عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں کا ہاتھ اپنے علاوہ دوسری قوم والوں پر ہے ( یعنی ان سب سے لڑیں، آپس میں نہ لڑیں ) ان کے خون اور ان کے مال برابر ہیں، مسلمانوں کا ادنی شخص کسی کو پناہ دے سکتا ہے اور لشکر میں دور والا شخص بھی مال غنیمت کا مستحق ہو گا ۔
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی ذمی کو قتل کیا، وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا، حالانکہ اس کی خوشبو چالیس سال کی مسافت سے محسوس کی جاتی ہے ۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا: جس نے کسی ایسے ذمی کو قتل کر دیا جس کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے پناہ دے رکھی ہو، تو وہ جنت کی خوشبو بھی نہ پائے گا، حالانکہ اس کی خوشبو ستر سال کی مسافت سے محسوس کی جاتی ہے ۔
رفاعہ بن شداد قتبانی کہتے ہیں کہ اگر وہ حدیث نہ ہوتی جو میں نے عمرو بن حمق خزاعی رضی اللہ عنہ سے سنی ہے تو میں مختار ثقفی کے سر اور جسم کے درمیان چلتا، میں نے عمرو بن حمق خزاعی رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی کو جان کی امان دی، پھر اس کو قتل کر دیا تو قیامت کے دن دغا بازی کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہو گا ۔
رفاعہ کہتے ہیں کہ میں مختار ثقفی کے پاس اس کے محل میں گیا، تو اس نے کہا: جبرائیل ابھی ابھی میرے پاس سے گئے ہیں ۱؎، اس وقت اس کی گردن اڑا دینے سے صرف اس حدیث نے مجھے باز رکھا جو میں نے سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ سے سنی تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص تم سے جان کی امان میں ہو تو اسے قتل نہ کرو، تو اسی بات نے مجھے اس کو قتل کرنے سے روکا ۔
حدیث 2690 — سنن ابن ماجه 21:76
صحیحصحیحصحیحصحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَتَلَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَدَفَعَهُ إِلَى وَلِيِّ الْمَقْتُولِ فَقَالَ الْقَاتِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ قَتْلَهُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِلْوَلِيِّ " أَمَا إِنَّهُ إِنْ كَانَ صَادِقًا ثُمَّ قَتَلْتَهُ دَخَلْتَ النَّارَ " . قَالَ فَخَلَّى سَبِيلَهُ . قَالَ وَكَانَ مَكْتُوفًا بِنِسْعَةٍ فَخَرَجَ يَجُرُّ نِسْعَتَهُ فَسُمِّيَ ذَا النِّسْعَةِ .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قتل کر دیا تو اس کا مقدمہ آآپ کے پاس لایا گیا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قاتل کو مقتول کے ولی کے حوالے کر دیا، قاتل نے کہا: اللہ کے رسول! اللہ کی قسم، میرا اس کو قتل کرنے کا قطعاً ارادہ نہیں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ولی سے کہا: اگر یہ اپنی بات میں سچا ہے، اور تم نے اس کو قتل کر دیا تو تم جہنم میں جاؤ گے تو مقتول کے ولی نے اس کو چھوڑ دیا، قاتل پٹے سے بندھا ہوا تھا، وہ پٹا گھسیٹتا ہوا نکلا، اور اس کا نام ہی پٹے والا پڑ گیا۔
حدیث 2691 — سنن ابن ماجه 21:77
صحیحصحیحصحیحIsnaad Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو عُمَيْرٍ، عِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ النَّحَّاسُ وَعِيسَى بْنُ يُونُسَ وَالْحُسَيْنُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ الْعَسْقَلاَنِيُّ قَالُوا حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنِ ابْنِ شَوْذَبٍ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ أَتَى رَجُلٌ بِقَاتِلِ وَلِيِّهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اعْفُ " . فَأَبَى فَقَالَ " خُذْ أَرْشَكَ " . فَأَبَى . قَالَ " اذْهَبْ فَاقْتُلْهُ فَإِنَّكَ مِثْلُهُ " . قَالَ فَلُحِقَ بِهِ فَقِيلَ لَهُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ قَالَ " اقْتُلْهُ فَإِنَّكَ مِثْلُهُ " . فَخَلَّى سَبِيلَهُ . قَالَ فَرُئِيَ يَجُرُّ نِسْعَتَهُ ذَاهِبًا إِلَى أَهْلِهِ . قَالَ كَأَنَّهُ قَدْ كَانَ أَوْثَقَهُ . قَالَ أَبُو عُمَيْرٍ فِي حَدِيثِهِ قَالَ ابْنُ شَوْذَبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، فَلَيْسَ لأَحَدٍ بَعْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَقُولَ " اقْتُلْهُ فَإِنَّكَ مِثْلُهُ " . قَالَ ابْنُ مَاجَهْ هَذَا حَدِيثُ الرَّمْلِيِّينَ لَيْسَ إِلاَّ عِنْدَهُمْ .
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص اپنے ولی کے قاتل کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے معاف کر دو ، اس نے انکار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دیت لے لو اس نے انکار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ اسے قتل کر دو اور تم بھی اسی کی طرح ہو جاؤ ۱؎ چنانچہ اس سے مل کر کہا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جاؤ تم اس کو قتل کر دو تم بھی اس کے مثل ہو جاؤ تو اس نے اسے چھوڑ دیا، قاتل کو اپنے گھر والوں کی طرف اپنا پٹا گھسیٹتے ہوئے جاتے دیکھا گیا، گویا کہ مقتول کے وارث نے اسے باندھ رکھا تھا ۱؎۔ ابوعمیر اپنی حدیث میں کہتے ہیں: ابن شوذب نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے یہ قول نقل کیا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کے لئے «اقتله فإنك مثله» کہنا درست نہیں۔ ابن ماجہ کہتے ہیں: یہ اہل رملہ کی حدیث ہے، ان کے علاوہ کسی اور نے یہ روایت نہیں کی ہے۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قصاص کا کوئی مقدمہ آتا تو آپ اس کو معاف کر دینے کا حکم دیتے ( یعنی سفارش کرتے ) ۔
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: کوئی بھی شخص جس کے جسم کو صدمہ پہنچے پھر وہ ثواب کی نیت سے معاف کر دے، تو اللہ تعالیٰ اس کے عوض اس کا ایک درجہ بلند کرتا ہے اور ایک گناہ معاف کر دیتا ہے، یہ میرے کانوں نے سنا اور دل نے یاد رکھا۔
معاذ بن جبل، عبیدہ بن جراح، عبادہ بن صامت اور شداد بن اوس رضی اللہ عنہم بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت جب جان بوجھ کر قتل کا ارتکاب کرے اور وہ حاملہ ہو، تو اس وقت تک قتل نہیں کی جائے گی جب تک وہ بچہ کو جن نہ دے، اور کسی کو اس کا کفیل نہ بنا دے، اور اگر اس نے زنا کا ارتکاب کیا تو اس وقت تک رجم نہیں کی جائے گی جب تک وہ زچگی ( بچہ کی ولادت ) سے فارغ نہ ہو جائے، اور کسی کو اپنے بچے کا کفیل نہ بنا دے ۱؎۔