قرآني·Qurani
اردو

المغازي

525 احادیث · #3949–4473

حدیث 4269 — صحيح البخاري 64:303
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو ظَبْيَانَ، قَالَ سَمِعْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ ـ رضى الله عنهما ـ يَقُولُ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى الْحُرَقَةِ، فَصَبَّحْنَا الْقَوْمَ فَهَزَمْنَاهُمْ وَلَحِقْتُ أَنَا وَرَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ رَجُلاً مِنْهُمْ، فَلَمَّا غَشِينَاهُ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ‏.‏ فَكَفَّ الأَنْصَارِيُّ، فَطَعَنْتُهُ بِرُمْحِي حَتَّى قَتَلْتُهُ، فَلَمَّا قَدِمْنَا بَلَغَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ يَا أُسَامَةُ أَقَتَلْتَهُ بَعْدَ مَا قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ ‏"‏ قُلْتُ كَانَ مُتَعَوِّذًا‏.‏ فَمَا زَالَ يُكَرِّرُهَا حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ أَسْلَمْتُ قَبْلَ ذَلِكَ الْيَوْمِ‏.‏
مجھ سے عمرو بن محمد بغدادی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا ‘ انہیں حصین نے خبر دی ‘ انہیں ابوظبیان حصین بن جندب نے ‘ کہا کہ میں نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ حرقہ کی طرف بھیجا۔ ہم نے صبح کے وقت ان پر حملہ کیا اور انہیں شکست دے دی ‘ پھر میں اور ایک اور انصاری صحابی اس قبیلہ کے ایک شخص ( مرداس بن عمر نامی ) سے بھڑ گئے۔ جب ہم نے اس پر غلبہ پا لیا تو وہ لا الہٰ الا اللہ کہنے لگا۔ انصاری تو فوراً ہی رک گیا لیکن میں نے اسے اپنے برچھے سے قتل کر دیا۔ جب ہم لوٹے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اس کی خبر ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ اسامہ کیا اس کے لا الہٰ الا اللہ کہنے کے باوجود تم نے اسے قتل کر دیا؟ میں نے عرض کیا کہ وہ قتل سے بچنا چاہتا تھا ( اس نے یہ کلمہ دل سے نہیں پڑھا تھا ) ۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم باربار یہی فرماتے رہے ( کیا تم نے اس کے لا الہٰ الا اللہ کہنے پر بھی اسے قتل کر دیا ) کہ میرے دل میں یہ آرزو پیدا ہوئی کہ کاش میں آج سے پہلے اسلام نہ لاتا۔
حدیث 4270 — صحيح البخاري 64:304
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، قَالَ سَمِعْتُ سَلَمَةَ بْنَ الأَكْوَعِ، يَقُولُ غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم سَبْعَ غَزَوَاتٍ، وَخَرَجْتُ فِيمَا يَبْعَثُ مِنَ الْبُعُوثِ تِسْعَ غَزَوَاتٍ، مَرَّةً عَلَيْنَا أَبُو بَكْرٍ، وَمَرَّةً عَلَيْنَا أُسَامَةُ‏.‏
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حاتم بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ ان سے یزید بن ابی عبید نے بیان کیا اور انہوں نے سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ وہ بیان کرتے تھے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سات غزووں میں شریک رہا ہوں اور نو ایسے لشکروں میں شریک ہوا ہوں جو آپ نے روانہ کئے تھے۔ ( مگر آپ خود ان میں نہیں گئے ) کبھی ہم پر ابوبکر رضی اللہ عنہ امیر ہوئے اور کسی فوج کے امیر اسامہ رضی اللہ عنہ ہوئے۔
حدیث 4271 — صحيح البخاري 64:305
وَقَالَ عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، قَالَ سَمِعْتُ سَلَمَةَ، يَقُولُ غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم سَبْعَ غَزَوَاتٍ، وَخَرَجْتُ فِيمَا يَبْعَثُ مِنَ الْبَعْثِ تِسْعَ غَزَوَاتٍ، عَلَيْنَا مَرَّةً أَبُو بَكْرٍ، وَمَرَّةً أُسَامَةُ‏.‏
اور عمر بن حفص بن غیاث نے (جو امام بخاری رحمہ اللہ کے شیخ ہیں) بیان کیا کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا ‘ ان سے یزید بن ابی عبید نے بیان کیا اور انہوں نے سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ وہ بیان کرتے تھے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سات غزووں میں شریک رہا ہوں اور نو ایسی لڑائیوں میں گیا ہوں جن کو خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا تھا۔ کبھی ہمارے امیر ابوبکر رضی اللہ عنہ ہوتے اور کبھی اسامہ رضی اللہ عنہ ہوتے۔
حدیث 4272 — صحيح البخاري 64:306
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم سَبْعَ غَزَوَاتٍ، وَغَزَوْتُ مَعَ ابْنِ حَارِثَةَ اسْتَعْمَلَهُ عَلَيْنَا‏.‏
ہم سے ابوعاصم الضحاک بن مخلد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یزید بن ابی عبید نے بیان کیا ‘ ان سے سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سات غزووں میں شریک رہا ہوں اور میں نے ابن حارثہ ( یعنی اسامہ رضی اللہ عنہ ) کے ساتھ بھی غزوہ کیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہم پر امیر بنایا تھا۔
حدیث 4273 — صحيح البخاري 64:307
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ، قَالَ غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم سَبْعَ غَزَوَاتٍ‏.‏ فَذَكَرَ خَيْبَرَ وَالْحُدَيْبِيَةَ وَيَوْمَ حُنَيْنٍ وَيَوْمَ الْقَرَدِ‏.‏ قَالَ يَزِيدُ وَنَسِيتُ بَقِيَّتَهُمْ‏.‏
ہم سے محمد بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حماد بن مسعدہ نے بیان کیا ‘ ان سے یزید بن ابی عبید نے اور ان سے سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سات غزوے کئے۔ اس سلسلہ میں انہوں نے غزوہ خیبر ‘ غزوہ حدیبیہ ‘ غزوہ حنین اور غزوہ ذات القرد کا ذکر کیا۔ یزید نے کہا کہ باقی غزووں کے نام میں بھول گیا۔
حدیث 4274 — صحيح البخاري 64:308
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي رَافِعٍ، يَقُولُ سَمِعْتُ عَلِيًّا ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَا وَالزُّبَيْرَ وَالْمِقْدَادَ فَقَالَ ‏"‏ انْطَلِقُوا حَتَّى تَأْتُوا رَوْضَةَ خَاخٍ، فَإِنَّ بِهَا ظَعِينَةً مَعَهَا كِتَابٌ، فَخُذُوا مِنْهَا ‏"‏‏.‏ قَالَ فَانْطَلَقْنَا تَعَادَى بِنَا خَيْلُنَا حَتَّى أَتَيْنَا الرَّوْضَةَ، فَإِذَا نَحْنُ بِالظَّعِينَةِ قُلْنَا لَهَا أَخْرِجِي الْكِتَابَ‏.‏ قَالَتْ مَا مَعِي كِتَابٌ‏.‏ فَقُلْنَا لَتُخْرِجِنَّ الْكِتَابَ أَوْ لَنُلْقِيَنَّ الثِّيَابَ، قَالَ فَأَخْرَجَتْهُ مِنْ عِقَاصِهَا، فَأَتَيْنَا بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَإِذَا فِيهِ مِنْ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ إِلَى نَاسٍ بِمَكَّةَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، يُخْبِرُهُمْ بِبَعْضِ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَا حَاطِبُ مَا هَذَا ‏"‏‏.‏ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لاَ تَعْجَلْ عَلَىَّ، إِنِّي كُنْتُ امْرَأً مُلْصَقًا فِي قُرَيْشٍ ـ يَقُولُ كُنْتُ حَلِيفًا وَلَمْ أَكُنْ مِنْ أَنْفُسِهَا ـ وَكَانَ مَنْ مَعَكَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ مَنْ لَهُمْ قَرَابَاتٌ، يَحْمُونَ أَهْلِيهِمْ وَأَمْوَالَهُمْ، فَأَحْبَبْتُ إِذْ فَاتَنِي ذَلِكَ مِنَ النَّسَبِ فِيهِمْ أَنْ أَتَّخِذَ عِنْدَهُمْ يَدًا يَحْمُونَ قَرَابَتِي، وَلَمْ أَفْعَلْهُ ارْتِدَادًا عَنْ دِينِي، وَلاَ رِضًا بِالْكُفْرِ بَعْدَ الإِسْلاَمِ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَمَا إِنَّهُ قَدْ صَدَقَكُمْ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ دَعْنِي أَضْرِبْ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّهُ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا، وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللَّهَ اطَّلَعَ عَلَى مَنْ شَهِدَ بَدْرًا قَالَ اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ ‏"‏‏.‏ فَأَنْزَلَ اللَّهُ السُّورَةَ ‏{‏يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ تُلْقُونَ إِلَيْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ‏}‏ إِلَى قَوْلِهِ ‏{‏فَقَدْ ضَلَّ سَوَاءَ السَّبِيلِ ‏}‏‏.‏
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا ‘ انہیں حسن بن محمد بن علی نے خبر دی اور انہوں نے عبیداللہ بن رافع سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ مجھے، زبیر اور مقداد رضی اللہ عنہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روانہ کیا اور ہدایت کی کہ ( مکہ کے راستے پر ) چلے جانا جب تم مقام روضہ خاخ پر پہنچو تو وہاں تمہیں ہودج میں ایک عورت ملے گی۔ وہ ایک خط لیے ہوئے ہے ‘ تم اس سے وہ لے لینا۔ انہوں نے کہا کہ ہم روانہ ہوئے۔ ہمارے گھوڑے ہمیں تیزی کے ساتھ لیے جا رہے تھے۔ جب ہم روضہ خاخ پر پہنچے تو واقعی وہاں ہمیں ایک عورت ہودج میں سوار ملی ( جس کا نام سارا یا کناد ہے ) ہم نے اس سے کہا کہ خط نکال۔ وہ کہنے لگی کہ میرے پاس تو کوئی خط نہیں ہے لیکن جب ہم نے اس سے یہ کہا کہ اگر تو نے خود سے خط نکال کر ہمیں نہیں دیا تو ہم تیرا کپڑا اتار کر ( تلاشی لیں گے ) تب اس نے اپنی چوٹی میں سے وہ خط نکالا۔ ہم وہ خط لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں واپس ہوئے۔ اس میں یہ لکھا تھا کہ حاطب بن ابی بلتعہ کی طرف سے چند مشرکین مکہ کے نام ( صفوان بن امیہ اور سہیل بن عمرو اور عکرمہ بن ابوجہل ) پھر انہوں نے اس میں مشرکین کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض بھیدوں کی خبر بھی دی تھی۔ ( آپ فوج لے کر آنا چاہتے ہیں ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ اے حاطب! تو نے یہ کیا کیا؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میرے بارے میں فیصلہ کرنے میں آپ جلدی نہ فرمائیں ‘ میں اس کی وجہ عرض کرتا ہوں۔ بات یہ ہے کہ میں دوسرے مہاجرین کی طرح قریش کے خاندان سے نہیں ہوں ‘ صرف ان کا حلیف بن کر ان سے جڑ گیا ہوں اور دوسرے مہاجرین کے وہاں عزیز و اقرباء ہیں جو ان کے گھر بار مال و اسباب کی نگرانی کرتے ہیں۔ میں نے چاہا کہ خیر جب میں خاندان کی رو سے ان کا شریک نہیں ہوں تو کچھ احسان ہی ان پر ایسا کر دوں جس کے خیال سے وہ میرے کنبہ والوں کو نہ ستائیں۔ میں نے یہ کام اپنے دین سے پھر کر نہیں کیا اور نہ اسلام لانے کے بعد میرے دل میں کفر کی حمایت کا جذبہ ہے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ واقعی انہوں نے تمہارے سامنے سچی بات کہہ دی ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اجازت ہو تو میں اس منافق کی گردن اڑا دوں لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ غزوہ بدر میں شریک رہے ہیں اور تمہیں کیا معلوم اللہ تعالیٰ جو غزوہ بدر میں شریک ہونے والوں کے کام سے واقف ہے سورۃ الممتحنہ میں اس نے ان کے متعلق خود فرما دیا ہے کہ ”جو چاہو کرو میں نے تمہارے گناہ معاف کر دیئے“ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «يا أيها الذين آمنوا لا تتخذوا عدوي وعدوكم أولياء تلقون إليهم بالمودة‏» ”اے وہ لوگو جو ایمان لا چکے ہو! میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ کہ ان سے تم اپنی محبت کا اظہار کرتے رہو۔ آیت «فقد ضل سواء السبيل» تک۔
حدیث 4275 — صحيح البخاري 64:309
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَزَا غَزْوَةَ الْفَتْحِ فِي رَمَضَانَ‏.‏ قَالَ وَسَمِعْتُ ابْنَ الْمُسَيَّبِ يَقُولُ مِثْلَ ذَلِكَ‏.‏ وَعَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسِ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى إِذَا بَلَغَ الْكَدِيدَ ـ الْمَاءَ الَّذِي بَيْنَ قُدَيْدٍ وَعُسْفَانَ ـ أَفْطَرَ، فَلَمْ يَزَلْ مُفْطِرًا حَتَّى انْسَلَخَ الشَّهْرُ‏.‏
ہم سے عبداللہ بن یوسف تینسی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے لیث بن مسعود نے ‘ کہا کہ مجھ سے عقیل بن خالد نے بیان کیا ‘ ان سے ابن شہاب نے ‘ کہا کہ مجھے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی اور انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ فتح مکہ رمضان میں کیا تھا۔ زہری نے ابن سعد سے بیان کیا کہ میں نے سعید بن مسیب سے سنا کہ وہ بھی اسی طرح بیان کرتے تھے۔ زہری نے عبیداللہ سے روایت کیا ‘ ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ( غزوہ فتح کے سفر میں جاتے ہوئے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے تھے لیکن جب آپ مقام کدید پہنچے ‘ جو قدید اور عسفان کے درمیان ایک چشمہ ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ توڑ دیا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ نہیں رکھا یہاں تک کہ رمضان کا مہینہ ختم ہو گیا۔
حدیث 4276 — صحيح البخاري 64:310
حَدَّثَنِي مَحْمُودٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنِي مَعْمَرٌ، قَالَ أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ فِي رَمَضَانَ مِنَ الْمَدِينَةِ، وَمَعَهُ عَشَرَةُ آلاَفٍ، وَذَلِكَ عَلَى رَأْسِ ثَمَانِ سِنِينَ وَنِصْفٍ مِنْ مَقْدَمِهِ الْمَدِينَةَ، فَسَارَ هُوَ وَمَنْ مَعَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَى مَكَّةَ، يَصُومُ وَيَصُومُونَ حَتَّى بَلَغَ الْكَدِيدَ ـ وَهْوَ مَاءٌ بَيْنَ عُسْفَانَ وَقُدَيْدٍ ـ أَفْطَرَ وَأَفْطَرُوا‏.‏ قَالَ الزُّهْرِيُّ وَإِنَّمَا يُؤْخَذُ مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الآخِرُ فَالآخِرُ‏.‏
مجھ سے محمود بن غیلان نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو عبدالرزاق نے خبر دی ‘ کہا ہم کو معمر نے خبر دی ‘ کہا مجھے زہری نے خبر دی ‘ انہیں عبیداللہ بن عبداللہ اور انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( فتح کے لیے ) مدینہ سے روانہ ہوئے۔ آپ کے ساتھ ( دس یا بارہ ہزار کا ) لشکر تھا۔ اس وقت آپ کو مدینہ میں تشریف لائے ساڑھے آٹھ سال پورے ہونے والے تھے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھ جو مسلمان تھے مکہ کے لیے روانہ ہوئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی روزے سے تھے اور تمام مسلمان بھی ‘ لیکن جب آپ مقام کدید پر پہنچے جو قدید اور عسفان کے درمیان ایک چشمہ ہے تو آپ نے روزہ توڑ دیا اور آپ کے ساتھ مسلمانوں نے بھی روزہ توڑ دیا۔ زہری نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے آخری عمل پر ہی عمل کیا جائے گا۔
حدیث 4277 — صحيح البخاري 64:311
حَدَّثَنِي عَيَّاشُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ خَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي رَمَضَانَ إِلَى حُنَيْنٍ، وَالنَّاسُ مُخْتَلِفُونَ فَصَائِمٌ وَمُفْطِرٌ، فَلَمَّا اسْتَوَى عَلَى رَاحِلَتِهِ دَعَا بِإِنَاءٍ مِنْ لَبَنٍ أَوْ مَاءٍ، فَوَضَعَهُ عَلَى رَاحَتِهِ أَوْ عَلَى رَاحِلَتِهِ، ثُمَّ نَظَرَ إِلَى النَّاسِ فَقَالَ الْمُفْطِرُونَ لِلصُّوَّامِ أَفْطِرُوا‏.‏
مجھ سے عیاش بن ولید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالاعلیٰ نے بیان کیا ‘ ان سے خالد نے بیان کیا ‘ ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں حنین کی طرف تشریف لے گئے۔ مسلمانوں میں بعض حضرات تو روزے سے تھے اور بعض نے روزہ نہیں رکھا تھا لیکن جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر پوری طرح بیٹھ گئے تو آپ نے برتن میں دودھ یا پانی طلب فرمایا اور اسے اپنی اونٹنی پر یا اپنی ہتھیلی پر رکھا ( اور پھر پی لیا ) پھر آپ نے لوگوں کو دیکھا تو جن لوگوں نے پہلے سے روزہ نہیں رکھا تھا ‘ انہوں نے روزہ داروں سے کہا کہ اب روزہ توڑ لو۔
حدیث 4278 — صحيح البخاري 64:312
وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ خَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَامَ الْفَتْحِ‏.‏ وَقَالَ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏
اور عبدالرزاق نے کہا ہم کو معمر نے خبر دی ‘ انہیں ایوب نے ‘ انہیں عکرمہ نے اور انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا۔ اور حماد نے ایوب سے روایت کیا ‘ انہوں نے عکرمہ سے ‘ انہوں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔