قرآني·Qurani
اردو

الطلاق

462 احادیث · #2016–2477

حدیث 2076 — سنن ابن ماجه 10:61
حسن Sahihحسن Sahihحسنصحیح
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ مَضَى فِي بَرِيرَةَ ثَلاَثُ سُنَنٍ خُيِّرَتْ حِينَ أُعْتِقَتْ وَكَانَ زَوْجُهَا مَمْلُوكًا وَكَانُوا يَتَصَدَّقُونَ عَلَيْهَا فَتُهْدِي إِلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَيَقُولُ ‏"‏ هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ وَهُوَ لَنَا هَدِيَّةٌ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ ‏"‏ الْوَلاَءُ لِمَنْ أَعْتَقَ ‏"‏ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ بریرہ میں تین سنتیں سامنے آئیں ایک تو یہ کہ جب وہ آزاد ہوئیں تو انہیں اختیار دیا گیا، اور ان کے شوہر غلام تھے، دوسرے یہ کہ لوگ بریرہ رضی اللہ عنہا کو صدقہ دیا کرتے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدیہ کر دیتیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: وہ اس کے لیے صدقہ ہے، اور ہمارے لیے ہدیہ ہے ، تیسرے یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کے سلسلہ میں فرمایا: حق ولاء ( غلام یا لونڈی کی میراث ) اس کا ہے جو آزاد کرے ۱؎۔
حدیث 2077 — سنن ابن ماجه 10:62
صحیحصحیحصحیححسن
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ أُمِرَتْ بَرِيرَةُ أَنْ تَعْتَدَّ، بِثَلاَثِ حِيَضٍ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو حکم دیا گیا کہ وہ تین حیض عدت گزاریں
حدیث 2078 — سنن ابن ماجه 10:63
صحیحصحیحصحیحIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ تَوْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أُذَيْنَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ خَيَّرَ بَرِيرَةَ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو اختیار دیا ( کہ وہ اپنے شوہر مغیث کی زوجیت میں رہیں یا نہ رہیں ) ۔
حدیث 2079 — سنن ابن ماجه 10:64
ضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ شَبِيبٍ الْمُسْلِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ طَلاَقُ الأَمَةِ اثْنَتَانِ وَعِدَّتُهَا حَيْضَتَانِ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لونڈی کے لیے دو طلاقیں ہیں، اور اس کی عدت دو حیض ہے ۱؎۔
حدیث 2080 — سنن ابن ماجه 10:65
ضعیفضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ مُظَاهِرِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏"‏ طَلاَقُ الأَمَةِ تَطْلِيقَتَانِ وَقُرْؤُهَا حَيْضَتَانِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عَاصِمٍ فَذَكَرْتُهُ لِمُظَاهِرٍ فَقُلْتُ حَدِّثْنِي كَمَا حَدَّثْتَ ابْنَ جُرَيْجٍ ‏.‏ فَأَخْبَرَنِي عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏"‏ طَلاَقُ الأَمَةِ تَطْلِيقَتَانِ وَقُرْؤُهَا حَيْضَتَانِ ‏"‏ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لونڈی کی دو طلاقیں ہیں، اور اس کی عدت دو حیض ہے ۔ ابوعاصم کہتے ہیں کہ میں نے مظاہر بن اسلم سے اس حدیث کا ذکر کیا اور ان سے عرض کیا کہ یہ حدیث آپ مجھ سے ویسے ہی بیان کریں جیسے کہ آپ نے ابن جریج سے بیان کی ہے، تو انہوں نے مجھے «قاسم عن عائشہ» کے طریق سے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لونڈی کے لیے دو طلاقیں ہیں اور اس کی عدت دو حیض ہے ۔
حدیث 2081 — سنن ابن ماجه 10:66
حسنحسنحسن Lighairihiضعیف
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَيُّوبَ الْغَافِقِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَتَى النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ سَيِّدِي زَوَّجَنِي أَمَتَهُ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يُفَرِّقَ بَيْنِي وَبَيْنَهَا ‏.‏ قَالَ فَصَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ الْمِنْبَرَ فَقَالَ ‏ "‏ يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَا بَالُ أَحَدِكُمْ يُزَوِّجَ عَبْدَهُ أَمَتَهُ ثُمَّ يُرِيدُ أَنْ يُفَرِّقَ بَيْنَهُمَا إِنَّمَا الطَّلاَقُ لِمَنْ أَخَذَ بِالسَّاقِ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے مالک نے اپنی لونڈی سے میرا نکاح کر دیا تھا، اب وہ چاہتا ہے کہ مجھ میں اور میری بیوی میں جدائی کرا دے، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے اور فرمایا: لوگو! تمہارا کیا حال ہے کہ تم میں سے ایک شخص اپنے غلام کا نکاح اپنی لونڈی سے کر دیتا ہے، پھر وہ چاہتا ہے کہ ان دونوں میں جدائی کرا دے، طلاق تو اسی کا حق ہے جو عورت کی پنڈلی پکڑے ۱؎۔
حدیث 2082 — سنن ابن ماجه 10:67
ضعیفضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجَوَيْهِ أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُعَتِّبٍ، عَنْ أَبِي الْحَسَنِ، مَوْلَى بَنِي نَوْفَلٍ قَالَ سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ عَبْدٍ طَلَّقَ، امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَتَيْنِ ثُمَّ أُعْتِقَا أَيَتَزَوَّجُهَا قَالَ نَعَمْ ‏.‏ فَقِيلَ لَهُ عَمَّنْ قَالَ قَضَى بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏.‏ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ لَقَدْ تَحَمَّلَ أَبُو الْحَسَنِ هَذَا صَخْرَةً عَظِيمَةً عَلَى عُنُقِهِ ‏.‏
ابوالحسن مولی بنی نوفل کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اس غلام کے بارے میں پوچھا گیا جس نے اپنی بیوی کو دو طلاق دے دی ہو پھر دونوں آزاد ہو جائیں، کیا وہ اس سے نکاح کر سکتا ہے؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: ہاں، کر سکتا ہے، ان سے پوچھا گیا: یہ فیصلہ کس کا ہے؟ تو وہ بولے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا فیصلہ کیا۔ عبدالرزاق کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مبارک نے کہا: ابوالحسن نے یہ حدیث روایت کر کے گویا ایک بڑا پتھر اپنی گردن پہ اٹھا لیا ہے۔
حدیث 2083 — سنن ابن ماجه 10:68
صحیحصحیححسن
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ لاَ تُفْسِدُوا عَلَيْنَا سُنَّةَ نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عِدَّةُ أُمِّ الْوَلَدِ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ‏.‏
عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم پر ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو نہ بگاڑو، ام ولد کی عدت چار ماہ دس دن ہے ۱؎۔
حدیث 2084 — سنن ابن ماجه 10:69
صحیحصحیحصحیحصحیح - Agreed Upon
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ، ‏.‏ أَنَّهُ سَمِعَ زَيْنَبَ ابْنَةَ أُمِّ سَلَمَةَ، تُحَدِّثُ أَنَّهَا سَمِعَتْ أُمَّ سَلَمَةَ، وَأُمَّ حَبِيبَةَ تَذْكُرَانِ أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَتْ إِنَّ ابْنَةً لَهَا تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا فَاشْتَكَتْ عَيْنُهَا فَهِيَ تُرِيدُ أَنْ تَكْحَلَهَا ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ قَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عِنْدَ رَأْسِ الْحَوْلِ وَإِنَّمَا هِيَ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ‏"‏ ‏.‏
ام المؤمنین ام سلمہ اور ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہما ذکر کرتی ہیں کہ ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور اس نے عرض کیا کہ اس کی بیٹی کا شوہر مر گیا ہے، اور اس کی بیٹی کی آنکھ دکھ رہی ہے وہ سرمہ لگانا چاہتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پہلے ( زمانہ جاہلیت میں ) تم سال پورا ہونے پر اونٹ کی مینگنی پھینکتی تھی اور اب تو عدت صرف چار ماہ دس دن ہے ۱؎۔
حدیث 2085 — سنن ابن ماجه 10:70
صحیحصحیحصحیحصحیح Muslim
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ لاَ يَحِلُّ لاِمْرَأَةٍ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلاَثٍ إِلاَّ عَلَى زَوْجٍ ‏"‏ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی عورت کے لیے حلال نہیں کہ شوہر کے سوا کسی میت پہ تین دن سے زیادہ سوگ منائے ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔