قرآني·Qurani
اردو

الطلاق

462 احادیث · #2016–2477

حدیث 2156 — سنن ابن ماجه 12:20
صحیححسنصحیحصحیح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ثَلاَثِينَ رَاكِبًا فِي سَرِيَّةٍ فَنَزَلْنَا بِقَوْمٍ فَسَأَلْنَاهُمْ أَنْ يَقْرُونَا فَأَبَوْا فَلُدِغَ سَيِّدُهُمْ فَأَتَوْنَا فَقَالُوا أَفِيكُمْ أَحَدٌ يَرْقِي مِنَ الْعَقْرَبِ فَقُلْتُ نَعَمْ أَنَا وَلَكِنْ لاَ أَرْقِيهِ حَتَّى تُعْطُونَا غَنَمًا ‏.‏ قَالُوا فَإِنَّا نُعْطِيكُمْ ثَلاَثِينَ شَاةً ‏.‏ فَقَبِلْنَاهَا فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ ‏(‏ الْحَمْدُ ‏)‏ سَبْعَ مَرَّاتٍ فَبَرِئَ وَقَبَضْنَا الْغَنَمَ فَعَرَضَ فِي أَنْفُسِنَا مِنْهَا شَىْءٌ فَقُلْنَا لاَ تَعْجَلُوا حَتَّى نَأْتِيَ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَلَمَّا قَدِمْنَا ذَكَرْتُ لَهُ الَّذِي صَنَعْتُ فَقَالَ ‏ "‏ أَوَ مَا عَلِمْتَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ اقْتَسِمُوهَا وَاضْرِبُوا لِي مَعَكُمْ سَهْمًا ‏"‏ ‏.‏ حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِنَحْوِهِ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِنَحْوِهِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ وَالصَّوَابُ هُوَ أَبُو الْمُتَوَكِّلِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ‏.‏
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم تیس سواروں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سریہ ( فوجی ٹولی ) میں بھیجا، ہم ایک قبیلہ میں اترے، اور ہم نے ان سے اپنی مہمان نوازی کا مطالبہ کیا، لیکن انہوں نے انکار کر دیا پھر ایسا ہوا کہ ان کے سردار کو بچھو نے ڈنک مار دیا، چنانچہ وہ ہمارے پاس آئے اور کہنے لگے: کیا آپ لوگوں میں کوئی بچھو کے ڈسنے پر جھاڑ پھونک کرتا ہے؟ میں نے کہا: ہاں، میں کرتا ہوں لیکن میں اس وقت تک نہیں کر سکتا جب تک تم ہمیں کچھ بکریاں نہ دے دو، انہوں نے کہا: ہم آپ کو تیس بکریاں دیں گے، ہم نے اسے قبول کر لیا، اور میں نے سات مرتبہ سورۃ فاتحہ پڑھ کر اس پر دم کیا تو وہ اچھا ہو گیا، اور ہم نے وہ بکریاں لے لیں، پھر ہمیں اس میں کچھ تردد محسوس ہوا ۱؎ تو ہم نے ( اپنے ساتھیوں سے ) کہا ( ان کے کھانے میں ) جلد بازی نہ کرو، یہاں تک کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ جائیں، ( اور آپ سے ان کے بارے میں پوچھ لیں ) پھر جب ہم ( مدینہ ) آئے تو میں نے جو کچھ کیا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا، تو آپ نے فرمایا: کیا تمہیں معلوم نہیں کہ سورۃ فاتحہ جھاڑ پھونک ہے؟ انہیں آپس میں بانٹ لو، اور اپنے ساتھ میرا بھی ایک حصہ لگاؤ ۔
حدیث 2157 — سنن ابن ماجه 12:21
صحیحصحیحIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا مُغِيرَةُ بْنُ زِيَادٍ الْمَوْصِلِيُّ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَىٍّ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ ثَعْلَبَةَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ عَلَّمْتُ نَاسًا مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ الْقُرْآنَ وَالْكِتَابَةَ فَأَهْدَى إِلَىَّ رَجُلٌ مِنْهُمْ قَوْسًا فَقُلْتُ لَيْسَتْ بِمَالٍ وَأَرْمِي عَنْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنْهَا فَقَالَ ‏ "‏ إِنْ سَرَّكَ أَنْ تُطَوَّقَ بِهَا طَوْقًا مِنْ نَارٍ فَاقْبَلْهَا ‏"‏ ‏.‏
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اہل صفہ میں سے کئی لوگوں کو قرآن پڑھنا اور لکھنا سکھایا، تو ان میں سے ایک شخص نے مجھے ایک کمان ہدیے میں دی، میں نے اپنے جی میں کہا: یہ تو مال نہیں ہے، یہ اللہ کے راستے میں تیر اندازی کے لیے میرے کام آئے گا، پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم کو یہ اچھا لگے کہ اس کمان کے بدلے تم کو آگ کا ایک طوق پہنایا جائے تو اس کو قبول کر لو ۱؎۔
حدیث 2158 — سنن ابن ماجه 12:22
صحیحصحیحضعیفضعیف
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَعْدَانَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمٍ، عَنْ عَطِيَّةَ الْكَلاَعِيِّ، عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ عَلَّمْتُ رَجُلاً الْقُرْآنَ فَأَهْدَى إِلَىَّ قَوْسًا فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ ‏ "‏ إِنْ أَخَذْتَهَا أَخَذْتَ قَوْسًا مِنْ نَارٍ ‏"‏ ‏.‏ فَرَدَدْتُهَا ‏.‏
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک شخص کو قرآن پڑھنا سکھایا تو اس نے مجھے ایک کمان ہدیے میں دی، میں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم نے یہ لی تو آگ کی ایک کمان لی ، اس وجہ سے میں نے اس کو واپس کر دیا۔
حدیث 2159 — سنن ابن ماجه 12:23
صحیحصحیحصحیحصحیح - Agreed Upon
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ نَهَى عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ وَمَهْرِ الْبَغِيِّ وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ ‏.‏
ابومسعود عقبہ بن عمرو انصاری بدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت، زانیہ کی کمائی اور کاہن کی اجرت سے منع فرمایا ہے۱؎۔
حدیث 2160 — سنن ابن ماجه 12:24
صحیح Hadithصحیحصحیحصحیح
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ وَعَسْبِ الْفَحْلِ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت، اور نر سے جفتی کرانے کے معاوضہ سے منع فرمایا ہے ۱؎۔
حدیث 2161 — سنن ابن ماجه 12:25
صحیح Hadithصحیحصحیح
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، أَنْبَأَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنْ ثَمَنِ السِّنَّوْرِ ‏.‏
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلی کی قیمت سے منع کیا ہے۔
حدیث 2162 — سنن ابن ماجه 12:26
صحیح Hadithصحیحصحیحصحیح - Agreed Upon
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ احْتَجَمَ وَأَعْطَاهُ أَجْرَهُ ‏.‏ قَالَ ابْنُ مَاجَهْ تَفَرَّدَ بِهِ ابْنُ أَبِي عُمَرَ وَحْدَهُ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنا لگوایا، اور حجام ( پچھنا لگانے والے ) کو اس کی اجرت دی۔ ابن ماجہ کا قول ہے کہ ابن ابی عمر اس حدیث کی روایت میں منفرد ہیں۔
حدیث 2163 — سنن ابن ماجه 12:27
صحیحصحیح Lighairihiصحیح Lighairihiصحیح
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ أَبُو حَفْصٍ الصَّيْرَفِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَادَةَ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ، عَنْ عَبْدِ الأَعْلَى، عَنْ أَبِي جَمِيلَةَ عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَأَمَرَنِي فَأَعْطَيْتُ الْحَجَّامَ أَجْرَهُ ‏.‏
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنا لگوایا، اور مجھے حکم دیا تو میں نے حجام ( پچھنا لگانے والے ) کو اس کی اجرت دی۔
حدیث 2164 — سنن ابن ماجه 12:28
صحیحصحیحصحیحصحیح
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ احْتَجَمَ وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ ‏.‏
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنا لگوایا اور حجام ( پچھنا لگانے والے ) کو اس کی اجرت دی۔
حدیث 2165 — سنن ابن ماجه 12:29
صحیح Hadithصحیحصحیح Lighairihiصحیح
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنِي الأَوْزَاعِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنْ كَسْبِ الْحَجَّامِ ‏.‏
ابومسعود عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجام ( پچھنا لگانے والے ) کی کمائی سے منع فرمایا ہے۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔