قرآني·Qurani
اردو

اللباس

187 احادیث · #5783–5969

حدیث 5893 — صحيح البخاري 77:110
حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ انْهَكُوا الشَّوَارِبَ، وَأَعْفُوا اللِّحَى ‏"‏‏.‏
مجھ سے محمد نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا ہمیں عبدہ نے خبر دی، انہیں عبیداللہ بن عمر نے خبر دی، انہیں نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مونچھیں خوب کتروایا لیا کرو اور داڑھی کو بڑھاؤ۔“
حدیث 5894 — صحيح البخاري 77:111
حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ سَأَلْتُ أَنَسًا أَخَضَبَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَمْ يَبْلُغِ الشَّيْبَ إِلاَّ قَلِيلاً‏.‏
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے محمد بن سیرین نے بیان کیا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خضاب استعمال کیا تھا؟ بولے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بال ہی بہت کم سفید ہوئے تھے۔
حدیث 5895 — صحيح البخاري 77:112
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، قَالَ سُئِلَ أَنَسٌ عَنْ خِضَابِ النَّبِيِّ، صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنَّهُ لَمْ يَبْلُغْ مَا يَخْضِبُ، لَوْ شِئْتُ أَنْ أَعُدَّ شَمَطَاتِهِ فِي لِحْيَتِهِ‏.‏
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ثابت نے بیان کیا کہ انس رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خضاب کے متعلق سوال کیا گیا تو احول نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خضاب کی نوبت ہی نہیں آئی تھی اگر میں آپ کی داڑھی کے سفید بال گننا چاہتا تو گن سکتا تھا۔
حدیث 5896 — صحيح البخاري 77:113
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، قَالَ أَرْسَلَنِي أَهْلِي إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ بِقَدَحٍ مِنْ مَاءٍ ـ وَقَبَضَ إِسْرَائِيلُ ثَلاَثَ أَصَابِعَ ـ مِنْ فِضَّةٍ فِيهِ شَعَرٌ مِنْ شَعَرِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَكَانَ إِذَا أَصَابَ الإِنْسَانَ عَيْنٌ أَوْ شَىْءٌ بَعَثَ إِلَيْهَا مِخْضَبَهُ، فَاطَّلَعْتُ فِي الْجُلْجُلِ فَرَأَيْتُ شَعَرَاتٍ حُمْرًا‏.‏
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے عثمان بن عبداللہ بن وہب نے بیان کیا کہ میرے گھر والوں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس پانی کا ایک پیالہ لے کر بھیجا ( راوی حدیث ) اسرائیل راوی نے تین انگلیاں بند کر لیں یعنی وہ اتنی چھوٹی پیالی تھی اس پیالی میں بالوں کا ایک گچھا تھا جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں میں سے کچھ بال تھے۔ عثمان نے کہا جب کسی شخص کو نظر لگ جاتی یا اور کوئی بیماری ہوتی تو وہ اپنا پانی کا برتن بی بی ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیج دیتا۔ ( وہ اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بال ڈبو دیتیں ) عثمان نے کہا کہ میں نے نلکی کو دیکھا ( جس میں موئے مبارک رکھے ہوئے تھے ) تو سرخ سرخ بال دکھائی دیئے۔
حدیث 5897 — صحيح البخاري 77:114
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا سَلاَّمٌ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، قَالَ دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَأَخْرَجَتْ إِلَيْنَا شَعَرًا مِنْ شَعَرِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مَخْضُوبًا‏.‏
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سلام بن ابی مطیع نے بیان کیا، ان سے عثمان بن عبداللہ بن موہب نے کہ میں ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چند بال نکال کر دکھائے جن پر خضاب لگا ہوا تھا۔
حدیث 5898 — صحيح البخاري 77:115
وَقَالَ لَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا نُصَيْرُ بْنُ أَبِي الأَشْعَثِ، عَنِ ابْنِ مَوْهَبٍ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ، أَرَتْهُ شَعَرَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَحْمَرَ‏.‏
اور ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، ان سے نصیر بن ابی الاشعث نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن موہب نے کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بال دکھایا جو سرخ تھا۔
حدیث 5899 — صحيح البخاري 77:116
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى لاَ يَصْبُغُونَ فَخَالِفُوهُمْ ‏"‏‏.‏
ہم سے عبداللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، کہا ہم سے زہری نے بیان کیا ان سے ابوسلمہ اور سلیمان بن یسار نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ یہود و نصاریٰ خضاب نہیں لگاتے تم ان کے خلاف کرو یعنی خضاب لگایا کرو۔
حدیث 5900 — صحيح البخاري 77:117
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيْسَ بِالطَّوِيلِ الْبَائِنِ، وَلاَ بِالْقَصِيرِ، وَلَيْسَ بِالأَبْيَضِ الأَمْهَقِ، وَلَيْسَ بِالآدَمِ، وَلَيْسَ بِالْجَعْدِ الْقَطَطِ، وَلاَ بِالسَّبْطِ، بَعَثَهُ اللَّهُ عَلَى رَأْسِ أَرْبَعِينَ سَنَةً، فَأَقَامَ بِمَكَّةَ عَشْرَ سِنِينَ، وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرَ سِنِينَ، وَتَوَفَّاهُ اللَّهُ عَلَى رَأْسِ سِتِّينَ سَنَةً، وَلَيْسَ فِي رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ عِشْرُونَ شَعَرَةً بَيْضَاءَ‏.‏
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک بن انس نے بیان کیا، ان سے ربیعہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے ان سے سنا کہ وہ بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہت لمبے نہیں تھے اور نہ آپ چھوٹے قد کے ہی تھے ( بلکہ آپ کا بیچ والا قد تھا ) نہ آپ بالکل سفید بھورے تھے اور نہ گندم گوں ہی تھے، آپ کے بال گھونگھریالے الجھے ہوئے نہیں تھے اور نہ بالکل سیدھے لٹکے ہوئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو چالیس سال کی عمر میں رسول بنایا دس سال آپ نے ( نبوت کے بعد ) مکہ مکرمہ میں قیام کیا اور دس سال مدینہ منورہ میں اور تقریباً ساٹھ سال کی عمر میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دی۔ وفات کے وقت آپ کے سر اور داڑھی میں بیس بال بھی سفید نہیں تھے۔
حدیث 5901 — صحيح البخاري 77:118
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، سَمِعْتُ الْبَرَاءَ، يَقُولُ مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَحْسَنَ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏ قَالَ بَعْضُ أَصْحَابِي عَنْ مَالِكٍ إِنَّ جُمَّتَهُ لَتَضْرِبُ قَرِيبًا مِنْ مَنْكِبَيْهِ‏.‏ قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُهُ غَيْرَ مَرَّةٍ، مَا حَدَّثَ بِهِ قَطُّ إِلاَّ ضَحِكَ‏.‏ تَابَعَهُ شُعْبَةُ شَعَرُهُ يَبْلُغُ شَحْمَةَ أُذُنَيْهِ‏.‏
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے اسرائیل نے، ان سے ابواسحاق نے، کہا میں براء رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کہا کہ میں نے سرخ حلہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کسی کو خوبصورت نہیں دیکھا ( امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ ) مجھ سے میرے بعض اصحاب نے امام مالک رحمہ اللہ سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے بال شانہ مبارک کے قریب تک تھے۔ ابواسحاق نے بیان کیا کہ میں نے براء رضی اللہ عنہ کو ایک مرتبہ سے زیادہ یہ حدیث بیان کرتے سنا جب بھی وہ یہ حدیث بیان کرتے تو مسکراتے۔ اس روایت کی متابعت شعبہ نے کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بال آپ کے کانوں کی لو تک تھے۔
حدیث 5902 — صحيح البخاري 77:119
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ أُرَانِي اللَّيْلَةَ عِنْدَ الْكَعْبَةِ، فَرَأَيْتُ رَجُلاً آدَمَ كَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَاءٍ مِنْ أُدْمِ الرِّجَالِ، لَهُ لِمَّةٌ كَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَاءٍ مِنَ اللِّمَمِ، قَدْ رَجَّلَهَا، فَهْىَ تَقْطُرُ مَاءً مُتَّكِئًا عَلَى رَجُلَيْنِ، أَوْ عَلَى عَوَاتِقِ رَجُلَيْنِ، يَطُوفُ بِالْبَيْتِ فَسَأَلْتُ مَنْ هَذَا فَقِيلَ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ‏.‏ وَإِذَا أَنَا بِرَجُلٍ جَعْدٍ، قَطَطٍ، أَعْوَرِ الْعَيْنِ الْيُمْنَى كَأَنَّهَا عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ، فَسَأَلْتُ مَنْ هَذَا فَقِيلَ الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ ‏"‏‏.‏
ہم سے عبداللہ بن یوسف تینسی نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں نافع نے اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رات کعبہ کے پاس مجھے دیکھایا گیا، میں نے دیکھا کہ ایک صاحب ہیں گندمی رنگ، گندمی رنگ کے لوگوں میں سب سے زیادہ خوبصورت، ان کے شانوں تک لمبے لمبے بال ہیں ایسے بال والے لوگوں میں سب سے زیادہ خوبصورت، انہوں نے بالوں میں کنگھا کر رکھا ہے اور اس کی وجہ سے سر سے پانی ٹپک رہا ہے۔ دو آدمیوں کا سہارا لیے ہوئے ہیں یا دو آدمیوں کے شانوں کا سہارا لیے ہوئے ہیں اور خانہ کعبہ کا طواف کر رہے ہیں، میں نے پوچھا کہ یہ کون بزرگ ہیں تو مجھے بتایا گیا کہ یہ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام ہیں پھر اچانک میں نے ایک الجھے ہوئے گھونگھریالے بال والے شخص کو دیکھا، دائیں آنکھ سے کانا تھا گویا انگور ہے جو ابھرا ہوا ہے۔ میں نے پوچھا یہ کانا کون ہے؟ مجھے بتایا گیا کہ یہ مسیح دجال ہے۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔