قرآني·Qurani
اردو

الصدقة

139 احادیث · #2390–2528

حدیث 2430 — سنن ابن ماجه 15:41
ضعیفضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلاَنِيُّ، حَدَّثَنَا يَعْلَى، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ يُسَيْرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ رُومِيٍّ، قَالَ كَانَ سُلَيْمَانُ بْنُ أُذُنَانٍ يُقْرِضُ عَلْقَمَةَ أَلْفَ دِرْهَمٍ إِلَى عَطَائِهِ فَلَمَّا خَرَجَ عَطَاؤُهُ تَقَاضَاهَا مِنْهُ وَاشْتَدَّ عَلَيْهِ فَقَضَاهُ فَكَأَنَّ عَلْقَمَةَ غَضِبَ فَمَكَثَ أَشْهُرًا ثُمَّ أَتَاهُ فَقَالَ أَقْرِضْنِي أَلْفَ دِرْهَمٍ إِلَى عَطَائِي قَالَ نَعَمْ وَكَرَامَةً يَا أُمَّ عُتْبَةَ هَلُمِّي تِلْكَ الْخَرِيطَةَ الْمَخْتُومَةَ الَّتِي عِنْدَكِ ‏.‏ فَجَاءَتْ بِهَا فَقَالَ أَمَا وَاللَّهِ إِنَّهَا لَدَرَاهِمُكَ الَّتِي قَضَيْتَنِي مَا حَرَّكْتُ مِنْهَا دِرْهَمًا وَاحِدًا ‏.‏ قَالَ فَلِلَّهِ أَبُوكَ مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا فَعَلْتَ بِي ‏.‏ قَالَ مَا سَمِعْتُ مِنْكَ ‏.‏ قَالَ مَا سَمِعْتَ مِنِّي قَالَ سَمِعْتُكَ تَذْكُرُ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُقْرِضُ مُسْلِمًا قَرْضًا مَرَّتَيْنِ إِلاَّ كَانَ كَصَدَقَتِهَا مَرَّةً ‏"‏ ‏.‏ قَالَ كَذَلِكَ أَنْبَأَنِي ابْنُ مَسْعُودٍ ‏.‏
قیس بن رومی کہتے ہیں کہ سلیمان بن اذنان نے علقمہ کو ان کی تنخواہ ملنے تک کے لیے ایک ہزار درہم قرض دے رکھا تھا، جب ان کی تنخواہ ملی تو سلیمان نے ان سے اپنے قرض کا تقاضا کیا، اور ان پر سختی کی، تو علقمہ نے اسے ادا کر دیا، لیکن ایسا لگا کہ علقمہ ناراض ہیں، پھر کچھ مہینے گزرے تو پھر وہ سلیمان بن اذنان کے پاس آئے، اور کہا: میری تنخواہ ملنے تک مجھے ایک ہزار درہم کا پھر قرض دے دیجئیے، وہ بولے: ہاں، لے لو، یہ میرے لیے عزت کی بات ہے، اور ام عتبہ کو پکار کر کہا: وہ مہر بند تھیلی لے آؤ جو تمہارے پاس ہے، وہ اسے لے آئیں، تو انہوں نے کہا: دیکھو اللہ کی قسم! یہ تو وہی درہم ہیں جو تم نے مجھے ادا کئے تھے، میں نے اس میں سے ایک درہم بھی ادھر ادھر نہیں کیا ہے، علقمہ بولے: تمہارے باپ عظیم ہیں پھر تم نے میرے ساتھ ایسا کیوں کیا تھا؟ ۱؎ وہ بولے: اس حدیث کی وجہ سے جو میں نے آپ سے سنی تھی، انہوں نے پوچھا: تم نے مجھ سے کیا سنا تھا؟ وہ بولے: میں نے آپ سے سنا تھا، آپ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کر رہے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: کوئی مسلمان ایسا نہیں جو کسی مسلمان کو دوبار قرض دے، مگر اس کو ایک بار اتنے ہی مال کے صدقے کا ثواب ملے گا ، علقمہ نے کہا: ہاں، مجھے ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایسے ہی خبر دی ہے۔
حدیث 2431 — سنن ابن ماجه 15:42
Very DaifVery Daifضعیفضعیف
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ، وَحَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ رَأَيْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ مَكْتُوبًا الصَّدَقَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا وَالْقَرْضُ بِثَمَانِيَةَ عَشَرَ ‏.‏ فَقُلْتُ يَا جِبْرِيلُ مَا بَالُ الْقَرْضِ أَفْضَلُ مِنَ الصَّدَقَةِ ‏.‏ قَالَ لأَنَّ السَّائِلَ يَسْأَلُ وَعِنْدَهُ وَالْمُسْتَقْرِضُ لاَ يَسْتَقْرِضُ إِلاَّ مِنْ حَاجَةٍ ‏"‏ ‏.‏
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معراج کی رات میں نے جنت کے دروازے پر لکھا دیکھا کہ صدقہ کا ثواب دس گنا ہے، اور قرض کا اٹھارہ گنا، میں نے کہا: جبرائیل! کیا بات ہے؟ قرض صدقہ سے افضل کیسے ہے؟ تو کہا: اس لیے کہ سائل سوال کرتا ہے حالانکہ اس کے پاس کھانے کو ہوتا ہے، اور قرض لینے والا قرض اس وقت تک نہیں مانگتا جب تک اس کو واقعی ضرورت نہ ہو ۔
حدیث 2432 — سنن ابن ماجه 15:43
ضعیفضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنِي عُتْبَةُ بْنُ حُمَيْدٍ الضَّبِّيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ الْهُنَائِيِّ، قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ الرَّجُلُ مِنَّا يُقْرِضُ أَخَاهُ الْمَالَ فَيُهْدِي لَهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا أَقْرَضَ أَحَدُكُمْ قَرْضًا فَأَهْدَى لَهُ أَوْ حَمَلَهُ عَلَى الدَّابَّةِ فَلاَ يَرْكَبْهَا وَلاَ يَقْبَلْهُ إِلاَّ أَنْ يَكُونَ جَرَى بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ قَبْلَ ذَلِكَ ‏"‏ ‏.‏
یحییٰ بن ابی اسحاق ہنائی کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ہم میں سے ایک شخص اپنے مسلمان بھائی کو مال قرض دیتا ہے، پھر قرض لینے والا اس کو تحفہ بھیجتا ہے تو یہ عمل کیسا ہے؟ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: تم میں سے جب کوئی کسی کو قرض دے، پھر وہ اس کو تحفہ دے یا اسے اپنے جانور پر سوار کرے، تو وہ سوار نہ ہو اور نہ تحفہ قبول کرے، ہاں، اگر ان کے درمیان پہلے سے ایسا ہوتا رہا ہو تو ٹھیک ہے ۱؎۔
حدیث 2433 — سنن ابن ماجه 15:44
صحیحصحیحضعیف
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ أَبُو جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ الأَطْوَلِ، أَنَّ أَخَاهُ، مَاتَ وَتَرَكَ ثَلاَثَمِائَةِ دِرْهَمٍ وَتَرَكَ عِيَالاً فَأَرَدْتُ أَنْ أُنْفِقَهَا عَلَى عِيَالِهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ أَخَاكَ مُحْتَبَسٌ بِدَيْنِهِ فَاقْضِ عَنْهُ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ أَدَّيْتُ عَنْهُ إِلاَّ دِينَارَيْنِ ادَّعَتْهُمَا امْرَأَةٌ وَلَيْسَ لَهَا بَيِّنَةٌ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَأَعْطِهَا فَإِنَّهَا مُحِقَّةٌ ‏"‏ ‏.‏
سعد بن اطول رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان کے بھائی وفات پا گئے، اور ( ترکہ میں ) تین سو درہم اور بال بچے چھوڑے، میں نے چاہا کہ ان درہموں کو ان کے بال بچوں پر صرف کروں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا بھائی اپنے قرض کے بدلے قید ہے، اس کا قرض ادا کرو ، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے ان کی طرف سے سارے قرض ادا کر دئیے ہیں، سوائے ان دو درہموں کے جن کا دعویٰ ایک عورت نے کیا ہے، اور اس کے پاس کوئی گواہ نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو بھی ادا کر دو اس لیے کہ وہ اپنے دعویٰ میں سچی ہے ۔
حدیث 2434 — سنن ابن ماجه 15:45
صحیحصحیحصحیحصحیح Bukhari
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ أَبَاهُ، تُوُفِّيَ وَتَرَكَ عَلَيْهِ ثَلاَثِينَ وَسْقًا لِرَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ فَاسْتَنْظَرَهُ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ فَأَبَى أَنْ يُنْظِرَهُ فَكَلَّمَ جَابِرٌ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِيَشْفَعَ لَهُ إِلَيْهِ فَجَاءَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَكَلَّمَ الْيَهُودِيَّ لِيَأْخُذَ ثَمَرَ نَخْلِهِ بِالَّذِي لَهُ عَلَيْهِ فَأَبَى عَلَيْهِ فَكَلَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَبَى أَنْ يُنْظِرَهُ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم النَّخْلَ فَمَشَى فِيهَا ثُمَّ قَالَ لِجَابِرٍ ‏"‏ جُدَّ لَهُ فَأَوْفِهِ الَّذِي لَهُ ‏"‏ ‏.‏ فَجَدَّ لَهُ بَعْدَ مَا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثَلاَثِينَ وَسْقًا وَفَضَلَ لَهُ اثْنَا عَشَرَ وَسْقًا فَجَاءَ جَابِرٌ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِيُخْبِرَهُ بِالَّذِي كَانَ فَوَجَدَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَائِبًا فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَاءَهُ فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ قَدْ أَوْفَاهُ وَأَخْبَرَهُ بِالْفَضْلِ الَّذِي فَضَلَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَخْبِرْ بِذَلِكَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ‏"‏ ‏.‏ فَذَهَبَ جَابِرٌ إِلَى عُمَرَ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ لَقَدْ عَلِمْتُ حِينَ مَشَى فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيُبَارِكَنَّ اللَّهُ فِيهَا ‏.‏
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان کے والد وفات پا گئے، اور اپنے اوپر ایک یہودی کے تیس وسق کھجور قرض چھوڑ گئے، جابر رضی اللہ عنہ نے اس یہودی سے مہلت مانگی لیکن اس نے انہیں مہلت دینے سے انکار کر دیا تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ اس سے اس کی سفارش کر دیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس گئے اور آپ نے اس سے بات کی کہ وہ ان کھجوروں کو جو ان کے درخت پر ہیں اپنے قرض کے بدلہ لے لے، لیکن وہ نہیں مانا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے مہلت مانگی، لیکن وہ انہیں مہلت دینے پر بھی راضی نہ ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان درختوں کے پاس تشریف لے گئے، اور ان کے درمیان چلے پھر جابر رضی اللہ عنہ سے کہا: ان کھجوروں کو توڑ کر اس کا جو قرض ہے اسے پورا پورا ادا کر دو ، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے واپس چلے جانے کے بعد جابر رضی اللہ عنہ نے تیس وسق کھجور توڑی ( جس سے جابر رضی اللہ عنہ نے اس کا قرض چکایا ) اور بارہ وسق کھجور بچ بھی گئی، جابر رضی اللہ عنہ نے یہ صورت حال دیکھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتانے آئے، لیکن آپ کو موجود نہیں پایا، جب آپ واپس تشریف لائے تو وہ پھر دوبارہ حاضر ہوئے، اور آپ کو بتایا کہ اس کا قرض پورا پورا ادا کر دیا ہے، اور جو زائد کھجور بچ گئی تھی اس کی بھی خبر دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ اسے عمر بن خطاب کو بھی بتا دو ، چنانچہ جابر رضی اللہ عنہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، اور انہیں بھی اس کی خبر دی، یہ سن کر عمر رضی اللہ عنہ بولے: میں اسی وقت سمجھ گیا تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان درختوں کے درمیان چلے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان میں ضرور برکت دے گا ۱؎۔
حدیث 2435 — سنن ابن ماجه 10:46
ضعیفضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيُّ، وَأَبُو أُسَامَةَ وَجَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ عَنِ ابْنِ أَنْعُمٍ، قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ وَحَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ ابْنِ أَنْعُمٍ، عَنِ عِمْرَانَ بْنِ عَبْدٍ الْمَعَافِرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ الدَّيْنَ يُقْضَى مِنْ صَاحِبِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِذَا مَاتَ إِلاَّ مَنْ يَدَيَّنُ فِي ثَلاَثِ خِلاَلٍ الرَّجُلُ تَضْعُفُ قُوَّتُهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيَسْتَدِينُ يَتَقَوَّى بِهِ لِعَدُوِّ اللَّهِ وَعَدُوِّهِ وَرَجُلٌ يَمُوتُ عِنْدَهُ مُسْلِمٌ لاَ يَجِدُ مَا يُكَفِّنُهُ وَيُوَارِيهِ إِلاَّ بِدَيْنٍ وَرَجُلٌ خَافَ اللَّهَ عَلَى نَفْسِهِ الْعُزْبَةَ فَيَنْكِحُ خَشْيَةً عَلَى دِينِهِ فَإِنَّ اللَّهَ يَقْضِي عَنْ هَؤُلاَءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرض دار جب مقروض مر جائے تو قیامت کے دن اس کے قرض کی ادائیگی اس سے ضرور کرائی جائے گی سوائے اس کے کہ اس نے تین باتوں میں سے کسی کے لیے قرض لیا ہو، ایک وہ جس کی طاقت جہاد میں کمزور پڑ جائے تو وہ قرض لے کر اپنی طاقت بڑھائے تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے اور اپنے دشمن سے جہاد کے قابل ہو جائے، دوسرا وہ شخص جس کے پاس کوئی مسلمان مر جائے اور اس کے پاس اس کے کفن دفن کے لیے سوائے قرض کے کوئی چارہ نہ ہو، تیسرا وہ شخص، جو تجرد ( بغیر شادی کے رہنے ) سے اپنے نفس پر ڈرے، اور اپنے دین کو مبتلائے آفت ہونے کے اندیشے سے قرض لے کر نکاح کرے، تو اللہ تعالیٰ ان تینوں کا قرض قیامت کے دن ادا کر دے گا ۔
حدیث 2436 — سنن ابن ماجه 16:1
صحیحصحیحصحیحصحیح - Agreed Upon
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنِي الأَسْوَدُ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم اشْتَرَى مِنْ يَهُودِيٍّ طَعَامًا إِلَى أَجَلٍ وَأَرْهَنَهُ دِرْعَهُ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی سے ایک مقررہ مدت کے لیے غلہ قرض پر خریدا، اور اپنی زرہ اس کے پاس گروی رکھ دی ۱؎۔
حدیث 2437 — سنن ابن ماجه 16:2
صحیحصحیحصحیحصحیح Bukhari
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ لَقَدْ رَهَنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دِرْعَهُ عِنْدَ يَهُودِيٍّ بِالْمَدِينَةِ فَأَخَذَ لأَهْلِهِ مِنْهُ شَعِيرًا ‏.‏
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں اپنی زرہ ایک یہودی کے پاس گروی رکھ دی، اور اس سے اپنے گھر والوں کے لیے جو لیے۔
حدیث 2438 — سنن ابن ماجه 16:3
صحیحصحیح Lighairihiصحیح LighairihiIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ بَهْرَامَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم تُوُفِّيَ وَدِرْعُهُ مَرْهُونَةٌ عِنْدَ يَهُودِيٍّ بِطَعَامٍ ‏.‏
اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی، اور آپ کی زرہ ایک یہودی کے پاس کچھ غلے کے عوض گروی رکھی ہوئی تھی۔
حدیث 2439 — سنن ابن ماجه 16:4
حسن Sahihحسن Sahihصحیححسن
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا هِلاَلُ بْنُ خَبَّابٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَاتَ وَدِرْعُهُ رَهْنٌ عِنْدَ يَهُودِيٍّ بِثَلاَثِينَ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی، اور آپ کی زرہ ایک یہودی کے پاس تیس صاع جو کے عوض گروی رکھی ہوئی تھی۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔