قرآني·Qurani
اردو

النكاح

171 احادیث · #1845–2015

حدیث 1925 — سنن ابن ماجه 9:81
صحیحصحیحصحیح - Bukhari And Muslim
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ، وَجَمِيلُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ كَانَتْ يَهُودُ تَقُولُ مَنْ أَتَى امْرَأَةً فِي قُبُلِهَا مِنْ دُبُرِهَا كَانَ الْوَلَدُ أَحْوَلَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ ‏{نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ}‏ ‏.‏
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ یہود کہتے تھے کہ جس نے بیوی کی اگلی شرمگاہ میں پیچھے سے جماع کیا تو لڑکا بھینگا ہو گا، چنانچہ اللہ سبحانہ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی: «نساؤكم حرث لكم فأتوا حرثكم أنى شئتم» ( سورة البقرة: 223 ) تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں، لہٰذا تم اپنی کھیتیوں میں جدھر سے چاہو آؤ ۱؎۔
حدیث 1926 — سنن ابن ماجه 9:82
صحیحصحیحصحیحIsnaad Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ، مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنِ الْعَزْلِ فَقَالَ ‏ "‏ أَوَتَفْعَلُونَ لاَ عَلَيْكُمْ أَنْ لاَ تَفْعَلُوا فَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْ نَسَمَةٍ قَضَى اللَّهُ لَهَا أَنْ تَكُونَ إِلاَّ هِيَ كَائِنَةٌ ‏"‏ ‏.‏
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے بارے میں پوچھا: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم لوگ ایسا کرتے ہو؟ ایسا نہ کرنے میں تمہیں کوئی نقصان نہیں ہے، اس لیے کہ جس جان کو اللہ تعالیٰ نے پیدا ہونا مقدر کیا ہے وہ ضرور پیدا ہو گی ۔ ۱؎
حدیث 1927 — سنن ابن ماجه 9:83
صحیحصحیحصحیحصحیح - Bukhari And Muslim
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ كُنَّا نَعْزِلُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَالْقُرْآنُ يَنْزِلُ ‏.‏
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عزل کیا کرتے تھے، اور قرآن اترا کرتا تھا ۱؎۔
حدیث 1928 — سنن ابن ماجه 9:84
ضعیفضعیفضعیف
حدیث 1929 — سنن ابن ماجه 9:85
صحیحصحیحصحیح
حدیث 1930 — سنن ابن ماجه 9:86
صحیحصحیح Lighairihiصحیح Lighairihiصحیح
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَنْهَى عَنْ نِكَاحَيْنِ أَنْ يَجْمَعَ الرَّجُلُ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا وَبَيْنَ الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا ‏.‏
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو نکاحوں سے منع فرماتے ہوئے سنا، ایک یہ کہ کوئی شخص بھتیجی اور پھوپھی دونوں کو نکاح میں جمع کرے، دوسرے یہ کہ خالہ اور بھانجی کو جمع کرے۔
حدیث 1931 — سنن ابن ماجه 9:87
صحیحصحیح Lighairihiصحیح Lighairihiصحیح
حَدَّثَنَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّهْشَلِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ لاَ تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا وَلاَ عَلَى خَالَتِهَا ‏"‏ ‏.‏
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت سے اس کی پھوپھی کے عقد میں ہوتے ہوئے نکاح نہ کیا جائے، اور نہ ہی اس کی خالہ کے عقد میں ہوتے ہوئے اس سے نکاح کیا جائے ۔
حدیث 1932 — سنن ابن ماجه 9:88
صحیحصحیحصحیحصحیح - Bukhari And Muslim
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ امْرَأَةَ، رِفَاعَةَ الْقُرَظِيِّ جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَتْ إِنِّي كُنْتُ عِنْدَ رِفَاعَةَ فَطَلَّقَنِي فَبَتَّ طَلاَقِي فَتَزَوَّجْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِيرِ وَإِنَّ مَا مَعَهُ مِثْلُ هُدْبَةِ الثَّوْبِ ‏.‏ فَتَبَسَّمَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ ‏ "‏ أَتُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ لاَ حَتَّى تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ ‏"‏ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رفاعہ قرظی کی بیوی ( رضی اللہ عنہا ) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا کہ میں رفاعہ کے پاس تھی، انہوں نے مجھے تین طلاق دے دی، تو میں نے عبدالرحمٰن بن زبیر سے شادی کر لی، اور ان کے پاس جو ہے وہ ایسا ہے جیسے کپڑے کا جھالر ۱؎ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے، اور فرمایا: کیا تم پھر رفاعہ کے پاس جانا چاہتی ہو؟ نہیں، یہ نہیں ہو سکتا جب تک کہ تم عبدالرحمٰن کا مزہ نہ چکھو، اور وہ تمہارا مزہ نہ چکھیں ۲؎۔
حدیث 1933 — سنن ابن ماجه 9:89
صحیحصحیح Lighairihiصحیح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، قَالَ سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ رَزِينٍ، يُحَدِّثُ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي الرَّجُلِ تَكُونُ لَهُ الْمَرْأَةُ فَيُطَلِّقُهَا فَيَتَزَوَّجُهَا رَجُلٌ فَيُطَلِّقُهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا أَتَرْجِعُ إِلَى الأَوَّلِ قَالَ ‏ "‏ لاَ ‏.‏ حَتَّى يَذُوقَ الْعُسَيْلَةَ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ایسے شخص کے بارے میں روایت کرتے ہیں، جو اپنی بیوی کو طلاق دیدے، پھر دوسرا شخص اس سے شادی کرے اور دخول سے پہلے اسے طلاق دے، تو کیا وہ پہلے شوہر کے پاس لوٹ سکتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں جب تک کہ دوسرا شوہر اس کا مزہ نہ چکھ لے ۔
حدیث 1934 — سنن ابن ماجه 9:90
صحیحصحیحصحیح Lighairihiصحیح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، عَنْ زَمْعَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ وَهْرَامَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ الْمُحَلِّلَ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حلالہ کرنے والے اور حلالہ کرانے والے پر لعنت کی ہے۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔