قرآني·Qurani
اردو

البيوع

192 احادیث · #2047–2238

حدیث 2227 — صحيح البخاري 34:174
حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ مَرْحُومٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ قَالَ اللَّهُ ثَلاَثَةٌ أَنَا خَصْمُهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، رَجُلٌ أَعْطَى بِي ثُمَّ غَدَرَ، وَرَجُلٌ بَاعَ حُرًّا فَأَكَلَ ثَمَنَهُ، وَرَجُلٌ اسْتَأْجَرَ أَجِيرًا فَاسْتَوْفَى مِنْهُ، وَلَمْ يُعْطِ أَجْرَهُ ‏"‏‏.‏
مجھ سے بشر بن مرحوم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سلیم نے بیان کیا، ان سے اسماعیل بن امیہ نے، ان سے سعید بن ابی سعید نے، اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ تین طرح کے لوگ ایسے ہوں گے جن کا قیامت کے دن میں مدعی بنوں گا، ایک وہ شخص جس نے میرے نام پر عہد کیا اور وہ توڑ دیا، وہ شخص جس نے کسی آزاد انسان کو بیچ کر اس کی قیمت کھائی اور وہ شخص جس نے کوئی مزدور اجرت پر رکھا، اس سے پوری طرح کام لیا، لیکن اس کی مزدوری نہیں دی۔
حدیث 2228 — صحيح البخاري 34:175
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَ فِي السَّبْىِ صَفِيَّةُ، فَصَارَتْ إِلَى دَحْيَةَ الْكَلْبِيِّ، ثُمَّ صَارَتْ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ثابت نے، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ قیدیوں میں صفیہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں۔ پہلے تو وہ دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کو ملیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آئیں۔
حدیث 2229 — صحيح البخاري 34:176
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ مُحَيْرِيزٍ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ـ رضى الله عنه ـ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نُصِيبُ سَبْيًا، فَنُحِبُّ الأَثْمَانَ، فَكَيْفَ تَرَى فِي الْعَزْلِ فَقَالَ ‏ "‏ أَوَإِنَّكُمْ تَفْعَلُونَ ذَلِكَ لاَ عَلَيْكُمْ أَنْ لاَ تَفْعَلُوا ذَلِكُمْ، فَإِنَّهَا لَيْسَتْ نَسَمَةٌ كَتَبَ اللَّهُ أَنْ تَخْرُجَ إِلاَّ هِيَ خَارِجَةٌ ‏"‏‏.‏
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہیر نے بیان کیا کہ مجھے ابن محیریز نے خبر دی اور انہیں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے خبر دی، کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے۔ ( ایک انصاری صحابی نے ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ! لڑائی میں ہم لونڈیوں کے پاس جماع کے لیے جاتے ہیں۔ ہمارا ارادہ انہیں بیچنے کا بھی ہوتا ہے۔ تو آپ عزل کر لینے کے متعلق کیا فرماتے ہیں؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اچھا تم لوگ ایسا کرتے ہو؟ اگر تم ایسا نہ کرو پھر بھی کوئی حرج نہیں۔ اس لیے کہ جس روح کی بھی پیدائش اللہ تعالیٰ نے قسمت میں لکھ دی ہے وہ پیدا ہو کر ہی رہے گی۔
حدیث 2230 — صحيح البخاري 34:177
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ بَاعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْمُدَبَّرَ‏.‏
ہم سے ابن نمیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے وکیع نے بیان کیا، ان سے اسماعیل نے بیان کیا، ان سے سلمہ بن کہیل نے، ان سے عطاء نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدبر غلام بیچا تھا۔
حدیث 2231 — صحيح البخاري 34:178
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ يَقُولُ بَاعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم‏.‏
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، ان سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عمرو نے، انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے سنا تھا کہ مدبر غلام کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیچا تھا۔
حدیث 2232 — صحيح البخاري #2232
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، قَالَ حَدَّثَ ابْنُ شِهَابٍ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ وَأَبَا هُرَيْرَةَ رضى الله عنهما أَخْبَرَاهُ أَنَّهُمَا، سَمِعَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُسْأَلُ عَنِ الأَمَةِ تَزْنِي وَلَمْ تُحْصَنْ قَالَ ‏ "‏ اجْلِدُوهَا، ثُمَّ إِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا، ثُمَّ بِيعُوهَا بَعْدَ الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ ‏"‏‏.‏
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، قَالَ حَدَّثَ ابْنُ شِهَابٍ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ وَأَبَا هُرَيْرَةَ رضى الله عنهما أَخْبَرَاهُ أَنَّهُمَا، سَمِعَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُسْأَلُ عَنِ الأَمَةِ تَزْنِي وَلَمْ تُحْصَنْ قَالَ ‏ "‏ اجْلِدُوهَا، ثُمَّ إِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا، ثُمَّ بِيعُوهَا بَعْدَ الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ ‏"‏‏.‏
حدیث 2233 — صحيح البخاري 34:179
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، قَالَ حَدَّثَ ابْنُ شِهَابٍ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ وَأَبَا هُرَيْرَةَ رضى الله عنهما أَخْبَرَاهُ أَنَّهُمَا، سَمِعَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُسْأَلُ عَنِ الأَمَةِ تَزْنِي وَلَمْ تُحْصَنْ قَالَ ‏ "‏ اجْلِدُوهَا، ثُمَّ إِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا، ثُمَّ بِيعُوهَا بَعْدَ الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ ‏"‏‏.‏
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، قَالَ حَدَّثَ ابْنُ شِهَابٍ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ وَأَبَا هُرَيْرَةَ رضى الله عنهما أَخْبَرَاهُ أَنَّهُمَا، سَمِعَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُسْأَلُ عَنِ الأَمَةِ تَزْنِي وَلَمْ تُحْصَنْ قَالَ ‏ "‏ اجْلِدُوهَا، ثُمَّ إِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا، ثُمَّ بِيعُوهَا بَعْدَ الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ ‏"‏‏.‏
حدیث 2234 — صحيح البخاري 34:180
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ إِذَا زَنَتْ أَمَةُ أَحَدِكُمْ، فَتَبَيَّنَ زِنَاهَا فَلْيَجْلِدْهَا الْحَدَّ، وَلاَ يُثَرِّبْ عَلَيْهَا، ثُمَّ إِنْ زَنَتْ فَلْيَجْلِدْهَا الْحَدَّ وَلاَ يُثَرِّبْ، ثُمَّ إِنْ زَنَتِ الثَّالِثَةَ فَتَبَيَّنَ زِنَاهَا فَلْيَبِعْهَا وَلَوْ بِحَبْلٍ مِنْ شَعَرٍ ‏"‏‏.‏
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے لیث نے خبر دی، انہیں سعید نے، انہیں ان کے والد نے، اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے خود سنا ہے کہ جب کوئی باندی زنا کرائے اور وہ ثابت ہو جائے تو اس پر حد زنا جاری کی جائے، البتہ اسے لعنت ملامت نہ کی جائے۔ پھر اگر وہ زنا کرائے تو اس پر اس مرتبہ بھی حد جاری کی جائے، لیکن کسی قسم کی لعنت ملامت نہ کی جائے۔ تیسری مرتبہ بھی اگر زنا کرے اور زنا ثابت ہو جائے تو اسے بیچ ڈالے خواہ بال کی ایک رسی کے بدلے ہی کیوں نہ ہو۔
حدیث 2235 — صحيح البخاري 34:181
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ دَاوُدَ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَدِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم خَيْبَرَ، فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْحِصْنَ ذُكِرَ لَهُ جَمَالُ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَىِّ بْنِ أَخْطَبَ، وَقَدْ قُتِلَ زَوْجُهَا، وَكَانَتْ عَرُوسًا، فَاصْطَفَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِنَفْسِهِ فَخَرَجَ بِهَا، حَتَّى بَلَغْنَا سَدَّ الرَّوْحَاءِ حَلَّتْ، فَبَنَى بِهَا، ثُمَّ صَنَعَ حَيْسًا فِي نِطَعٍ صَغِيرٍ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ آذِنْ مَنْ حَوْلَكَ ‏"‏‏.‏ فَكَانَتْ تِلْكَ وَلِيمَةَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى صَفِيَّةَ، ثُمَّ خَرَجْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ، قَالَ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُحَوِّي لَهَا وَرَاءَهُ بِعَبَاءَةٍ، ثُمَّ يَجْلِسُ عِنْدَ بَعِيرِهِ فَيَضَعُ رُكْبَتَهُ، فَتَضَعُ صَفِيَّةُ رِجْلَهَا عَلَى رُكْبَتِهِ، حَتَّى تَرْكَبَ‏.‏
ہم سے عبدالغفار بن داؤد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے یعقوب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے عمرو بن ابی عمرو نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خیبر تشریف لائے اور اللہ تعالیٰ نے قلعہ فتح کرا دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے صفیہ بنت حیی بن اخطب رضی اللہ عنہا کے حسن کی تعریف کی گئی۔ ان کا شوہر قتل ہو گیا تھا۔ وہ خود ابھی دلہن تھیں۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے لیے پسند کر لیا۔ پھر روانگی ہوئی۔ جب آپ سد الروحاء پہنچے تو پڑاؤ ہوا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہیں ان کے ساتھ خلوت کی۔ پھر ایک چھوٹے دستر خوان پر حیس تیار کر کے رکھوایا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا کہ اپنے قریب کے لوگوں کو ولیمہ کی خبر کر دو۔ صفیہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ نکاح کا یہی ولیمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا۔ پھر جب ہم مدینہ کی طرف چلے تو میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عباء سے صفیہ رضی اللہ عنہا کے لیے پردہ کرایا۔ اور اپنے اونٹ کو پاس بٹھا کر اپنا ٹخنہ بچھا دیا۔ صفیہ رضی اللہ عنہا اپنا پاؤں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ٹخنے پر رکھ کر سوار ہو گئیں۔
حدیث 2236 — صحيح البخاري 34:182
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ عَامَ الْفَتْحِ، وَهُوَ بِمَكَّةَ ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ حَرَّمَ بَيْعَ الْخَمْرِ وَالْمَيْتَةِ وَالْخِنْزِيرِ وَالأَصْنَامِ ‏"‏‏.‏ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ شُحُومَ الْمَيْتَةِ فَإِنَّهَا يُطْلَى بِهَا السُّفُنُ، وَيُدْهَنُ بِهَا الْجُلُودُ، وَيَسْتَصْبِحُ بِهَا النَّاسُ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ لاَ، هُوَ حَرَامٌ ‏"‏‏.‏ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عِنْدَ ذَلِكَ ‏"‏ قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ، إِنَّ اللَّهَ لَمَّا حَرَّمَ شُحُومَهَا جَمَلُوهُ ثُمَّ بَاعُوهُ فَأَكَلُوا ثَمَنَهُ ‏"‏‏.‏ قَالَ أَبُو عَاصِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، كَتَبَ إِلَىَّ عَطَاءٌ سَمِعْتُ جَابِرًا ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے یزید بن ابی حبیب نے بیان کیا، ان سے عطاء بن ابی رباح نے بیان کیا، اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، فتح مکہ کے سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، آپ کا قیام ابھی مکہ ہی میں تھا کہ اللہ اور اس کے رسول نے شراب، مردار، سور اور بتوں کا بیچنا حرام قرار دے دیا ہے۔ اس پر پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ! مردار کی چربی کے متعلق کیا حکم ہے؟ اسے ہم کشتیوں پر ملتے ہیں۔ کھالوں پر اس سے تیل کا کام لیتے ہیں اور لوگ اس سے اپنے چراغ بھی جلاتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں وہ حرام ہے۔ اسی موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ یہودیوں کو برباد کرے اللہ تعالیٰ نے جب چربی ان پر حرام کی تو ان لوگوں نے پگھلا کر اسے بیچا اور اس کی قیمت کھائی۔ ابوعاصم نے کہا کہ ہم سے عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے یزید نے بیان کیا، انہیں عطاء نے لکھا کہ میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔