حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " عَلَيْكُمْ بِالإِثْمِدِ عِنْدَ النَّوْمِ فَإِنَّهُ يَجْلُو الْبَصَرَ وَيُنْبِتُ الشَّعَرَ " .
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: سوتے وقت اثمد کا سرمہ ضرور لگاؤ، کیونکہ اس سے نظر ( نگاہ ) تیز ہوتی ہے اور بال اگتے ہیں ۔
حدیث 3497 — سنن ابن ماجه 31:62
صحیحصحیححسن
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " خَيْرُ أَكْحَالِكُمُ الإِثْمِدُ يَجْلُو الْبَصَرَ وَيُنْبِتُ الشَّعَرَ " .
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے بہتر سرمہ اثمد کا ہے، وہ نظر ( بینائی ) تیز کرتا، اور بالوں کو اگاتا ہے ۔
حدیث 3498 — سنن ابن ماجه 31:63
ضعیفضعیفSanad Daifضعیف
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الصَّبَّاحِ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ حُصَيْنٍ الْحِمْيَرِيِّ، عَنْ أَبِي سَعْدِ الْخَيْرِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " مَنِ اكْتَحَلَ فَلْيُوتِرْ مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ وَمَنْ لاَ فَلاَ حَرَجَ " .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص سرمہ لگائے تو طاق لگائے، اگر ایسا کرے گا تو بہتر ہو گا، اور اگر نہ کیا تو حرج کی بات نہیں ۔
حدیث 3499 — سنن ابن ماجه 31:64
ضعیفضعیفVery Daifضعیف
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ مَنْصُورٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَتْ لِلنَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مُكْحُلَةٌ يَكْتَحِلُ مِنْهَا ثَلاَثًا فِي كُلِّ عَيْنٍ .
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہوسلمہ کے پاس ایک سرمہ دانی تھی، آپ اس میں سے ہر آنکھ میں تین بار سرمہ لگاتے۔
طارق بن سوید حضرمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارے ملک میں انگور ہیں، کیا ہم انہیں نچوڑ کر پی لیا کریں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں ، میں نے دوبارہ عرض کیا کہ ہم اس سے مریض کا علاج کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ دوا نہیں بلکہ خود بیماری ہے ۱؎۔
حدیث 3501 — سنن ابن ماجه 31:66
ضعیفضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكِنْدِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، حَدَّثَنَا سَعَّادُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " خَيْرُ الدَّوَاءِ الْقُرْآنُ " .
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہترین دوا قرآن ہے ۔
حدیث 3502 — سنن ابن ماجه 31:67
حسنحسنضعیف
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا فَائِدٌ، مَوْلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي رَافِعٍ حَدَّثَنِي مَوْلاَىَ، عُبَيْدُ اللَّهِ حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي، سَلْمَى أُمُّ رَافِعٍ مَوْلاَةُ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَتْ كَانَ لاَ يُصِيبُ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَرْحَةٌ وَلاَ شَوْكَةٌ إِلاَّ وَضَعَ عَلَيْهِ الْحِنَّاءَ .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لونڈی سلمیٰ ام رافع رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی زخم لگتا، یا کانٹا چبھتا تو آپ اس پر مہندی لگاتے۔
حدیث 3503 — سنن ابن ماجه 31:68
صحیحصحیحصحیحصحیح
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ نَاسًا، مِنْ عُرَيْنَةَ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَاجْتَوَوُا الْمَدِينَةَ فَقَالَ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لَوْ خَرَجْتُمْ إِلَى ذَوْدٍ لَنَا فَشَرِبْتُمْ مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا " . فَفَعَلُوا .
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ آئے، انہیں مدینے کی آب و ہوا راس نہ آئی، اور بیمار ہو گئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم ہمارے اونٹوں کے پاس جا کر ان کے دودھ اور پیشاب پیتے ( تو اچھا ہوتا ) ، تو انہوں نے ایسا ہی کیا ۱؎۔
حدیث 3504 — سنن ابن ماجه 31:69
صحیحصحیحصحیحIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " فِي أَحَدِ جَنَاحَىِ الذُّبَابِ سُمٌّ وَفِي الآخَرِ شِفَاءٌ فَإِذَا وَقَعَ فِي الطَّعَامِ فَامْقُلُوهُ فِيهِ فَإِنَّهُ يُقَدِّمُ السُّمَّ وَيُؤَخِّرُ الشِّفَاءَ " .
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مکھی کے ایک پر میں زہر اور دوسرے میں شفاء ہے، اگر وہ کھانے میں گر جائے تو اسے اس میں پوری طرح ڈبو دو، اس لیے کہ وہ زہر والا پر آگے رکھتی ہے ( اور وہی کھانے میں ڈالتی ہے ) اور شفاء والا پیچھے رکھتی ہے ۔
حدیث 3505 — سنن ابن ماجه 31:70
صحیحصحیحصحیح Bukhari
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي شَرَابِكُمْ فَلْيَغْمِسْهُ فِيهِ ثُمَّ لْيَطْرَحْهُ فَإِنَّ فِي أَحَدِ جَنَاحَيْهِ دَاءً وَفِي الآخَرِ شِفَاءً " .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہارے پینے کی چیز میں مکھی گر جائے تو اسے اس میں پوری طرح ڈبو دو، پھر نکال کر پھینک دو، اس لیے کہ اس کے ایک پر میں بیماری اور دوسرے میں شفاء ہے ۔