جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ بیمار ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار پرسی ( عیادت ) کے لیے تشریف لائے، ان کے اہل خانہ میں سے کسی نے کہا: ہمیں تو یہ امید تھی کہ وہ اللہ کے راستے میں شہادت کی موت مریں گے، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تب تو میری امت کے شہداء کی تعداد بہت کم ہے! ( نہیں ایسی بات نہیں بلکہ ) اللہ کے راستے میں قتل ہونا شہادت ہے، مرض طاعون میں مر جانا شہادت ہے، عورت کا زچگی ( جننے کی حالت ) میں مر جانا شہادت ہے، ڈوب کر یا جل کر مر جانا شہادت ہے، نیز پسلی کے ورم میں مر جانا شہادت ہے ۱؎۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم شہید کسے سمجھتے ہو ؟ لوگوں نے جواب دیا: اللہ کے راستے میں مارا جانا ( شہادت ہے ) فرمایا: تب تو میری امت میں بہت کم شہید ہوں گے ! ( پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں ایسی بات نہیں بلکہ ) جو اللہ کے راستے میں مارا جائے وہ شہید ہے، جو اللہ کے راستے میں مر جائے وہ بھی شہید ہے، پیٹ کی بیماری میں مرنے والا بھی شہید ہے، طاعون کے مرض میں مرنے والا شہید ہے ۔ سہیل کہتے ہیں: مجھے عبیداللہ بن مقسم نے خبر دی وہ ابوصالح سے روایت کرتے ہیں، اس میں یہ لفظ زیادہ ہے: اور ڈوب کر مرنے والا بھی شہید ہے ۔
حدیث 2805 — سنن ابن ماجه 24:53
صحیحصحیحصحیحصحیح - Agreed Upon
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ مَكَّةَ يَوْمَ الْفَتْحِ وَعَلَى رَأْسِهِ الْمِغْفَرُ .
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن اس حال میں مکہ داخل ہوئے کہ آپ کے سر پر خود تھا ۱؎۔
حدیث 2806 — سنن ابن ماجه 24:54
صحیحصحیحصحیح
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى . أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ أُحُدٍ أَخَذَ دِرْعَيْنِ كَأَنَّهُ ظَاهَرَ بَيْنَهُمَا .
سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ احد کے موقعہ پر اوپر نیچے دو زرہیں پہنیں۔
سلیمان بن حبیب کہتے ہیں کہ ہم ابوامامہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، تو وہ ہماری تلواروں میں چاندی کا کچھ زیور دیکھ کر غصہ ہو گئے، اور کہنے لگے: لوگوں ( صحابہ کرام ) نے بہت ساری فتوحات کیں، لیکن ان کی تلواروں کا زیور سونا چاندی نہ تھا، بلکہ سیسہ، لوہا اور علابی تھا۔ ابوالحسن قطان کہتے ہیں: علابی: اونٹ کا پٹھا ( چمڑا ) ہے۔
حدیث 2808 — سنن ابن ماجه 24:56
حسن Isnaadحسن IsnaadحسنIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ الصَّلْتِ، عَنِ ابْنِ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَنَفَّلَ سَيْفَهُ ذَا الْفِقَارِ يَوْمَ بَدْرٍ .
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ بدر کے دن اپنی ذوالفقار نامی تلوار ( علی رضی اللہ عنہ کو ) انعام میں دی ۱؎۔
حدیث 2809 — سنن ابن ماجه 24:57
ضعیف Isnaadضعیف Isnaadضعیف
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سَمُرَةَ، أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ كَانَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ إِذَا غَزَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حَمَلَ مَعَهُ رُمْحًا فَإِذَا رَجَعَ طَرَحَ رُمْحَهُ حَتَّى يُحْمَلَ لَهُ . فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ لأَذْكُرَنَّ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَقَالَ " لاَ تَفْعَلْ فَإِنَّكَ إِنْ فَعَلْتَ لَمْ تُرْفَعْ ضَالَّةٌ " .
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کے لیے جاتے تو اپنے ساتھ برچھا لے جاتے، اور لوٹتے وقت اسے پھینک دیتے، انہیں دینے کے لیے کوئی اسے اٹھا لاتا، اس پر علی رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ کی یہ حرکت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ضرور بتاؤں گا، تو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ایسا نہ کریں، کیونکہ اگر آپ نے ایسا کیا تو گمشدہ چیز اٹھائی نہیں جائے گی ۔
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ہاتھوں میں ایک عربی کمان تھی، اور ایک شخص کے ہاتھ میں آپ نے فارسی کمان دیکھی تو فرمایا: یہ کیا ہے؟ اسے پھینک دو، اور اس طرح کی رکھو، اور نیزے رکھو کیونکہ اللہ تعالیٰ تمہارے لیے ان دونوں کے ذریعہ سے دین کو ترقی دے گا، اور تمہیں دوسرے ملکوں کو فتح کرنے پر قادر بنا دے گا ۔
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک تیر کے سبب اللہ تعالیٰ تین آدمیوں کو جنت میں داخل کرے گا: ثواب کی نیت سے اس کے بنانے والے کو، چلانے والے کو، اور ترکش سے نکال نکال کر دینے والے کو ، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیر اندازی کرو، اور سواری کا فن سیکھو، میرے نزدیک تیر اندازی سیکھنا سواری کا فن سیکھنے سے بہتر ہے، مسلمان آدمی کا ہر کھیل باطل ہے سوائے تیر اندازی، گھوڑے کے سدھانے، اور اپنی بیوی کے ساتھ کھیلنے کے، کیونکہ یہ تینوں کھیل سچے ہیں ۱؎۔
عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو دشمن کو تیر مارے، اور اس کا تیر دشمن تک پہنچے، ٹھیک لگے یا چوک جائے، تو اس کا ثواب ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ہے ۔