ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پیشاب کے لیے باہر تشریف لے گئے، اور عمر رضی اللہ عنہ پیچھے سے پانی لے کر پہنچے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: عمر یہ کیا ہے؟ کہا: پانی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے یہ حکم نہیں دیا گیا کہ جب بھی پیشاب کروں، تو وضو کروں، اور اگر میں ایسا کروں تو یہ سنت واجبہ بن جائے گی ۱؎۔
حدیث 328 — سنن ابن ماجه 1:62
حسنحسنحسن Lighairihiضعیف
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْحِمْيَرِيَّ، حَدَّثَهُ قَالَ كَانَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ يَتَحَدَّثُ بِمَا لَمْ يَسْمَعْ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَيَسْكُتُ عَمَّا سَمِعُوا فَبَلَغَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو مَا يَتَحَدَّثُ بِهِ فَقَالَ وَاللَّهِ مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ هَذَا وَأَوْشَكَ مُعَاذٌ أَنْ يَفْتِنَكُمْ فِي الْخَلاَءِ . فَبَلَغَ ذَلِكَ مُعَاذًا فَلَقِيَهُ فَقَالَ مُعَاذٌ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو إِنَّ التَّكْذِيبَ بِحَدِيثٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ نِفَاقٌ وَإِنَّمَا إِثْمُهُ عَلَى مَنْ قَالَهُ لَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " اتَّقُوا الْمَلاَعِنَ الثَّلاَثَ الْبَرَازَ فِي الْمَوَارِدِ وَالظِّلِّ وَقَارِعَةِ الطَّرِيقِ " .
ابوسعید حمیری بیان کرتے ہیں کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ایسی احادیث بیان کرتے تھے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے نہیں سنی ہوتی تھیں، چنانچہ جو حدیثیں سنی ہوئی ہوتیں ان کے بیان سے خاموش رہتے، عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کو ان کی یہ حالت اور بیان کردہ روایات پہنچیں تو انہوں نے کہا: قسم اللہ کی! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا فرماتے ہوئے نہیں سنا، قریب ہے کہ معاذ تم کو قضائے حاجت کے مسئلے میں فتنے میں مبتلا کر دیں، یہ خبر معاذ رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو وہ ان سے جا کر ملے اور کہا: اے عبداللہ بن عمرو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی حدیث کو جھٹلانا نفاق ہے، اگر کہنے والے نے کوئی بات جھوٹ کہی تو اس کا گناہ اسی پر ہو گا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو واقعی یہ کہتے ہوئے سنا ہے: تین ایسی چیزوں سے بچو جو لعنت کا سبب ہیں: مسافروں کے وارد ہونے کی جگہوں پر، سائے دار درختوں کے نیچے، اور عام راستوں پر قضائے حاجت کرنے سے ۱؎۔
حدیث 329 — سنن ابن ماجه 1:63
حسنحسنضعیف
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ زُهَيْرٍ، قَالَ قَالَ سَالِمٌ سَمِعْتُ الْحَسَنَ، يَقُولُ حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِيَّاكُمْ وَالتَّعْرِيسَ عَلَى جَوَادِّ الطَّرِيقِ وَالصَّلاَةَ عَلَيْهَا فَإِنَّهَا مَأْوَى الْحَيَّاتِ وَالسِّبَاعِ وَقَضَاءَ الْحَاجَةِ عَلَيْهَا فَإِنَّهَا مِنَ الْمَلاَعِنِ " .
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیچ راستے میں رات کو پڑاؤ ڈالنے اور نماز پڑھنے سے بچو، اس لیے کہ وہ سانپوں اور درندوں کے باربار آنے اور جانے کا راستہ ہے، اور وہاں قضائے حاجت سے بھی بچو اس لیے کہ یہ لعنت کے اسباب میں سے ہے ۔
حدیث 330 — سنن ابن ماجه 1:64
ضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ قُرَّةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ نَهَى أَنْ يُصَلَّى عَلَى قَارِعَةِ الطَّرِيقِ أَوْ يُضْرَبَ الْخَلاَءُ عَلَيْهَا أَوْ يُبَالَ فِيهَا .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے راستے میں نماز پڑھنے یا پاخانہ پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حدیث 331 — سنن ابن ماجه 1:65
حسن Sahihحسن SahihحسنIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِذَا ذَهَبَ الْمَذْهَبَ أَبْعَدَ .
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت کے لیے تشریف لے جاتے تو دور جاتے ۱؎۔
حدیث 332 — سنن ابن ماجه 1:66
صحیحصحیحضعیفضعیف
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْمُثَنَّى، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي سَفَرٍ فَتَنَحَّى لِحَاجَتِهِ ثُمَّ جَاءَ فَدَعَا بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ .
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک سفر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، آپ قضائے حاجت کے لیے الگ تھلگ ہوئے پھر واپس آئے، وضو کے لیے پانی مانگا اور وضو کیا۔
حدیث 333 — سنن ابن ماجه 1:67
صحیحصحیححسن
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ إِذَا ذَهَبَ إِلَى الْغَائِطِ أَبْعَدَ .
یعلیٰ بن مرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت کے لیے تشریف لے جاتے تو دور نکل جاتے۔
حدیث 334 — سنن ابن ماجه 1:68
صحیحصحیحصحیحIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْخَطْمِيِّ، - قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَاسْمُهُ عُمَيْرُ بْنُ يَزِيدَ - عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ، وَالْحَارِثِ بْنِ فُضَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي قُرَادٍ، قَالَ حَجَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَذَهَبَ لِحَاجَتِهِ فَأَبْعَدَ .
عبدالرحمٰن بن ابوقراد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا، آپ قضائے حاجت کے لیے دور نکل گئے۔
حدیث 335 — سنن ابن ماجه 1:69
صحیحصحیحصحیح Lighairihiضعیف
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي سَفَرٍ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ لاَ يَأْتِي الْبَرَازَ حَتَّى يَتَغَيَّبَ فَلاَ يُرَى .
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں نکلے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے اس وقت تک نہ بیٹھتے جب تک کہ نظروں سے اوجھل نہ ہو جاتے۔
حدیث 336 — سنن ابن ماجه 1:70
صحیحصحیح Lighairihiحسن
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَثِيرِ بْنِ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ بِلاَلِ بْنِ الْحَارِثِ الْمُزَنِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ إِذَا أَرَادَ الْحَاجَةَ أَبْعَدَ .
بلال بن حارث مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت کے لیے جاتے تو دور نکل جاتے۔