قیس بن عباد کہتے ہیں کہ میں نے ابوذر رضی اللہ عنہ کو قسم کھا کر کہتے سنا کہ آیت کریمہ: «هذان خصمان اختصموا في ربهم» ( سورۃ الحج: ۱۹ ) یہ دونوں ایک دوسرے کے دشمن ہیں اپنے رب کے بارے میں انہوں نے جھگڑا کیا سے «إن الله يفعل ما يريد» ( سورۃ الحج: ۲۴ ) تک، ان چھ لوگوں کے بارے میں اتری جو بدر کے دن باہم لڑے، حمزہ بن عبدالمطلب، علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما مسلمانوں کی طرف سے، اور عبیدہ بن حارث، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ کافروں کی طرف سے۔
حدیث 2836 — سنن ابن ماجه 24:84
صحیح Isnaadصحیح IsnaadصحیحIsnaad Sahih
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعُمَيْسِ، وَعِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ بَارَزْتُ رَجُلاً فَقَتَلْتُهُ فَنَفَّلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَلَبَهُ .
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک شخص کو مقابلہ کے لیے للکارا، اور اسے قتل کر ڈالا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے چھینا ہوا سامان بطور انعام مجھے ہی دے دیا۔
صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ مشرکین کی آبادی پر شبخون مارتے ( رات میں حملہ کرتے ) وقت عورتیں اور بچے بھی قتل ہو جائیں گے، تو اس کا کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ بھی انہیں میں سے ہیں ۱؎۔
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ قبیلہ ہوازن سے جہاد کیا، چنانچہ ہم بنی فزارہ کے چشمہ کے پاس آئے اور ہم نے وہیں پر پڑاؤ ڈالا، جب صبح کا وقت ہوا، تو ہم نے ان پر حملہ کر دیا، پھر ہم چشمہ والوں کے پاس آئے ان پر بھی شبخون مارا، اور ان کے نو یا سات گھروں کے لوگوں کو قتل کیا۔
حدیث 2841 — سنن ابن ماجه 24:89
صحیحصحیحصحیحIsnaad Sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَأَى امْرَأَةً مَقْتُولَةً فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ فَنَهَى عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے راستے میں ایک عورت کو دیکھا جسے قتل کر دیا گیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں اور بچوں کے قتل سے منع فرما دیا ۱؎۔
حدیث 2842 — سنن ابن ماجه 24:90
حسن Sahihحسن Sahihصحیح Lighairihiصحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْمُرَقَّعِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ، عَنْ حَنْظَلَةَ الْكَاتِبِ، قَالَ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَمَرَرْنَا عَلَى امْرَأَةٍ مَقْتُولَةٍ قَدِ اجْتَمَعَ عَلَيْهَا النَّاسُ فَأَفْرَجُوا لَهُ فَقَالَ (مَا كَانَتْ هَذِهِ تُقَاتِلُ فِيمَنْ يُقَاتِلُ) . ثُمَّ قَالَ لِرَجُلٍ (انْطَلِقْ إِلَى خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ فَقُلْ لَهُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْمُرُكَ يَقُولُ لاَ تَقْتُلَنَّ ذُرِّيَّةً وَلاَ عَسِيفًا). حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْمُرَقَّعِ، عَنْ جَدِّهِ، رَبَاحِ بْنِ الرَّبِيعِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ. قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ يُخْطِئُ الثَّوْرِيُّ فِيهِ.
حنظلہ الکاتب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ ( جنگ ) میں شریک تھے، ہمارا گزر ایک مقتول عورت کے پاس سے ہوا، وہاں لوگ اکٹھے ہو گئے تھے، ( آپ کو دیکھ کر ) لوگوں نے آپ کے لیے جگہ خالی کر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو لڑنے والوں میں نہ تھی ( پھر اسے کیوں مار ڈالا گیا ) اس کے بعد ایک شخص سے کہا: خالد بن ولید کے پاس جاؤ، اور ان سے کہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں حکم دے رہے ہیں کہ عورتوں، بچوں، مزدوروں اور خادموں کو ہرگز قتل نہ کرنا ۔