حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ، قَالَ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ، فَقَالَ أَصَابَتْنَا مَجَاعَةٌ يَوْمَ خَيْبَرَ وَنَحْنُ مَعَ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَقَدْ أَصَابَ الْقَوْمُ حُمُرًا خَارِجًا مِنَ الْمَدِينَةِ فَنَحَرْنَاهَا وَإِنَّ قُدُورَنَا لَتَغْلِي إِذْ نَادَى مُنَادِي النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنِ اكْفَئُوا الْقُدُورَ وَلاَ تَطْعَمُوا مِنْ لُحُومِ الْحُمُرِ شَيْئًا . فَأَكْفَأْنَاهَا . فَقُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى حَرَّمَهَا تَحْرِيمًا قَالَ تَحَدَّثْنَا أَنَّمَا حَرَّمَهَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَلْبَتَّةَ مِنْ أَجْلِ أَنَّهَا تَأْكُلُ الْعَذِرَةَ .
ابواسحاق شیبانی (سلیمان بن فیروز) کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے پالتو گدھوں کے گوشت کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: ہم خیبر کے دن بھوک سے دوچار ہوئے، ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، لوگوں کو شہر کے باہر سے کچھ گدھے ملے تو ہم نے انہیں ذبح کیا، ہماری ہانڈیاں جوش مار رہی تھیں کہ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے آواز لگائی: لوگو! ہانڈیاں الٹ دو، اور گدھوں کے گوشت میں سے کچھ بھی نہ کھاؤ ، تو ہم نے ہانڈیاں الٹ دیں۔ ابواسحاق ( سلیمانی بن فیروز الشیبانی الکوفی ) کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گدھا واقعی حرام قرار دے دیا ہے؟ تو انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بالکل ہی حرام قرار دے دیا ہے کیونکہ وہ گندگی کھاتا ہے ۱؎۔
حدیث 3193 — سنن ابن ماجه 27:32
صحیحصحیححسنIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ جَابِرٍ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِيكَرِبَ الْكِنْدِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ حَرَّمَ أَشْيَاءَ حَتَّى ذَكَرَ الْحُمُرَ الإِنْسِيَّةَ .
مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی چیزوں کو حرام قرار دیا، حتیٰ کہ انہوں نے ( ان حرام چیزوں میں ) پالتو گدھے کا بھی ذکر کیا۔
حدیث 3194 — سنن ابن ماجه 27:33
صحیحصحیحصحیحصحیح - Agreed Upon
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنْ نُلْقِيَ لُحُومَ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ نِيئَةً وَنَضِيجَةً ثُمَّ لَمْ يَأْمُرْنَا بِهِ بَعْدُ .
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پالتو گدھے کا گوشت پھینک دینے کا حکم دیا، خواہ وہ کچا ہو یا پکا ہوا ہو، پھر اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے کھانے کا حکم ہمیں نہیں دیا۔
حدیث 3195 — سنن ابن ماجه 27:34
صحیحصحیحصحیح - Agreed Upon
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ، قَالَ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ غَزْوَةَ خَيْبَرَ فَأَمْسَى النَّاسُ قَدْ أَوْقَدُوا النِّيرَانَ فَقَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " عَلاَمَ تُوقِدُونَ " . قَالُوا عَلَى لُحُومِ الْحُمُرِ الإِنْسِيَّةِ فَقَالَ " أَهْرِيقُوا مَا فِيهَا وَاكْسِرُوهَا " . فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ أَوْ نُهَرِيقُ مَا فِيهَا وَنَغْسِلُهَا فَقَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " أَوْ ذَاكَ " .
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر کی لڑائی لڑی، پھر شام ہو گئی اور لوگوں نے آگ جلائی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا پکا رہے ہو ؟ لوگوں نے کہا: پالتو گدھے کا گوشت ( یہ سن کر ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کچھ ہانڈی میں ہے اسے بہا دو، اور ہانڈیاں توڑ دو تو لوگوں میں سے ایک نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم ایسا نہ کریں کہ جو ہانڈی میں ہے اسے بہا دیں اور ہانڈی کو دھل ( دھو ) ڈالیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا ہی کر لو ۔
حدیث 3196 — سنن ابن ماجه 27:35
صحیحصحیحصحیحصحیح Bukhari
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ مُنَادِيَ النَّبِيِّ، ـ صلى الله عليه وسلم ـ نَادَى إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يَنْهَيَانِكُمْ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ فَإِنَّهَا رِجْسٌ .
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے آواز لگائی: اللہ اور اس کے رسول تمہیں پالتو گدھے کے گوشت سے منع کرتے ہیں، کیونکہ وہ ناپاک ہے۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنین ( ماں کے پیٹ کے بچے ) کے متعلق سوال کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اگر چاہو تو کھاؤ، کیونکہ اس کی ماں کے ذبح کرنے سے وہ بھی ذبح ہو جاتا ہے ۱؎۔ ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں: میں نے کوسج اسحاق بن منصور کو لوگوں کے قول «الذكاة لا يقضى بها مذمة» کے سلسلے میں کہتے سنا: «مذمۃ» ذال کے کسرے سے ہو تو «ذمام» سے مشتق ہے اور ذال کے فتحہ کے ساتھ ہو تو«ذمّ» سے مشتق ہے۔