قرآني·Qurani
اردو

الزكاة

62 احادیث · #1783–1844

حدیث 1813 — سنن ابن ماجه 8:31
صحیحصحیحصحیح Lighairihiضعیف
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ تَجَوَّزْتُ لَكُمْ عَنْ صَدَقَةِ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ ‏"‏ ‏.‏
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تم سے گھوڑوں، غلام اور لونڈیوں کی زکاۃ معاف کر دی ہے ۔
حدیث 1814 — سنن ابن ماجه 8:32
ضعیفضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بَعَثَهُ إِلَى الْيَمَنِ وَقَالَ لَهُ ‏ "‏ خُذِ الْحَبَّ مِنَ الْحَبِّ وَالشَّاةَ مِنَ الْغَنَمِ وَالْبَعِيرَ مِنَ الإِبِلِ وَالْبَقَرَةَ مِنَ الْبَقَرِ ‏"‏ ‏.‏
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یمن بھیجا اور فرمایا: ( زکاۃ میں ) غلہ میں سے غلہ، بکریوں میں سے بکری، اونٹوں میں سے اونٹ، اور گایوں میں سے گائے لو ۔
حدیث 1815 — سنن ابن ماجه 8:33
Very DaifVery Daifضعیفضعیف
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ إِنَّمَا سَنَّ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ الزَّكَاةَ فِي هَذِهِ الْخَمْسَةِ فِي الْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ وَالتَّمْرِ وَالزَّبِيبِ وَالذُّرَةِ ‏.‏
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پانچ چیزوں میں زکاۃ مقرر کی ہے: گیہوں، جو، کھجور، انگور اور مکئی میں
حدیث 1816 — سنن ابن ماجه 8:34
صحیحصحیحصحیح Lighairihiحسن
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى أَبُو مُوسَى الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، وَعَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ فِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ وَالْعُيُونُ الْعُشْرُ وَفِيمَا سُقِيَ بِالنَّضْحِ نِصْفُ الْعُشْرِ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو غلہ بارش یا چشمہ کے پانی سے پیدا ہوتا ہو اس میں دسواں حصہ زکاۃ کا ہے، اور جو غلہ پانی سینچ کر پیدا ہو اس میں بیسواں حصہ زکاۃ ہے ۱؎۔
حدیث 1817 — سنن ابن ماجه 8:35
صحیحصحیحصحیحصحیح Bukhari
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْمِصْرِيُّ أَبُو جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ ‏ "‏ فِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ وَالأَنْهَارُ وَالْعُيُونُ أَوْ كَانَ بَعْلاً الْعُشْرُ وَفِيمَا سُقِيَ بِالسَّوَانِي نِصْفُ الْعُشْرِ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو غلہ اور پھل بارش، نہر، چشمہ یا زمین کی تری ( سیرابی ) سے پیدا ہو اس میں دسواں حصہ زکاۃ ہے، اور جسے جانوروں کے ذریعہ سینچا گیا ہو اس میں بیسواں حصہ ہے ۔
حدیث 1818 — سنن ابن ماجه 8:36
صحیححسن Sahihصحیح LighairihiIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِلَى الْيَمَنِ وَأَمَرَنِي أَنْ آخُذَ مِمَّا سَقَتِ السَّمَاءُ أَوْ سُقِيَ بَعْلاً الْعُشْرَ وَمَا سُقِيَ بِالدَّوَالِي نِصْفَ الْعُشْرِ ‏.‏ قَالَ يَحْيَى بْنُ آدَمَ الْبَعْلُ وَالْعَثَرِيُّ وَالْعَذْىُ هُوَ الَّذِي يُسْقَى بِمَاءِ السَّمَاءِ ‏.‏ وَالْعَثَرِيُّ مَا يُزْرَعُ لِلسَّحَابِ وَلِلْمَطَرِ خَاصَّةً لَيْسَ يُصِيبُهُ إِلاَّ مَاءُ الْمَطَرِ ‏.‏ وَالْبَعْلُ مَا كَانَ مِنَ الْكُرُومِ قَدْ ذَهَبَتْ عُرُوقُهُ فِي الأَرْضِ إِلَى الْمَاءِ فَلاَ يَحْتَاجُ إِلَى السَّقْىِ الْخَمْسَ سِنِينَ أَوِ السِّتَّ يَحْتَمِلُ تَرْكَ السَّقْىِ فَهَذَا الْبَعْلُ ‏.‏ وَالسَّيْلُ مَاءُ الْوَادِي إِذَا سَالَ ‏.‏ وَالْغَيْلُ سَيْلٌ دُونَ سَيْلٍ ‏.‏
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یمن بھیجا، اور حکم دیا کہ جو پیداوار بارش کے پانی سے ہو اور جو زمین کی تری سے ہو اس میں دسواں حصہ زکاۃ لوں، اور جو چرخی کے پانی سے ہو اس میں بیسواں حصہ لوں۔ یحییٰ بن آدم کہتے ہیں: «بعل»، «عثری» اور «عذی» وہ زراعت ( کھیتی ) ہے جو بارش کے پانی سے سیراب کی جائے، اور «عثری» اس زراعت کو کہتے ہیں: جو خاص بارش کے پانی سے ہی بوئی جائے اور دوسرا پانی اسے نہ پہنچے، اور «بعل» وہ انگور ہے جس کی جڑیں زمین کے اندر پانی تک چلی گئی ہوں اور اوپر سے پانچ چھ سال تک پانی دینے کی حاجت نہ ہو، بغیر سینچائی کے کام چل جائے، اور «سیل» کہتے ہیں وادی کے بہتے پانی کو، اور «غیل» کہتے ہیں چھوٹے «سیل» کو ۱؎۔
حدیث 1819 — سنن ابن ماجه 8:37
ضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، وَالزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحٍ التَّمَّارُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ عَتَّابِ بْنِ أَسِيدٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ يَبْعَثُ عَلَى النَّاسِ مَنْ يَخْرُصُ عَلَيْهِمْ كُرُومَهُمْ وَثِمَارَهُمْ ‏.‏
عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے پاس ایک شخص کو بھیجتے جو ان کے انگوروں اور پھلوں کا اندازہ لگاتا ۱؎۔
حدیث 1820 — سنن ابن ماجه 8:38
حسنحسنIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مَرْوَانَ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ حِينَ افْتَتَحَ خَيْبَرَ اشْتَرَطَ عَلَيْهِمْ أَنَّ لَهُ الأَرْضَ وَكُلَّ صَفْرَاءَ وَبَيْضَاءَ ‏.‏ يَعْنِي الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ ‏.‏ وَقَالَ لَهُ أَهْلُ خَيْبَرَ نَحْنُ أَعْلَمُ بِالأَرْضِ فَأَعْطِنَاهَا عَلَى أَنْ نَعْمَلَهَا وَيَكُونَ لَنَا نِصْفُ الثَّمَرَةِ وَلَكُمْ نِصْفُهَا ‏.‏ فَزَعَمَ أَنَّهُ أَعْطَاهُمْ عَلَى ذَلِكَ فَلَمَّا كَانَ حِينَ يُصْرَمُ النَّخْلُ بَعَثَ إِلَيْهِمُ ابْنَ رَوَاحَةَ فَحَزَرَ النَّخْلَ وَهُوَ الَّذِي يَدْعُونَهُ أَهْلُ الْمَدِينَةِ الْخَرْصَ فَقَالَ فِي ذَا كَذَا وَكَذَا ‏.‏ فَقَالُوا أَكْثَرْتَ عَلَيْنَا يَا ابْنَ رَوَاحَةَ ‏.‏ فَقَالَ فَأَنَا أَحْزُرُ النَّخْلَ وَأُعْطِيكُمْ نِصْفَ الَّذِي قُلْتُ ‏.‏ قَالَ فَقَالُوا هَذَا الْحَقُّ وَبِهِ تَقُومُ السَّمَاءُ وَالأَرْضُ ‏.‏ فَقَالُوا قَدْ رَضِينَا أَنْ نَأْخُذَ بِالَّذِي قُلْتَ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب خیبر فتح کیا، تو آپ نے ان سے شرط لے لی کہ زمین آپ کی ہو گی، اور ہر صفراء اور بیضاء یعنی سونا و چاندی بھی آپ ہی کا ہو گا، اور آپ سے خیبر والوں نے کہا: ہم یہاں کی زمین کے بارے میں زیادہ بہتر جانتے ہیں، لہٰذا آپ ہمیں یہ دے دیجئیے، ہم اس میں کھیتی کریں گے، اور جو پھل پیدا ہو گا وہ آدھا آدھا کر لیں گے، اسی شرط پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی زمین ان کے حوالے کر دی، جب کھجور توڑنے کا وقت آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو ان کے پاس بھیجا، انہوں نے کھجور کا تخمینہ لگایا، جس کو اہل مدینہ «خرص» کہتے ہیں، تو انہوں نے کہا: اس میں اتنا اور اتنا پھل ہے، یہودی یہ سن کر بولے: اے ابن رواحہ! آپ نے تو بہت بڑھا کر بتایا، ابن رواحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ٹھیک ہے میں کھجوریں اتروا کر انہیں جمع کر لیتا ہوں اور جو اندازہ میں نے کیا ہے اس کا آدھا تم کو دے دیتا ہوں، یہودی کہنے لگے: یہی حق ہے، اور اسی کی وجہ سے آسمان و زمین قائم ہیں، ہم آپ کے اندازے کے مطابق حصہ لینے پر راضی ہیں ۱؎۔
حدیث 1821 — سنن ابن ماجه 8:39
حسنحسنIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ، بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ أَبِي عَرِيبٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ، قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَقَدْ عَلَّقَ رَجُلٌ قِنَاءً أَوْ قِنْوًا وَبِيَدِهِ عَصًا فَجَعَلَ يَطْعَنُ بِذَلِكَ يُدَقْدِقُ فِي ذَلِكَ الْقِنْوِ وَيَقُولُ ‏ "‏ لَوْ شَاءَ رَبُّ هَذِهِ الصَّدَقَةِ تَصَدَّقَ بِأَطْيَبَ مِنْهَا إِنَّ رَبَّ هَذِهِ الصَّدَقَةِ يَأْكُلُ الْحَشَفَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"‏ ‏.‏
عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکلے، اور ایک شخص نے کھجور کے کچھ خوشے مسجد میں لٹکا دئیے تھے، آپ کے ہاتھ میں چھڑی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس خوشہ میں اس چھڑی سے کھٹ کھٹ مارتے جاتے، اور فرماتے: اگر یہ زکاۃ دینے والا چاہتا تو اس سے بہتر زکاۃ دیتا، یہ زکاۃ والا قیامت کے دن خراب ہی کھجور کھائے گا
حدیث 1822 — سنن ابن ماجه 8:40
صحیحصحیحصحیح LighairihiIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْقَزِيُّ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، فِي قَوْلِهِ سُبْحَانَهُ ‏{‏وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُمْ مِنَ الأَرْضِ وَلاَ تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ}‏ ‏.‏ قَالَ نَزَلَتْ فِي الأَنْصَارِ كَانَتِ الأَنْصَارُ تُخْرِجُ إِذَا كَانَ جِدَادُ النَّخْلِ مِنْ حِيطَانِهَا أَقْنَاءَ الْبُسْرِ فَيُعَلِّقُونَهُ عَلَى حَبْلٍ بَيْنَ أُسْطُوَانَتَيْنِ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَيَأْكُلُ مِنْهُ فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ فَيَعْمِدُ أَحَدُهُمْ فَيُدْخِلُ قِنْوَ الْحَشَفِ يَظُنُّ أَنَّهُ جَائِزٌ فِي كَثْرَةِ مَا يُوضَعُ مِنَ الأَقْنَاءِ فَنَزَلَ فِيمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ ‏{وَلاَ تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ}‏ ‏.‏ يَقُولُ لاَ تَعْمِدُوا لِلْحَشَفِ مِنْهُ تُنْفِقُونَ ‏.‏ ‏{وَلَسْتُمْ بِآخِذِيهِ إِلاَّ أَنْ تُغْمِضُوا فِيهِ }‏ يَقُولُ لَوْ أُهْدِيَ لَكُمْ مَا قَبِلْتُمُوهُ إِلاَّ عَلَى اسْتِحْيَاءٍ مِنْ صَاحِبِهِ غَيْظًا أَنَّهُ بَعَثَ إِلَيْكُمْ مَا لَمْ يَكُنْ لَكُمْ فِيهِ حَاجَةٌ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنْ صَدَقَاتِكُمْ ‏.‏
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں آیت کریمہ: «ومما أخرجنا لكم من الأرض ولا تيمموا الخبيث منه تنفقون» ( سورة التوبة: 267 ) انصار کے بارے میں نازل ہوئی، جب باغات سے کھجور توڑنے کا وقت آتا تو وہ اپنے باغات سے کھجور کے چند خوشے ( صدقے کے طور پر ) نکالتے، اور مسجد نبوی میں دونوں ستونوں کے درمیان رسی باندھ کر لٹکا دیتے، پھر فقراء مہاجرین اس میں سے کھاتے، انصار میں سے کوئی یہ کرتا کہ ان خوشوں میں خراب کھجور کا خوشہ شامل کر دیتا، اور یہ سمجھتا کہ بہت سارے خوشوں میں ایک خراب خوشہ رکھ دینا جائز ہے، تو انہیں لوگوں کے سلسلہ میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی: «ولا تيمموا الخبيث منه تنفقون» قصد نہ کرو خراب کا اس میں سے کہ اسے خرچ کرو اور تم اسے خود ہرگز لینے والے نہیں ہو، الا یہ کہ چشم پوشی سے کام لو، اگر تمہیں کوئی ایسے خراب مال سے تحفہ بھیجے تو تم کبھی بھی اس کو قبول نہ کرو گے مگر شرم کی وجہ سے، اور دل میں غصہ ہو کر کہ اس نے تمہارے پاس ایسی چیز بھیجی ہے جو تمہارے کام کی نہیں ہے، اور تم جان لو کہ اللہ تمہارے صدقات سے بے نیاز ہے۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔