قرآني·Qurani
اردو

البيوع

171 احادیث · #2137–2307

حدیث 2257 — سنن ابن ماجه 12:121
صحیحصحیحصحیحصحیح - Agreed Upon
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ الدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ وَالدِّينَارُ بِالدِّينَارِ ‏.‏ فَقُلْتُ إِنِّي سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ غَيْرَ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ أَمَا إِنِّي لَقِيتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ أَخْبِرْنِي عَنْ هَذَا الَّذِي تَقُولُ فِي الصَّرْفِ أَشَىْءٌ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَمْ شَىْءٌ وَجَدْتَهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ ‏.‏ فَقَالَ مَا وَجَدْتُهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ وَلاَ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ وَلَكِنْ أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ إِنَّمَا الرِّبَا فِي النَّسِيئَةِ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ درہم کو درہم سے، اور دینار کو دینار سے برابر برابر بیچنا چاہیئے، تو میں نے ان سے کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو کچھ اور کہتے سنا ہے، ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے جا کر ملا، اور میں نے ان سے کہا: آپ بیع صرف کے متعلق جو کہتے ہیں مجھے بتائیے، کیا آپ نے کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ کتاب اللہ ( قرآن ) میں اس سلسلہ میں آپ کو کوئی چیز ملی ہے؟ اس پر وہ بولے: نہ تو میں نے اس کو کتاب اللہ ( قرآن ) میں پایا ہے، اور نہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی سے سنا ہے، البتہ مجھے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے بتایا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: سود صرف ادھار میں ہے ۱؎۔
حدیث 2258 — سنن ابن ماجه 12:122
صحیحصحیحصحیحIsnaad Sahih
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَلِيٍّ الرِّبْعِيِّ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ، قَالَ سَمِعْتُهُ يَأْمُرُ، بِالصَّرْفِ - يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ - وَيُحَدَّثُ ذَلِكَ عَنْهُ ثُمَّ بَلَغَنِي أَنَّهُ رَجَعَ عَنْ ذَلِكَ فَلَقِيتُهُ بِمَكَّةَ فَقُلْتُ إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّكَ رَجَعْتَ ‏.‏ قَالَ نَعَمْ إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ رَأْيًا مِنِّي وَهَذَا أَبُو سَعِيدٍ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنَّهُ نَهَى عَنِ الصَّرْفِ ‏.‏
ابوالجوزاء کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو بیع صرف کے جواز کا حکم دیتے سنا، اور لوگ ان سے یہ حدیث روایت کرتے تھے، پھر مجھے یہ خبر پہنچی کہ انہوں نے اس سے رجوع کر لیا ہے، تو میں ان سے مکہ میں ملا، اور میں نے کہا: مجھے یہ معلوم ہوا ہے کہ آپ نے اس سے رجوع کر لیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، وہ میری رائے تھی، اور یہ ابوسعید رضی اللہ عنہ ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع صرف سے منع فرمایا ہے ۱؎۔
حدیث 2259 — سنن ابن ماجه 12:123
صحیح Hadithصحیحصحیحصحیح - Agreed Upon
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، سَمِعَ مَالِكَ بْنَ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ، يَقُولُ سَمِعْتُ عُمَرَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ الذَّهَبُ بِالْوَرِقِ رِبًا إِلاَّ هَاءَ وَهَاءَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ سَمِعْتُ سُفْيَانَ يَقُولُ الذَّهَبُ بِالْوَرِقِ احْفَظُوا ‏.‏
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سونے کو چاندی سے بیچنا سود ہے مگر نقدا نقد ۔ ابوبکر بن ابی شیبہ کہتے ہیں کہ میں نے سفیان بن عیینہ کو کہتے سنا: یاد رکھو کہ سونے کو چاندی سے یعنی باوجود اختلاف جنس کے ادھار بیچنا «ربا» ( سود ) ہے
حدیث 2260 — سنن ابن ماجه 12:124
صحیح Hadithصحیحصحیحصحیح - Agreed Upon
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ، قَالَ أَقْبَلْتُ أَقُولُ مَنْ يَصْطَرِفُ الدَّرَاهِمَ فَقَالَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ وَهُوَ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَرِنَا ذَهَبَكَ ثُمَّ ائْتِنَا إِذَا جَاءَ خَازِنُنَا نُعْطِكَ وَرِقَكَ ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ كَلاَّ وَاللَّهِ لَتُعْطِيَنَّهُ وَرِقَهُ أَوْ لَتَرُدَّنَّ إِلَيْهِ ذَهَبَهُ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ الْوَرِقُ بِالذَّهَبِ رِبًا إِلاَّ هَاءَ وَهَاءَ ‏"‏ ‏.‏
مالک بن اوس بن حدثان کہتے ہیں کہ میں یہ کہتے ہوئے آیا کہ کون درہم کی بیع صرف کرتا ہے؟ یہ سن کر طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ بولے، اور وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے تھے: لاؤ مجھے اپنا سونا دکھاؤ، اور دے جاؤ، پھر ذرا ٹھہر کے آنا، جب ہمارا خزانچی آ جائے گا تو ہم تمہیں درہم دے دیں گے، اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہرگز نہیں، اللہ کی قسم! یا تو اس کی چاندی دے دو، یا اس کا سونا اسے لوٹا دو، اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: چاندی کو سونے سے بیچنا سود ہے مگر جب نقدا نقد ہو ۔
حدیث 2261 — سنن ابن ماجه 12:125
صحیحصحیحصحیح Muqufضعیف
حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الشَّافِعِيُّ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ الْعَبَّاسِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ شَافِعٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ الدِّينَارُ بِالدِّينَارِ وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ لاَ فَضْلَ بَيْنَهُمَا فَمَنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ بِوَرِقٍ فَلْيَصْطَرِفْهَا بِذَهَبٍ وَمَنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ بِذَهَبٍ فَلْيَصْطَرِفْهَا بِالْوَرِقِ وَالصَّرْفُ هَاءَ وَهَاءَ ‏"‏ ‏.‏
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دینار کو دینار سے، اور درہم کو درہم سے بیچو ان میں کمی بیشی نہ ہو، اور جس کو چاندی کی حاجت ہو تو وہ اس کو سونے سے بھنا لے، اور جس کو سونے کی حاجت ہو اس کو چاندی سے بھنا لے، لیکن یہ نقدا نقد ہو، ایک ہاتھ سے لے دوسرے ہاتھ سے دے ۔
حدیث 2262 — سنن ابن ماجه 12:126
ضعیفضعیفحسن
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبٍ، وَسُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ ثَعْلَبَةَ الْحِمَّانِيُّ، قَالُوا حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، أَوْ سِمَاكٌ - وَلاَ أَعْلَمُهُ إِلاَّ سِمَاكًا - عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كُنْتُ أَبِيعُ الإِبِلَ فَكُنْتُ آخُذُ الذَّهَبَ مِنَ الْفِضَّةِ وَالْفِضَّةَ مِنَ الذَّهَبِ وَالدَّنَانِيرَ مِنَ الدَّرَاهِمِ وَالدَّرَاهِمَ مِنَ الدَّنَانِيرِ ‏.‏ فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ ‏ "‏ إِذَا أَخَذْتَ أَحَدَهُمَا وَأَعْطَيْتَ الآخَرَ فَلاَ تُفَارِقْ صَاحِبَكَ وَبَيْنَكَ وَبَيْنَهُ لَبْسٌ ‏"‏ ‏.‏ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ نَحْوَهُ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں اونٹ بیچا کرتا تھا، تو میں چاندی ( جو قیمت میں ٹھہرتی ) کے بدلے سونا لے لیتا، اور سونا ( جو قیمت میں ٹھہرتا ) کے بدلے چاندی لے لیتا، اور دینار درہم کے بدلے، اور درہم دینار کے بدلے لے لیتا تھا، پھر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلے میں پوچھا کہ ایسا کرنا کیسا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم دونوں میں سے ایک لے لو اور دوسرا دیدے تو اپنے ساتھی سے اس وقت تک جدا نہ ہو جب تک کہ حساب صاف نہ ہو جائے ۔
حدیث 2263 — سنن ابن ماجه 12:127
ضعیفضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، وَهَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالُوا أَنْبَأَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ فَضَاءٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنْ كَسْرِ سِكَّةِ الْمُسْلِمِينَ الْجَائِزَةِ بَيْنَهُمْ إِلاَّ مِنْ بَأْسٍ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بغیر ضرورت مسلمانوں کے رائج سکہ کو توڑنے سے منع فرمایا ہے۔
حدیث 2264 — سنن ابن ماجه 12:128
صحیحصحیححسن SahihIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَإِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالاَ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، مَوْلَى الأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ أَنَّ زَيْدًا أَبَا عَيَّاشٍ، - مَوْلًى لِبَنِي زُهْرَةَ - أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَأَلَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ عَنِ اشْتِرَاءِ الْبَيْضَاءِ، بِالسُّلْتِ فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ أَيَّتُهُمَا أَفْضَلُ قَالَ الْبَيْضَاءُ ‏.‏ فَنَهَانِي عَنْهُ وَقَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ سُئِلَ عَنِ اشْتِرَاءِ الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ فَقَالَ ‏ "‏ أَيَنْقُصُ الرُّطَبُ إِذَا يَبِسَ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا نَعَمْ ‏.‏ فَنَهَى عَنْ ذَلِكَ ‏.‏
بنی زہرۃ کے غلام زید ابوعیاش کہتے ہیں کہ انہوں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے پوچھا: سالم جَو کو چھلکا اتارے ہوئے جَو کے بدلے خریدنا کیسا ہے؟ سعد رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: دونوں میں سے کون بہتر ہے؟ کہا: سالم جو، تو سعد رضی اللہ عنہ نے مجھے اس سے روکا، اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب تر کھجور کو خشک کھجور سے بیچنے کے بارے میں پوچھا گیا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: کیا تر کھجور سوکھ جانے کے بعد ( وزن میں ) کم ہو جاتی ہے؟ لوگوں نے کہا: ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا۔
حدیث 2265 — سنن ابن ماجه 12:129
صحیح Hadithصحیحصحیحصحیح - Agreed Upon
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنِ الْمُزَابَنَةِ ‏.‏ وَالْمُزَابَنَةُ أَنْ يَبِيعَ الرَّجُلُ تَمْرَ حَائِطِهِ إِنْ كَانَتْ نَخْلاً بِتَمْرٍ كَيْلاً وَإِنْ كَانَتْ كَرْمًا أَنْ يَبِيعَهُ بِزَبِيبٍ كَيْلاً وَإِنْ كَانَتْ زَرْعًا أَنْ يَبِيعَهُ بِكَيْلِ طَعَامٍ نَهَى عَنْ ذَلِكَ كُلِّهِ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا، مزابنہ یہ ہے کہ آدمی اپنے باغ کی کھجور کو جو درختوں پر ہو خشک کھجور کے بدلے ناپ کر بیچے، یا انگور کو جو بیل پر ہو کشمش کے بدلے ناپ کر بیچے، اور اگر کھیتی ہو تو کھیت میں کھڑی فصل سوکھے ہوئے اناج کے بدلے ناپ کر بیچے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب سے منع کیا ہے ۱؎۔
حدیث 2266 — سنن ابن ماجه 12:130
صحیح Hadithصحیحصحیحصحیح Muslim
حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ مَرْوَانَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، وَسَعِيدِ بْنِ مِينَاءَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ نَهَى عَنِ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ ‏.‏
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع کیا ہے
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔