قرآني·Qurani
اردو

الطب

114 احادیث · #3436–3549

حدیث 3516 — سنن ابن ماجه 31:81
صحیحصحیحصحیح Muslim
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ رَخَّصَ فِي الرُّقْيَةِ مِنَ الْحُمَةِ وَالْعَيْنِ وَالنَّمْلَةِ ‏.‏
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زہریلے ڈنک، نظر بد اور نملہ ۱؎ پر جھاڑ پھونک کی اجازت دی ہے۔
حدیث 3517 — سنن ابن ماجه 31:82
صحیحصحیح Muslim
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي الرُّقْيَةِ مِنَ الْحَيَّةِ وَالْعَقْرَبِ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سانپ اور بچھو کے ( کاٹے پر ) دم ( جھاڑ پھونک ) کرنے کی اجازت دی ہے۔
حدیث 3518 — سنن ابن ماجه 31:83
صحیحصحیحصحیح
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ بَهْرَامَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ الأَشْجَعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ لَدَغَتْ عَقْرَبٌ رَجُلاً فَلَمْ يَنَمْ لَيْلَتَهُ فَقِيلَ لِلنَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِنَّ فُلاَنًا لَدَغَتْهُ عَقْرَبٌ فَلَمْ يَنَمْ لَيْلَتَهُ ‏.‏ فَقَالَ ‏ "‏ أَمَا إِنَّهُ لَوْ قَالَ حِينَ أَمْسَى أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ - مَا ضَرَّهُ لَدْغُ عَقْرَبٍ حَتَّى يُصْبِحَ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی کو بچھو نے ڈنک مار دیا تو وہ رات بھر نہیں سو سکا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ فلاں شخص کو بچھو نے ڈنک مار دیا ہے، اور وہ رات بھر نہیں سو سکا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ شام کے وقت ہی یہ دعا پڑھ لیتا «أعوذ بكلمات الله التامات من شر ما خلق» یعنی میں اللہ تعالیٰ کے مکمل کلمات کے ذریعہ پناہ مانگتا ہوں ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کیا ، تو بچھو کا اسے ڈنک مارنا صبح تک ضرر نہ پہنچاتا ۱؎۔
حدیث 3519 — سنن ابن ماجه 31:84
ضعیف Isnaadضعیف Isnaadضعیف
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، قَالَ عَرَضْتُ النَّهْشَةَ مِنَ الْحَيَّةِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَأَمَرَ بِهَا ‏.‏
عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سانپ کے ڈسے ہوئے کو پیش کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر دم ( جھاڑ پھونک ) کرنے کی اجازت دے دی۔
حدیث 3520 — سنن ابن ماجه 31:85
صحیحصحیحصحیحصحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِذَا أَتَى الْمَرِيضَ فَدَعَا لَهُ قَالَ ‏ "‏ أَذْهِبِ الْبَاسْ رَبَّ النَّاسْ وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لاَ شِفَاءَ إِلاَّ شِفَاؤُكَ شِفَاءً لاَ يُغَادِرُ سَقَمًا ‏"‏ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مریض کے پاس آتے تو آپ اس کے لیے دعا فرماتے، اور کہتے: «أذهب الباس رب الناس واشف أنت الشافي لا شفاء إلا شفاؤك شفاء لا يغادر سقما» اے لوگوں کے رب! تو بیماری دور فرما، اور صحت عطا کر، تو ہی صحت عطا کرنے والا ہے، شفاء اور صحت وہی ہے جو تو عطا کرے، تو ایسی شفاء عطا کر کہ پھر کوئی بیماری باقی نہ رہ جائے ۔
حدیث 3521 — سنن ابن ماجه 31:86
صحیحصحیحصحیحصحیح - Agreed Upon
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ مِمَّا يَقُولُ لِلْمَرِيضِ بِبُزَاقِهِ بِإِصْبَعِهِ ‏ "‏ بِسْمِ اللَّهِ بِتُرْبَةِ أَرْضِنَا بِرِيقَةِ بَعْضِنَا لِيُشْفَى سَقِيمُنَا بِإِذْنِ رَبِّنَا ‏"‏ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی انگلی میں تھوک لگا کر بیمار کے لیے یوں کہتے: «بسم الله بتربة أرضنا بريقة بعضنا ليشفى سقيمنا بإذن ربنا» اللہ کے نام سے، ہماری زمین کی مٹی سے، ہم میں سے بعض کے لعاب سے ملی ہوئی ہے تاکہ ہمارا مریض ہمارے رب کے حکم سے شفاء پا جائے ۱؎۔
حدیث 3522 — سنن ابن ماجه 31:87
صحیحصحیحصحیحصحیح Muslim
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ الثَّقَفِيِّ، أَنَّهُ قَالَ قَدِمْتُ عَلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَبِي وَجَعٌ قَدْ كَادَ يُبْطِلُنِي فَقَالَ لِيَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ اجْعَلْ يَدَكَ الْيُمْنَى عَلَيْهِ وَقُلْ بِسْمِ اللَّهِ أَعُوذُ بِعِزَّةِ اللَّهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ وَأُحَاذِرُ سَبْعَ مَرَّاتٍ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ ذَلِكَ فَشَفَانِيَ اللَّهُ ‏.‏
عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، مجھے ایسا درد تھا کہ لگ رہا تھا وہ مجھے ہلاک کر دے گا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اپنا دایاں ہاتھ اس پر رکھ کر «أعوذ بعزة الله وقدرته من شر ما أجد وأحاذر» اللہ کے نام سے میں اللہ تعالیٰ کی عزت اور اس کی قدرت کی پناہ مانگتا ہوں اس تکلیف کے شر سے جو میں محسوس کرتا ہوں اور جس سے ڈرتا ہوں سات مرتبہ پڑھو ، میں نے یہ دعا پڑھی تو اللہ تعالیٰ نے مجھے شفاء عطا کی
حدیث 3523 — سنن ابن ماجه 31:88
صحیحصحیحصحیحصحیح Muslim
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلاَلٍ الصَّوَّافُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ جِبْرَائِيلَ، أَتَى النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ اشْتَكَيْتَ قَالَ ‏ "‏ نَعَمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ مِنْ كُلِّ شَىْءٍ يُؤْذِيكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ نَفْسٍ أَوْ عَيْنٍ أَوْ حَاسِدٍ اللَّهُ يَشْفِيكَ بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ ‏.‏
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: اے محمد! کیا آپ بیمار ہو گئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرض کیا: ہاں ، جبرائیل علیہ السلام نے کہا: «بسم الله أرقيك من كل شيء يؤذيك من شر كل نفس أو عين أو حاسد الله يشفيك بسم الله أرقيك» اللہ کے نام سے میں آپ پر دم کرتا ہوں، ہر اس چیز سے جو آپ کو اذیت پہنچائے، ہر جاندار، نظر بند، اور حاسد کے شر سے، اللہ تعالیٰ آپ کو شفاء دے، میں اللہ کے نام سے آپ پر دم کرتا ہوں۔
حدیث 3524 — سنن ابن ماجه 31:89
ضعیفضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَحَفْصُ بْنُ عُمَرَ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ زِيَادِ بْنِ ثُوَيْبٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ جَاءَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَعُودُنِي فَقَالَ لِي ‏"‏ أَلاَ أَرْقِيكَ بِرُقْيَةٍ جَاءَنِي بِهَا جِبْرَائِيلُ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ بِأَبِي وَأُمِّي بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ وَاللَّهُ يَشْفِيكَ مِنْ كُلِّ دَاءٍ فِيكَ مِنْ شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِي الْعُقَدِ وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ ‏"‏ ‏.‏ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لائے، تو آپ نے مجھ سے فرمایا: کیا میں تم پر وہ دم نہ کروں جو میرے پاس جبرائیل لے کر آئے؟ ، میں نے عرض کیا: ضرور یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار یہ پڑھا: «بسم الله أرقيك والله يشفيك من كل داء فيك من شر النفاثات في العقد ومن شر حاسد إذا حسد» اللہ کے نام سے میں تم پر دم کرتا ہوں، اللہ ہی تمہیں شفاء دے گا، تمہارے ہر مرض سے، گرہوں پر پھونکنے والیوں کے شر سے، اور حاسد کے حسد سے جب وہ حسد کرے ۔
حدیث 3525 — سنن ابن ماجه 31:90
صحیحصحیحصحیحصحیح Bukhari
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ هِشَامٍ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلاَّدٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مِنْهَالٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يُعَوِّذُ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ يَقُولُ ‏"‏ أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لاَمَّةٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ وَكَانَ أَبُونَا إِبْرَاهِيمُ يَعُوِّذُ بِهَا إِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ ‏"‏ ‏.‏ أَوْ قَالَ ‏"‏ إِسْمَاعِيلَ وَيَعْقُوبَ ‏"‏ ‏.‏ وَهَذَا حَدِيثُ وَكِيعٍ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حسن اور حسین ( رضی اللہ عنہما ) پر دم فرماتے تو کہتے: «أعوذ بكلمات الله التامة من كل شيطان وهامة ومن كل عين لامة» میں اللہ کے مکمل کلمات کے ذریعہ پناہ مانگتا ہوں ہر شیطان سے، ہر زہریلے کیڑے ( سانپ، بچھو وغیرہ ) اور ہر نظر بد والی آ نکھ سے ، اور فرماتے: ہمارے والد ابراہیم علیہ السلام بھی اسی کے ذریعہ اسماعیل و اسحاق علیہما السلام پر دم فرماتے تھے یا کہا: اسماعیل اور یعقوب علیہما السلام پر ۔ یہ حدیث وکیع کی ہے۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔