حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، وَأَبَا، سَعِيدٍ أَخْبَرَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأَى نُخَامَةً فِي حَائِطِ الْمَسْجِدِ، فَتَنَاوَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَصَاةً فَحَتَّهَا ثُمَّ قَالَ " إِذَا تَنَخَّمَ أَحَدُكُمْ فَلاَ يَتَنَخَّمْ قِبَلَ وَجْهِهِ وَلاَ عَنْ يَمِينِهِ، وَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ، أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى ".
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، وَأَبَا، سَعِيدٍ أَخْبَرَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأَى نُخَامَةً فِي حَائِطِ الْمَسْجِدِ، فَتَنَاوَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَصَاةً فَحَتَّهَا ثُمَّ قَالَ " إِذَا تَنَخَّمَ أَحَدُكُمْ فَلاَ يَتَنَخَّمْ قِبَلَ وَجْهِهِ وَلاَ عَنْ يَمِينِهِ، وَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ، أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى ".
حدیث 411 — صحيح البخاري 8:61
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، وَأَبَا، سَعِيدٍ أَخْبَرَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأَى نُخَامَةً فِي حَائِطِ الْمَسْجِدِ، فَتَنَاوَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَصَاةً فَحَتَّهَا ثُمَّ قَالَ " إِذَا تَنَخَّمَ أَحَدُكُمْ فَلاَ يَتَنَخَّمْ قِبَلَ وَجْهِهِ وَلاَ عَنْ يَمِينِهِ، وَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ، أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى ".
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، وَأَبَا، سَعِيدٍ أَخْبَرَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأَى نُخَامَةً فِي حَائِطِ الْمَسْجِدِ، فَتَنَاوَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَصَاةً فَحَتَّهَا ثُمَّ قَالَ " إِذَا تَنَخَّمَ أَحَدُكُمْ فَلاَ يَتَنَخَّمْ قِبَلَ وَجْهِهِ وَلاَ عَنْ يَمِينِهِ، وَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ، أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى ".
حدیث 412 — صحيح البخاري 8:62
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي قَتَادَةُ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَتْفِلَنَّ أَحَدُكُمْ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلاَ عَنْ يَمِينِهِ، وَلَكِنْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ رِجْلِهِ ".
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے قتادہ نے خبر دی، انہوں نے کہا میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، تم اپنے سامنے یا اپنی دائیں طرف نہ تھوکا کرو، البتہ بائیں طرف یا بائیں قدم کے نیچے تھوک سکتے ہو۔
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن جب نماز میں ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے سرگوشی کرتا ہے۔ اس لیے وہ اپنے سامنے یا دائیں طرف نہ تھوکے، ہاں بائیں طرف یا پاؤں کے نیچے تھوک لے۔
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے، کہا ہم سے امام زہری نے حمید بن عبدالرحمٰن سے، انہوں نے ابو سعید خدری سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کے قبلہ کی دیوار پر بلغم دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کنکری سے کھرچ ڈالا۔ پھر فرمایا کہ کوئی شخص سامنے یا دائیں طرف نہ تھوکے، البتہ بائیں طرف یا بائیں پاؤں کے نیچے تھوک لینا چاہیے۔ دوسری روایت میں زہری سے یوں ہے کہ انہوں نے حمید بن عبدالرحمٰن سے ابو سعید خدری کے واسطہ سے اسی طرح یہ حدیث سنی۔
حدیث 415 — صحيح البخاري 8:65
حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " الْبُزَاقُ فِي الْمَسْجِدِ خَطِيئَةٌ، وَكَفَّارَتُهَا دَفْنُهَا ".
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، کہا ہم سے قتادہ نے کہا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ اسے ( زمین میں ) چھپا دینا ہے۔
ہم سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں عبدالرزاق نے معمر بن راشد سے، انہوں نے ہمام بن منبہ سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی شخص نماز کے لیے کھڑا ہو تو سامنے نہ تھوکے کیونکہ وہ جب تک اپنی نماز کی جگہ میں ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ سے سرگوشی کرتا رہتا ہے اور دائیں طرف بھی نہ تھوکے کیونکہ اس طرف فرشتہ ہوتا ہے، ہاں بائیں طرف یا قدم کے نیچے تھوک لے اور اسے مٹی میں چھپا دے۔
حدیث 417 — صحيح البخاري 8:67
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَأَى نُخَامَةً فِي الْقِبْلَةِ فَحَكَّهَا بِيَدِهِ، وَرُئِيَ مِنْهُ كَرَاهِيَةٌ ـ أَوْ رُئِيَ كَرَاهِيَتُهُ لِذَلِكَ وَشِدَّتُهُ عَلَيْهِ ـ وَقَالَ " إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ فِي صَلاَتِهِ فَإِنَّمَا يُنَاجِي رَبَّهُ ـ أَوْ رَبُّهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قِبْلَتِهِ ـ فَلاَ يَبْزُقَنَّ فِي قِبْلَتِهِ، وَلَكِنْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ ". ثُمَّ أَخَذَ طَرَفَ رِدَائِهِ فَبَزَقَ فِيهِ، وَرَدَّ بَعْضَهُ عَلَى بَعْضٍ، قَالَ " أَوْ يَفْعَلُ هَكَذَا ".
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے زہیر بن معاویہ نے، کہا ہم سے حمید نے انس بن مالک سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ کی طرف ( دیوار پر ) بلغم دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اسے کھرچ ڈالا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ناخوشی کو محسوس کیا گیا یا ( راوی نے اس طرح بیان کیا کہ ) اس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شدید ناگواری کو محسوس کیا گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کوئی شخص نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے سرگوشی کرتا ہے، یا یہ کہ اس کا رب اس کے اور قبلہ کے درمیان ہوتا ہے۔ اس لیے قبلہ کی طرف نہ تھوکا کرو، البتہ بائیں طرف یا قدم کے نیچے تھوک لیا کرو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر کا ایک کونا ( کنارہ ) لیا، اس میں تھوکا اور چادر کی ایک تہہ کو دوسری تہہ پر پھیر لیا اور فرمایا، یا اس طرح کر لیا کرے۔
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے ابوالزناد سے خبر دی، انہوں نے اعرج سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہارا یہ خیال ہے کہ میرا منہ ( نماز میں ) قبلہ کی طرف ہے، اللہ کی قسم مجھ سے نہ تمہارا خشوع چھپتا ہے نہ رکوع، میں اپنی پیٹھ کے پیچھے سے تم کو دیکھتا رہتا ہوں۔