قرآني·Qurani
اردو

الأدب

257 احادیث · #5970–6226

حدیث 6210 — صحيح البخاري 78:234
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، وَأَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ فِي سَفَرٍ، وَكَانَ غُلاَمٌ يَحْدُو بِهِنَّ يُقَالُ لَهُ أَنْجَشَةُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ رُوَيْدَكَ يَا أَنْجَشَةُ، سَوْقَكَ بِالْقَوَارِيرِ ‏"‏‏.‏ قَالَ أَبُو قِلاَبَةَ يَعْنِي النِّسَاءَ‏.‏
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حماد نے بیان کیا، ان سے ثابت بنانی نے بیان کیا، ان سے انس و ایوب نے، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے، انجشہ نامی غلام عورتوں کی سواریوں کو حدی پڑھتا لے کر چل رہا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا ”انجشہ! شیشوں کو آہستہ لے چل۔“ ابوقلابہ نے بیان کیا کہ مراد عورتیں تھیں۔
حدیث 6211 — صحيح البخاري 78:235
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا حَبَّانُ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حَادٍ يُقَالُ لَهُ أَنْجَشَةُ، وَكَانَ حَسَنَ الصَّوْتِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ رُوَيْدَكَ يَا أَنْجَشَةُ، لاَ تَكْسِرِ الْقَوَارِيرَ ‏"‏‏.‏ قَالَ قَتَادَةُ يَعْنِي ضَعَفَةَ النِّسَاءِ‏.‏
ہم سے اسحاق نے بیان کیا، کہا ہم کو حبان نے خبر دی، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک حدی خواں تھے انجشہ نامی ان کی آواز بڑی اچھی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا ”انجشہ! آہستہ چال اختیار کر، ان شیشوں کو مت توڑ۔“ قتادہ نے بیان کیا کہ مراد کمزور عورتیں تھیں ( کہ سواری سے گر نہ جائیں ) ۔
حدیث 6212 — صحيح البخاري 78:236
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ بِالْمَدِينَةِ فَزَعٌ فَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرَسًا لأَبِي طَلْحَةَ فَقَالَ ‏ "‏ مَا رَأَيْنَا مِنْ شَىْءٍ، وَإِنْ وَجَدْنَاهُ لَبَحْرًا ‏"‏‏.‏
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ مدینہ منورہ پر ( ایک رات نامعلوم آواز کی وجہ سے ) ڈر طاری ہو گیا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوطلحہ کے ایک گھوڑے پر سوار ہوئے۔ پھر ( واپس آ کر ) فرمایا ”ہمیں تو کوئی ( خوف کی ) چیز نظر نہ آئی، البتہ یہ گھوڑا تو گویا دریا تھا۔“
حدیث 6213 — صحيح البخاري 78:237
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، أَخْبَرَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ عُرْوَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ، يَقُولُ قَالَتْ عَائِشَةُ سَأَلَ أُنَاسٌ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْكُهَّانِ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَيْسُوا بِشَىْءٍ ‏"‏‏.‏ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِنَّهُمْ يُحَدِّثُونَ أَحْيَانًا بِالشَّىْءِ يَكُونُ حَقًّا‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ تِلْكَ الْكَلِمَةُ مِنَ الْحَقِّ يَخْطَفُهَا الْجِنِّيُّ، فَيَقُرُّهَا فِي أُذُنِ وَلِيِّهِ قَرَّ الدَّجَاجَةِ، فَيَخْلِطُونَ فِيهَا أَكْثَرَ مِنْ مِائَةِ كَذْبَةٍ ‏"‏‏.‏
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو مخلد بن یزید نے خبر دی، کہا ہم کو ابن جریج نے خبر دی کہ ابن شہاب نے بیان کیا کہ مجھ کو یحییٰ بن عروہ نے خبر دی، انہوں نے عروہ سے سنا، کہا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کاہنوں کے بارے میں پوچھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ ان کی ( پیشین گوئیوں کی ) کوئی حیثیت نہیں۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! لیکن وہ بعض اوقات ایسی باتیں کرتے ہیں جو صحیح ثابت ہوتی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ بات، سچی بات ہوتی ہے جسے جِن فرشتوں سے سن کر اڑا لیتا ہے اور پھر اسے اپنے ولی ( کاہن ) کے کان میں مرغ کی آواز کی طرح ڈالتا ہے۔ اس کے بعد کاہن اس ( ایک سچی بات میں ) سو سے زیادہ جھوٹ ملا دیتے ہیں۔
حدیث 6214 — صحيح البخاري 78:238
حَدَّثَنَا ابْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، يَقُولُ أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ ثُمَّ فَتَرَ عَنِّي الْوَحْىُ، فَبَيْنَا أَنَا أَمْشِي سَمِعْتُ صَوْتًا مِنَ السَّمَاءِ، فَرَفَعْتُ بَصَرِي إِلَى السَّمَاءِ فَإِذَا الْمَلَكُ الَّذِي جَاءَنِي بِحِرَاءٍ قَاعِدٌ عَلَى كُرْسِيٍّ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ ‏"‏‏.‏
ہم سے ابن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے کہ میں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ مجھے جابر بن عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر میرے پاس وحی آنے کا سلسلہ بند ہو گیا۔ ایک دن میں چل رہا تھا کہ میں نے آسمان کی طرف سے ایک آواز سنی، میں نے آسمان کی طرف نظر اٹھائی تو میں نے پھر اس فرشتہ کو دیکھا جو میرے پاس غار حرا میں آیا تھا، وہ آسمان و زمین کے درمیان کرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔
حدیث 6215 — صحيح البخاري 78:239
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي شَرِيكٌ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ بِتُّ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عِنْدَهَا، فَلَمَّا كَانَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الآخِرُ أَوْ بَعْضُهُ قَعَدَ فَنَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ فَقَرَأَ ‏{‏إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَاخْتِلاَفِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لآيَاتٍ لأُولِي الأَلْبَابِ‏}‏‏.‏
ہم سے ابن ابی مریم نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، کہا کہ مجھے شریک نے خبر دی، انہیں کریب نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے ایک رات میمونہ رضی اللہ عنہا ( خالہ ) کے گھر گزاری، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس رات وہیں ٹھہرے ہوئے تھے۔ جب رات کا آخری تہائی حصہ ہوا یا اس کا بعض حصہ رہ گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ بیٹھے اور آسمان کی طرف دیکھا پھر اس آیت کی تلاوت کی «إن في خلق السموات والأرض واختلاف الليل والنهار لآيات لأولي الألباب‏» ”بلاشبہ آسمان کی اور زمین کی پیدائش میں اور دن رات کے بدلتے رہنے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔“
حدیث 6216 — صحيح البخاري 78:240
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، أَنَّهُ كَانَ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي حَائِطٍ مِنْ حِيطَانِ الْمَدِينَةِ، وَفِي يَدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عُودٌ يَضْرِبُ بِهِ بَيْنَ الْمَاءِ وَالطِّينِ، فَجَاءَ رَجُلٌ يَسْتَفْتِحُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ افْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ ‏"‏‏.‏ فَذَهَبْتُ فَإِذَا أَبُو بَكْرٍ، فَفَتَحْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ، ثُمَّ اسْتَفْتَحَ رَجُلٌ آخَرُ فَقَالَ ‏"‏ افْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ ‏"‏‏.‏ فَإِذَا عُمَرُ، فَفَتَحْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ، ثُمَّ اسْتَفْتَحَ رَجُلٌ آخَرُ، وَكَانَ مُتَّكِئًا فَجَلَسَ فَقَالَ ‏"‏ افْتَحْ ‏{‏لَهُ‏}‏ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ، عَلَى بَلْوَى تُصِيبُهُ أَوْ تَكُونُ ‏"‏‏.‏ فَذَهَبْتُ فَإِذَا عُثْمَانُ، فَفَتَحْتُ لَهُ، وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ، فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي قَالَ‏.‏ قَالَ اللَّهُ الْمُسْتَعَانُ‏.‏
ہم سے مسدد نے کہا، کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا، ان سے عثمان بن غیاث نے، کہا ہم سے ابوعثمان نہدی نے بیان کیا اور ان سے ابوموسیٰ اشعری نے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کے باغوں میں سے ایک باغ میں تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی، آپ اس کو پانی اور کیچڑ میں مار رہے تھے۔ اس دوران میں ایک صاحب نے باغ کا دروازہ کھلوانا چاہا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ اس کے لیے دروازہ کھول دے اور انہیں جنت کی خوشخبری سنا دے۔ میں گیا تو وہاں ابوبکر رضی اللہ عنہ موجود تھے، میں نے ان کے لیے دروازہ کھولا اور انہیں جنت کی خوشخبری سنائی پھر ایک اور صاحب نے دروازہ کھلوایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دروازہ کھول دے اور انہیں جنت کی خوشخبری سنا دے اس مرتبہ عمر رضی اللہ عنہ تھے۔ میں نے ان کے لیے بھی دروازہ کھولا اور انہیں بھی جنت کی خوشخبری سنا دی۔ پھر ایک تیسرے صاحب نے دروازہ کھلوایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ٹیک لگائے ہوئے تھے اب سیدھے بیٹھ گئے۔ پھر فرمایا دروازہ کھول دے اور جنت کی خوشخبری سنا دے، ان آزمائشوں کے ساتھ جس سے ( دنیا میں ) انہیں دوچار ہونا پڑے گا۔ میں گیا تو وہاں عثمان رضی اللہ عنہ تھے۔ ان کے لیے بھی میں نے دروازہ کھولا اور انہیں جنت کی خوشخبری سنائی اور وہ بات بھی بتا دی جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھی۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا خیر اللہ مددگار ہے۔
حدیث 6217 — صحيح البخاري 78:241
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، وَمَنْصُورٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي جَنَازَةٍ فَجَعَلَ يَنْكُتُ الأَرْضَ بِعُودٍ، فَقَالَ ‏"‏ لَيْسَ مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلاَّ وَقَدْ فُرِغَ مِنْ مَقْعَدِهِ مِنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ ‏"‏‏.‏ فَقَالُوا أَفَلاَ نَتَّكِلُ قَالَ ‏"‏ اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ ‏"‏‏.‏ ‏{‏فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى‏}‏ الآيَةَ‏.‏
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا کہا ہم سے ابن ابی عدی نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے سلیمان و منصور نے، ان سے سعد بن عبیدہ نے ان سے ابوعبدالرحمٰن سلمی نے اور ان سے علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازہ میں شریک تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی اس کو آپ زمین پر مار رہے تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں کوئی ایسا نہیں ہے جس کا جنت یا دوزخ کا ٹھکانا طے نہ ہو چکا ہو۔ صحابہ نے عرض کیا: پھر کیوں نہ ہم اس پر بھروسہ کر لیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عمل کرتے رہو کیونکہ ہر شخص جس ٹھکانے کے لیے پیدا کیا گیا ہے اس کو ویسی ہی توفیق دی جائے گی۔ جیسا کہ قرآن شریف کے سورۃ واللیل میں ہے «فأما من أعطى واتقى‏» ”جس نے للہ خیرات کی اور اللہ تعالیٰ سے ڈرا“ آخر تک۔
حدیث 6218 — صحيح البخاري 78:242
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَتْنِي هِنْدُ بِنْتُ الْحَارِثِ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتِ اسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ سُبْحَانَ اللَّهِ مَاذَا أُنْزِلَ مِنَ الْخَزَائِنِ، وَمَاذَا أُنْزِلَ مِنَ الْفِتَنِ، مَنْ يُوقِظُ صَوَاحِبَ الْحُجَرِ ـ يُرِيدُ بِهِ أَزْوَاجَهُ ـ حَتَّى يُصَلِّينَ، رُبَّ كَاسِيَةٍ فِي الدُّنْيَا، عَارِيَةٍ فِي الآخِرَةِ ‏"‏‏.‏ وَقَالَ ابْنُ أَبِي ثَوْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ، قَالَ قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم طَلَّقْتَ نِسَاءَكَ قَالَ ‏"‏ لاَ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ اللَّهُ أَكْبَرُ‏.‏
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، ان سے ہند بن حارث نے بیان کیا کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( رات میں ) بیدار ہوئے اور فرمایا ”سبحان اللہ! اللہ کی رحمت کے کتنے خزانے آج نازل کئے گئے ہیں اور کس طرح کے فتنے بھی اتارے گئے ہیں۔ کون ہے! جو ان حجرہ والیوں کو جگائے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد ازواج مطہرات سے تھی تاکہ وہ نماز پڑھ لیں کیونکہ بہت سی دنیا میں کپڑے پہننے والیاں آخرت میں ننگی ہوں گی۔ اور ابن ابی ثور نے بیان کیا، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اور ان سے عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، کیا آپ نے ازواج مطہرات کو طلاق دے دی ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں۔ میں نے کہا اللہ اکبر!۔
حدیث 6219 — صحيح البخاري 78:243
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ،‏.‏ وَحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي أَخِي، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، أَنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَىٍّ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَزُورُهُ وَهْوَ مُعْتَكِفٌ فِي الْمَسْجِدِ فِي الْعَشْرِ الْغَوَابِرِ مِنْ رَمَضَانَ، فَتَحَدَّثَتْ عِنْدَهُ سَاعَةً مِنَ الْعِشَاءِ ثُمَّ قَامَتْ تَنْقَلِبُ، فَقَامَ مَعَهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقْلِبُهَا حَتَّى إِذَا بَلَغَتْ باب الْمَسْجِدِ الَّذِي عِنْدَ مَسْكَنِ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مَرَّ بِهِمَا رَجُلاَنِ مِنَ الأَنْصَارِ فَسَلَّمَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ نَفَذَا، فَقَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ عَلَى رِسْلِكُمَا، إِنَّمَا هِيَ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَىٍّ ‏"‏‏.‏ قَالاَ سُبْحَانَ اللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ وَكَبُرَ عَلَيْهِمَا‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنِ ابْنِ آدَمَ مَبْلَغَ الدَّمِ، وَإِنِّي خَشِيتُ أَنْ يَقْذِفَ فِي قُلُوبِكُمَا ‏"‏‏.‏
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے (دوسری سند) اور ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے میرے بھائی عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے سلیمان نے بیان کیا، ان سے محمد بن ابی عتیق نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے امام زین العابدین علی بن حسین نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ صفیہ بنت حی رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ملنے آئیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مسجد میں رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کئے ہوئے تھے۔ عشاء کے وقت تھوڑی دیر انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں کیں اور واپس لوٹنے کے لیے اٹھیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی انہیں چھوڑ آنے کے لیے کھڑے ہو گئے۔ جب وہ مسجد کے اس دروازہ کے پاس پہنچیں جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا حجرہ تھا، تو ادھر سے دو انصاری صحابی گزرے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا اور آگے بڑھ گئے۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تھوڑی دیر کے لیے ٹھہر جاؤ۔ یہ صفیہ بنت حی میری بیوی ہیں۔ ان دونوں صحابہ نے عرض کیا: سبحان اللہ، یا رسول اللہ۔ ان پر بڑا شاق گزرا۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شیطان انسان کے اندر خون کی طرح دوڑتا رہتا ہے، اس لیے مجھے خوف ہوا کہ کہیں وہ تمہارے دل میں کوئی شبہ نہ ڈال دے۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔