ برکت اس کے اوپر والے حصے سے ہی آتی ہے ۔
حدیث 3277 — سنن ابن ماجه 29:27
صحیحصحیحصحیح LighairihiIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ إِذَا وُضِعَ الطَّعَامُ فَخُذُوا مِنْ حَافَتِهِ وَذَرُوا وَسَطَهُ فَإِنَّ الْبَرَكَةَ تَنْزِلُ فِي وَسَطِهِ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کھانا رکھ دیا جائے تو اس کے کنارے سے لو، اور درمیان کو چھوڑ دو، اس لیے کہ برکت اس کے درمیان میں نازل ہوتی ہے ۔
حدیث 3278 — سنن ابن ماجه 29:28
ضعیف Isnaadضعیف Isnaadضعیفضعیف
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ بَيْنَمَا هُوَ يَتَغَدَّى إِذْ سَقَطَتْ مِنْهُ لُقْمَةٌ فَتَنَاوَلَهَا فَأَمَاطَ مَا كَانَ فِيهَا مِنْ أَذًى فَأَكَلَهَا فَتَغَامَزَ بِهِ الدَّهَاقِينُ فَقِيلَ أَصْلَحَ اللَّهُ الأَمِيرَ إِنَّ هَؤُلاَءِ الدَّهَاقِينَ يَتَغَامَزُونَ مِنْ أَخْذِكَ اللُّقْمَةَ وَبَيْنَ يَدَيْكَ هَذَا الطَّعَامُ ‏.‏ قَالَ إِنِّي لَمْ أَكُنْ لأَدَعَ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ لِهَذِهِ الأَعَاجِمِ إِنَّا كُنَّا نَأْمُرُ أَحَدَنَا إِذَا سَقَطَتْ لُقْمَتُهُ أَنْ يَأْخُذَهَا فَيُمِيطَ مَا كَانَ فِيهَا مِنْ أَذًى وَيَأْكُلَهَا وَلاَ يَدَعَهَا لِلشَّيْطَانِ ‏.‏
معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ دوپہر کا کھانا کھانے کے دوران ایک لقمہ ان سے گر گیا، تو انہوں نے اسے اٹھایا، اور اس میں لگے کچرے کو صاف کیا، پھر اسے کھا لیا ( یہ دیکھ کر ) عجمی کسان ایک دوسرے کو آنکھوں سے اشارے کرنے لگے، لوگوں نے کہا: اللہ امیر کا بھلا کرے، آپ کے سامنے یہ کھانا موجود ہوتے ہوئے اس لقمے کو آپ کے اٹھانے پر یہ کسان لوگ آنکھوں سے باہم اشارے کر رہے ہیں، وہ بولے: ان عجمیوں کی ( چہ مہ گوئیوں اور اشارے بازیوں کی ) وجہ سے میں اس بات کو ترک کرنے والا نہیں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے، ہم میں سے جب کسی کا لقمہ گر جاتا تو ہم اس سے کہتے کہ وہ اسے اٹھا لے اور اس میں لگی گندگی کو صاف کر لے پھر اسے کھا لے، اور اسے شیطان کے لیے نہ چھوڑ دے ا؎۔
حدیث 3279 — سنن ابن ماجه 29:29
صحیحصحیحصحیحصحیح Muslim
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ إِذَا وَقَعَتِ اللُّقْمَةُ مِنْ يَدِ أَحَدِكُمْ فَلْيَمْسَحْ مَا عَلَيْهَا مِنَ الأَذَى وَلْيَأْكُلْهَا ‏"‏ ‏.‏
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کے ہاتھ سے لقمہ گر جائے، تو اسے چاہیئے کہ اس پر جو گندگی لگ گئی ہے اسے پونچھ لے اور اسے کھا لے ۔
حدیث 3280 — سنن ابن ماجه 29:30
صحیحصحیحصحیح - Agreed Upon
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ كَمَلَ مِنَ الرِّجَالِ كَثِيرٌ وَلَمْ يَكْمُلْ مِنَ النِّسَاءِ إِلاَّ مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ وَآسِيَةُ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ وَإِنَّ فَضْلَ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ ‏"‏ ‏.‏
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مردوں میں بہت سے لوگ کامل ہوئے لیکن عورتوں میں سوائے مریم بنت عمران اور فرعون کی بیوی آسیہ کے کوئی کامل نہیں ہوئی، اور عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت دوسری عورتوں پر ایسے ہی ہے جیسے ثرید کی باقی تمام کھانوں پر ۱؎۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔