قرآني·Qurani
اردو

المناسك

238 احادیث · #2882–3119

حدیث 3112 — سنن ابن ماجه 25:231
صحیحصحیحصحیحIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَمُوتَ بِالْمَدِينَةِ فَلْيَفْعَلْ فَإِنِّي أَشْهَدُ لِمَنْ مَاتَ بِهَا ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو مدینہ میں مر سکے تو وہ ایسا ہی کرے، کیونکہ جو وہاں مرے گا میں اس کے لیے گواہی دوں گا ۔
حدیث 3113 — سنن ابن ماجه 25:232
صحیحصحیحصحیحصحیح
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ، مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلُكَ وَنَبِيُّكَ وَإِنَّكَ حَرَّمْتَ مَكَّةَ عَلَى لِسَانِ إِبْرَاهِيمَ اللَّهُمَّ وَأَنَا عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ وَإِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لاَبَتَيْهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو مَرْوَانَ لاَبَتَيْهَا حَرَّتَىِ الْمَدِينَةِ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! ابراہیم تیرے خلیل ( گہرے دوست ) اور تیرے نبی ہیں، اور تو نے مکہ کو بزبان ابراہیم حرام ٹھہرایا ہے، اے اللہ! میں تیرا بندہ اور تیرا نبی ہوں، اور میں مدینہ کو اس کی دونوں کالی پتھریلی زمینوں کے درمیان کی جگہ کو حرام ٹھہراتا ہوں ۱؎۔ ابومروان کہتے ہیں: «لابتيها» کے معنی مدینہ کے دونوں طرف کی کالی پتھریلی زمینیں ہیں
حدیث 3114 — سنن ابن ماجه 25:233
صحیحصحیححسنIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ مَنْ أَرَادَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ بِسُوءٍ أَذَابَهُ اللَّهُ كَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مدینہ والوں کو جو کوئی تکلیف پہنچانے کا ارادہ کرے گا، تو اللہ تعالیٰ اس کو اس طرح گھلا دے گا جس طرح نمک پانی میں گھل جاتا ہے ۱؎۔
حدیث 3115 — سنن ابن ماجه 25:234
Very DaifVery Daifضعیفضعیف
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مِكْنَفٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ إِنَّ أُحُدًا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ وَهُوَ عَلَى تُرْعَةٍ مِنْ تُرَعِ الْجَنَّةِ وَعَيْرٌ عَلَى تُرْعَةٍ مِنْ تُرَعِ النَّارِ ‏"‏ ‏.‏
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: احد پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے، اور ہم اس سے، اور وہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ پر قائم ہے، اور عیر ( یہ بھی ایک پہاڑ ہے ) جہنم کے باغات میں سے ایک باغ پر قائم ہے ۔
حدیث 3116 — سنن ابن ماجه 25:235
صحیحصحیحصحیحضعیف
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ وَاصِلٍ الأَحْدَبِ، عَنْ شَقِيقٍ، قَالَ بَعَثَ رَجُلٌ مَعِيَ بِدَرَاهِمَ هَدِيَّةً إِلَى الْبَيْتِ ‏.‏ قَالَ فَدَخَلْتُ الْبَيْتَ وَشَيْبَةُ جَالِسٌ عَلَى كُرْسِيٍّ فَنَاوَلْتُهُ إِيَّاهَا ‏.‏ فَقَالَ أَلَكَ هَذِهِ قُلْتُ لاَ وَلَوْ كَانَتْ لِي لَمْ آتِكَ بِهَا ‏.‏ قَالَ أَمَا لَئِنْ قُلْتَ ذَلِكَ لَقَدْ جَلَسَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مَجْلِسَكَ الَّذِي جَلَسْتَ فِيهِ فَقَالَ لاَ أَخْرُجُ حَتَّى أَقْسِمَ مَالَ الْكَعْبَةِ بَيْنَ فُقَرَاءِ الْمُسْلِمِينَ ‏.‏ قُلْتُ مَا أَنْتَ بِفَاعِلٍ ‏.‏ قَالَ لأَفْعَلَنَّ ‏.‏ قَالَ وَلِمَ ذَاكَ قُلْتُ لأَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَدْ رَأَى مَكَانَهُ ‏.‏ وَأَبُو بَكْرٍ وَهُمَا أَحْوَجُ مِنْكَ إِلَى الْمَالِ فَلَمْ يُحَرِّكَاهُ ‏.‏ فَقَامَ كَمَا هُوَ فَخَرَجَ ‏.‏
ابووائل شقیق بن سلمہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے میرے ساتھ کچھ درہم خانہ کعبہ کے لیے ہدیہ بھیجے، میں خانہ کعبہ کے اندر آیا، اور شیبہ ( خانہ کعبہ کے کلید بردار ) کو جو ایک کرسی پر بیٹھے ہوئے تھے، میں نے انہیں وہ درہم دے دئیے، انہوں نے پوچھا: کیا یہ تمہارے ہیں؟ میں نے کہا: نہیں، اگر میرے ہوتے تو میں انہیں آپ کے پاس نہ لاتا، ( فقیروں اور مسکینوں کو دے دیتا ) انہوں نے کہا: اگر تم ایسا کہتے ہو تو میں تمہیں بتاتا ہوں کہ عمر رضی اللہ عنہ اسی جگہ بیٹھے جہاں تم بیٹھے ہو، پھر انہوں نے فرمایا: میں باہر نہیں نکلوں گا جب تک کہ کعبہ کا مال مسلمان محتاجوں میں تقسیم نہ کر دوں، میں نے ان سے کہا: آپ ایسا نہیں کر سکتے، انہوں نے کہا: میں ضرور کروں گا، پھر آپ نے پوچھا: تم نے کیوں کہا کہ میں ایسا نہیں کر سکتا؟، میں نے کہا: اس وجہ سے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مال کی جگہ دیکھی ہے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی، اور وہ دونوں آپ سے زیادہ اس کے ضرورت مند تھے، اس کے باوجود انہوں نے اس کو نہیں سرکایا، یہ سن کر وہ جیسے تھے اسی حالت میں اٹھے اور باہر نکل گئے۔
حدیث 3117 — سنن ابن ماجه 25:236
MawduMawduVery Daifضعیف
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ مَنْ أَدْرَكَ رَمَضَانَ بِمَكَّةَ فَصَامَ وَقَامَ مِنْهُ مَا تَيَسَّرَ لَهُ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ مِائَةَ أَلْفِ شَهْرِ رَمَضَانَ فِيمَا سِوَاهَا ‏.‏ وَكَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِكُلِّ يَوْمٍ عِتْقَ رَقَبَةٍ وَكُلِّ لَيْلَةٍ عِتْقَ رَقَبَةٍ وَكُلِّ يَوْمٍ حُمْلاَنَ فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَفِي كُلِّ يَوْمٍ حَسَنَةً وَفِي كُلِّ لَيْلَةٍ حَسَنَةً ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مکہ میں ماہ رمضان پائے پھر روزے رکھے، اور قیام کرے جتنا اس سے ہو سکے، تو اللہ اس کے لیے دوسرے شہروں کے ایک لاکھ رمضان کے مہینہ کا ثواب لکھے گا، اور ہر دن کے بدلہ ایک غلام آزاد کرنے، اور ہر رات کے بدلے ایک غلام آزاد کرنے کا، اور ہر دن کے بدلے ایک گھوڑے کا جو اللہ کی راہ ( جہاد ) میں سواری کے لیے دیا گیا ہو، ہر دن اور ہر رات کے بدلے ایک ایک نیکی لکھے گا ۔
حدیث 3118 — سنن ابن ماجه 25:237
Very Daif IsnaadVery Daif IsnaadVery Daifضعیف
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَجْلاَنَ، قَالَ طُفْنَا مَعَ أَبِي عِقَالٍ فِي مَطَرٍ فَلَمَّا قَضَيْنَا طَوَافَنَا أَتَيْنَا خَلْفَ الْمَقَامِ فَقَالَ طُفْتُ مَعَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فِي مَطَرٍ فَلَمَّا قَضَيْنَا الطَّوَافَ أَتَيْنَا الْمَقَامَ فَصَلَّيْنَا رَكْعَتَيْنِ فَقَالَ لَنَا أَنَسٌ ‏ "‏ ائْتَنِفُوا الْعَمَلَ فَقَدْ غُفِرَ لَكُمْ ‏"‏ ‏.‏ هَكَذَا قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَطُفْنَا مَعَهُ فِي مَطَرٍ ‏.‏
داود بن عجلان کہتے ہیں کہ ہم نے ابوعقال ( ہلال بن زید ) کے ساتھ بارش میں طواف کیا، جب ہم طواف کر چکے تو مقام ابراہیم کے پیچھے آئے، تو انہوں نے کہا: میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے ساتھ بارش میں طواف کیا، جب ہم طواف کر چکے تو مقام ابراہیم پر آئے اور وہاں دو رکعتیں پڑھیں، انس رضی اللہ عنہ نے ہم سے کہا: اب نئے سرے سے اپنے عمل کا حساب سمجھو کیونکہ تمہارے گناہ بخش دئیے گئے، ایسے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا تھا، اور ہم نے آپ کے ساتھ بارش میں طواف کیا تھا۔
حدیث 3119 — سنن ابن ماجه 25:238
ضعیفضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ حَفْصٍ الأُبُلِّيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ حَبِيبٍ الزَّيَّاتِ، عَنْ حُمْرَانَ بْنِ أَعْيَنَ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ حَجَّ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَأَصْحَابُهُ مُشَاةً مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ وَقَالَ ‏ "‏ ارْبُطُوا أَوْسَاطَكُمْ بِأُزُرِكُمْ ‏"‏ ‏.‏ وَمَشَى خِلْطَ الْهَرْوَلَةِ ‏.‏
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے مدینہ سے مکہ پیدل چل کر حج کیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے تہ بند اپنی کمر میں باندھ لو ، اور آپ ایسی چال چلے جس میں دوڑ ملی ہوئی تھی ۱؎۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔