قرآني·Qurani
اردو

الحيض

40 احادیث · #294–333

حدیث 304 — صحيح البخاري 6:9
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي زَيْدٌ ـ هُوَ ابْنُ أَسْلَمَ ـ عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي أَضْحًى ـ أَوْ فِطْرٍ ـ إِلَى الْمُصَلَّى، فَمَرَّ عَلَى النِّسَاءِ فَقَالَ ‏"‏ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ تَصَدَّقْنَ، فَإِنِّي أُرِيتُكُنَّ أَكْثَرَ أَهْلِ النَّارِ ‏"‏‏.‏ فَقُلْنَ وَبِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ تُكْثِرْنَ اللَّعْنَ، وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ، مَا رَأَيْتُ مِنْ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَدِينٍ أَذْهَبَ لِلُبِّ الرَّجُلِ الْحَازِمِ مِنْ إِحْدَاكُنَّ ‏"‏‏.‏ قُلْنَ وَمَا نُقْصَانُ دِينِنَا وَعَقْلِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ أَلَيْسَ شَهَادَةُ الْمَرْأَةِ مِثْلَ نِصْفِ شَهَادَةِ الرَّجُلِ ‏"‏‏.‏ قُلْنَ بَلَى‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَذَلِكَ مِنْ نُقْصَانِ عَقْلِهَا، أَلَيْسَ إِذَا حَاضَتْ لَمْ تُصَلِّ وَلَمْ تَصُمْ ‏"‏‏.‏ قُلْنَ بَلَى‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَذَلِكَ مِنْ نُقْصَانِ دِينِهَا ‏"‏‏.‏
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھے زید نے اور یہ زید اسلم کے بیٹے ہیں، انہوں نے عیاض بن عبداللہ سے، انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے کہ آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحی یا عیدالفطر میں عیدگاہ تشریف لے گئے۔ وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے پاس سے گزرے اور فرمایا اے عورتوں کی جماعت! صدقہ کرو، کیونکہ میں نے جہنم میں زیادہ تم ہی کو دیکھا ہے۔ انہوں نے کہا یا رسول اللہ! ایسا کیوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لعن طعن بہت کرتی ہو اور شوہر کی ناشکری کرتی ہو، باوجود عقل اور دین میں ناقص ہونے کے میں نے تم سے زیادہ کسی کو بھی ایک عقلمند اور تجربہ کار آدمی کو دیوانہ بنا دینے والا نہیں دیکھا۔ عورتوں نے عرض کی کہ ہمارے دین اور ہماری عقل میں نقصان کیا ہے یا رسول اللہ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا عورت کی گواہی مرد کی گواہی سے نصف نہیں ہے؟ انہوں نے کہا، جی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بس یہی اس کی عقل کا نقصان ہے۔ پھر آپ نے پوچھا کیا ایسا نہیں ہے کہ جب عورت حائضہ ہو تو نہ نماز پڑھ سکتی ہے نہ روزہ رکھ سکتی ہے، عورتوں نے کہا ایسا ہی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہی اس کے دین کا نقصان ہے۔
حدیث 305 — صحيح البخاري 6:10
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لاَ نَذْكُرُ إِلاَّ الْحَجَّ، فَلَمَّا جِئْنَا سَرِفَ طَمِثْتُ، فَدَخَلَ عَلَىَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا أَبْكِي فَقَالَ ‏{‏مَا يُبْكِيكِ‏}‏‏.‏ قُلْتُ لَوَدِدْتُ وَاللَّهِ أَنِّي لَمْ أَحُجَّ الْعَامَ‏.‏ قَالَ ‏{‏لَعَلَّكِ نُفِسْتِ‏}‏‏.‏ قُلْتُ نَعَمْ‏.‏ قَالَ ‏ "‏ فَإِنَّ ذَلِكَ شَىْءٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ، فَافْعَلِي مَا يَفْعَلُ الْحَاجُّ، غَيْرَ أَنْ لاَ تَطُوفِي بِالْبَيْتِ حَتَّى تَطْهُرِي ‏"‏‏.‏
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابی سلمہ نے بیان کیا، انہوں نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے، انہوں نے قاسم بن محمد سے، وہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے، آپ نے فرمایا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کے لیے اس طرح نکلے کہ ہماری زبانوں پر حج کے علاوہ اور کوئی ذکر ہی نہ تھا۔ جب ہم مقام سرف پہنچے تو مجھے حیض آ گیا۔ ( اس غم سے ) میں رو رہی تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیوں رو رہی ہو؟ میں نے کہا کاش! میں اس سال حج کا ارادہ ہی نہ کرتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شاید تمہیں حیض آ گیا ہے۔ میں نے کہا جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ چیز تو اللہ تعالیٰ نے آدم کی بیٹیوں کے لیے مقرر کر دی ہے۔ اس لیے تم جب تک پاک نہ ہو جاؤ طواف بیت اللہ کے علاوہ حاجیوں کی طرح تمام کام انجام دو۔
حدیث 306 — صحيح البخاري 6:11
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ قَالَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لاَ أَطْهُرُ، أَفَأَدَعُ الصَّلاَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّمَا ذَلِكِ عِرْقٌ وَلَيْسَ بِالْحَيْضَةِ، فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَاتْرُكِي الصَّلاَةَ، فَإِذَا ذَهَبَ قَدْرُهَا فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ وَصَلِّي ‏"‏‏.‏
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے امام مالک نے ہشام بن عروہ کے واسطہ سے بیان کیا، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے، آپ نے بیان کیا کہ فاطمہ ابی حبیش کی بیٹی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ یا رسول اللہ! میں تو پاک ہی نہیں ہوتی، تو کیا میں نماز بالکل چھوڑ دوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ رگ کا خون ہے حیض نہیں اس لیے جب حیض کے دن ( جن میں کبھی پہلے تمہیں عادتاً آیا کرتا تھا ) آئیں تو نماز چھوڑ دے اور جب اندازہ کے مطابق وہ دن گزر جائیں، تو خون دھو ڈال اور نماز پڑھ۔
حدیث 307 — صحيح البخاري 6:12
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّهَا قَالَتْ سَأَلَتِ امْرَأَةٌ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِحْدَانَا إِذَا أَصَابَ ثَوْبَهَا الدَّمُ مِنَ الْحَيْضَةِ، كَيْفَ تَصْنَعُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا أَصَابَ ثَوْبَ إِحْدَاكُنَّ الدَّمُ مِنَ الْحَيْضَةِ، فَلْتَقْرُصْهُ ثُمَّ لِتَنْضَحْهُ بِمَاءٍ، ثُمَّ لِتُصَلِّي فِيهِ ‏"‏‏.‏
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں امام مالک نے بیان کیا، انہوں نے ہشام بن عروہ کے واسطے سے، انہوں نے فاطمہ بنت منذر سے، انہوں نے اسماء بنت ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے کہا کہ ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا۔ اس نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! آپ ایک ایسی عورت کے متعلق کیا فرماتے ہیں جس کے کپڑے پر حیض کا خون لگ گیا ہو۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کسی عورت کے کپڑے پر حیض کا خون لگ جائے تو چاہیے کہ اسے رگڑ ڈالے، اس کے بعد اسے پانی سے دھوئے، پھر اس کپڑے میں نماز پڑھ لے۔
حدیث 308 — صحيح البخاري 6:13
حَدَّثَنَا أَصْبَغُ، قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَتْ إِحْدَانَا تَحِيضُ، ثُمَّ تَقْتَرِصُ الدَّمَ مِنْ ثَوْبِهَا عِنْدَ طُهْرِهَا فَتَغْسِلُهُ، وَتَنْضَحُ عَلَى سَائِرِهِ، ثُمَّ تُصَلِّي فِيهِ‏.‏
ہم سے اصبغ نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے عمرو بن حارث نے عبدالرحمٰن بن قاسم کے واسطے سے بیان کیا، انہوں نے اپنے والد قاسم بن محمد سے بیان کیا، وہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ آپ نے فرمایا کہ ہمیں حیض آتا تو کپڑے کو پاک کرتے وقت ہم خون کو مل دیتے، پھر اس جگہ کو دھو لیتے اور تمام کپڑے پر پانی بہا دیتے اور اسے پہن کر نماز پڑھتے۔
حدیث 309 — صحيح البخاري 6:14
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم اعْتَكَفَ مَعَهُ بَعْضُ نِسَائِهِ وَهْىَ مُسْتَحَاضَةٌ تَرَى الدَّمَ، فَرُبَّمَا وَضَعَتِ الطَّسْتَ تَحْتَهَا مِنَ الدَّمِ‏.‏ وَزَعَمَ أَنَّ عَائِشَةَ رَأَتْ مَاءَ الْعُصْفُرِ فَقَالَتْ كَأَنَّ هَذَا شَىْءٌ كَانَتْ فُلاَنَةُ تَجِدُهُ‏.‏
ہم سے اسحاق بن شاہین ابوبشر واسطی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے خالد بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے خالد بن مہران سے، انہوں نے عکرمہ سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض ازواج نے اعتکاف کیا، حالانکہ وہ مستحاضہ تھیں اور انہیں خون آتا تھا۔ اس لیے خون کی وجہ سے طشت اکثر اپنے نیچے رکھ لیتیں۔ اور عکرمہ نے کہا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کسم کا پانی دیکھا تو فرمایا یہ تو ایسا ہی معلوم ہوتا ہے جیسے فلاں صاحبہ کو استحاضہ کا خون آتا تھا۔
حدیث 310 — صحيح البخاري 6:15
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتِ اعْتَكَفَتْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم امْرَأَةٌ مِنْ أَزْوَاجِهِ، فَكَانَتْ تَرَى الدَّمَ وَالصُّفْرَةَ، وَالطَّسْتُ تَحْتَهَا وَهْىَ تُصَلِّي‏.‏
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے خالد سے، وہ عکرمہ سے، وہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے، آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں سے ایک نے اعتکاف کیا۔ وہ خون اور زردی ( نکلتے ) دیکھتیں، طشت ان کے نیچے ہوتا اور نماز ادا کرتی تھیں۔
حدیث 311 — صحيح البخاري 6:16
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ بَعْضَ، أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ اعْتَكَفَتْ وَهْىَ مُسْتَحَاضَةٌ‏.‏
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے خالد کے واسطہ سے بیان کیا، وہ عکرمہ سے وہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ بعض امہات المؤمنین نے اعتکاف کیا حالانکہ وہ مستحاضہ تھیں۔ ( اوپر والی روایت میں ان ہی کا ذکر ہے ) ۔
حدیث 312 — صحيح البخاري 6:17
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ مَا كَانَ لإِحْدَانَا إِلاَّ ثَوْبٌ وَاحِدٌ تَحِيضُ فِيهِ، فَإِذَا أَصَابَهُ شَىْءٌ مِنْ دَمٍ، قَالَتْ بِرِيقِهَا فَقَصَعَتْهُ بِظُفْرِهَا‏.‏
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم بن نافع نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ ابن ابی نجیح سے، انہوں نے مجاہد سے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ہمارے پاس صرف ایک کپڑا ہوتا تھا، جسے ہم حیض کے وقت پہنتے تھے۔ جب اس میں خون لگ جاتا تو اس پر تھوک ڈال لیتے اور پھر اسے ناخنوں سے مسل دیتے۔
حدیث 313 — صحيح البخاري 6:18
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حَفْصَةَ ـ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ أَوْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ـ قَالَتْ كُنَّا نُنْهَى أَنْ نُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلاَثٍ، إِلاَّ عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، وَلاَ نَكْتَحِلَ وَلاَ نَتَطَيَّبَ وَلاَ نَلْبَسَ ثَوْبًا مَصْبُوغًا إِلاَّ ثَوْبَ عَصْبٍ، وَقَدْ رُخِّصَ لَنَا عِنْدَ الطُّهْرِ إِذَا اغْتَسَلَتْ إِحْدَانَا مِنْ مَحِيضِهَا فِي نُبْذَةٍ مِنْ كُسْتِ أَظْفَارٍ، وَكُنَّا نُنْهَى عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ‏.‏ قَالَ رَوَاهُ هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنْ حَفْصَةَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏
ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حماد بن زید نے ایوب سختیانی سے، انہوں نے حفصہ سے، وہ ام عطیہ سے، آپ نے فرمایا کہ ہمیں کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرنے سے منع کیا جاتا تھا۔ لیکن شوہر کی موت پر چار مہینے دس دن کے سوگ کا حکم تھا۔ ان دنوں میں ہم نہ سرمہ لگاتیں نہ خوشبو اور عصب ( یمن کی بنی ہوئی ایک چادر جو رنگین بھی ہوتی تھی ) کے علاوہ کوئی رنگین کپڑا ہم استعمال نہیں کرتی تھیں اور ہمیں ( عدت کے دنوں میں ) حیض کے غسل کے بعد کست اظفار استعمال کرنے کی اجازت تھی اور ہمیں جنازہ کے پیچھے چلنے سے منع کیا جاتا تھا۔ اس حدیث کو ہشام بن حسان نے حفصہ سے، انہوں نے ام عطیہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔