قرآني·Qurani
اردو

أصحاب النبي

127 احادیث · #3649–3775

حدیث 3719 — صحيح البخاري 62:67
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ـ هُوَ ابْنُ أَبِي سَلَمَةَ ـ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيًّا، وَإِنَّ حَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ ‏"‏‏.‏
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالعزیز نے بیان کیا جو ابوسلمہ کے صاحبزادے تھے، ان سے محمد نے بیان کیا، ان سے محمد بن منکدر نے بیان کیا، اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر نبی کے حواری ہوتے ہیں اور میرے حواری زبیر بن عوام ( رضی اللہ عنہ ) ہیں۔
حدیث 3720 — صحيح البخاري 62:68
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا ‏{‏عَبْدُ اللَّهِ‏}‏ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ كُنْتُ يَوْمَ الأَحْزَابِ جُعِلْتُ أَنَا وَعُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، فِي النِّسَاءِ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا أَنَا بِالزُّبَيْرِ، عَلَى فَرَسِهِ، يَخْتَلِفُ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا، فَلَمَّا رَجَعْتُ قُلْتُ يَا أَبَتِ، رَأَيْتُكَ تَخْتَلِفُ‏.‏ قَالَ أَوَهَلْ رَأَيْتَنِي يَا بُنَىَّ قُلْتُ نَعَمْ‏.‏ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَنْ يَأْتِ بَنِي قُرَيْظَةَ فَيَأْتِينِي بِخَبَرِهِمْ ‏"‏‏.‏ فَانْطَلَقْتُ، فَلَمَّا رَجَعْتُ جَمَعَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَبَوَيْهِ فَقَالَ ‏"‏ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي ‏"‏‏.‏
ہم سے احمد بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام بن عروہ نے خبر دی، انہیں ان کے والد نے اور ان سے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جنگ احزاب کے موقع پر مجھے اور عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہما کو عورتوں میں چھوڑ دیا گیا تھا ( کیونکہ یہ دونوں حضرات بچے تھے ) میں نے اچانک دیکھا کہ زبیر رضی اللہ عنہ ( آپ کے والد ) اپنے گھوڑے پر سوار بنی قریظہ ( یہودیوں کے ایک قبیلہ کی ) طرف آ جا رہے ہیں۔ دو یا تین مرتبہ ایسا ہوا، پھر جب میں وہاں سے واپس آیا تو میں نے عرض کیا، ابا جان! میں نے آپ کو کئی مرتبہ آتے جاتے دیکھا۔ انہوں نے کہا: بیٹے! کیا واقعی تم نے بھی دیکھا ہے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ کون ہے جو بنو قریظہ کی طرف جا کر ان کی ( نقل و حرکت کے متعلق ) اطلاع میرے پاس لا سکے۔ اس پر میں وہاں گیا اور جب میں ( خبر لے کر ) واپس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( فرط مسرت میں ) اپنے والدین کا ایک ساتھ ذکر کر کے فرمایا کہ ”میرے ماں باپ تم پر فدا ہوں۔“
حدیث 3721 — صحيح البخاري 62:69
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ، صلى الله عليه وسلم قَالُوا لِلزُّبَيْرِ يَوْمَ الْيَرْمُوكِ أَلاَ تَشُدُّ فَنَشُدَّ مَعَكَ فَحَمَلَ عَلَيْهِمْ، فَضَرَبُوهُ ضَرْبَتَيْنِ عَلَى عَاتِقِهِ، بَيْنَهُمَا ضَرْبَةٌ ضُرِبَهَا يَوْمَ بَدْرٍ‏.‏ قَالَ عُرْوَةُ فَكُنْتُ أُدْخِلُ أَصَابِعِي فِي تِلْكَ الضَّرَبَاتِ أَلْعَبُ وَأَنَا صَغِيرٌ‏.‏
ہم سے علی بن حفص نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن مبارک نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام بن عروہ نے خبر دی اور انہیں ان کے والد نے کہ جنگ یرموک کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے کہا آپ حملہ کیوں نہیں کرتے تاکہ ہم بھی آپ کے ساتھ حملہ کریں۔ چنانچہ انہوں نے ان ( رومیوں ) پر حملہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے ( رومیوں نے ) آپ کے دو کاری زخم شانے پر لگائے۔ درمیان میں وہ زخم تھا جو بدر کے موقع پر آپ کو لگا تھا۔ عروہ نے کہا کہ ( یہ زخم اتنے گہرے تھے کہ اچھے ہو جانے کے بعد ) میں بچپن میں ان زخموں کے اندر اپنی انگلیاں ڈال کر کھیلا کرتا تھا۔
حدیث 3722 — صحيح البخاري 62:70
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، قَالَ لَمْ يَبْقَ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي بَعْضِ تِلْكَ الأَيَّامِ الَّتِي قَاتَلَ فِيهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَيْرُ طَلْحَةَ وَسَعْدٍ‏.‏ عَنْ حَدِيثِهِمَا‏.‏
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، قَالَ لَمْ يَبْقَ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي بَعْضِ تِلْكَ الأَيَّامِ الَّتِي قَاتَلَ فِيهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَيْرُ طَلْحَةَ وَسَعْدٍ‏.‏ عَنْ حَدِيثِهِمَا‏.‏
حدیث 3723 — صحيح البخاري #3723
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، قَالَ لَمْ يَبْقَ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي بَعْضِ تِلْكَ الأَيَّامِ الَّتِي قَاتَلَ فِيهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَيْرُ طَلْحَةَ وَسَعْدٍ‏.‏ عَنْ حَدِيثِهِمَا‏.‏
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، قَالَ لَمْ يَبْقَ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي بَعْضِ تِلْكَ الأَيَّامِ الَّتِي قَاتَلَ فِيهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَيْرُ طَلْحَةَ وَسَعْدٍ‏.‏ عَنْ حَدِيثِهِمَا‏.‏
حدیث 3724 — صحيح البخاري 62:71
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ،، قَالَ رَأَيْتُ يَدَ طَلْحَةَ الَّتِي وَقَى بِهَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَدْ شَلَّتْ‏.‏
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد نے بیان کیا، ان سے خالد بن ابی خالد نے، ان سے قیس بن ابی حازم نے کہ میں نے طلحہ رضی اللہ عنہ کا وہ ہاتھ دیکھا ہے جس سے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ( جنگ احد میں ) حفاظت کی تھی وہ بالکل بیکار ہو چکا تھا۔
حدیث 3725 — صحيح البخاري 62:72
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى، قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، قَالَ سَمِعْتُ سَعْدًا، يَقُولُ جَمَعَ لِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَبَوَيْهِ يَوْمَ أُحُدٍ‏.‏
مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا، کہا کہ میں نے یحییٰ سے سنا، کہا کہ میں نے سعید بن مسیب سے سنا، کہا کہ میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے سنا وہ بیان کرتے تھے کہ جنگ احد کے موقع پر میرے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے والدین کو ایک ساتھ جمع کر کے یوں فرمایا کہ میرے ماں باپ تم پر فدا ہوں۔
حدیث 3726 — صحيح البخاري 62:73
حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ هَاشِمٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَأَنَا ثُلُثُ الإِسْلاَمِ،‏.‏
ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہاشم بن ہاشم نے بیان کیا، ان سے عامر بن سعد نے اور ان سے ان کے والد (سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) نے بیان کیا کہ مجھے خوب یاد ہے۔ میں نے ایک زمانے میں مسلمانوں کا تیسرا حصہ اپنے آپ کو دیکھا۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اسلام کے تیسرے حصے سے یہ مراد ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف تین مسلمان تھے جن میں تیسرا مسلمان میں تھا۔
حدیث 3727 — صحيح البخاري 62:74
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، يَقُولُ سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ، يَقُولُ مَا أَسْلَمَ أَحَدٌ إِلاَّ فِي الْيَوْمِ الَّذِي أَسْلَمْتُ فِيهِ، وَلَقَدْ مَكَثْتُ سَبْعَةَ أَيَّامٍ وَإِنِّي لَثُلُثُ الإِسْلاَمِ‏.‏ تَابَعَهُ أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا هَاشِمٌ‏.‏
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ابن ابی زائدہ نے خبر دی، کہا ہم سے ہاشم بن ہاشم بن عتبہ بن ابی وقاص نے بیان کیا، کہا کہ میں نے سعید بن مسیب سے سنا، کہا کہ میں نے سعد بن ابی وقاص سے سنا، انہوں نے کہا کہ جس دن میں اسلام لایا، اسی دن دوسرے ( سب سے پہلے اسلام میں داخل ہونے والے حضرات صحابہ ) بھی اسلام میں داخل ہوئے ہیں اور میں سات دن تک اسی طور پر رہا کہ میں اسلام کا تیسرا فرد تھا۔ ابن ابی زائدہ کے ساتھ اس حدیث کو ابواسامہ نے بھی روایت کیا۔
حدیث 3728 — صحيح البخاري 62:75
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، قَالَ سَمِعْتُ سَعْدًا ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ إِنِّي لأَوَّلُ الْعَرَبِ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَكُنَّا نَغْزُو مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَمَا لَنَا طَعَامٌ إِلاَّ وَرَقُ الشَّجَرِ، حَتَّى إِنَّ أَحَدَنَا لَيَضَعُ كَمَا يَضَعُ الْبَعِيرُ أَوِ الشَّاةُ، مَا لَهُ خِلْطٌ، ثُمَّ أَصْبَحَتْ بَنُو أَسَدٍ تُعَزِّرُنِي عَلَى الإِسْلاَمِ، لَقَدْ خِبْتُ إِذًا وَضَلَّ عَمَلِي‏.‏ وَكَانُوا وَشَوْا بِهِ إِلَى عُمَرَ، قَالُوا لاَ يُحْسِنُ يُصَلِّي‏.‏
ہم سے ہاشم نے بیان کیا، کہا ہم سے عمرو بن عون نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد بن عبداللہ نے بیان کیا، ان سے اسماعیل نے، ان سے قیس نے بیان کیا کہ میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ عرب میں سب سے پہلے اللہ کے راستے میں، میں نے تیر اندازی کی تھی ( ابتداء اسلام میں ) ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، کے ساتھ اس طرح غزوات میں شرکت کرتے تھے کہ ہمارے پاس درخت کے پتوں کے سوا کھانے کے لیے کچھ بھی نہ ہوتا تھا، اس سے ہمیں اونٹ اور بکریوں کی طرح اجابت ہوتی تھی۔ یعنی ملی ہوئی نہیں ہوتی تھی۔ لیکن اب بنی اسد کا یہ حال ہے کہ اسلامی احکام پر عمل میں میرے اندر عیب نکالتے ہیں ( اگر ) ایسا ہو تو میں بالکل محروم اور بے نصیب ہی رہا اور میرے سب کام برباد ہو گئے۔ ہوا یہ تھا کہ بنی اسد نے عمر رضی اللہ عنہ سے سعد رضی اللہ عنہ کی چغلی کھائی تھی۔ یہ کہا تھا کہ وہ اچھی طرح نماز بھی نہیں پڑھتے۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔