قرآني·Qurani
اردو

المغازي

525 احادیث · #3949–4473

حدیث 4169 — صحيح البخاري 64:211
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، قَالَ قُلْتُ لِسَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ عَلَى أَىِّ شَىْءٍ بَايَعْتُمْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ‏.‏ قَالَ عَلَى الْمَوْتِ‏.‏
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا کہ ہم سے حاتم بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ ان سے یزید بن ابی عبید نے بیان کیا کہ میں نے سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر آپ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کس چیز پر بیعت کی تھی؟ انہوں نے بتلایا کہ موت پر۔
حدیث 4170 — صحيح البخاري 64:212
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِشْكَابٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ لَقِيتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ ـ رضى الله عنهما ـ فَقُلْتُ طُوبَى لَكَ صَحِبْتَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَبَايَعْتَهُ تَحْتَ الشَّجَرَةِ‏.‏ فَقَالَ يَا ابْنَ أَخِي إِنَّكَ لاَ تَدْرِي مَا أَحْدَثْنَا بَعْدَهُ‏.‏
مجھ سے احمد بن اشکاب نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے محمد بن فضیل نے بیان کیا ‘ ان سے علاء بن مسیب نے ‘ ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ میں براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا ‘ مبارک ہو! آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت نصیب ہوئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے شجر ( درخت ) کے نیچے بیعت کی۔ انہوں نے کہا بیٹے! تمہیں معلوم نہیں کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کیا کیا کام کئے ہیں۔
حدیث 4171 — صحيح البخاري 64:213
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ـ هُوَ ابْنُ سَلاَّمٍ ـ عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، أَنَّ ثَابِتَ بْنَ الضَّحَّاكِ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، بَايَعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم تَحْتَ الشَّجَرَةِ‏.‏
ہم سے اسحاق نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یحییٰ بن صالح نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے معاویہ نے بیان کیا ‘ وہ سلام کے بیٹے ہیں ‘ ان سے یحییٰ نے ‘ ان سے ابوقلابہ نے اور انہیں ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخت کے نیچے بیعت کی تھی۔
حدیث 4172 — صحيح البخاري 64:214
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ‏{‏إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا‏}‏ قَالَ الْحُدَيْبِيَةُ‏.‏ قَالَ أَصْحَابُهُ هَنِيئًا مَرِيئًا فَمَا لَنَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ ‏{‏لِيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ‏}‏ قَالَ شُعْبَةُ فَقَدِمْتُ الْكُوفَةَ فَحَدَّثْتُ بِهَذَا كُلِّهِ عَنْ قَتَادَةَ ثُمَّ رَجَعْتُ فَذَكَرْتُ لَهُ فَقَالَ أَمَّا ‏{‏إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ‏}‏ فَعَنْ أَنَسٍ، وَأَمَّا هَنِيئًا مَرِيئًا فَعَنْ عِكْرِمَةَ‏.‏
مجھ سے احمد بن اسحاق نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عثمان بن عمر نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی ‘ انہیں قتادہ نے اور انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ ( آیت ) «إنا فتحنا لك فتحا مبينا‏» ”بیشک ہم نے تمہیں کھلی ہوئی فتح دی۔“ یہ فتح صلح حدیبیہ تھی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تو مرحلہ آسان ہے ( کہ آپ کی تمام اگلی اور پچھلی لغزشیں معاف ہو چکی ہیں ) لیکن ہمارا کیا ہو گا؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی «ليدخل المؤمنين والمؤمنات جنات‏» ”اس لیے کہ مومن مرد اور مومن عورتیں جنت میں داخل کی جائیں گی جس کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔“ شعبہ نے بیان کیا کہ پھر میں کوفہ آیا اور میں قتادہ سے پورا واقعہ بیان کیا ‘ پھر میں دوبارہ قتادہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان کے سامنے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ «إنا فتحنا لك‏» ”بیشک ہم نے تمہیں کھلی فتح دی ہے۔“ کی تفسیر تو انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے لیکن اس کے بعد «هنيئا مريئا» ( یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تو ہر مرحلہ آسان ہے ) یہ تفسیر عکرمہ سے منقول ہے۔
حدیث 4173 — صحيح البخاري 64:215
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ مَجْزَأَةَ بْنِ زَاهِرٍ الأَسْلَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ ـ وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ الشَّجَرَةَ ـ قَالَ إِنِّي لأُوقِدُ تَحْتَ الْقِدْرِ بِلُحُومِ الْحُمُرِ إِذْ نَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَنْهَاكُمْ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ‏.‏
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابوعامر عقدی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے اسرائیل بن یونس نے بیان کیا ‘ ان سے مجزاۃ بن زاہر اسلمی نے اور ان سے ان کے والد زاہر بن اسود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا وہ بیعت رضوان میں شریک تھے۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں ہانڈی میں گدھے کا گوشت ابال رہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک منادی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اعلان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں گدھے کے گوشت کے کھانے سے منع فرماتے ہیں۔
حدیث 4174 — صحيح البخاري 64:216
وَعَنْ مَجْزَأَةَ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْهُمْ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ اسْمُهُ أُهْبَانُ بْنُ أَوْسٍ وَكَانَ اشْتَكَى رُكْبَتَهُ، وَكَانَ إِذَا سَجَدَ جَعَلَ تَحْتَ رُكْبَتِهِ وِسَادَةً‏.‏
اور مجزاۃ نے اپنے ہی قبیلہ کے ایک صحابی کے متعلق جو بیعت رضوان میں شریک تھے اور جن کا نام اہبان بن اوس رضی اللہ عنہ تھا ‘ نقل کیا کہ ان کے ایک گھٹنے میں تکلیف تھی ‘ اس لیے جب وہ سجدہ کرتے تو اس گھٹنے کے نیچے کوئی نرم تکیہ رکھ لیتے تھے۔
حدیث 4175 — صحيح البخاري 64:217
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ النُّعْمَانِ ـ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ ـ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابُهُ أُتُوا بِسَوِيقٍ فَلاَكُوهُ‏.‏ تَابَعَهُ مُعَاذٌ عَنْ شُعْبَةَ‏.‏
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابن ابی عدی نے ‘ ان سے شعبہ نے ان سے یحییٰ بن سعید نے ‘ ان سے بشیر بن یسار نے اور ان سے سوید بن نعمان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ‘ وہ بیعت رضوان میں شریک تھے کہ گویا اب بھی وہ منظر میری آنکھوں کے سامنے ہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے سامنے ستو لایا گیا۔ جسے ان حضرات نے پیا۔ اس روایت کی متابعت معاذ نے شعبہ سے کی ہے۔
حدیث 4176 — صحيح البخاري 64:218
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا شَاذَانُ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، قَالَ سَأَلْتُ عَائِذَ بْنَ عَمْرٍو ـ رضى الله عنه ـ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ هَلْ يُنْقَضُ الْوِتْرُ قَالَ إِذَا أَوْتَرْتَ مِنْ أَوَّلِهِ، فَلاَ تُوتِرْ مِنْ آخِرِهِ‏.‏
ہم سے محمد بن حاتم بن زریع نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شاذان (اسود بن عامر) نے ‘ ان سے شعبہ نے ‘ ان سے ابوحمزہ نے بیان کیا کہ انہوں نے عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے پوچھا: وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے اور بیعت رضوان میں شریک تھے کہ کیا وتر کی نماز ( ایک رکعت اور پڑھ کر ) توڑی جا سکتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ اگر شروع رات میں تو نے وتر پڑھ لیا ہو تو آخر رات میں نہ پڑھو۔
حدیث 4177 — صحيح البخاري 64:219
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَسِيرُ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَسِيرُ مَعَهُ لَيْلاً، فَسَأَلَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَنْ شَىْءٍ فَلَمْ يُجِبْهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ سَأَلَهُ فَلَمْ يُجِبْهُ، ثُمَّ سَأَلَهُ فَلَمْ يُجِبْهُ وَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ يَا عُمَرُ، نَزَرْتَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثَلاَثَ مَرَّاتٍ، كُلُّ ذَلِكَ لاَ يُجِيبُكَ‏.‏ قَالَ عُمَرُ فَحَرَّكْتُ بَعِيرِي ثُمَّ تَقَدَّمْتُ أَمَامَ الْمُسْلِمِينَ، وَخَشِيتُ أَنْ يَنْزِلَ فِيَّ قُرْآنٌ، فَمَا نَشِبْتُ أَنْ سَمِعْتُ صَارِخًا يَصْرُخُ بِي ـ قَالَ ـ فَقُلْتُ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ يَكُونَ نَزَلَ فِيَّ قُرْآنٌ‏.‏ وَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ ‏"‏ لَقَدْ أُنْزِلَتْ عَلَىَّ اللَّيْلَةَ سُورَةٌ لَهِيَ أَحَبُّ إِلَىَّ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ، ثُمَّ قَرَأَ ‏{‏إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا‏}‏‏.‏‏"‏
مجھ سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی ‘ انہیں زید بن اسلم نے اور انہیں ان کے والد اسلم نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی سفر یعنی ( سفر حدیبیہ ) میں تھے، رات کا وقت تھا اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ آپ کے ساتھ ساتھ تھے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے آپ سے کچھ پوچھا لیکن ( اس وقت آپ وحی میں مشغول تھے ‘ عمر رضی اللہ عنہ کو خبر نہ تھی ) آپ نے کوئی جواب نہیں دیا۔ انہوں نے پھر پوچھا ‘ آپ نے پھر کوئی جواب نہیں دیا۔ انہوں نے پھر پوچھا ‘ آپ نے اس مرتبہ بھی کوئی جواب نہیں دیا۔ اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے ( اپنے دل میں ) کہا: عمر! تیری ماں تجھ پر روئے ‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تم نے تین مرتبہ سوال کیا ‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں ایک مرتبہ بھی جواب نہیں دیا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر میں نے اپنے اونٹ کو ایڑ لگائی اور مسلمانوں سے آگے نکل گیا۔ مجھے ڈر تھا کہ کہیں میرے بارے میں کوئی وحی نہ نازل ہو جائے۔ ابھی تھوڑی دیر ہوئی تھی کہ میں نے سنا ‘ ایک شخص مجھے آواز دے رہا تھا۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے سوچا کہ میں تو پہلے ہی ڈر رہا تھا کہ میرے بارے میں کہیں کوئی وحی نازل نہ ہو جائے۔ پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو سلام کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رات مجھ پر ایک سورت نازل ہوئی ہے اور وہ مجھے اس تمام کائنات سے زیادہ عزیز ہے جس پر سورج طلوع ہوتا ہے۔ پھر آپ نے سورۃ «إنا فتحنا لك فتحا مبينا‏» ”بیشک ہم نے آپ کو کھلی ہوئی فتح دی ہے۔“ کی تلاوت فرمائی۔
حدیث 4178 — صحيح البخاري #4178
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، حِينَ حَدَّثَ هَذَا الْحَدِيثَ،، حَفِظْتُ بَعْضَهُ، وَثَبَّتَنِي مَعْمَرٌ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، وَمَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، يَزِيدُ أَحَدُهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ قَالاَ خَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي بِضْعَ عَشْرَةَ مِائَةً مِنْ أَصْحَابِهِ، فَلَمَّا أَتَى ذَا الْحُلَيْفَةِ قَلَّدَ الْهَدْىَ، وَأَشْعَرَهُ، وَأَحْرَمَ مِنْهَا بِعُمْرَةٍ، وَبَعَثَ عَيْنًا لَهُ مِنْ خُزَاعَةَ، وَسَارَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى كَانَ بِغَدِيرِ الأَشْطَاطِ، أَتَاهُ عَيْنُهُ قَالَ إِنَّ قُرَيْشًا جَمَعُوا لَكَ جُمُوعًا، وَقَدْ جَمَعُوا لَكَ الأَحَابِيشَ، وَهُمْ مُقَاتِلُوكَ وَصَادُّوكَ عَنِ الْبَيْتِ وَمَانِعُوكَ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ أَشِيرُوا أَيُّهَا النَّاسُ عَلَىَّ، أَتَرَوْنَ أَنْ أَمِيلَ إِلَى عِيَالِهِمْ وَذَرَارِيِّ هَؤُلاَءِ الَّذِينَ يُرِيدُونَ أَنْ يَصُدُّونَا عَنِ الْبَيْتِ، فَإِنْ يَأْتُونَا كَانَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ قَطَعَ عَيْنًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، وَإِلاَّ تَرَكْنَاهُمْ مَحْرُوبِينَ ‏"‏‏.‏ قَالَ أَبُو بَكْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ، خَرَجْتَ عَامِدًا لِهَذَا الْبَيْتِ، لاَ تُرِيدُ قَتْلَ أَحَدٍ وَلاَ حَرْبَ أَحَدٍ، فَتَوَجَّهْ لَهُ، فَمَنْ صَدَّنَا عَنْهُ قَاتَلْنَاهُ‏.‏ قَالَ ‏"‏ امْضُوا عَلَى اسْمِ اللَّهِ ‏"‏‏.‏
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، حِينَ حَدَّثَ هَذَا الْحَدِيثَ،، حَفِظْتُ بَعْضَهُ، وَثَبَّتَنِي مَعْمَرٌ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، وَمَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، يَزِيدُ أَحَدُهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ قَالاَ خَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي بِضْعَ عَشْرَةَ مِائَةً مِنْ أَصْحَابِهِ، فَلَمَّا أَتَى ذَا الْحُلَيْفَةِ قَلَّدَ الْهَدْىَ، وَأَشْعَرَهُ، وَأَحْرَمَ مِنْهَا بِعُمْرَةٍ، وَبَعَثَ عَيْنًا لَهُ مِنْ خُزَاعَةَ، وَسَارَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى كَانَ بِغَدِيرِ الأَشْطَاطِ، أَتَاهُ عَيْنُهُ قَالَ إِنَّ قُرَيْشًا جَمَعُوا لَكَ جُمُوعًا، وَقَدْ جَمَعُوا لَكَ الأَحَابِيشَ، وَهُمْ مُقَاتِلُوكَ وَصَادُّوكَ عَنِ الْبَيْتِ وَمَانِعُوكَ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ أَشِيرُوا أَيُّهَا النَّاسُ عَلَىَّ، أَتَرَوْنَ أَنْ أَمِيلَ إِلَى عِيَالِهِمْ وَذَرَارِيِّ هَؤُلاَءِ الَّذِينَ يُرِيدُونَ أَنْ يَصُدُّونَا عَنِ الْبَيْتِ، فَإِنْ يَأْتُونَا كَانَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ قَطَعَ عَيْنًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، وَإِلاَّ تَرَكْنَاهُمْ مَحْرُوبِينَ ‏"‏‏.‏ قَالَ أَبُو بَكْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ، خَرَجْتَ عَامِدًا لِهَذَا الْبَيْتِ، لاَ تُرِيدُ قَتْلَ أَحَدٍ وَلاَ حَرْبَ أَحَدٍ، فَتَوَجَّهْ لَهُ، فَمَنْ صَدَّنَا عَنْهُ قَاتَلْنَاهُ‏.‏ قَالَ ‏"‏ امْضُوا عَلَى اسْمِ اللَّهِ ‏"‏‏.‏
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔