قرآني·Qurani
اردو

الطهارة وسننها

400 احادیث · #267–666

حدیث 347 — سنن ابن ماجه 1:81
صحیحصحیحصحیحصحیح Bukhari
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَوَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِقَبْرَيْنِ جَدِيدَيْنِ فَقَالَ ‏ "‏ إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ لاَ يَسْتَنْزِهُ مِنْ بَوْلِهِ وَأَمَّا الآخَرُ فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر دو نئی قبروں کے پاس سے ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان دونوں کو عذاب دیا جا رہا ہے، اور یہ عذاب کسی بڑے گناہ کی وجہ سے نہیں ہو رہا ہے ( کہ جس سے بچنا مشکل تھا ) ، ایک شخص تو پیشاب ( کی چھینٹوں ) سے نہیں بچتا تھا، اور دوسرا غیبت ( چغلی ) کیا کرتا تھا
حدیث 348 — سنن ابن ماجه 1:82
صحیحصحیحصحیحضعیف
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ أَكْثَرُ عَذَابِ الْقَبْرِ مِنَ الْبَوْلِ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زیادہ تر قبر کا عذاب پیشاب کی وجہ سے ہے ۔
حدیث 349 — سنن ابن ماجه 1:83
حسن Sahihحسن Sahihصحیح Lighairihiصحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ، حَدَّثَنِي بَحْرُ بْنُ مَرَّارٍ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ مَرَّ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِقَبْرَيْنِ فَقَالَ ‏ "‏ إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ أَمَّا أَحَدُهُمَا فَيُعَذَّبُ فِي الْبَوْلِ وَأَمَّا الآخَرُ فَيُعَذَّبُ فِي الْغِيبَةِ ‏"‏ ‏.‏
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دو قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا: ان دونوں کو عذاب دیا جا رہا ہے، اور یہ عذاب کسی بڑے گناہ کی وجہ سے نہیں ہو رہا ہے ( جس سے بچنا مشکل تھا ) ایک شخص کو تو پیشاب کی چھینٹے سے نہ بچنے کی وجہ سے عذاب دیا جا رہا ہے، اور دوسرا غیبت ( چغلی ) کرنے کی وجہ سے ۔
حدیث 350 — سنن ابن ماجه 1:84
صحیحصحیحضعیف
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّلْحِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ حُضَيْنِ بْنِ الْمُنْذِرِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ وَعْلَةَ أَبِي سَاسَانَ الرَّقَاشِيِّ، عَنِ الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذِ بْنِ عُمَيْرِ بْنِ جُدْعَانَ، قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَىَّ السَّلاَمَ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ وُضُوئِهِ قَالَ ‏ "‏ إِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي مِنْ أَنْ أَرُدَّ عَلَيْكَ إِلاَّ أَنِّي كُنْتُ عَلَى غَيْرِ وُضُوءٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا الأَنْصَارِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ ‏.‏
مہاجر بن قنفذ بن عمرو بن جدعان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو فرما رہے تھے، میں نے آپ کو سلام کیا، آپ نے سلام کا جواب نہیں دیا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو سے فارغ ہوئے تو فرمایا: تمہارے سلام کا جواب دینے میں رکاوٹ والی چیز یہ تھی کہ میں باوضو نہ تھا
حدیث 351 — سنن ابن ماجه 1:85
صحیحصحیحVery Daifضعیف
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا مَسْلَمَةُ بْنُ عُلَىٍّ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ مَرَّ رَجُلٌ عَلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَهُوَ يَبُولُ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ فَلَمَّا فَرَغَ ضَرَبَ بِكَفَّيْهِ الأَرْضَ فَتَيَمَّمَ ثُمَّ رَدَّ عَلَيْهِ السَّلاَمَ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پیشاب کر رہے تھے کہ ایک آدمی آپ کے پاس سے گزرا، اس شخص نے آپ کو سلام کیا، آپ نے سلام کا جواب نہ دیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیشاب سے فارغ ہو گئے تو اپنی دونوں ہتھیلیاں زمین پہ ماریں، اور تیمم کیا، پھر اس کے سلام کا جواب دیا۔
حدیث 352 — سنن ابن ماجه 1:86
صحیحصحیحضعیف
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ هَاشِمِ بْنِ الْبَرِيدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَجُلاً، مَرَّ عَلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَهُوَ يَبُولُ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ إِذَا رَأَيْتَنِي عَلَى مِثْلِ هَذِهِ الْحَالَةِ فَلاَ تُسَلِّمْ عَلَىَّ فَإِنَّكَ إِنْ فَعَلْتَ ذَلِكَ لَمْ أَرُدَّ عَلَيْكَ ‏"‏ ‏.‏
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هَاشِمِ بْنِ الْبَرِيدِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَجُلًا مَرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَبُولُ، ‏‏‏‏‏‏فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِذَا رَأَيْتَنِي عَلَى مِثْلِ هَذِهِ الْحَالَةِ فَلَا تُسَلِّمْ عَلَيَّ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّكَ إِنْ فَعَلْتَ ذَلِكَ لَمْ أَرُدَّ عَلَيْكَ
حدیث 353 — سنن ابن ماجه 1:87
حسن Sahihحسن Sahihصحیحصحیح Muslim
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ الْعَسْقَلاَنِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ مَرَّ رَجُلٌ عَلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَهُوَ يَبُولُ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پیشاب کر رہے تھے کہ ایک آدمی آپ کے پاس سے گزرا، اس نے آپ کو سلام کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا ۱؎۔
حدیث 354 — سنن ابن ماجه 1:88
صحیحصحیحصحیحضعیف
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ خَرَجَ مِنْ غَائِطٍ قَطُّ إِلاَّ مَسَّ مَاءً ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی بھی نہ دیکھا کہ آپ پاخانہ سے نکلے ہوں اور پانی نہ لیا ہو ۱؎۔
حدیث 355 — سنن ابن ماجه 1:89
صحیحصحیححسن LighairihiIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عُتْبَةُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ، حَدَّثَنِي طَلْحَةُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو سُفْيَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ الأَنْصَارِيُّ، وَجَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ هَذِهِ الآيَةَ، نَزَلَتْ ‏{فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ}‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏"‏ يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَثْنَى عَلَيْكُمْ فِي الطُّهُورِ فَمَا طُهُورُكُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا نَتَوَضَّأُ لِلصَّلاَةِ وَنَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَةِ وَنَسْتَنْجِي بِالْمَاءِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ هُوَ ذَلِكَ فَعَلَيْكُمُوهُ ‏"‏ ‏.‏
ابوایوب انصاری، جابر بن عبداللہ اور انس بن مالک رضی اللہ عنہم بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت کریمہ: «فيه رجال يحبون أن يتطهروا والله يحب المطهرين» اس میں کچھ لوگ ہیں جو پاکی کو پسند کرتے ہیں، اور اللہ پاکی اختیار کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ( سورة التوبة: 108 ) ، اتری تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے انصار کی جماعت! اللہ تعالیٰ نے طہارت کے بارے میں تمہاری تعریف کی ہے، تو وہ تمہاری کیسی طہارت ہے ، ان لوگوں نے کہا: ہماری طہارت یہ ہے کہ ہم لوگ نماز کے لیے وضو کرتے ہیں، اور جنابت ہونے سے غسل کرتے ہیں، اور پانی سے استنجاء کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( اللہ تعالیٰ کی پسندیدگی کا ) یہی سبب ہے، لہٰذا تم لوگ اس طہارت پر کاربند رہو ۱؎۔
حدیث 356 — سنن ابن ماجه 1:90
ضعیفضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ يَغْسِلُ مَقْعَدَتَهُ ثَلاَثًا ‏.‏ قَالَ ابْنُ عُمَرَ فَعَلْنَاهُ فَوَجَدْنَاهُ دَوَاءً وَطُهُورًا ‏.‏ قَالَ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، نَحْوَهُ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سرین کو تین بار دھوتے تھے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم نے بھی ایسے ہی کیا، تو اسے دوا اور پاکی دونوں پایا۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔