قرآني·Qurani
اردو

الدعوات

108 احادیث · #6304–6411

حدیث 6394 — صحيح البخاري 80:89
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ بَعَثَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم سَرِيَّةً يُقَالُ لَهُمُ الْقُرَّاءُ فَأُصِيبُوا، فَمَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَجَدَ عَلَى شَىْءٍ مَا وَجَدَ عَلَيْهِمْ، فَقَنَتَ شَهْرًا فِي صَلاَةِ الْفَجْرِ وَيَقُولُ ‏ "‏ إِنَّ عُصَيَّةَ عَصَوُا اللَّهَ وَرَسُولَهُ ‏"‏‏.‏
ہم سے حسن بن ربیع نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوالاحوص نے بیان کیا، ان سے عاصم نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہم بھیجی، جس میں شریک لوگوں کو قراء ( یعنی قرآن مجید کے قاری ) کہا جاتا تھا۔ ان سب کو شہید کر دیا گیا۔ میں نے نہیں دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی کسی چیز کا اتنا غم ہوا ہو جتنا آپ کو ان کی شہادت کا غم ہوا تھا۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینے تک فجر کی نماز میں ان کے لیے بددعا کی، آپ کہتے کہ عصیہ نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔
حدیث 6395 — صحيح البخاري 80:90
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كَانَ الْيَهُودُ يُسَلِّمُونَ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُونَ السَّامُ عَلَيْكَ‏.‏ فَفَطِنَتْ عَائِشَةُ إِلَى قَوْلِهِمْ فَقَالَتْ عَلَيْكُمُ السَّامُ وَاللَّعْنَةُ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَهْلاً يَا عَائِشَةُ، إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الأَمْرِ كُلِّهِ ‏"‏‏.‏ فَقَالَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَوَلَمْ تَسْمَعْ مَا يَقُولُونَ قَالَ ‏"‏ أَوَلَمْ تَسْمَعِي أَنِّي أَرُدُّ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ فَأَقُولُ وَعَلَيْكُمْ ‏"‏‏.‏
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا، انہیں معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں عروہ بن زبیر نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ یہود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرتے تو کہتے «السام عليك‏.‏» آپ کو موت آئے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا ان کا مقصد سمجھ گئیں اور جواب دیا کہ «عليكم السام واللعنة‏.‏» تمہیں موت آئے اور تم پر لعنت ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ٹھہرو عائشہ! اللہ تمام امور میں نرمی کو پسند کرتا ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! کیا آپ نے نہیں سنا یہ لوگ کیا کہتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے نہیں سنا کہ میں انہیں کس طرح جواب دیتا ہوں۔ میں کہتا ہوں «وعليكم» ۔
حدیث 6396 — صحيح البخاري 80:91
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الْخَنْدَقِ، فَقَالَ ‏ "‏ مَلأَ اللَّهُ قُبُورَهُمْ وَبُيُوتَهُمْ نَارًا، كَمَا شَغَلُونَا عَنْ صَلاَةِ الْوُسْطَى حَتَّى غَابَتِ الشَّمْسُ ‏"‏‏.‏ وَهْىَ صَلاَةُ الْعَصْرِ‏.‏
ہم سے محمد بن مثنی ٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے انصاری نے بیان کیا، ان سے ہشام بن حسان نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن سیرین نے بیان کیا، ان سے عبیدہ نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ غزوہ خندق کے موقع پر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ ان کی قبروں اور ان کے گھروں کو آگ سے بھر دے۔ انہوں نے ہمیں «صلاة الوسطى» ( عصر کی نماز ) نہیں پڑھنے دی جب تک کہ سورج غروب ہو گیا اور یہ عصر کی نماز تھی۔
حدیث 6397 — صحيح البخاري 80:92
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَدِمَ الطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ دَوْسًا قَدْ عَصَتْ وَأَبَتْ، فَادْعُ اللَّهَ عَلَيْهَا‏.‏ فَظَنَّ النَّاسُ أَنَّهُ يَدْعُو عَلَيْهِمْ، فَقَالَ ‏ "‏ اللَّهُمَّ اهْدِ دَوْسًا وَأْتِ بِهِمْ ‏"‏‏.‏
ہم سے علی نے بیان کیا، ان سے سفیان نے کہا، ان سے ابوالزناد نے، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ طفیل بن عمرو رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! قبیلہ دوس نے نافرمانی اور سرکشی کی ہے، آپ ان کے لیے بددعا کیجئے۔ لوگوں نے سمجھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے بددعا ہی کریں گے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ ”اے اللہ! قبیلہ دوس کو ہدایت دے اور انہیں ( میرے پاس ) بھیج دے۔“
حدیث 6398 — صحيح البخاري 80:93
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكَ بْنُ صَبَّاحٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ كَانَ يَدْعُو بِهَذَا الدُّعَاءِ ‏ "‏ رَبِّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي وَجَهْلِي وَإِسْرَافِي فِي أَمْرِي كُلِّهِ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي خَطَايَاىَ وَعَمْدِي وَجَهْلِي وَهَزْلِي، وَكُلُّ ذَلِكَ عِنْدِي، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ، وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ ‏"‏‏.‏ وَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ وَحَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏ بِنَحْوِهِ.‏
کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے ابواسحاق نے، ان سے ابن ابی موسیٰ نے، ان سے ان کے والد نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کرتے تھے «رب اغفر لي خطيئتي وجهلي وإسرافي في أمري كله،‏‏‏‏ وما أنت أعلم به مني،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ اللهم اغفر لي خطاياى وعمدي وجهلي وهزلي،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وكل ذلك عندي،‏‏‏‏ اللهم اغفر لي ما قدمت وما أخرت وما أسررت وما أعلنت،‏‏‏‏ أنت المقدم،‏‏‏‏ وأنت المؤخر،‏‏‏‏ وأنت على كل شىء قدير» ”میرے رب! میری خطا، میری نادانی اور تمام معاملات میں میرے حد سے تجاوز کرنے میں میری مغفرت فرما اور وہ گناہ بھی جن کو تو مجھ سے زیادہ جاننے والا ہے۔ اے اللہ! میری مغفرت کر، میری خطاؤں میں، میرے بالا ارادہ اور بلا ارادہ کاموں میں اور میرے ہنسی مزاح کے کاموں میں اور یہ سب میری ہی طرف سے ہیں۔ اے اللہ! میری مغفرت کر ان کاموں میں جو میں کر چکا ہوں اور انہیں جو کروں گا اور جنہیں میں نے چھپایا اور جنہیں میں نے ظاہر کیا ہے، تو سب سے پہلے ہے اور تو ہی سب سے بعد میں ہے اور تو ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔“ اور عبیداللہ بن معاذ ( جو امام بخاری رحمہ اللہ کے شیخ ہیں ) نے بیان کیا کہ ہم سے میرے والد نے بیان کیا کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے، ان سے ابوبردہ بن ابی موسیٰ نے اور ان سے ان کے والد نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے۔
حدیث 6399 — صحيح البخاري 80:94
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُوسَى، وَأَبِي، بُرْدَةَ ـ أَحْسِبُهُ ـ عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ كَانَ يَدْعُو ‏ "‏ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي وَجَهْلِي وَإِسْرَافِي فِي أَمْرِي، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي هَزْلِي وَجِدِّي وَخَطَاىَ وَعَمْدِي، وَكُلُّ ذَلِكَ عِنْدِي ‏"‏‏.‏
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبیداللہ بن عبدالمجید نے بیان کیا، کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے بیان کیا، ان سے ابوبکر بن ابی موسیٰ اور ابوبردہ نے میرا خیال ہے کہ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے حوالہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے «اللهم اغفرلي خطيئتي وجهلي وإسرافي في أمري،‏‏‏‏ ‏‏‏‏وما أنت أعلم به مني،‏‏‏‏ ‏‏‏‏اللهم اغفر لي هزلي وجدي وخطاى وعمدي،‏‏‏‏ ‏‏‏‏وكل ذلك عندي‏ ‏‏.‏» ”اے اللہ! میری مغفرت فرما میری خطاؤں میں، میری نادانی میں اور میری کسی معاملہ میں زیادتی میں، ان باتوں میں جن کا تو مجھ سے زیادہ جاننے والا ہے۔ اے اللہ! میری مغفرت کر میرے ہنسی مزاح اور سنجیدگی میں اور میرے ارادہ میں اور یہ سب کچھ میری ہی طرف سے ہیں۔“
حدیث 6400 — صحيح البخاري 80:95
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ فِي الْجُمُعَةِ سَاعَةٌ لاَ يُوَافِقُهَا مُسْلِمٌ وَهْوَ قَائِمٌ يُصَلِّي يَسْأَلُ خَيْرًا إِلاَّ أَعْطَاهُ ‏"‏‏.‏ وَقَالَ بِيَدِهِ قُلْنَا يُقَلِّلُهَا يُزَهِّدُهَا‏.‏
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن ابراہیم نے، انہیں ایوب نے خبر دی، انہیں محمد نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جمعہ کے دن ایک ایسی گھڑی آتی ہے جس میں اگر کوئی مسلمان اس حال میں پا لے کہ وہ کھڑا نماز پڑھ رہا ہو تو جو بھلائی بھی وہ مانگے گا اللہ عنایت فرمائے گا اور آپ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ فرمایا اور ہم نے اس سے یہ سمجھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس گھڑی کے مختصر ہونے کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔
حدیث 6401 — صحيح البخاري 80:96
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها أَنَّ الْيَهُودَ، أَتَوُا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا السَّامُ عَلَيْكَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ وَعَلَيْكُمْ ‏"‏‏.‏ فَقَالَتْ عَائِشَةُ السَّامُ عَلَيْكُمْ، وَلَعَنَكُمُ اللَّهُ وَغَضِبَ عَلَيْكُمْ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَهْلاً يَا عَائِشَةُ، عَلَيْكِ بِالرِّفْقِ، وَإِيَّاكِ وَالْعُنْفَ أَوِ الْفُحْشَ ‏"‏‏.‏ قَالَتْ أَوَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا قَالَ ‏"‏ أَوَلَمْ تَسْمَعِي مَا قُلْتُ رَدَدْتُ عَلَيْهِمْ، فَيُسْتَجَابُ لِي فِيهِمْ، وَلاَ يُسْتَجَابُ لَهُمْ فِيَّ ‏"‏‏.‏
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ایوب نے بیان کیا، ان سے ابن ابی ملیکہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ یہود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا «السام عليك‏.‏» نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا «وعليكم‏ ‏‏.‏» لیکن عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا «السام عليكم،‏‏‏‏ ولعنكم الله وغضب عليكم‏.‏» نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ٹھہر، عائشہ! نرم خوئی اختیار کر اور سختی اور بدکلامی سے ہمیشہ پرہیز کر۔ انہوں نے کہا: کیا آپ نے نہیں سنا کہ یہودی کیا کہہ رہے تھے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے نہیں سنا کہ میں نے انہیں کیا جواب دیا، میں نے ان کی بات انہیں پر لوٹا دی اور میری ان کے بدلے میں دعا قبول کی گئی اور ان کی میرے بارے میں قبول نہیں کی گئی۔
حدیث 6402 — صحيح البخاري 80:97
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ الزُّهْرِيُّ حَدَّثَنَاهُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا أَمَّنَ الْقَارِئُ فَأَمِّنُوا، فَإِنَّ الْمَلاَئِكَةَ تُؤَمِّنُ، فَمَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلاَئِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ‏"‏‏.‏
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا کہ زہری نے بیان کیا کہ ہم سے سعید بن مسیب نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب پڑھنے والا آمین کہے تو تم بھی آمین کہو کیونکہ اس وقت ملائکہ بھی آمین کہتے ہیں اور جس کی آمین ملائکہ کی آمین کے ساتھ ہوتی ہے اس کے پچھلے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں۔“
حدیث 6403 — صحيح البخاري 80:98
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُمَىٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ، وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهْوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ‏.‏ فِي يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ، كَانَتْ لَهُ عَدْلَ عَشْرِ رِقَابٍ، وَكُتِبَ لَهُ مِائَةُ حَسَنَةٍ، وَمُحِيَتْ عَنْهُ مِائَةُ سَيِّئَةٍ، وَكَانَتْ لَهُ حِرْزًا مِنَ الشَّيْطَانِ يَوْمَهُ ذَلِكَ، حَتَّى يُمْسِيَ، وَلَمْ يَأْتِ أَحَدٌ بِأَفْضَلَ مِمَّا جَاءَ بِهِ إِلاَّ رَجُلٌ عَمِلَ أَكْثَرَ مِنْهُ ‏"‏‏.‏
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے سمی نے، ان سے ابوصالح نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے یہ کلمہ کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہی ہے اور اسی کے لیے تعریفیں ہیں اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔“ دن میں سو دفعہ پڑھا اسے دس غلاموں کو آزاد کرنے کا ثواب ملے گا اور اس کے لیے سو نیکیاں لکھ دی جائیں گی اور اس کی سو برائیاں مٹا دی جائیں گی اور اس دن وہ شیطان کے شر سے محفوظ رہے گا شام تک کے لیے اور کوئی شخص اس دن اس سے بہتر کام کرنے والا نہیں سمجھا جائے گا، سوا اس کے جو اس سے زیادہ کرے۔“
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔