حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عُمَيْرٍ، - مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ - قَالَ كَانَ مَوْلاَىَ يُعْطِينِي الشَّىْءَ فَأُطْعِمُ مِنْهُ فَمَنَعَنِي - أَوْ قَالَ فَضَرَبَنِي - فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَوْ سَأَلَهُ فَقُلْتُ لاَ أَنْتَهِي أَوْ لاَ أَدَعُهُ . فَقَالَ " الأَجْرُ بَيْنَكُمَا " .
عمیر مولی آبی اللحم رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میرے مالک مجھے کوئی چیز دیتے تو میں اس میں سے اوروں کو بھی کھلا دیتا تھا تو انہوں نے مجھ کو ایسا کرنے سے روکا یا کہا: انہوں نے مجھے مارا، تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: یا اسی مالک نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: میں نے عرض کیا: میں اس سے باز نہیں آ سکتا، یا میں اسے چھوڑ نہیں سکتا ( کہ مسکین کو کھانا نہ کھلاؤں ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں کو اس کا اجر ملے گا ۔
حدیث 2298 — سنن ابن ماجه 12:162
صحیحصحیحصحیحIsnaad Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبَّادَ بْنَ شُرَحْبِيلَ، - رَجُلاً مِنْ بَنِي غُبَرَ - قَالَ أَصَابَنَا عَامُ مَخْمَصَةٍ فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَأَتَيْتُ حَائِطًا مِنْ حِيطَانِهَا فَأَخَذْتُ سُنْبُلاً فَفَرَكْتُهُ وَأَكَلْتُهُ وَجَعَلْتُهُ فِي كِسَائِي فَجَاءَ صَاحِبُ الْحَائِطِ فَضَرَبَنِي وَأَخَذَ ثَوْبِي فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ لِلرَّجُلِ " مَا أَطْعَمْتَهُ إِذْ كَانَ جَائِعًا أَوْ سَاغِبًا وَلاَ عَلَّمْتَهُ إِذْ كَانَ جَاهِلاً " . فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَرَدَّ إِلَيْهِ ثَوْبَهُ وَأَمَرَ لَهُ بِوَسْقٍ مِنْ طَعَامٍ أَوْ نِصْفِ وَسْقٍ .
ابوبشر جعفر بن أبی ایاس کہتے ہیں میں نے عباد بن شرحبیل رضی اللہ عنہ جو بنی غبر کے ایک فرد ہیں کو کہتے سنا کہ ایک سال قحط ہوا تو میں مدینہ آیا، وہاں اس کے باغوں میں سے ایک باغ میں گیا، اور اناج کی ایک بالی اٹھا لی، اور مل کر اس میں سے کچھ کھایا، اور کچھ اپنے کپڑے میں رکھ لیا، اتنے میں باغ کا مالک آ گیا، اس نے مجھے مارا اور میرا کپڑا چھین لیا، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ سے واقعہ بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باغ والے سے کہا: تم نے اس کو کھانا نہیں کھلایا جبکہ یہ بھوکا تھا، اور نہ تم نے اس کو تعلیم دی جبکہ یہ جاہل تھا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے کپڑے واپس کرنے اور ساتھ ہی ایک وسق یا نصف وسق غلہ دینے کا حکم دیا ۔
رافع بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اور ایک لڑکا دونوں مل کر اپنے یا انصار کے کھجور کے درخت پر پتھر مار رہے تھے، تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لڑکے! ( ابن کاسب کا قول ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا: میرے بیٹے! ) تم کیوں کھجور کے درختوں پر پتھر مارتے ہو ؟، رافع بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ میں ( کھجور ) کھاؤں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: درختوں پر پتھر نہ مارو جو نیچے گرے ہوں انہیں کھاؤ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا: اے اللہ! اسے آسودہ کر دے ۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم کسی چرواہے کے پاس آؤ تو تین بار اسے آواز دو، اگر وہ جواب دے تو بہتر، ورنہ اپنی ضرورت کے مطابق بغیر خراب کئے دودھ دوہ کر پی لو، اور جب تم کسی باغ میں آؤ تو باغ والے کو تین بار آواز دو، اگر وہ جواب دے تو بہتر، ورنہ اپنی ضرورت کے مطابق پھل توڑ کر کھا لو، البتہ خراب مت کرو ۔
حدیث 2301 — سنن ابن ماجه 12:165
صحیحصحیحضعیفضعیف
حَدَّثَنَا هَدِيَّةُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، وَأَيُّوبُ بْنُ حَسَّانَ الْوَاسِطِيُّ، وَعَلِيُّ بْنُ سَلَمَةَ، قَالُوا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ الطَّائِفِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِذَا مَرَّ أَحَدُكُمْ بِحَائِطٍ فَلْيَأْكُلْ وَلاَ يَتَّخِذْ خُبْنَةً " .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کسی باغ سے گزرے تو ( پھل ) کھائے، اور کپڑے میں نہ باندھے ۱؎۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا: کوئی کسی کے جانور کا دودھ بغیر اس کی اجازت کے نہ دوہے، کیا کوئی یہ پسند کرے گا کہ اس کے بالاخانہ میں کوئی جائے، اور اس کے غلہ کی کوٹھری کا دروازہ توڑ کر غلہ نکال لے جائے؟ ایسے ہی ان کے جانوروں کے تھن ان کے غلہ کی کوٹھریاں ہیں، تو کوئی کسی کے جانور کو اس کی اجازت کے بغیر نہ دوہے ۔
حدیث 2303 — سنن ابن ماجه 12:167
ضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ بِشْرِ بْنِ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ سَلِيطِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الطُّهَوِيِّ، عَنْ ذُهَيْلِ بْنِ عَوْفِ بْنِ شَمَّاخٍ الطُّهَوِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي سَفَرٍ إِذْ رَأَيْنَا إِبِلاً مَصْرُورَةً بِعِضَاهِ الشَّجَرِ فَثُبْنَا إِلَيْهَا فَنَادَانَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَرَجَعْنَا إِلَيْهِ فَقَالَ " إِنَّ هَذِهِ الإِبِلَ لأَهْلِ بَيْتٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ هُوَ قُوتُهُمْ وَيُمْنُهُمْ بَعْدَ اللَّهِ أَيَسُرُّكُمْ لَوْ رَجَعْتُمْ إِلَى مَزَاوِدِكُمْ فَوَجَدْتُمْ مَا فِيهَا قَدْ ذُهِبَ بِهِ أَتُرَوْنَ ذَلِكَ عَدْلاً " . قَالُوا لاَ . قَالَ " فَإِنَّ هَذَا كَذَلِكَ " . قُلْنَا أَفَرَأَيْتَ إِنِ احْتَجْنَا إِلَى الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ فَقَالَ " كُلْ وَلاَ تَحْمِلْ وَاشْرَبْ وَلاَ تَحْمِلْ " .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ اتنے میں ہم نے خاردار درختوں کی آڑ میں ایک اونٹنی دیکھی، جس کے تھن دودھ سے بھرے ہوئے تھے تو اس ہم ( کا دودھ دوہنے کے لیے ) اس کی طرف لپکے، یہ دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو آواز دی تو ہم آپ کی طرف پلٹ آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اونٹنی کسی مسلمان گھرانے کی ہے، اور یہی ان کی روزی ہے، اور اللہ تعالیٰ کے بعد یہی ان کے لیے خیر و برکت کی چیز ہے، کیا تم اس بات کو پسند کرو گے کہ تم اپنے توشہ دانوں کے پاس واپس آؤ تو جو کچھ ان میں ہے اس سے ان کو خالی پاؤ، کیا تم اس کو انصاف سمجھو گے ؟ لوگوں نے عرض کیا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بس یہ بھی ایسا ہی ہے ، ہم نے عرض کیا: اگر ہم کھانے پینے کے حاجت مند ہوں تو کیا تب بھی یہی حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( ایسی حالت میں ) کھا پی لو لیکن اٹھا کر نہ لے جاؤ ۱؎۔
حدیث 2304 — سنن ابن ماجه 12:168
صحیحصحیحIsnaad Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ لَهَا " اتَّخِذِي غَنَمًا فَإِنَّ فِيهَا بَرَكَةً " .
ام ہانی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم بکریاں پالو، اس لیے کہ ان میں برکت ہے ۔
عروہ بارقی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اونٹ ان کے مالکوں کے لیے قوت کی چیز ہے، اور بکریاں باعث برکت ہیں، اور گھوڑوں کی پیشانیوں میں قیامت تک کے لیے بھلائی بندھی ہے ۔
حدیث 2306 — سنن ابن ماجه 12:170
صحیحصحیحصحیح Muqufضعیف
حَدَّثَنَا عِصْمَةُ بْنُ الْفَضْلِ النَّيْسَابُورِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ فِرَاسٍ أَبُو هُرَيْرَةَ الصَّيْرَفِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ، حَدَّثَنَا زَرْبِيٌّ، إِمَامُ مَسْجِدِ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، رضى الله عنه قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " الشَّاةُ مِنْ دَوَابِّ الْجَنَّةِ " .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بکری تو جنت کے جانوروں میں سے ہے ۔