قرآني·Qurani
اردو

الفتن

173 احادیث · #3927–4099

حدیث 4027 — سنن ابن ماجه 36:102
صحیحصحیحصحیحصحیح
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ كُسِرَتْ رَبَاعِيَةُ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَشُجَّ فَجَعَلَ الدَّمُ يَسِيلُ عَلَى وَجْهِهِ وَجَعَلَ يَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ وَجْهِهِ وَيَقُولُ ‏ "‏ كَيْفَ يُفْلِحُ قَوْمٌ خَضَبُوا وَجْهَ نَبِيِّهِمْ بِالدَّمِ وَهُوَ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ‏{لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَىْءٌ}‏ ‏.‏
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جنگ احد کے دن جب رسول اللہ صلی اللہعلیہ وسلم کے سامنے کے چار دانتوں میں سے ایک دانت ٹوٹ گیا، اور سر زخمی ہو گیا، تو خون آپ کے چہرہ مبارک پر بہنے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خون کو اپنے چہرہ سے پونچھتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے: وہ قوم کیسے کامیاب ہو سکتی ہے جس نے اپنے نبی کے چہرے کو خون سے رنگ دیا ہو، حالانکہ وہ انہیں اللہ کی طرف دعوت دے رہا تھا، تو اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «ليس لك من الأمر شيء» اے نبی! آپ کو اس معاملے میں کچھ اختیار نہیں ہے ( سورة آل عمران: 128 ) ۔
حدیث 4028 — سنن ابن ماجه 36:103
صحیحصحیحضعیف
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ جَاءَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ذَاتَ يَوْمٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَهُوَ جَالِسٌ حَزِينٌ قَدْ خُضِبَ بِالدِّمَاءِ قَدْ ضَرَبَهُ بَعْضُ أَهْلِ مَكَّةَ فَقَالَ مَا لَكَ فَقَالَ ‏"‏ فَعَلَ بِي هَؤُلاَءِ وَفَعَلُوا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَتُحِبُّ أَنْ أُرِيَكَ آيَةً قَالَ ‏"‏ نَعَمْ أَرِنِي ‏"‏ ‏.‏ فَنَظَرَ إِلَى شَجَرَةٍ مِنْ وَرَاءِ الْوَادِي فَقَالَ ادْعُ تِلْكَ الشَّجَرَةَ ‏.‏ فَدَعَاهَا فَجَاءَتْ تَمْشِي حَتَّى قَامَتْ بَيْنَ يَدَيْهِ قَالَ قُلْ لَهَا فَلْتَرْجِعْ فَقَالَ لَهَا فَرَجَعَتْ حَتَّى عَادَتْ إِلَى مَكَانِهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏"‏ حَسْبِي ‏"‏ ‏.‏
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن جبرائیل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اس وقت آپ غمگین بیٹھے ہوئے تھے، اور لہولہان تھے، اہل مکہ میں سے کچھ لوگوں نے آپ کو خشت زنی کر کے لہولہان کر دیا تھا، انہوں نے کہا: آپ کو کیا ہو گیا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان لوگوں نے میرے ساتھ یہ سلوک کیا ہے ، جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا: آپ چاہتے ہیں کہ میں آپ کو کوئی نشانی دکھاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں دکھائیے ، پھر جبرائیل علیہ السلام نے وادی کے پیچھے ایک درخت کی طرف دیکھا، اور کہا: آپ اس درخت کو بلائیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے آواز دی، وہ آ کر آپ کے سامنے کھڑا ہو گیا، پھر انہوں نے کہا: آپ اس سے کہیے کہ وہ واپس جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس جانے کو کہا، تو وہ اپنی جگہ چلا گیا، ( یہ دیکھ کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے لیے یہ نشانی ( معجزہ ) ہی کافی ہے ۔
حدیث 4029 — سنن ابن ماجه 36:104
صحیحصحیحصحیحصحیح - Agreed Upon
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏"‏ أَحْصُوا لِي كُلَّ مَنْ تَلَفَّظَ بِالإِسْلاَمِ ‏"‏ ‏.‏ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَخَافُ عَلَيْنَا وَنَحْنُ مَا بَيْنَ السِّتِّمِائَةِ إِلَى السَّبْعِمِائَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏"‏ إِنَّكُمْ لاَ تَدْرُونَ لَعَلَّكُمْ أَنْ تُبْتَلَوْا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَابْتُلِينَا حَتَّى جَعَلَ الرَّجُلُ مِنَّا مَا يُصَلِّي إِلاَّ سِرًّا ‏.‏
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمام مسلمانوں کی تعداد شمار کر کے مجھے بتاؤ ، ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ ہم پر ( اب بھی دشمن کی طرف سے ) خطرہ محسوس کرتے ہیں، جب کہ اب ہماری تعداد چھ اور سات سو کے درمیان ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ نہیں جانتے شاید کہ تم آزمائے جاؤ ۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو واقعی ہم آزمائے گئے، یہاں تک کہ ہم میں سے اگر کوئی نماز بھی پڑھتا تو چھپ کر پڑھتا۔
حدیث 4030 — سنن ابن ماجه 36:105
ضعیف Isnaadضعیف Isnaadضعیفضعیف
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنَّهُ لَيْلَة�� أُسْرِيَ بِهِ وَجَدَ رِيحًا طَيِّبَةً فَقَالَ ‏ "‏ يَا جِبْرِيلُ مَا هَذِهِ الرِّيحُ الطَّيِّبَةُ قَالَ هَذِهِ رِيحُ قَبْرِ الْمَاشِطَةِ وَابْنَيْهَا وَزَوْجِهَا ‏.‏ قَالَ وَكَانَ بَدْءُ ذَلِكَ أَنَّ الْخَضِرَ كَانَ مِنْ أَشْرَافِ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَكَانَ مَمَرُّهُ بِرَاهِبٍ فِي صَوْمَعَتِهِ فَيَطْلُعُ عَلَيْهِ الرَّاهِبُ فَيُعَلِّمُهُ الإِسْلاَمَ فَلَمَّا بَلَغَ الْخَضِرُ زَوَّجَهُ أَبُوهُ امْرَأَةً فَعَلَّمَهَا الْخَضِرُ وَأَخَذَ عَلَيْهَا أَنْ لاَ تُعْلِمَهُ أَحَدًا وَكَانَ لاَ يَقْرَبُ النِّسَاءَ فَطَلَّقَهَا ثُمَّ زَوَّجَهُ أَبُوهُ أُخْرَى فَعَلَّمَهَا وَأَخَذَ عَلَيْهَا أَنْ لاَ تُعْلِمَهُ أَحَدًا فَكَتَمَتْ إِحَدَاهُمَا وَأَفْشَتْ عَلَيْهِ الأُخْرَى فَانْطَلَقَ هَارِبًا حَتَّى أَتَى جَزِيرَةً فِي الْبَحْرِ فَأَقْبَلَ رَجُلاَنِ يَحْتَطِبَانِ فَرَأَيَاهُ فَكَتَمَ أَحَدُهُمَا وَأَفْشَى الآخَرُ وَقَالَ قَدْ رَأَيْتُ الْخَضِرَ ‏.‏ فَقِيلَ وَمَنْ رَآهُ مَعَكَ قَالَ فُلاَنٌ فَسُئِلَ فَكَتَمَ وَكَانَ فِي دِينِهِمْ أَنَّ مَنْ كَذَبَ قُتِلَ قَالَ فَتَزَوَّجَ الْمَرْأَةَ الْكَاتِمَةَ فَبَيْنَمَا هِيَ تَمْشُطُ ابْنَةَ فِرْعَوْنَ إِذْ سَقَطَ الْمُشْطُ فَقَالَتْ تَعِسَ فِرْعَوْنُ ‏.‏ فَأَخْبَرَتْ أَبَاهَا وَكَانَ لِلْمَرْأَةِ ابْنَانِ وَزَوْجٌ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمْ فَرَاوَدَ الْمَرْأَةَ وَزَوْجَهَا أَنْ يَرْجِعَا عَنْ دِينِهِمَا فَأَبَيَا فَقَالَ إِنِّي قَاتِلُكُمَا ‏.‏ فَقَالاَ إِحْسَانًا مِنْكَ إِلَيْنَا إِنْ قَتَلْتَنَا أَنْ تَجْعَلَنَا فِي بَيْتٍ فَفَعَلَ فَلَمَّا أُسْرِيَ بِالنَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَجَدَ رِيحًا طَيِّبَةً فَسَأَلَ جِبْرِيلَ فَأَخْبَرَهُ ‏"‏ ‏.‏
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی رات ایک خوشبو محسوس کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جبرائیل! یہ کیسی خوشبو ہے ؟، انہوں نے کہا: یہ اس عورت کی قبر کی خوشبو ہے جو فرعون کی بیٹی کو کنگھی کرتی تھی، اور اس کے دونوں بیٹوں اور شوہر کے قبر کی خوشبو ہے، ( جنہیں ایمان لانے کی وجہ سے فرعون نے قتل کر دیا تھا ) اور ان کے قصے کی ابتداء اس طرح ہے کہ خضر بنی اسرائیل کے شریف لوگوں میں تھے، ان کا گزر ایک ( راہب ) درویش کے عبادت خانے سے ہوتا تو وہ عابد راہب اوپر سے ان کو جھانکتا، اور ان کو اسلام کی تعلیم دیتا، آخر کار جب خضر جوان ہوئے تو ان کے والد نے ایک عورت سے ان کا نکاح کر دیا، خضر نے اس عورت کو اسلام کی تعلیم دی، اور اس سے عہد لے لیا کہ اس بات سے کسی کو باخبر مت کرنا، خضر عورتوں کے قریب نہیں جاتے تھے، آخر انہوں نے اس عورت کو طلاق دے دی، اس کے بعد ان کے والد نے ان کا نکاح دوسری عورت سے کر دیا، خضر نے اس سے بھی نہ بتانے کا عہد لے کر اسے دین کی تعلیم دی، لیکن ان میں سے ایک عورت نے اس راز کو چھپا لیا، اور دوسری نے ظاہر کر دیا ( کہ یہ دین کی تعلیم اسے خضر نے سکھائی ہے، فرعون نے ان کی گرفتاری کا حکم دیا یہ سنتے ہی ) وہ فرار ہو کر سمندر کے ایک جزیرہ میں چھپ گئے، وہاں دو شخص لکڑیاں چننے کے لیے آئے، اور ان دونوں نے خضر کو دیکھا، ان میں سے بھی ایک نے تو ان کا حال پوشیدہ رکھا، اور دوسرے نے ظاہر کر دیا اور کہا: میں نے خضر کو فلاں جزیرے میں دیکھا ہے، لوگوں نے اس سے پوچھا کہ کیا تمہارے ساتھ اور کسی شخص نے دیکھا ہے؟ اس نے کہا: فلاں شخص نے بھی دیکھا ہے، جب اس شخص سے سوال کیا گیا تو اس نے چھپایا، اور ان کا طریقہ یہ تھا کہ جو جھوٹ بولے، اسے قتل کر دیا جائے، الغرض اس شخص نے اس عورت سے نکاح کر لیا، جس نے اپنا دین چھپایا تھا، ( اور خضر کا نام نہیں بتایا تھا ) ، اسی دوران کہ یہ عورت فرعون کی بیٹی کے سر میں کنگھی کر رہی تھی، اتنے میں اس کے ہاتھ سے کنگھی گر پڑی اور اس کی زبان سے بے اختیار نکل گیا کہ فرعون تباہ و برباد ہو ( اپنی بے دینی کی وجہ سے ) بیٹی نے یہ کلمہ اس کی زبان سے سن کر اسے اپنے باپ کو بتا دیا، اور اس عورت کے دو بیٹے تھے، اور ایک شوہر تھا، فرعون نے ان سبھوں کو بلا بھیجا، اور عورت اور اس کے شوہر کو دین اسلام چھوڑ کر اپنے دین میں آنے کے لیے پھسلایا، ان دونوں نے انکار کیا، تو اس نے کہا: میں تم دونوں کو قتل کر دوں گا، ان دونوں نے جواب دیا: اگر تم ہمیں قتل کرنا چاہتے ہو تو ہم پر اتنا احسان کرنا کہ ہمیں ایک ہی قبر میں دفن کر دینا، چنانچہ فرعون نے ایسا ہی کیا، جب نبی اکرم صلی اللہعلیہ وسلم نے اسراء کی رات میں خوشبو محسوس کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل سے پوچھا تو انہوں نے آپ کو بتلایا کہ یہ انہیں لوگوں کی قبر ہے ( جس سے یہ خوشبو آ رہی ہے ) ۔
حدیث 4031 — سنن ابن ماجه 36:106
حسنحسنحسن Lighairihiضعیف
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ عِظَمُ الْجَزَاءِ مَعَ عِظَمِ الْبَلاَءِ وَإِنَّ اللَّهَ إِذَا أَحَبَّ قَوْمًا ابْتَلاَهُمْ فَمَنْ رَضِيَ فَلَهُ الرِّضَا وَمَنْ سَخِطَ فَلَهُ السُّخْطُ ‏"‏ ‏.‏
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جتنی بڑی مصیبت ہوتی ہے اتنا ہی بڑا ثواب ہوتا ہے، اور بیشک اللہ تعالیٰ جب کسی قوم سے محبت کرتا ہے تو اسے آزماتا ہے، پھر جو کوئی اس سے راضی و خوش رہے تو وہ اس سے راضی رہتا ہے، اور جو کوئی اس سے خفا ہو تو وہ بھی اس سے خفا ہو جاتا ہے ۔
حدیث 4032 — سنن ابن ماجه 36:107
صحیحصحیحصحیح
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ الْمُؤْمِنُ الَّذِي يُخَالِطُ النَّاسَ وَيَصْبِرُ عَلَى أَذَاهُمْ أَعْظَمُ أَجْرًا مِنَ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لاَ يُخَالِطُ النَّاسَ وَلاَ يَصْبِرُ عَلَى أَذَاهُمْ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ مومن جو لوگوں سے مل جل کر رہتا ہے، اور ان کی ایذاء پر صبر کرتا ہے، تو اس کا ثواب اس مومن سے زیادہ ہے جو لوگوں سے الگ تھلگ رہتا ہے، اور ان کی ایذاء رسانی پر صبر نہیں کرتا ہے ۱؎۔
حدیث 4033 — سنن ابن ماجه 36:108
صحیحصحیححسن Sahihصحیح - Agreed Upon
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ ثَلاَثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ طَعْمَ الإِيمَانِ - وَقَالَ بُنْدَارٌ حَلاَوَةَ الإِيمَانِ - مَنْ كَانَ يُحِبُّ الْمَرْءَ لاَ يُحِبُّهُ إِلاَّ لِلَّهِ ‏.‏ وَمَنْ كَانَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا ‏.‏ وَمَنْ كَانَ أَنْ يُلْقَى فِي النَّارِ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَرْجِعَ فِي الْكُفْرِ بَعْدَ إِذْ أَنْقَذَهُ اللَّهُ مِنْهُ ‏"‏ ‏.‏
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس میں تین باتیں ہوں گی وہ ایمان کا ذائقہ پائے گا، ( بندار کی روایت میں ہے کہ وہ ایمان کی حلاوت ( مٹھاس ) پائے گا ) ایک وہ شخص جو کسی سے صرف اللہ کے لیے محبت کرتا ہو، دوسرے وہ جسے اللہ اور اس کا رسول دنیا کی تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہوں، تیسرے وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے کفر سے نجات دی، اس کے بعد اسے آگ میں ڈالا جانا تو پسند ہو، لیکن کفر کی طرف پلٹ جانا پسند نہ ہو ۔
حدیث 4034 — سنن ابن ماجه 36:109
حسنحسنحسن Lighairihiحسن
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ح وَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا رَاشِدٌ أَبُو مُحَمَّدٍ الْحِمَّانِيُّ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ أَوْصَانِي خَلِيلِي ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنْ ‏ "‏ لاَ تُشْرِكْ بِاللَّهِ شَيْئًا وَإِنْ قُطِّعْتَ وَحُرِّقْتَ وَلاَ تَتْرُكْ صَلاَةً مَكْتُوبَةً مُتَعَمِّدًا فَمَنْ تَرَكَهَا مُتَعَمِّدًا فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ وَلاَ تَشْرَبِ الْخَمْرَ فَإِنَّهَا مِفْتَاحُ كُلِّ شَرٍّ ‏"‏ ‏.‏
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو وصیت کی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک مت کرنا اگرچہ تم ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے جاؤ، اور جلا دئیے جاؤ، اور فرض نماز کو جان بوجھ کر مت چھوڑنا، کیونکہ جس نے جان بوجھ کر اسے چھوڑا تو اس پر سے اللہ کی پناہ اٹھ گئی، اور تم شراب مت پینا، کیونکہ شراب تمام برائیوں کی کنجی ہے ۔
حدیث 4035 — سنن ابن ماجه 36:110
صحیحصحیححسنIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا غِيَاثُ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّحْبِيُّ، أَنْبَأَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، سَمِعْتُ ابْنَ جَابِرٍ، يَقُولُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ رَبِّهِ، يَقُولُ سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ، يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ ‏ "‏ لَمْ يَبْقَ مِنَ الدُّنْيَا إِلاَّ بَلاَءٌ وَفِتْنَةٌ ‏"‏ ‏.‏
معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: دنیا میں فتنوں اور مصیبتوں کے سوا کچھ باقی نہ رہا ۔
حدیث 4036 — سنن ابن ماجه 36:111
صحیحصحیحضعیف
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ قُدَامَةَ الْجُمَحِيُّ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي الْفُرَاتِ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ سَيَأْتِي عَلَى النَّاسِ سَنَوَاتٌ خَدَّاعَاتٌ يُصَدَّقُ فِيهَا الْكَاذِبُ وَيُكَذَّبُ فِيهَا الصَّادِقُ وَيُؤْتَمَنُ فِيهَا الْخَائِنُ وَيُخَوَّنُ فِيهَا الأَمِينُ وَيَنْطِقُ فِيهَا الرُّوَيْبِضَةُ قِيلَ وَمَا الرُّوَيْبِضَةُ قَالَ الرَّجُلُ التَّافِهُ فِي أَمْرِ الْعَامَّةِ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مکر و فریب والے سال آئیں گے، ان میں جھوٹے کو سچا سمجھا جائے گا اور سچے کو جھوٹا، خائن کو امانت دار اور امانت دار کو خائن، اور اس زمانہ میں «رويبضة» بات کرے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا: «رويبضة» کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حقیر اور کمینہ آدمی، وہ لوگوں کے عام انتظام میں مداخلت کرے گا
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔