سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ اپنے ایک سفر حج میں آئے تو سعد رضی اللہ عنہ ان کے پاس ملنے آئے، لوگوں نے علی رضی اللہ عنہ کا تذکرہ کیا تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے علی رضی اللہ عنہ کو نامناسب الفاظ سے یاد کیا، اس پر سعد رضی اللہ عنہ ناراض ہو گئے اور بولے: آپ ایسا اس شخص کی شان میں کہتے ہیں جس کے بارے میں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: جس کا مولیٰ میں ہوں، علی اس کے مولیٰ ہیں ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے یہ بھی سنا: تم ( یعنی علی ) میرے لیے ویسے ہی ہو جیسے ہارون موسیٰ کے لیے، مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ، نیز میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: آج میں لڑائی کا جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے ۔
حدیث 122 — سنن ابن ماجه #122
صحیحصحیحصحیحصحیح - Bukhari And Muslim
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَوْمَ قُرَيْظَةَ " مَنْ يَأْتِينَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ " . فَقَالَ الزُّبَيْرُ أَنَا . فَقَالَ " مَنْ يَأْتِينَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ " . قَالَ الزُّبَيْرُ أَنَا . ثَلاَثًا فَقَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيٌّ وَإِنَّ حَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ " .
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ قریظہ پر حملے کے دن فرمایا: کون ہے جو میرے پاس قوم ( یعنی یہود بنی قریظہ ) کی خبر لائے؟، زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کون ہے جو میرے پاس قوم کی خبر لائے؟ ، زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں، یہ سوال و جواب تین بار ہوا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نبی کے حواری ( خاص مددگار ) ہوتے ہیں، اور میرے حواری ( خاص مددگار ) زبیر ہیں ۱؎۔
حدیث 123 — سنن ابن ماجه #123
صحیحصحیحصحیحصحیح - Bukhari And Muslim
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ لَقَدْ جَمَعَ لِي رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَبَوَيْهِ يَوْمَ أُحُدٍ .
زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ احد ۱؎ کے دن میرے لیے اپنے ماں باپ دونوں کو جمع کیا ۲؎۔
عروہ کہتے ہیں کہ مجھ سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: عروہ! تمہارے نانا ( ابوبکر ) اور والد ( زبیر ) ان لوگوں میں سے ہیں جن کے بارے میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی: «الذين استجابوا لله والرسول من بعد ما أصابهم القرح» جن لوگوں نے زخمی ہونے کے باوجود اللہ اور اس کے رسول کی پکار پر لبیک کہا ( سورة آل عمران: 172 ) ، یعنی ابوبکر اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما۔
حدیث 125 — سنن ابن ماجه #125
صحیحصحیحVery Daifضعیف
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَوْدِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الصَّلْتُ الأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ طَلْحَةَ، مَرَّ عَلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ " شَهِيدٌ يَمْشِي عَلَى وَجْهِ الأَرْضِ " .
جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ طلحہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ شہید ہیں جو روئے زمین پر چل رہے ہیں ۔
حدیث 126 — سنن ابن ماجه #126
حسنحسنضعیف
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الأَزْهَرِ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، قَالَ نَظَرَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِلَى طَلْحَةَ فَقَالَ " هَذَا مِمَّنْ قَضَى نَحْبَهُ " .
معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طلحہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو فرمایا: یہ ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے اپنے کئے ہوئے عہد کو پورا کر دیا ۔
حدیث 127 — سنن ابن ماجه #127
حسنحسنضعیف
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا إِسْحَاقُ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، قَالَ كُنَّا عِنْدَ مُعَاوِيَةَ فَقَالَ أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " طَلْحَةُ مِمَّنْ قَضَى نَحْبَهُ " .
موسیٰ بن طلحہ کہتے ہیں کہ ہم معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے تو انہوں نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: طلحہ ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے اپنے کئے ہوئے عہد کو سچ کر دکھایا ۱؎۔
حدیث 128 — سنن ابن ماجه #128
صحیحصحیحصحیحصحیح
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، قَالَ رَأَيْتُ يَدَ طَلْحَةَ شَلاَّءَ وَقَى بِهَا رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَوْمَ أُحُدٍ .
قیس بن ابی حازم کہتے ہیں کہ میں نے طلحہ رضی اللہ عنہ کا وہ ہاتھ دیکھا جو شل ( بیکار ) ہو گیا تھا، جنگ احد میں انہوں نے اس کو ڈھال بنا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کی تھی۔
حدیث 129 — سنن ابن ماجه #129
صحیحصحیحصحیحصحیح - Bukhari And Muslim
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ جَمَعَ أَبَوَيْهِ لأَحَدٍ غَيْرِ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ فَإِنَّهُ قَالَ لَهُ يَوْمَ أُحُدٍ " ارْمِ سَعْدُ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي " .
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپ نے سعد بن مالک ( سعد بن ابی وقاص ) رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی کے لیے اپنے والدین کو جمع کیا ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ احد کے دن سعد رضی اللہ عنہ سے کہا: اے سعد! تم تیر چلاؤ، میرے ماں اور باپ تم پر فدا ہوں ۱؎۔
حدیث 130 — سنن ابن ماجه #130
صحیحصحیحصحیحصحیح Bukhari
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، ح وَحَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، قَالَ سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ، يَقُولُ لَقَدْ جَمَعَ لِي رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَوْمَ أُحُدٍ أَبَوَيْهِ فَقَالَ " ارْمِ سَعْدُ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي " .
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے غزوہ احد کے دن اپنے والدین کو جمع کیا، اور فرمایا: اے سعد! تیر چلاؤ، میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں ۔