ہم سے موسیٰ نے بیان کیا، ان سے ابوعوانہ نے، ان سے مغیرہ نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے علقمہ نے کہ میں شام پہنچا تو سب سے پہلے میں نے دو رکعت نماز پڑھی اور یہ دعا کی کہ اے اللہ! مجھے کسی ( نیک ) ساتھی کی صحبت سے فیض یابی کی توفیق عطا فرما۔ چنانچہ میں نے دیکھا کہ ایک بزرگ آ رہے ہیں، جب وہ قریب آ گئے تو میں نے سوچا کہ شاید میری دعا قبول ہو گئی ہے۔ انہوں نے دریافت فرمایا: آپ کا وطن کہاں ہے؟ میں نے عرض کیا کہ میں کوفہ کا رہنے والا ہوں، اس پر انہوں نے فرمایا: کیا تمہارے یہاں «صاحب النعلين والوساد والمطهرة» ( عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) نہیں ہیں؟ کیا تمہارے یہاں وہ صحابی نہیں ہیں جنہیں شیطان سے ( اللہ کی ) پناہ مل چکی ہے۔ ( یعنی عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما ) کیا تمہارے یہاں سربستہ رازوں کے جاننے والے نہیں ہیں کہ جنہیں ان کے سوا اور کوئی نہیں جانتا ( پھر دریافت فرمایا ) ابن ام عبد ( عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) آیت «والليل» کی قرآت کس طرح کرتے ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ «والليل إذا يغشى * والنهار إذا تجلى * والذكر والأنثى» آپ نے فرمایا کہ مجھے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنی زبان مبارک سے اسی طرح سکھایا تھا۔ لیکن اب شام والے مجھے اس طرح قرآت کرنے سے ہٹانا چاہتے ہیں۔
حدیث 3762 — صحيح البخاري 62:107
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ،، قَالَ سَأَلْنَا حُذَيْفَةَ عَنْ رَجُلٍ، قَرِيبِ السَّمْتِ وَالْهَدْىِ مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى نَأْخُذَ عَنْهُ فَقَالَ مَا أَعْرِفُ أَحَدًا أَقْرَبَ سَمْتًا وَهَدْيًا وَدَلاًّ بِالنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابواسحٰق نے، ان سے عبدالرحمٰن بن زید نے بیان کیا کہ ہم نے حذیفہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ صحابہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عادات و اخلاق اور طور طریق میں سب سے زیادہ قریب کون سے صحابی تھے؟ تاکہ ہم ان سے سیکھیں، انہوں نے کہا اخلاق، طور طریق اور سیرت و عادت میں ابن ام عبد سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب اور کسی کو میں نہیں سمجھتا۔
حدیث 3763 — صحيح البخاري 62:108
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ حَدَّثَنِي الأَسْوَدُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا مُوسَى الأَشْعَرِيَّ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ قَدِمْتُ أَنَا وَأَخِي مِنَ الْيَمَنِ، فَمَكُثْنَا حِينًا مَا نُرَى إِلاَّ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم، لِمَا نَرَى مِنْ دُخُولِهِ وَدُخُولِ أُمِّهِ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
مجھ سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن یوسف بن ابی اسحٰق نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے ابواسحٰق نے، کہا کہ مجھ سے اسود بن یزید نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے سنا: انہوں نے بیان کیا کہ میں اور میرے بھائی یمن سے ( مدینہ طیبہ ) حاضر ہوئے اور ایک زمانے تک یہاں قیام کیا، ہم اس پورے عرصہ میں یہی سمجھتے رہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے ہی کے ایک فرد ہیں، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور ان کی والدہ کا ( بکثرت ) آنا جانا ہم خود دیکھا کرتے تھے۔
کہا ہم سے حسن بن بشیر نے بیان کیا، ان سے عثمان بن اسود نے اور ان سے ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے عشاء کے بعد وتر کی نماز صرف ایک رکعت پڑھی وہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے مولیٰ ( کریب ) بھی موجود تھے، جب وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ( امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی ایک رکعت وتر کا ذکر کیا ) اس پر انہوں نے کہا: کوئی حرج نہیں ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اٹھائی ہے۔
ہم سے ابن ابی مریم نے بیان کیا، کہا ہم سے نافع بن عمر نے بیان کیا، کہا مجھ سے ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا گیا کہ امیرالمؤمنین معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق آپ کیا فرماتے ہیں، انہوں نے وتر کی نماز صرف ایک رکعت پڑھی ہے؟ انہوں نے کہا کہ وہ خود فقیہ ہیں۔
حدیث 3766 — صحيح البخاري 62:111
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَبَّاسٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، قَالَ سَمِعْتُ حُمْرَانَ بْنَ أَبَانَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ إِنَّكُمْ لَتُصَلُّونَ صَلاَةً لَقَدْ صَحِبْنَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَمَا رَأَيْنَاهُ يُصَلِّيهَا، وَلَقَدْ نَهَى عَنْهُمَا، يَعْنِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ.
مجھ سے عمرو بن عباس نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابوالتیاح نے بیان کیا، انہوں نے حمران بن ابان سے سنا کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا تم لوگ ایک خاص نماز پڑھتے ہو، ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہے اور ہم نے کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت نماز پڑھتے نہیں دیکھا، بلکہ آپ نے تو اس سے منع فرمایا تھا۔ معاویہ رضی اللہ عنہ کی مراد عصر کے بعد دو رکعت نماز سے تھی ( جسے اس زمانے میں بعض لوگ پڑھتے تھے ) ۔
حدیث 3767 — صحيح البخاري 62:112
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " فَاطِمَةُ بَضْعَةٌ مِنِّي، فَمَنْ أَغْضَبَهَا أَغْضَبَنِي ".
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے، ان سے ابن ابی ملیکہ نے اور ان سے مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فاطمہ میرے جسم کا ایک ٹکڑا ہے جس نے اسے ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا۔
حدیث 3768 — صحيح البخاري 62:113
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ إِنَّ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا " يَا عَائِشَ، هَذَا جِبْرِيلُ يُقْرِئُكِ السَّلاَمَ ". فَقُلْتُ وَعَلَيْهِ السَّلاَمُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، تَرَى مَا لاَ أَرَى. تُرِيدُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے ابوسلمہ نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن فرمایا ”اے عائش یہ جبرائیل علیہ السلام تشریف فرما ہیں اور تمہیں سلام کہتے ہیں“ میں نے اس پر جواب دیا وعلیہ السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، آپ وہ چیز ملاحظہ فرماتے ہیں جو مجھ کو نظر نہیں آتی ( آپ کی مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تھی ) ۔