حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ مَاتَ إِنْسَانٌ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَعُودُهُ فَمَاتَ بِاللَّيْلِ فَدَفَنُوهُ لَيْلاً، فَلَمَّا أَصْبَحَ أَخْبَرُوهُ فَقَالَ " مَا مَنَعَكُمْ أَنْ تُعْلِمُونِي ". قَالُوا كَانَ اللَّيْلُ فَكَرِهْنَا ـ وَكَانَتْ ظُلْمَةٌ ـ أَنْ نَشُقَّ عَلَيْكَ. فَأَتَى قَبْرَهُ فَصَلَّى عَلَيْهِ.
ہم سے محمد بن سلام بیکندی نے بیان کیا، انہیں ابومعاویہ نے خبر دی، انہیں ابواسحاق شیبانی نے، انہیں شعبی نے، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ایک شخص کی وفات ہو گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی عیادت کو جایا کرتے تھے۔ چونکہ ان کا انتقال رات میں ہوا تھا اس لیے رات ہی میں لوگوں نے انہیں دفن کر دیا اور جب صبح ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( کہ جنازہ تیار ہوتے وقت ) مجھے بتانے میں ( کیا ) رکاوٹ تھی؟ لوگوں نے کہا کہ رات تھی اور اندھیرا بھی تھا۔ اس لیے ہم نے مناسب نہیں سمجھا کہ کہیں آپ کو تکلیف ہو۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی قبر پر تشریف لائے اور نماز پڑھی۔
حدیث 1248 — صحيح البخاري 23:11
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " مَا مِنَ النَّاسِ مِنْ مُسْلِمٍ يُتَوَفَّى لَهُ ثَلاَثٌ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ، إِلاَّ أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ إِيَّاهُمْ ".
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالوارث نے، ان سے عبدالعزیز نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی مسلمان کے اگر تین بچے مر جائیں جو بلوغت کو نہ پہنچے ہوں تو اللہ تعالیٰ اس رحمت کے نتیجے میں جو ان بچوں سے وہ رکھتا ہے مسلمان ( بچے کے باپ اور ماں ) کو بھی جنت میں داخل کرے گا۔
حدیث 1249 — صحيح البخاري #1249
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الأَصْبَهَانِيِّ، عَنْ ذَكْوَانَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، رضى الله عنه أَنَّ النِّسَاءَ، قُلْنَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم اجْعَلْ لَنَا يَوْمًا. فَوَعَظَهُنَّ، وَقَالَ " أَيُّمَا امْرَأَةٍ مَاتَ لَهَا ثَلاَثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ كَانُوا حِجَابًا مِنَ النَّارِ ". قَالَتِ امْرَأَةٌ وَاثْنَانِ. قَالَ " وَاثْنَانِ ". وَقَالَ شَرِيكٌ عَنِ ابْنِ الأَصْبَهَانِيِّ، حَدَّثَنِي أَبُو صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَأَبِي، هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ " لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ ".
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الأَصْبَهَانِيِّ، عَنْ ذَكْوَانَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، رضى الله عنه أَنَّ النِّسَاءَ، قُلْنَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم اجْعَلْ لَنَا يَوْمًا. فَوَعَظَهُنَّ، وَقَالَ " أَيُّمَا امْرَأَةٍ مَاتَ لَهَا ثَلاَثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ كَانُوا حِجَابًا مِنَ النَّارِ ". قَالَتِ امْرَأَةٌ وَاثْنَانِ. قَالَ " وَاثْنَانِ ". وَقَالَ شَرِيكٌ عَنِ ابْنِ الأَصْبَهَانِيِّ، حَدَّثَنِي أَبُو صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَأَبِي، هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ " لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ ".
حدیث 1250 — صحيح البخاري 23:12
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الأَصْبَهَانِيِّ، عَنْ ذَكْوَانَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، رضى الله عنه أَنَّ النِّسَاءَ، قُلْنَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم اجْعَلْ لَنَا يَوْمًا. فَوَعَظَهُنَّ، وَقَالَ " أَيُّمَا امْرَأَةٍ مَاتَ لَهَا ثَلاَثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ كَانُوا حِجَابًا مِنَ النَّارِ ". قَالَتِ امْرَأَةٌ وَاثْنَانِ. قَالَ " وَاثْنَانِ ". وَقَالَ شَرِيكٌ عَنِ ابْنِ الأَصْبَهَانِيِّ، حَدَّثَنِي أَبُو صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَأَبِي، هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ " لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ ".
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الأَصْبَهَانِيِّ، عَنْ ذَكْوَانَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، رضى الله عنه أَنَّ النِّسَاءَ، قُلْنَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم اجْعَلْ لَنَا يَوْمًا. فَوَعَظَهُنَّ، وَقَالَ " أَيُّمَا امْرَأَةٍ مَاتَ لَهَا ثَلاَثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ كَانُوا حِجَابًا مِنَ النَّارِ ". قَالَتِ امْرَأَةٌ وَاثْنَانِ. قَالَ " وَاثْنَانِ ". وَقَالَ شَرِيكٌ عَنِ ابْنِ الأَصْبَهَانِيِّ، حَدَّثَنِي أَبُو صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَأَبِي، هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ " لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ ".
حدیث 1251 — صحيح البخاري 23:13
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَمُوتُ لِمُسْلِمٍ ثَلاَثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ، فَيَلِجَ النَّارَ إِلاَّ تَحِلَّةَ الْقَسَمِ ". قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ {وَإِنْ مِنْكُمْ إِلاَّ وَارِدُهَا}.
ہم سے علی نے بیان کیا، ان سے سفیان نے، انہوں نے کہا کہ میں نے زہری سے سنا، انہوں نے سعید بن مسیب سے سنا اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی کے اگر تین بچے مر جائیں تو وہ دوزخ میں نہیں جائے گا اور اگر جائے گا بھی تو صرف قسم پوری کرنے کے لیے۔ ابوعبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔ ( قرآن کی آیت یہ ہے ) تم میں سے ہر ایک کو دوزخ کے اوپر سے گزرنا ہو گا۔
حدیث 1252 — صحيح البخاري 23:14
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ مَرَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِامْرَأَةٍ عِنْدَ قَبْرٍ وَهِيَ تَبْكِي فَقَالَ " اتَّقِي اللَّهَ وَاصْبِرِي ".
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ثابت نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک عورت کے پاس سے گزرے جو ایک قبر پر بیٹھی ہوئی رو رہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ اللہ سے ڈر اور صبر کر۔
حدیث 1253 — صحيح البخاري 23:15
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ الأَنْصَارِيَّةِ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ تُوُفِّيَتِ ابْنَتُهُ فَقَالَ " اغْسِلْنَهَا ثَلاَثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مَنْ ذَلِكَ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَاجْعَلْنَ فِي الآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي ". فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ فَأَعْطَانَا حِقْوَهُ فَقَالَ " أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ ". تَعْنِي إِزَارَهُ.
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے اور ان سے محمد بن سیرین نے، ان سے ام عطیہ انصاری رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی ( زینب یا ام کلثوم رضی اللہ عنہما ) کی وفات ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف لائے اور فرمایا کہ تین یا پانچ مرتبہ غسل دے دو اور اگر مناسب سمجھو تو اس سے بھی زیادہ دے سکتی ہو۔ غسل کے پانی میں بیری کے پتے ملا لو اور آخر میں کافور یا ( یہ کہا کہ ) کچھ کافور کا استعمال کر لینا اور غسل سے فارغ ہونے پر مجھے خبر دے دینا۔ چنانچہ ہم نے جب غسل دے لیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دیدی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اپنا ازار دیا اور فرمایا کہ اسے ان کی قمیص بنا دو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد اپنے ازار سے تھی۔
ہم سے محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالوہاب ثقفی نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے محمد نے، ان سے ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی کو غسل دے رہی تھیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا کہ تین یا پانچ مرتبہ غسل دو یا اس سے بھی زیادہ، پانی اور بیری کے پتوں سے اور آخر میں کافور بھی استعمال کرنا۔ پھر فارغ ہو کر مجھے خبر دے دینا۔ جب ہم فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر کر دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ازار عنایت فرمایا اور فرمایا کہ یہ اندر اس کے بدن پر لپیٹ دو۔
حدیث 1255 — صحيح البخاري 23:17
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي غَسْلِ ابْنَتِهِ " ابْدَأْنَ بِمَيَامِنِهَا وَمَوَاضِعِ الْوُضُوءِ مِنْهَا ".
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے اسماعیل بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے خالد نے بیان کیا، ان سے حفصہ بنت سیرین نے اور ان سے ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی کے غسل کے وقت فرمایا تھا کہ دائیں طرف سے اور اعضاء وضو سے غسل شروع کرنا۔
حدیث 1256 — صحيح البخاري 23:18
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ لَمَّا غَسَّلْنَا بِنْتَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَنَا وَنَحْنُ نَغْسِلُهَا " ابْدَأْنَ بِمَيَامِنِهَا وَمَوَاضِعِ الْوُضُوءِ ".
ہم سے یحییٰ بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے وکیع نے بیان کیا، ان سے سفیان نے، ان سے خالد حذاء نے، ان سے حفصہ بنت سیرین نے اور ان سے ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی کو ہم غسل دے رہی تھیں۔ جب ہم نے غسل شروع کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ غسل دائیں طرف سے اور اعضاء وضو سے شروع کرو۔