قرآني·Qurani
اردو

الطلاق

462 احادیث · #2016–2477

حدیث 2396 — سنن ابن ماجه 15:7
صحیحصحیحصحیحصحیح - Agreed Upon
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ أَصَابَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَرْضًا بِخَيْبَرَ فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَاسْتَأْمَرَهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصَبْتُ مَالاً بِخَيْبَرَ لَمْ أُصِبْ مَالاً قَطُّ هُوَ أَنْفَسُ عِنْدِي مِنْهُ فَمَا تَأْمُرُنِي بِهِ فَقَالَ ‏ "‏ إِنْ شِئْتَ حَبَسْتَ أَصْلَهَا وَتَصَدَّقْتَ بِهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَعَمِلَ بِهَا عُمَرُ عَلَى أَنْ لاَ يُبَاعَ أَصْلُهَا وَلاَ يُوهَبَ وَلاَ يُورَثَ تَصَدَّقَ بِهَا لِلْفُقَرَاءِ وَفِي الْقُرْبَى وَفِي الرِّقَابِ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَالضَّيْفِ لاَ جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا بِالْمَعْرُوفِ أَوْ يُطْعِمَ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو خیبر میں کچھ زمین ملی، تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور آپ سے مشورہ لیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے خیبر میں کچھ مال ملا ہے، اتنا عمدہ مال مجھے کبھی نہیں ملا، تو آپ اس کے متعلق مجھے کیا حکم فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم چاہو تو اصل زمین اپنی ملکیت میں باقی رکھو اور اسے ( یعنی اس کے پھلوں اور منافع کو ) صدقہ کر دو ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا، اس طرح کہ اصل زمین نہ بیچی جائے، نہ ہبہ کی جائے، اور نہ اسے وراثت میں دیا جائے، اور وہ صدقہ رہے فقیروں اور رشتہ داروں کے لیے، غلاموں کے آزاد کرانے اور مجاہدین کے سامان تیار کرنے کے لیے، اور مسافروں اور مہمانوں کے لیے اور جو اس کا متولی ہو وہ اس میں دستور کے مطابق کھائے یا کسی دوست کو کھلائے لیکن مال جمع نہ کرے۔
حدیث 2397 — سنن ابن ماجه 15:8
صحیحصحیحصحیحصحیح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْمِائَةَ سَهْمٍ الَّتِي بِخَيْبَرَ لَمْ أُصِبْ مَالاً قَطُّ هُوَ أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْهَا وَقَدْ أَرَدْتُ أَنْ أَتَصَدَّقَ بِهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ احْبِسْ أَصْلَهَا وَسَبِّلْ ثَمَرَتَهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ فَوَجَدْتُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ فِي كِتَابِي عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ عُمَرُ فَذَكَرَ نَحْوَهُ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! خیبر کے جو سو حصے مجھے ملے ہیں ان سے بہتر مال مجھے کبھی نہیں ملا، میں چاہتا ہوں کہ ان کو صدقہ کر دوں؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اصل زمین کو رہنے دو، اور اس کے پھلوں کو اللہ کی راہ میں خیرات کر دو ۔
حدیث 2398 — سنن ابن ماجه 15:9
صحیحصحیححسنIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا شُرَحْبِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ الْعَارِيَةُ مُؤَدَّاةٌ وَالْمِنْحَةُ مَرْدُودَةٌ ‏"‏ ‏.‏
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: عاریت ( مانگی ہوئی چیز ) ادا کی جائے، اور جو جانور دودھ پینے کے لیے دیا جائے وہ لوٹا دیا جائے ۔
حدیث 2399 — سنن ابن ماجه 15:10
صحیحصحیحصحیح
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيَّانِ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ الْعَارِيَةُ مُؤَدَّاةٌ وَالْمِنْحَةُ مَرْدُودَةٌ ‏"‏ ‏.‏
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: عاریت ( منگنی لی ہوئی چیز، مانگی ہوئی چیز ) ادا کی جائے، اور دودھ پینے کے لیے دئیے گئے جانور کو واپس کر دیا جائے ۔
حدیث 2400 — سنن ابن ماجه 15:11
ضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُسْتَمِرِّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، جَمِيعًا عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ عَلَى الْيَدِ مَا أَخَذَتْ حَتَّى تُؤَدِّيَهُ ‏"‏ ‏.‏
سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاتھ پر واجب ہے کہ جو وہ لے اسے واپس کرے ۔
حدیث 2401 — سنن ابن ماجه 15:12
حسنحسنضعیفضعیف
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَهْمِ الأَنْمَاطِيُّ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ، عَنِ الْمُثَنَّى، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ أُودِعَ وَدِيعَةً فَلاَ ضَمَانَ عَلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس کوئی امانت رکھی گئی تو اس پر تاوان نہیں ہے ۱؎۔
حدیث 2402 — سنن ابن ماجه 15:13
حسنصحیححسنصحیح Bukhari
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ شَبِيبِ بْنِ غَرْقَدَةَ، عَنْ عُرْوَةَ الْبَارِقِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَعْطَاهُ دِينَارًا يَشْتَرِي لَهُ شَاةً فَاشْتَرَى لَهُ شَاتَيْنِ فَبَاعَ إِحْدَاهُمَا بِدِينَارٍ فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بِدِينَارٍ وَشَاةٍ فَدَعَا لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْبَرَكَةِ ‏.‏ قَالَ فَكَانَ لَوِ اشْتَرَى التُّرَابَ لَرَبِحَ فِيهِ ‏.‏ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلاَلٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْخِرِّيتِ، عَنْ أَبِي لَبِيدٍ، لِمَازَةَ بْنِ زَبَّارٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ الْبَارِقِيِّ، قَالَ قَدِمَ جَلَبٌ فَأَعْطَانِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم دِينَارًا فَذَكَرَ نَحْوَهُ ‏.‏
عروہ بارقی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایک بکری خریدنے کے لیے ایک دینار دیا تو اس سے انہوں نے دو بکریاں خریدیں، پھر ایک بکری کو ایک دینار میں بیچ دیا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک دینار اور ایک بکری لے کر حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے برکت کی دعا فرمائی، راوی کہتے ہیں: ( اس دعا کی برکت سے ) ان ( عروۃ ) کا حال یہ ہو گیا کہ اگر وہ مٹی بھی خرید لیتے تو اس میں نفع کماتے۔
حدیث 2403 — سنن ابن ماجه 15:14
صحیحصحیحصحیحصحیح - Agreed Upon
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الظُّلْمُ مَطْلُ الْغَنِيِّ وَإِذَا أُتْبِعَ أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِيءٍ فَلْيَتْبَعْ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مالدار کا ( قرض کی ادائیگی میں ) ٹال مٹول کرنا ظلم ہے، اور جب تم میں کوئی کسی مالدار کی طرف تحویل کیا جائے، تو اس کی حوالگی قبول کرے ۱؎۔
حدیث 2404 — سنن ابن ماجه 15:15
صحیح Hadithصحیحصحیح Lighairihiصحیح
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ تَوْبَةَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ وَإِذَا أُحِلْتَ عَلَى مَلِيءٍ فَاتْبَعْهُ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مالدار کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے، اور جب تمہیں کسی مالدار کے حوالے کیا جائے تو اس کی حوالگی کو قبول کرو ۱؎۔
حدیث 2405 — سنن ابن ماجه 15:16
صحیحصحیححسنحسن
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْخَوْلاَنِيُّ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ الزَّعِيمُ غَارِمٌ وَالدَّيْنُ مَقْضِيٌّ ‏"‏ ‏.‏
ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ( قرض کا ) ضامن و کفیل ( اس کی ادائیگی کا ) ذمہ دار ہے، اور قرض کی ادائیگی انتہائی ضروری ہے ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔