انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ہم عبدالمطلب کی اولاد ہیں، اور اہل جنت کے سردار ہیں، یعنی: میں، حمزہ، علی، جعفر، حسن، حسین اور مہدی ۔
حدیث 4088 — سنن ابن ماجه 36:163
ضعیفضعیفVery Daifضعیف
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى الْمِصْرِيُّ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ دَاوُدَ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَمْرِو بْنِ جَابِرٍ الْحَضْرَمِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ الزُّبَيْدِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " يَخْرُجُ نَاسٌ مِنَ الْمَشْرِقِ فَيُوَطِّئُونَ لِلْمَهْدِيِّ " . يَعْنِي سُلْطَانَهُ .
عبداللہ بن حارث بن جزء زبیدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کچھ لوگ مشرق ( پورب ) کی جانب سے نکلیں گے جو مہدی کی حکومت کے لیے راستہ ہموار کریں گے ۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاتِكَةِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَبِيبٍ الْمُحَارِبِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِذَا وَقَعَتِ الْمَلاَحِمُ بَعَثَ اللَّهُ بَعْثًا مِنَ الْمَوَالِي هُمْ أَكْرَمُ الْعَرَبِ فَرَسًا وَأَجْوَدُهُ سِلاَحًا يُؤَيِّدُ اللَّهُ بِهِمُ الدِّينَ " .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب بڑی بڑی جنگیں ہونے لگیں گی، تو اللہ تعالیٰ موالی ( جن کو عربوں نے آزاد کیا ہے ) میں سے ایک لشکر اٹھائے گا، جو عربوں سے زیادہ اچھے سوار ہوں گے اور ان سے بہتر ہتھیار رکھتے ہوں گے، اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ دین کی مدد فرمائے گا ۔
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نافع بن عتبہ بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم عنقریب جزیرہ عرب والوں سے جنگ کرو گے، اللہ تعالیٰ اس پر فتح دے گا، پھر تم رومیوں سے جنگ کرو گے، ان پر بھی اللہ تعالیٰ فتح عنایت فرمائے گا، پھر تم دجال سے جنگ کرو گے، اللہ تعالیٰ اس پر فتح دے گا ۔ جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب تک روم فتح نہ ہو گا، دجال کا ظہور نہ ہو گا۔
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنگ عظیم، قسطنطنیہ کی فتح اور دجال کا خروج تینوں چیزیں سات مہینے کے اندر ہوں گی ۔
حدیث 4093 — سنن ابن ماجه 36:169
ضعیفضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي بِلاَلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " بَيْنَ الْمَلْحَمَةِ وَفَتْحِ الْمَدِينَةِ سِتُّ سِنِينَ وَيَخْرُجُ الدَّجَّالُ فِي السَّابِعَةِ " .
عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنگ عظیم اور فتح مدینہ ( قسطنطنیہ ) کے درمیان چھ سال کا وقفہ ہے، اور دجال کا ظہور ساتویں سال میں ہو گا ۔
حدیث 4094 — سنن ابن ماجه 36:170
MawduMawduضعیفضعیف
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو يَعْقُوبَ الْحُنَيْنِيُّ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَكُونَ أَدْنَى مَسَالِحِ الْمُسْلِمِينَ بِبَوْلاَءَ " . ثُمَّ قَالَ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " يَا عَلِيُّ يَا عَلِيُّ يَا عَلِيُّ " . قَالَ بِأَبِي وَأُمِّي . قَالَ " إِنَّكُمْ سَتُقَاتِلُونَ بَنِي الأَصْفَرِ وَيُقَاتِلُهُمُ الَّذِينَ مِنْ بَعْدِكُمْ حَتَّى تَخْرُجَ إِلَيْهِمْ رُوقَةُ الإِسْلاَمِ أَهْلُ الْحِجَازِ الَّذِينَ لاَ يَخَافُونَ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لاَئِمٍ فَيَفْتَتِحُونَ الْقُسْطُنْطِينِيَّةَ بِالتَّسْبِيحِ وَالتَّكْبِيرِ فَيُصِيبُونَ غَنَائِمَ لَمْ يُصِيبُوا مِثْلَهَا حَتَّى يَقْتَسِمُوا بِالأَتْرِسَةِ وَيَأْتِي آتٍ فَيَقُولُ إِنَّ الْمَسِيحَ قَدْ خَرَجَ فِي بِلاَدِكُمْ أَلاَ وَهِيَ كِذْبَةٌ فَالآخِذُ نَادِمٌ وَالتَّارِكُ نَادِمٌ " .
عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو سکتی جب تک مسلمانوں کا نزدیک ترین مورچہ مقام بولاء میں نہ ہو ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے علی! اے علی! اے علی! انہوں نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ( فرمائیے ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم بہت جلد بنی اصفر ( اہل روم ) سے جنگ کرو گے اور ان سے وہ مسلمان بھی لڑیں گے جو تمہارے بعد پیدا ہوں گے، یہاں تک کہ جو لوگ اسلام کی رونق ہوں گے ( یعنی اہل حجاز ) وہ بھی ان سے جنگ کے لیے نکلیں گے، اور اللہ کے معاملہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا خوف نہ کریں گے، بلکہ تسبیح و تکبیر کے ذریعہ قسطنطنیہ فتح کر لیں گے، اور انہیں ( وہاں ) اس قدر مال غنیمت حاصل ہو گا کہ اتنا کبھی حاصل نہ ہوا تھا، یہاں تک کہ وہ ڈھا لیں بھربھر کر تقسیم کریں گے، اور ایک آنے والا آ کر کہے گا: مسیح ( دجال ) تمہارے ملک میں ظاہر ہو گیا ہے، سن لو! یہ خبر جھوٹی ہو گی، تو مال لینے والا بھی شرمندہ ہو گا، اور نہ لینے والا بھی ۔
عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے اور بنی اصفر ( رومیوں ) کے درمیان صلح ہو گی، پھر وہ تم سے عہد شکنی کریں گے، اور تمہارے مقابلے کے لیے اسی جھنڈوں کے ساتھ فوج لے کر آئیں گے، اور ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار فوج ہو گی ۔
حدیث 4096 — سنن ابن ماجه 36:172
صحیحصحیححسن Sahihصحیح - Agreed Upon
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا قَوْمًا نِعَالُهُمُ الشَّعَرُ وَلاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا قَوْمًا صِغَارَ الأَعْيُنِ " .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک تم ایک ایسی قوم سے جنگ نہ کرو گے جن کے جوتے بالوں کے ہوں گے، قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک تم ایک ایسی قوم سے جنگ نہ کرو گے جن کی آنکھیں چھوٹی ہوں گی ۔