ہم سے محمد بن ابی بکر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ عمری نے بیان کیا، ان سے سمی نے بیان کیا، ان سے ابوصالح ذکوان نے بیان کیا ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نادار لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ امیر و رئیس لوگ بلند درجات اور ہمیشہ رہنے والی جنت حاصل کر چکے حالانکہ جس طرح ہم نماز پڑھتے ہیں وہ بھی پڑھتے ہیں اور جیسے ہم روزے رکھتے ہیں وہ بھی رکھتے ہیں لیکن مال و دولت کی وجہ سے انہیں ہم پر فوقیت حاصل ہے کہ اس کی وجہ سے وہ حج کرتے ہیں۔ عمرہ کرتے ہیں۔ جہاد کرتے ہیں اور صدقے دیتے ہیں ( اور ہم محتاجی کی وجہ سے ان کاموں کو نہیں کر پاتے ) اس پر آپ نے فرمایا کہ لو میں تمہیں ایک ایسا عمل بتاتا ہوں کہ اگر تم اس کی پابندی کرو گے تو جو لوگ تم سے آگے بڑھ چکے ہیں انہیں تم پالو گے اور تمہارے مرتبہ تک پھر کوئی نہیں پہنچ سکتا اور تم سب سے اچھے ہو جاؤ گے سوا ان کے جو یہی عمل شروع کر دیں ہر نماز کے بعد تینتیس تینتیس مرتبہ تسبیح «سبحان الله»، تحمید «الحمد لله»، تکبیر «الله أكبر» کہا کرو۔ پھر ہم میں اختلاف ہو گیا کسی نے کہا کہ ہم تسبیح «سبحان الله» تینتیس مرتبہ، تحمید «الحمد لله» تینتیس مرتبہ اور تکبیر «الله أكبر» چونتیس مرتبہ کہیں گے۔ میں نے اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دوبارہ معلوم کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ «سبحان الله»، «الحمد لله» اور «الله أكبر» کہو تاآنکہ ہر ایک ان میں سے تینتیس مرتبہ ہو جائے۔
ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے عبدالملک بن عمیر سے بیان کیا، ان سے مغیرہ بن شعبہ کے کاتب وراد نے، انہوں نے بیان کیا کہ مجھ سے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے معاویہ رضی اللہ عنہ کو ایک خط میں لکھوایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر فرض نماز کے بعد یہ دعا پڑھتے تھے «لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك، وله الحمد، وهو على كل شىء قدير، اللهم لا مانع لما أعطيت، ولا معطي لما منعت، ولا ينفع ذا الجد منك الجد» اللہ کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ بادشاہت اس کی ہے اور تمام تعریف اسی کے لیے ہے۔ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اے اللہ جسے تو دے اس سے روکنے والا کوئی نہیں اور جسے تو نہ دے اسے دینے والا کوئی نہیں اور کسی مالدار کو اس کی دولت و مال تیری بارگاہ میں کوئی نفع نہ پہنچا سکیں گے۔ شعبہ نے بھی عبدالملک سے اسی طرح روایت کی ہے۔ حسن نے فرمایا کہ ( حدیث میں لفظ ) «جد» کے معنی مال داری کے ہیں اور حکم، قاسم بن مخیمرہ سے وہ وراد کے واسطے سے اسی طرح روایت کرتے ہیں۔
حدیث 845 — صحيح البخاري 10:237
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا صَلَّى صَلاَةً أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے جریر بن حازم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابورجاء عمران بن تمیم نے سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے نقل کیا، انہوں نے بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز ( فرض ) پڑھا چکتے تو ہماری طرف منہ کرتے۔
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، انہوں نے امام مالک سے بیان کیا، انہوں نے صالح بن کیسان سے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے بیان کیا، ان سے زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حدیبیہ میں صبح کی نماز پڑھائی اور رات کو بارش ہو چکی تھی نماز سے فارغ ہونے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی طرف منہ کیا اور فرمایا معلوم ہے تمہارے رب نے کیا فرمایا ہے۔ لوگوں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول خوب جانتے ہیں ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ) تمہارے رب کا ارشاد ہے کہ صبح ہوئی تو میرے کچھ بندے مجھ پر ایمان لائے۔ اور کچھ میرے منکر ہوئے جس نے کہا کہ اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے ہمارے لیے بارش ہوئی تو وہ میرا مومن ہے اور ستاروں کا منکر اور جس نے کہا کہ فلاں تارے کے فلانی جگہ پر آنے سے بارش ہوئی وہ میرا منکر ہے اور ستاروں کا مومن۔
ہم سے عبداللہ بن منیر نے بیان کیا، انہوں نے یزید بن ہارون سے سنا، انہیں حمید ذیلی نے خبر دی، اور انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات ( عشاء کی ) نماز میں دیر فرمائی تقریباً آدھی رات تک۔ پھر آخر حجرہ سے باہر تشریف لائے اور نماز کے بعد ہماری طرف منہ کیا اور فرمایا کہ دوسرے لوگ نماز پڑھ کر سو چکے لیکن تم لوگ جب تک نماز کا انتظار کرتے رہے گویا کہ نماز میں رہے ( یعنی تم کو نماز کا ثواب ملتا رہا ) ۔
اور ہم سے آدم بن ابی ایاس نے کہا کہ ان سے شعبہ نے بیان کیا ان سے ایوب سختیانی نے ان سے نافع نے، فرمایا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ( نفل ) اسی جگہ پر پڑھتے تھے اور جس جگہ فرض پڑھتے اور قاسم بن محمد بن ابی بکر نے بھی اسی طرح کیا ہے اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ امام اپنی ( فرض پڑھنے کی ) جگہ پر نفل نہ پڑھے اور یہ صحیح نہیں۔
حدیث 849 — صحيح البخاري #849
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ هِنْدٍ بِنْتِ الْحَارِثِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا سَلَّمَ يَمْكُثُ فِي مَكَانِهِ يَسِيرًا. قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَنُرَى ـ وَاللَّهُ أَعْلَمُ ـ لِكَىْ يَنْفُذَ مَنْ يَنْصَرِفُ مِنَ النِّسَاءِ. وَقَالَ ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ أَخْبَرَنَا نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ أَخْبَرَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، كَتَبَ إِلَيْهِ قَالَ حَدَّثَتْنِي هِنْدُ بِنْتُ الْحَارِثِ الْفِرَاسِيَّةُ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَكَانَتْ مِنْ صَوَاحِبَاتِهَا قَالَتْ كَانَ يُسَلِّمُ فَيَنْصَرِفُ النِّسَاءُ، فَيَدْخُلْنَ بُيُوتَهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَنْصَرِفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم. وَقَالَ ابْنُ وَهْبٍ عَنْ يُونُسَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَتْنِي هِنْدُ الْفِرَاسِيَّةُ. وَقَالَ عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَتْنِي هِنْدُ الْفِرَاسِيَّةُ. وَقَالَ الزُّبَيْدِيُّ أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ أَنَّ هِنْدَ بِنْتَ الْحَارِثِ الْقُرَشِيَّةَ أَخْبَرَتْهُ، وَكَانَتْ تَحْتَ مَعْبَدِ بْنِ الْمِقْدَادِ ـ وَهْوَ حَلِيفُ بَنِي زُهْرَةَ ـ وَكَانَتْ تَدْخُلُ عَلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم. وَقَالَ شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَتْنِي هِنْدُ الْقُرَشِيَّةُ. وَقَالَ ابْنُ أَبِي عَتِيقٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ هِنْدٍ الْفِرَاسِيَّةِ. وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَهُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنِ امْرَأَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ حَدَّثَتْهُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ هِنْدٍ بِنْتِ الْحَارِثِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا سَلَّمَ يَمْكُثُ فِي مَكَانِهِ يَسِيرًا. قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَنُرَى ـ وَاللَّهُ أَعْلَمُ ـ لِكَىْ يَنْفُذَ مَنْ يَنْصَرِفُ مِنَ النِّسَاءِ. وَقَالَ ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ أَخْبَرَنَا نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ أَخْبَرَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، كَتَبَ إِلَيْهِ قَالَ حَدَّثَتْنِي هِنْدُ بِنْتُ الْحَارِثِ الْفِرَاسِيَّةُ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَكَانَتْ مِنْ صَوَاحِبَاتِهَا قَالَتْ كَانَ يُسَلِّمُ فَيَنْصَرِفُ النِّسَاءُ، فَيَدْخُلْنَ بُيُوتَهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَنْصَرِفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم. وَقَالَ ابْنُ وَهْبٍ عَنْ يُونُسَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَتْنِي هِنْدُ الْفِرَاسِيَّةُ. وَقَالَ عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَتْنِي هِنْدُ الْفِرَاسِيَّةُ. وَقَالَ الزُّبَيْدِيُّ أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ أَنَّ هِنْدَ بِنْتَ الْحَارِثِ الْقُرَشِيَّةَ أَخْبَرَتْهُ، وَكَانَتْ تَحْتَ مَعْبَدِ بْنِ الْمِقْدَادِ ـ وَهْوَ حَلِيفُ بَنِي زُهْرَةَ ـ وَكَانَتْ تَدْخُلُ عَلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم. وَقَالَ شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَتْنِي هِنْدُ الْقُرَشِيَّةُ. وَقَالَ ابْنُ أَبِي عَتِيقٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ هِنْدٍ الْفِرَاسِيَّةِ. وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَهُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنِ امْرَأَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ حَدَّثَتْهُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
حدیث 850 — صحيح البخاري 10:241
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ هِنْدٍ بِنْتِ الْحَارِثِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا سَلَّمَ يَمْكُثُ فِي مَكَانِهِ يَسِيرًا. قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَنُرَى ـ وَاللَّهُ أَعْلَمُ ـ لِكَىْ يَنْفُذَ مَنْ يَنْصَرِفُ مِنَ النِّسَاءِ. وَقَالَ ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ أَخْبَرَنَا نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ أَخْبَرَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، كَتَبَ إِلَيْهِ قَالَ حَدَّثَتْنِي هِنْدُ بِنْتُ الْحَارِثِ الْفِرَاسِيَّةُ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَكَانَتْ مِنْ صَوَاحِبَاتِهَا قَالَتْ كَانَ يُسَلِّمُ فَيَنْصَرِفُ النِّسَاءُ، فَيَدْخُلْنَ بُيُوتَهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَنْصَرِفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم. وَقَالَ ابْنُ وَهْبٍ عَنْ يُونُسَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَتْنِي هِنْدُ الْفِرَاسِيَّةُ. وَقَالَ عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَتْنِي هِنْدُ الْفِرَاسِيَّةُ. وَقَالَ الزُّبَيْدِيُّ أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ أَنَّ هِنْدَ بِنْتَ الْحَارِثِ الْقُرَشِيَّةَ أَخْبَرَتْهُ، وَكَانَتْ تَحْتَ مَعْبَدِ بْنِ الْمِقْدَادِ ـ وَهْوَ حَلِيفُ بَنِي زُهْرَةَ ـ وَكَانَتْ تَدْخُلُ عَلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم. وَقَالَ شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَتْنِي هِنْدُ الْقُرَشِيَّةُ. وَقَالَ ابْنُ أَبِي عَتِيقٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ هِنْدٍ الْفِرَاسِيَّةِ. وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَهُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنِ امْرَأَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ حَدَّثَتْهُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ هِنْدٍ بِنْتِ الْحَارِثِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا سَلَّمَ يَمْكُثُ فِي مَكَانِهِ يَسِيرًا. قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَنُرَى ـ وَاللَّهُ أَعْلَمُ ـ لِكَىْ يَنْفُذَ مَنْ يَنْصَرِفُ مِنَ النِّسَاءِ. وَقَالَ ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ أَخْبَرَنَا نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ أَخْبَرَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، كَتَبَ إِلَيْهِ قَالَ حَدَّثَتْنِي هِنْدُ بِنْتُ الْحَارِثِ الْفِرَاسِيَّةُ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَكَانَتْ مِنْ صَوَاحِبَاتِهَا قَالَتْ كَانَ يُسَلِّمُ فَيَنْصَرِفُ النِّسَاءُ، فَيَدْخُلْنَ بُيُوتَهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَنْصَرِفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم. وَقَالَ ابْنُ وَهْبٍ عَنْ يُونُسَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَتْنِي هِنْدُ الْفِرَاسِيَّةُ. وَقَالَ عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَتْنِي هِنْدُ الْفِرَاسِيَّةُ. وَقَالَ الزُّبَيْدِيُّ أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ أَنَّ هِنْدَ بِنْتَ الْحَارِثِ الْقُرَشِيَّةَ أَخْبَرَتْهُ، وَكَانَتْ تَحْتَ مَعْبَدِ بْنِ الْمِقْدَادِ ـ وَهْوَ حَلِيفُ بَنِي زُهْرَةَ ـ وَكَانَتْ تَدْخُلُ عَلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم. وَقَالَ شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَتْنِي هِنْدُ الْقُرَشِيَّةُ. وَقَالَ ابْنُ أَبِي عَتِيقٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ هِنْدٍ الْفِرَاسِيَّةِ. وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَهُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنِ امْرَأَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ حَدَّثَتْهُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
ہم سے محمد بن عبید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عیسیٰ بن یونس نے عمر بن سعید سے یہ حدیث بیان کی، انہوں نے کہا کہ مجھے ابن ابی ملیکہ نے خبر دی ان سے عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے مدینہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں ایک مرتبہ عصر کی نماز پڑھی۔ سلام پھیرنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم جلدی سے اٹھ کھڑے ہوئے اور صفوں کو چیرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی بیوی کے حجرہ میں گئے۔ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس تیزی کی وجہ سے گھبرا گئے۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور جلدی کی وجہ سے لوگوں کے تعجب کو محسوس فرمایا تو فرمایا کہ ہمارے پاس ایک سونے کا ڈلا ( تقسیم کرنے سے ) بچ گیا تھا مجھے اس میں دل لگا رہنا برا معلوم ہوا، میں نے اس کے بانٹ دینے کا حکم دے دیا۔
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے سلیمان سے بیان کیا، ان سے عمارہ بن عمیر نے، ان سے اسود بن یزید نے بیان کیا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کوئی شخص اپنی نماز میں سے کچھ بھی شیطان کا حصہ نہ لگائے اس طرح کہ داہنی طرف ہی لوٹنا اپنے لیے ضروری قرار دے لے۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اکثر بائیں طرف سے لوٹتے دیکھا۔