حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ اخْتِنَاثِ الأَسْقِيَةِ. يَعْنِي أَنْ تُكْسَرَ أَفْوَاهُهَا فَيُشْرَبَ مِنْهَا.
ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکوں میں «اختناث» سے منع فرمایا مشک کا منہ کھول کر اس میں منہ لگا کر پانی پینے سے روکا۔
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو یونس نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا کہ مجھ سے عبیداللہ بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا، کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ نے مشکوں میں «اختناث» سے منع فرمایا ہے۔ عبداللہ نے بیان کیا کہ معمر نے بیان کیا یا ان کے غیر نے کہ «اختناث» مشک سے منہ لگا کر پانی پینے کو کہتے ہیں۔
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا ہم سے ایوب نے بیان کیا کہ ہم سے عکرمہ نے کہا، تمہیں میں چند چھوٹی چھوٹی باتیں نہ بتا دوں جنہیں ہم سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشک کے منہ سے منہ لگا کر پانی پینے کی ممانعت کی تھی اور ( اس سے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا تھا کہ ) کوئی شخص اپنے پڑوس کو اپنی دیوار میں کھونٹی وغیرہ گاڑنے سے روکے۔
حدیث 5628 — صحيح البخاري 74:54
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُشْرَبَ مِنْ فِي السِّقَاءِ.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم کو ایوب نے خبر دی، انہیں عکرمہ نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشک کے منہ سے پانی پینے کی ممانعت فرما دی تھی۔
حدیث 5629 — صحيح البخاري 74:55
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنِ الشُّرْبِ مِنْ فِي السِّقَاءِ.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد حذاء نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشک کے منہ سے پانی پینے کو منع فرمایا تھا۔
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبان نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے، ان سے عبداللہ بن ابی قتادہ نے، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص پانی پئے تو ( پینے کے ) برتن میں ( پانی پیتے ہوئے ) سانس نہ لے اور جب تم میں سے کوئی شخص پیشاب کرے تو داہنے ہاتھ کو ذکر پر نہ پھیرے اور جب استنجاء کرے تو داہنے ہاتھ سے نہ کرے۔
حدیث 5631 — صحيح البخاري 74:57
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، وَأَبُو نُعَيْمٍ قَالاَ حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي ثُمَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كَانَ أَنَسٌ يَتَنَفَّسُ فِي الإِنَاءِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا، وَزَعَمَ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَتَنَفَّسُ ثَلاَثًا.
ہم سے ابوعاصم اور ابونعیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عروہ بن ثابت نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے شمامہ بن عبداللہ نے خبر دی، بیان کیا کہ انس رضی اللہ عنہ دو یا تین سانسوں میں پانی پیتے تھے۔
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حکیم بن ابی لیلیٰ نے، انہوں نے بیان کیا کہ حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ مدائن میں تھے۔ انہوں نے پانی مانگا تو ایک دیہاتی نے ان کو چاندی کے برتن میں پانی لا کر دیا، انہوں نے برتن کو اس پر پھینک مارا پھر کہا میں نے برتن صرف اس وجہ سے پھینکا ہے کہ اس شخص کو میں اس سے منع کر چکا تھا لیکن یہ باز نہ آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ریشم و دیبا کے پہننے سے اور سونے اور چاندی کے برتن میں کھانے پینے سے منع کیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا کہ یہ چیزیں ان کفار کے لیے دنیا میں ہیں اور تمہیں آخرت میں ملیں گے۔
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن ابی عدی نے بیان کیا، ان سے ابن عون نے بیان کیا، ان سے مجاہد نے اور ان سے ابن ابی لیلیٰ نے بیان کیا کہ ہم حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکلے پھر انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ سونے اور چاندی کے پیالہ میں نہ پیا کرو اور نہ ریشم و دیبا پہنا کرو کیونکہ یہ چیزیں ان کے لیے دینا میں ہیں اور تمہارے لیے آخرت میں ہیں۔
حدیث 5634 — صحيح البخاري 74:60
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الَّذِي يَشْرَبُ فِي إِنَاءِ الْفِضَّةِ إِنَّمَا يُجَرْجِرُ فِي بَطْنِهِ نَارَ جَهَنَّمَ ".
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے امام مالک بن انس نے بیان کیا، ان سے نافع نے، ان سے زید بن عبداللہ بن عمر نے، ان سے عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص چاندی کے برتن میں کوئی چیز پیتا ہے تو وہ شخص اپنے پیٹ میں دوزخ کی آگ بھڑکا رہا ہے۔