قرآني·Qurani
اردو

الجنائز

205 احادیث · #1433–1637

حدیث 1573 — سنن ابن ماجه 6:141
صحیحصحیحضعیف
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ الْبَخْتَرِيِّ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِي كَانَ يَصِلُ الرَّحِمَ وَكَانَ وَكَانَ. فَأَيْنَ هُوَ قَالَ ‏"‏ فِي النَّارِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَكَأَنَّهُ وَجَدَ مِنْ ذَلِكَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَيْنَ أَبُوكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏"‏ حَيْثُمَا مَرَرْتَ بِقَبْرِ كَافِرٍ فَبَشِّرْهُ بِالنَّارِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَأَسْلَمَ الأَعْرَابِيُّ بَعْدُ وَقَالَ لَقَدْ كَلَّفَنِي رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ تَعَبًا مَا مَرَرْتُ بِقَبْرِ كَافِرٍ إِلاَّ بَشَّرْتُهُ بِالنَّارِ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک اعرابی ( دیہاتی ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور کہا: اللہ کے رسول! میرے والد صلہ رحمی کیا کرتے تھے، اور اس اس طرح کے اچھے کام کیا کرتے تھے، تو اب وہ کہاں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ جہنم میں ہیں اس بات سے گویا وہ رنجیدہ ہوا، پھر اس نے کہا: اللہ کے رسول! آپ کے والد کہاں ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم کسی مشرک کی قبر کے پاس سے گزرو، تو اس کو جہنم کی خوشخبری دو اس کے بعد وہ اعرابی ( دیہاتی ) مسلمان ہو گیا، اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ پر ایک ذمہ داری ڈال دی ہے، اب کسی بھی کافر کی قبر سے گزرتا ہوں تو اسے جہنم کی بشارت دیتا ہوں۔
حدیث 1574 — سنن ابن ماجه 6:142
حسنحسنحسن Lighairihiحسن
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو بِشْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، ح: وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، ح: وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلاَنِيُّ، حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ، وَقَبِيصَةُ، كُلُّهُمْ عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بَهْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ زُوَّارَاتِ الْقُبُورِ ‏.‏
حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی بہت زیادہ زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت بھیجی ہے ۱؎۔
حدیث 1575 — سنن ابن ماجه 6:143
ضعیفضعیفحسن Lighairihiحسن
حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ مَرْوَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ زُوَّارَاتِ الْقُبُورِ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی بہت زیادہ زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت بھیجی ہے۔
حدیث 1576 — سنن ابن ماجه 6:144
ضعیفحسنحسن SahihIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلاَنِيُّ أَبُو نَصْرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَالِبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ زُوَّارَاتِ الْقُبُورِ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی بہت زیادہ زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت بھیجی ہے۔
حدیث 1577 — سنن ابن ماجه 6:145
صحیحصحیحصحیحصحیح - Bukhari And Muslim
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: نُهِينَا عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ، وَلَمْ يُعْزَمْ عَلَيْنَا ‏.‏
ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم عورتوں کو جنازے کے ساتھ جانے سے منع کر دیا گیا، لیکن ہمیں تاکیدی طور پر نہیں روکا گیا ۱؎۔
حدیث 1578 — سنن ابن ماجه 6:146
ضعیفضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سَلْمَانَ، عَنْ دِينَارٍ أَبِي عُمَرَ، عَنِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَإِذَا نِسْوَةٌ جُلُوسٌ فَقَالَ ‏"‏ مَا يُجْلِسُكُنَّ ‏"‏ ‏.‏ قُلْنَ نَنْتَظِرُ الْجِنَازَةَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ هَلْ تَغْسِلْنَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْنَ لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ هَلْ تَحْمِلْنَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْنَ لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ هَلْ تُدْلِينَ فِيمَنْ يُدْلِي ‏"‏ ‏.‏ قُلْنَ لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَارْجِعْنَ مَأْزُورَاتٍ غَيْرَ مَأْجُورَاتٍ ‏"‏ ‏.‏
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور کئی عورتیں بیٹھی ہوئی تھیں، آپ نے پوچھا: تم لوگ کیوں بیٹھی ہوئی ہو ؟ انہوں نے کہا: ہم جنازے کا انتظار کر رہی ہیں، آپ نے پوچھا: کیا تم لوگ جنازے کو غسل دو گی ؟ انہوں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا اسے اٹھاؤ گی ؟ انہوں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم بھی ان لوگوں کے ساتھ جنازہ قبر میں اتارو گی جو اسے اتاریں گے ؟ انہوں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ گناہ گار ہو کر ثواب سے خالی ہاتھ ( اپنے گھروں کو ) واپس جاؤ ۔
حدیث 1579 — سنن ابن ماجه 6:147
حسنحسنIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، مَوْلَى الصَّهْبَاءِ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏{وَلاَ يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ}‏ قَالَ: ‏"‏ النَّوْحُ ‏"‏ ‏.‏
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کریمہ: «ولا يعصينك في معروف» ( سورة الممتنحة: 12 ) نیک باتوں میں تمہاری نافرمانی نہ کریں کی تفسیر کے سلسلہ میں فرمایا: اس سے مراد نوحہ ہے ۱؎ ۔
حدیث 1580 — سنن ابن ماجه 6:148
ضعیفضعیف
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، حَدَّثَنَا حَرِيزٌ، مَوْلَى مُعَاوِيَةَ قَالَ خَطَبَ مُعَاوِيَةُ بِحِمْصَ فَذَكَرَ فِي خُطْبَتِهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ نَهَى عَنِ النَّوْحِ ‏.‏
معاویہ رضی اللہ عنہ کے غلام حریز کہتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے حمص میں خطبہ دیا تو اپنے خطبہ میں یہ ذکر کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نوحہ ( چلّا کر رونے ) سے منع فرمایا ہے
حدیث 1581 — سنن ابن ماجه 6:149
صحیحصحیححسن
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنِ ابْنِ مُعَانِقٍ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْعَرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ النِّيَاحَةُ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ وَإِنَّ النَّائِحَةَ إِذَا مَاتَتْ وَلَمْ تَتُبْ قَطَعَ اللَّهُ لَهَا ثِيَابًا مِنْ قَطِرَانٍ وَدِرْعًا مِنْ لَهَبِ النَّارِ ‏"‏ ‏.‏
ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نوحہ ( ماتم ) کرنا جاہلیت کا کام ہے، اور اگر نوحہ ( ماتم ) کرنے والی عورت بغیر توبہ کے مر گئی، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے تارکول ( ڈامر ) کے کپڑے، اور آگ کے شعلے کی قمیص بنائے گا ۔
حدیث 1582 — سنن ابن ماجه 6:150
صحیحصحیححسن
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ رَاشِدٍ الْيَمَامِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ النِّيَاحَةُ عَلَى الْمَيِّتِ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ فَإِنَّ النَّائِحَةَ إِنْ لَمْ تَتُبْ قَبْلَ أَنْ تَمُوتَ فَإِنَّهَا تُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَيْهَا سَرَابِيلُ مِنْ قَطِرَانٍ ثُمَّ يُعْلَى عَلَيْهَا بِدُرُوعٍ مِنْ لَهَبِ النَّارِ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میت پر نوحہ کرنا جاہلیت کا کام ہے، اگر نوحہ کرنے والی عورت توبہ کرنے سے پہلے مر جائے، تو وہ قیامت کے دن اس حال میں اٹھائی جائے گی کہ تارکول کی قمیص پہنے ہو گی، اور اس کو اوپر سے جہنم کی آگ کے شعلوں کی ایک قمیص پہنا دی جائے گی ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔