قرآني·Qurani
اردو

الصيام

145 احادیث · #1638–1782

حدیث 1668 — سنن ابن ماجه 7:31
Very DaifVery DaifVery Daifضعیف
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ بَدْرٍ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ لِلْحُبْلَى الَّتِي تَخَافُ عَلَى نَفْسِهَا أَنْ تُفْطِرَ وَلِلْمُرْضِعِ الَّتِي تَخَافُ عَلَى وَلَدِهَا ‏.‏
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حاملہ کو جسے اپنی جان کا ڈر ہو، اور دودھ پلانے والی عورت کو جسے اپنے بچے کا ڈر ہو، رخصت دی کہ وہ دونوں روزے نہ رکھیں۔
حدیث 1669 — سنن ابن ماجه 7:32
صحیحصحیححسن Sahihصحیح - Bukhari And Muslim
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، وَعَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ: إِنْ كَانَ لَيَكُونُ عَلَىَّ الصِّيَامُ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ فَمَا أَقْضِيهِ حَتَّى يَجِيءَ شَعْبَانُ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے اوپر رمضان کے روزے ہوتے تھے میں ان کی قضاء نہیں کر پاتی تھی یہاں تک کہ شعبان کا مہینہ آ جاتا ۱؎۔
حدیث 1670 — سنن ابن ماجه 7:33
حسن
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كُنَّا نَحِيضُ عِنْدَ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَيَأْمُرُنَا بِقَضَاءِ الصَّوْمِ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حیض آتا تھا تو آپ ہمیں روزے کی قضاء کا حکم دیتے تھے۔
حدیث 1671 — سنن ابن ماجه 7:34
صحیحضعیفصحیحصحیح - Bukhari And Muslim
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ رَجُلٌ فَقَالَ هَلَكْتُ ‏.‏ قَالَ: ‏"‏ وَمَا أَهْلَكَكَ؟ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ: وَقَعْتُ عَلَى امْرَأَتِي فِي رَمَضَانَ ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏"‏ أَعْتِقْ رَقَبَةً ‏"‏ ‏.‏ قَالَ: لاَ أَجِدُهَا ‏.‏ قَالَ: ‏"‏ صُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ: لاَ أُطِيقُ ‏.‏ قَالَ: ‏"‏ أَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ: لاَ أَجِدُ ‏.‏ قَالَ: ‏"‏ اجْلِسْ ‏"‏ ‏.‏ فَجَلَسَ فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ أُتِيَ بِمِكْتَلٍ يُدْعَى الْعَرَقَ فَقَالَ: ‏"‏ اذْهَبْ فَتَصَدَّقْ بِهِ ‏"‏ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا بَيْنَ لاَبَتَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَحْوَجُ إِلَيْهِ مِنَّا ‏.‏ قَالَ: ‏"‏ فَانْطَلِقْ فَأَطْعِمْهُ عِيَالَكَ ‏"‏ ‏.‏ حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِذَلِكَ فَقَالَ: ‏"‏ وَصُمْ يَوْمًا مَكَانَهُ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا، اس نے عرض کیا: میں ہلاک ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں کس چیز نے ہلاک کر دیا؟ اس نے کہا: میں نے رمضان میں اپنی بیوی سے صحبت کر لی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ایک غلام آزاد کرو ، اس نے کہا: میرے پاس غلام آزاد کرنے کی طاقت نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا تو دو مہینے لگاتار روزے رکھو ، اس نے کہا: میں اس کی بھی طاقت نہیں رکھتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ اس نے کہا: مجھے اس کی بھی طاقت نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیٹھ جاؤ وہ بیٹھ گیا، اسی دوران آپ کے پاس کھجور کا ایک ٹوکرا آ گیا، اس ٹوکرے کو «عرق» کہتے تھے، آپ صلی اللہعلیہ وسلم نے اس سے فرمایا: جاؤ اسے صدقہ کر دو ، اس نے کہا: اللہ کے رسول! قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، مدینہ کی ان دونوں سیاہ پتھریلی پہاڑیوں کے بیچ کوئی اور گھر والا ہم سے زیادہ محتاج نہیں ہے، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ اپنے گھر والوں کو کھلا دو ۱؎۔
حدیث 1672 — سنن ابن ماجه 7:35
ضعیفضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنِ ابْنِ الْمُطَوِّسِ، عَنْ أَبِيهِ الْمُطَوِّسِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ مَنْ أَفْطَرَ يَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ رُخْصَةٍ لَمْ يُجْزِهِ صِيَامُ الدَّهْرِ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص رمضان کا ایک روزہ بغیر کسی رخصت کے چھوڑ دے تو اسے پورے سال کے روزے ( بھی ) کافی نہ ہوں گے ۔
حدیث 1673 — سنن ابن ماجه 7:36
صحیحصحیحصحیحصحیح Bukhari
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ خِلاَسٍ، وَمُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ مَنْ أَكَلَ نَاسِيًا وَهُوَ صَائِمٌ فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ فَإِنَّمَا أَطْعَمَهُ اللَّهُ وَسَقَاهُ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے بھول کر کھا لیا اور وہ روزہ دار ہو تو اپنا روزہ پورا کر لے ( توڑے نہیں ) اس لیے کہ اسے اللہ تعالیٰ نے کھلایا اور پلایا ہے ۔
حدیث 1674 — سنن ابن ماجه 7:37
صحیحصحیحصحیحصحیح Bukhari
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: أَفْطَرْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي يَوْمِ غَيْمٍ ثُمَّ طَلَعَتِ الشَّمْسُ ‏.‏ قُلْتُ لِهِشَامٍ: أُمِرُوا بِالْقَضَاءِ؟ قَالَ: لاَ بُدَّ مِنْ ذَلِكَ ‏.‏
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک دن بدلی میں روزہ افطار کر لیا، پھر سورج نکل آیا، ابواسامہ کہتے ہیں کہ میں نے ہشام سے کہا: پھر تو لوگوں کو روزے کی قضاء کا حکم دیا گیا ہو گا؟، انہوں نے کہا: یہ تو ضروری ہے ۱؎۔
حدیث 1675 — سنن ابن ماجه 7:38
ضعیفضعیفصحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَعْلَى، وَمُحَمَّدُ، ابْنَا عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيِّ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي مَرْزُوقٍ، قَالَ: سَمِعْتُ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ الأَنْصَارِيَّ، يُحَدِّثُ أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ خَرَجَ عَلَيْهِمْ فِي يَوْمٍ كَانَ يَصُومُهُ فَدَعَا بِإِنَاءٍ فَشَرِبَ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذَا يَوْمٌ كُنْتَ تَصُومُهُ ‏.‏ قَالَ: ‏ "‏ أَجَلْ. وَلَكِنِّي قِئْتُ ‏"‏ ‏.‏
فضالہ بن عبید انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس ایک ایسے دن میں آئے جس میں آپ روزہ رکھا کرتے تھے، آپ نے ایک برتن منگوایا اور پانی پیا، ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ دن تو آپ کے روزے کا ہے؟! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، لیکن آج میں نے قے کی ہے ۔
حدیث 1676 — سنن ابن ماجه 7:39
صحیحصحیحضعیف
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ سُلَيْمَانَ أَبُو الشَّعْثَاءِ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، جَمِيعًا عَنْ هِشَامٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ: ‏ "‏ مَنْ ذَرَعَهُ الْقَىْءُ فَلاَ قَضَاءَ عَلَيْهِ وَمَنِ اسْتَقَاءَ فَعَلَيْهِ الْقَضَاءُ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جسے خود بہ خود قے آ جائے اس پر روزے کی قضاء نہیں، اور جس نے جان بوجھ کر قے کی تو اس پر روزے کی قضاء ہے ۔
حدیث 1677 — سنن ابن ماجه 7:40
ضعیفضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْمَاعِيلَ الْمُؤَدِّبُ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ مِنْ خَيْرِ خِصَالِ الصَّائِمِ السِّوَاكُ ‏"‏ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: روزے دار کی اچھی عادتوں میں سے مسواک کرنا ہے ۱؎۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔