جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دسویں ذی الحجہ کو منیٰ میں لوگوں ( کو حج کے احکام بتانے ) کے لیے بیٹھے، تو ایک شخص آپ کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے ذبح کرنے سے پہلے سر منڈوا لیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی حرج نہیں ، پھر دوسرا شخص آیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے قربانی کر لی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی حرج نہیں ، آپ سے اس دن جس چیز کے بارے میں بھی پوچھا گیا جسے کسی چیز سے پہلے کر لیا گیا ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا: کوئی حرج نہیں ۱؎۔
حدیث 3053 — سنن ابن ماجه 25:172
صحیحصحیححسن Sahihصحیح Muslim
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ ضُحًى وَأَمَّا بَعْدَ ذَلِكَ فَبَعْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ .
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے دیکھا کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی چاشت کے وقت کی، اور اس کے بعد جو رمی کی ( یعنی ۱۱، ۱۲ اور ۱۳ ذی الحجہ ) کو تو وہ زوال ( سورج ڈھلنے ) کے بعد کی۔
حدیث 3054 — سنن ابن ماجه 25:173
ضعیف Isnaadضعیف Isnaadضعیفضعیف
حَدَّثَنَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ أَبُو شَيْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ يَرْمِي الْجِمَارَ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ قَدْرَ مَا إِذَا فَرَغَ مِنْ رَمْيِهِ صَلَّى الظُّهْرَ .
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( دسویں ذی الحجہ کے بعد والے دنوں میں ) رمی جمار سورج ڈھلنے کے بعد اس حساب سے کرتے تھے کہ جب آپ اپنی رمی سے فارغ ہوتے، تو ظہر پڑھتے۔
عمرو بن احوص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع میں فرماتے سنا: لوگو! سنو، کون سا دن زیادہ تقدیس کا ہے ؟ آپ نے تین بار یہ فرمایا، لوگوں نے کہا: حج اکبر ۱؎ کا دن، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے خون اور تمہارے مال اور تمہاری عزت و آبرو ایک دوسرے پر ایسے ہی حرام ہیں جیسے تمہارے اس دن کی، اور تمہارے اس مہینے کی، اور تمہارے اس شہر کی حرمت ہے، جو کوئی جرم کرے گا، تو اس کا مواخذہ اسی سے ہو گا، باپ کے جرم کا مواخذہ بیٹے سے، اور بیٹے کے جرم کا مواخذہ باپ سے نہ ہو گا، سن لو! شیطان اس بات سے ناامید ہو گیا ہے کہ اب تمہارے اس شہر میں کبھی اس کی عبادت کی جائے گی، لیکن عنقریب بعض کاموں میں جن کو تم معمولی جانتے ہو، اس کی اطاعت ہو گی، وہ اسی سے خوش رہے گا، سن لو! جاہلیت کے سارے خون معاف کر دئیے گئے ( اب اس کا مطالبہ و مواخذہ نہ ہو گا ) اور میں حارث بن عبدالمطلب کا خون سب سے پہلے زمانہ جاہلیت کے خون میں معاف کرتا ہوں، ( جو قبیلہ بنی لیث میں دودھ پیا کرتے تھے اور قبیلہ ہذیل نے انہیں شیر خوارگی کی حالت میں قتل کر دیا تھا ) سن لو! جاہلیت کے تمام سود معاف کر دئیے گئے، تم صرف اپنا اصل مال لے لو، نہ تم ظلم کرو، نہ تم پر ظلم ہو، آگاہ رہو، اے میری امت کے لوگو! کیا میں نے اللہ کا حکم تمہیں پہنچا دیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تین بار فرمایا، لوگوں نے عرض کیا: جی ہاں، آپ نے پہنچا دیا، آپ نے فرمایا: اے اللہ! تو گواہ رہ ، اور اسے آپ نے تین بار دہرایا۔
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ میں مسجد خیف میں کھڑے ہوئے اور فرمایا: اللہ اس شخص کو تروتازہ رکھے جو میری بات سنے، اور اسے لوگوں کو پہنچائے، کیونکہ بہت سے فقہ کی بات سننے والے خود فقیہ نہیں ہوتے، اور بعض ایسے ہیں جو فقہ کی بات سن کر ایسے لوگوں تک پہنچاتے ہیں جو ان سے زیادہ فقیہ ہوتے ہیں، تین باتیں ایسی ہیں جن میں کسی مومن کا دل خیانت نہیں کرتا، ایک اللہ کے لیے عمل خالص کرنے میں، دوسرے مسلمان حکمرانوں کی خیر خواہی کرنے میں، اور تیسرے مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ ملے رہنے میں، اس لیے کہ ان کی دعا انہیں چاروں طرف سے گھیرے رہتی ہے ۱؎۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اور اس وقت آپ عرفات میں اپنی کنکٹی اونٹنی پر سوار تھے: کیا تم جانتے ہو کہ یہ کون سا دن ہے، اور کون سا مہینہ ہے، اور کون سا شہر ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا: یہ حرمت والا شہر، حرمت والا مہینہ، اور حرمت والا دن ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو! تمہارے مال اور تمہارے خون بھی ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہیں جیسے تمہارا یہ مہینہ تمہارے اس شہر میں اور تمہارے اس دن میں، سنو! میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا، اور تمہاری کثرت کے سبب دوسری امتوں پر فخر کروں گا، تو تم مجھے رو سیاہ مت کرنا، سنو! کچھ لوگوں کو میں ( عذاب کے فرشتوں یا جہنم سے ) نجات دلاؤں گا، اور کچھ لوگ مجھ سے چھڑائے جائیں گے ( فرشتے مجھ سے چھین کر انہیں جہنم میں لے جائیں گے ) ، میں کہوں گا: یا رب! یہ میرے صحابہ ہیں وہ فرمائے گا: آپ نہیں جانتے جو انہوں نے آپ کے بعد بدعتیں ایجاد کی ہیں ۱؎۔
حدیث 3058 — سنن ابن ماجه 25:177
صحیحصحیحصحیحصحیح
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ الْغَازِ، قَالَ سَمِعْتُ نَافِعًا، يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَقَفَ يَوْمَ النَّحْرِ بَيْنَ الْجَمَرَاتِ فِي الْحَجَّةِ الَّتِي حَجَّ فِيهَا فَقَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " أَىُّ يَوْمٍ هَذَا " . قَالُوا يَوْمُ النَّحْرِ . قَالَ " فَأَىُّ بَلَدٍ هَذَا " . قَالُوا هَذَا بَلَدُ اللَّهِ الْحَرَامُ . قَالَ " فَأَىُّ شَهْرٍ هَذَا " . قَالُوا شَهْرُ اللَّهِ الْحَرَامُ . قَالَ " هَذَا يَوْمُ الْحَجِّ الأَكْبَرِ وَدِمَاؤُكُمْ وَأَمْوَالُكُمْ وَأَعْرَاضُكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ هَذَا الْبَلَدِ فِي هَذَا الشَّهْرِ فِي هَذَا الْيَوْمِ " . ثُمَّ قَالَ " هَلْ بَلَّغْتُ " . قَالُوا نَعَمْ . فَطَفِقَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " اللَّهُمَّ اشْهَدْ " . ثُمَّ وَدَّعَ النَّاسَ فَقَالُوا هَذِهِ حَجَّةُ الْوَدَاعِ .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس سال حج کیا دسویں ذی الحجہ کو جمرات کے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا: آج کون سا دن ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا: یہ یوم النحر ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کون سا شہر ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا: یہ اللہ کا حرمت والا شہر ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کون سا مہینہ ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا: یہ اللہ کا حرمت والا مہینہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ حج اکبر کا دن ہے، اور تمہارے خون، تمہارے مال، تمہاری عزت و آبرو اسی طرح تم پر حرام ہیں جیسے اس شہر کی حرمت اس مہینے اور اس دن میں ہے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں نے ( اللہ کے احکام تم کو ) پہنچا دئیے ہیں ؟ لوگوں نے عرض کیا: جی ہاں، ( آپ نے پہنچا دئیے ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرمانے لگے: اے اللہ! تو گواہ رہ ، اس کے بعد لوگوں کو رخصت کیا، تو لوگوں نے کہا: یہ حجۃ الوداع یعنی الوداعی حج ہے ۱؎۔
حدیث 3059 — سنن ابن ماجه 25:178
ضعیفShadhضعیفضعیف
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ طَارِقٍ، عَنْ طَاوُسٍ، وَأَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، وَابْنِ، عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَخَّرَ طَوَافَ الزِّيَارَةِ إِلَى اللَّيْلِ .
ام المؤمنین عائشہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف زیارت میں رات تک تاخیر فرمائی ۱؎۔
حدیث 3060 — سنن ابن ماجه 25:179
صحیحصحیحصحیحصحیح
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ لَمْ يَرْمُلْ فِي السَّبْعِ الَّذِي أَفَاضَ فِيهِ . قَالَ عَطَاءٌ وَلاَ رَمَلَ فِيهِ .
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف افاضہ کے سات چکروں میں رمل نہیں کیا ۱؎۔ عطا کہتے ہیں کہ طواف افاضہ میں رمل نہیں ہے۔
محمد بن عبدالرحمٰن بن ابی بکر کہتے ہیں کہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا تھا کہ اتنے میں ان کے پاس ایک شخص آیا، تو انہوں نے پوچھا کہ تم کہاں سے آئے ہو؟ اس نے کہا: زمزم کے پاس سے، پوچھا: تم نے اس سے پیا جیسا پینا چاہیئے، اس نے پوچھا: کیسے پینا چاہیئے؟ کہا: جب تم زمزم کا پانی پیو تو کعبہ کی طرف رخ کر کے کھڑے ہو اور اللہ کا نام لو، اور تین سانس میں پیو، اور خوب آسودہ ہو کر پیو، پھر جب فارغ ہو جاؤ تو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو، اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ہمارے اور منافقوں کے درمیان فرق یہ ہے کہ وہ سیر ہو کر زمزم کا پانی نہیں پیتے ۔