قرآني·Qurani
اردو

الوضوء

113 احادیث · #135–247

حدیث 195 — صحيح البخاري 4:61
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُنِيرٍ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بَكْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ حَضَرَتِ الصَّلاَةُ، فَقَامَ مَنْ كَانَ قَرِيبَ الدَّارِ إِلَى أَهْلِهِ، وَبَقِيَ قَوْمٌ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمِخْضَبٍ مِنْ حِجَارَةٍ فِيهِ مَاءٌ، فَصَغُرَ الْمِخْضَبُ أَنْ يَبْسُطَ فِيهِ كَفَّهُ، فَتَوَضَّأَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ‏.‏ قُلْنَا كَمْ كُنْتُمْ قَالَ ثَمَانِينَ وَزِيَادَةً‏.‏
ہم سے عبداللہ بن منیر نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن بکر سے سنا، کہا ہم کو حمید نے یہ حدیث بیان کی۔ انہوں نے انس سے نقل کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ ( ایک مرتبہ ) نماز کا وقت آ گیا، تو جس شخص کا مکان قریب ہی تھا وہ وضو کرنے اپنے گھر چلا گیا اور کچھ لوگ ( جن کے مکان دور تھے ) رہ گئے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پتھر کا ایک لگن لایا گیا۔ جس میں کچھ پانی تھا اور وہ اتنا چھوٹا تھا کہ آپ اس میں اپنی ہتھیلی نہیں پھیلا سکتے تھے۔ ( مگر ) سب نے اس برتن کے پانی سے وضو کر لیا، ہم نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ تم کتنے نفر تھے؟ کہا اسی ( 80 ) سے کچھ زیادہ ہی تھے۔
حدیث 196 — صحيح البخاري 4:62
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم دَعَا بِقَدَحٍ فِيهِ مَاءٌ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ وَوَجْهَهُ فِيهِ وَمَجَّ فِيهِ‏.‏
ہم سے محمد بن العلاء نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابواسامہ نے برید کے واسطے سے بیان کیا، وہ ابوبردہ سے، وہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پیالہ منگایا جس میں پانی تھا۔ پھر اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں اور چہرے کو دھویا اور اسی میں کلی کی۔
حدیث 197 — صحيح البخاري 4:63
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْرَجْنَا لَهُ مَاءً فِي تَوْرٍ مِنْ صُفْرٍ فَتَوَضَّأَ، فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاَثًا وَيَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ فَأَقْبَلَ بِهِ وَأَدْبَرَ، وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ‏.‏
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابی سلمہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن یحییٰ نے اپنے باپ کے واسطے سے بیان کیا، وہ عبداللہ بن زید سے نقل کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( ہمارے گھر ) تشریف لائے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تانبے کے برتن میں پانی نکالا۔ ( اس سے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا۔ تین بار چہرہ دھویا، دو دو بار ہاتھ دھوئے اور سر کا مسح کیا۔ ( اس طرح کہ ) پہلے آگے کی طرف ( ہاتھ ) لائے۔ پھر پیچھے کی جانب لے گئے اور پیر دھوئے۔
حدیث 198 — صحيح البخاري 4:64
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَمَّا ثَقُلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَاشْتَدَّ بِهِ وَجَعُهُ، اسْتَأْذَنَ أَزْوَاجَهُ فِي أَنْ يُمَرَّضَ فِي بَيْتِي، فَأَذِنَّ لَهُ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ رَجُلَيْنِ تَخُطُّ رِجْلاَهُ فِي الأَرْضِ بَيْنَ عَبَّاسٍ وَرَجُلٍ آخَرَ‏.‏ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ فَأَخْبَرْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ أَتَدْرِي مَنِ الرَّجُلُ الآخَرُ قُلْتُ لاَ‏.‏ قَالَ هُوَ عَلِيٌّ‏.‏ وَكَانَتْ عَائِشَةُ ـ رضى الله عنها ـ تُحَدِّثُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ بَعْدَ مَا دَخَلَ بَيْتَهُ وَاشْتَدَّ وَجَعُهُ ‏ "‏ هَرِيقُوا عَلَىَّ مِنْ سَبْعِ قِرَبٍ، لَمْ تُحْلَلْ أَوْكِيَتُهُنَّ، لَعَلِّي أَعْهَدُ إِلَى النَّاسِ ‏"‏‏.‏ وَأُجْلِسَ فِي مِخْضَبٍ لِحَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم، ثُمَّ طَفِقْنَا نَصُبُّ عَلَيْهِ تِلْكَ حَتَّى طَفِقَ يُشِيرُ إِلَيْنَا أَنْ قَدْ فَعَلْتُنَّ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى النَّاسِ‏.‏
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے زہری سے خبر دی، کہا مجھے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی تحقیق عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری زیادہ ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ( دوسری ) بیویوں سے اس بات کی اجازت لے لی کہ آپ کی تیمارداری میرے ہی گھر کی جائے۔ انہوں نے آپ کو اجازت دے دی، ( ایک روز ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو آدمیوں کے درمیان ( سہارا لے کر ) گھر سے نکلے۔ آپ کے پاؤں ( کمزوری کی وجہ سے ) زمین پر گھسٹتے جاتے تھے، عباس رضی اللہ عنہ اور ایک آدمی کے درمیان ( آپ باہر ) نکلے تھے۔ عبیداللہ ( راوی حدیث ) کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو سنائی، تو وہ بولے، تم جانتے ہو دوسرا آدمی کون تھا، میں نے عرض کیا کہ نہیں۔ کہنے لگے وہ علی رضی اللہ عنہ تھے۔ پھر عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی تھیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں داخل ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مرض بڑھ گیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے اوپر ایسی سات مشکوں کا پانی ڈالو، جن کے سربند نہ کھولے گئے ہوں۔ تاکہ میں ( سکون کے بعد ) لوگوں کو کچھ وصیت کروں۔ ( چنانچہ ) آپ کو حفصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ( دوسری ) بیوی کے لگن میں ( جو تانبے کا تھا ) بیٹھا دیا گیا اور ہم نے آپ پر ان مشکوں سے پانی بہانا شروع کیا۔ جب آپ ہم کو اشارہ فرمانے لگے کہ بس اب تم نے اپنا کام پورا کر دیا تو اس کے بعد آپ لوگوں کے پاس باہر تشریف لے گئے۔
حدیث 199 — صحيح البخاري 4:65
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، قَالَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كَانَ عَمِّي يُكْثِرُ مِنَ الْوُضُوءِ، قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ أَخْبِرْنِي كَيْفَ رَأَيْتَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَتَوَضَّأُ فَدَعَا بِتَوْرٍ مِنْ مَاءٍ، فَكَفَأَ عَلَى يَدَيْهِ فَغَسَلَهُمَا ثَلاَثَ مِرَارٍ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي التَّوْرِ، فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ مِنْ غَرْفَةٍ وَاحِدَةٍ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فَاغْتَرَفَ بِهَا فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ غَسَلَ يَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِهِ مَاءً، فَمَسَحَ رَأْسَهُ، فَأَدْبَرَ بِيَدَيْهِ وَأَقْبَلَ ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ، فَقَالَ هَكَذَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَتَوَضَّأُ‏.‏
ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سلیمان نے، کہا مجھ سے عمرو بن یحییٰ نے اپنے باپ (یحییٰ) کے واسطے سے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ میرے چچا بہت زیادہ وضو کیا کرتے تھے ( یا یہ کہ وضو میں بہت پانی بہاتے تھے ) ایک دن انہوں نے عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے کہا کہ مجھے بتلائیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح وضو کیا کرتے تھے۔ انہوں نے پانی کا ایک طشت منگوایا۔ اس کو ( پہلے ) اپنے ہاتھوں پر جھکایا۔ پھر دونوں ہاتھ تین بار دھوئے۔ پھر اپنا ہاتھ طشت میں ڈال کر ( پانی لیا اور ) ایک چلو سے کلی کی اور تین مرتبہ ناک صاف کی۔ پھر اپنے ہاتھوں سے ایک چلو ( پانی ) لیا اور تین بار اپنا چہرہ دھویا۔ پھر کہنیوں تک اپنے دونوں ہاتھ دو دو بار دھوئے۔ پھر ہاتھ میں پانی لے کر اپنے سر کا مسح کیا۔ تو ( پہلے اپنے ہاتھ ) پیچھے لے گئے، پھر آگے کی طرف لائے۔ پھر اپنے دونوں پاؤں دھوئے۔ اور فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح وضو کرتے دیکھا ہے۔
حدیث 200 — صحيح البخاري 4:66
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم دَعَا بِإِنَاءٍ مِنْ مَاءٍ، فَأُتِيَ بِقَدَحٍ رَحْرَاحٍ فِيهِ شَىْءٌ مِنْ مَاءٍ، فَوَضَعَ أَصَابِعَهُ فِيهِ‏.‏ قَالَ أَنَسٌ فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَى الْمَاءِ يَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ، قَالَ أَنَسٌ فَحَزَرْتُ مَنْ تَوَضَّأَ مَا بَيْنَ السَّبْعِينَ إِلَى الثَّمَانِينَ‏.‏
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد نے، وہ ثابت سے، وہ انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کا ایک برتن طلب فرمایا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک چوڑے منہ کا پیالہ لایا گیا جس میں کچھ تھوڑا پانی تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیاں اس میں ڈال دیں۔ انس کہتے ہیں کہ میں پانی کی طرف دیکھنے لگا۔ پانی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان سے پھوٹ رہا تھا۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس ( ایک پیالہ ) پانی سے جن لوگوں نے وضو کیا، وہ ستر ( 70 ) سے اسی ( 80 ) تک تھے۔
حدیث 201 — صحيح البخاري 4:67
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ جَبْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَغْسِلُ ـ أَوْ كَانَ يَغْتَسِلُ ـ بِالصَّاعِ إِلَى خَمْسَةِ أَمْدَادٍ، وَيَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ‏.‏
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے مسعر نے، کہا مجھ سے ابن جبیر نے، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب دھوتے یا ( یہ کہا کہ ) جب نہاتے تو ایک صاع سے لے کر پانچ مد تک ( پانی استعمال فرماتے تھے ) اور جب وضو فرماتے تو ایک مد ( پانی ) سے۔
حدیث 202 — صحيح البخاري 4:68
حَدَّثَنَا أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ الْمِصْرِيُّ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عَمْرٌو، حَدَّثَنِي أَبُو النَّضْرِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ مَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ‏.‏ وَأَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ سَأَلَ عُمَرَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ نَعَمْ إِذَا حَدَّثَكَ شَيْئًا سَعْدٌ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَلاَ تَسْأَلْ عَنْهُ غَيْرَهُ‏.‏ وَقَالَ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ سَعْدًا حَدَّثَهُ فَقَالَ عُمَرُ لِعَبْدِ اللَّهِ‏.‏ نَحْوَهُ‏.‏
ہم سے اصبغ ابن الفرج نے بیان کیا، وہ ابن وہب سے کرتے ہیں، کہا مجھ سے عمرو نے بیان کیا، کہا مجھ سے ابوالنضر نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کے واسطے سے نقل کیا، وہ عبداللہ بن عمر سے، وہ سعد بن ابی وقاص سے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں پر مسح کیا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے والد ماجد عمر رضی اللہ عنہ سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا ( سچ ہے اور یاد رکھو ) جب تم سے سعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث بیان فرمائیں۔ تو اس کے متعلق ان کے سوا ( کسی ) دوسرے آدمی سے مت پوچھو اور موسیٰ بن عقبہ کہتے ہیں کہ مجھے ابوالنضر نے بتلایا، انہیں ابوسلمہ نے خبر دی کہ سعد بن ابی وقاص نے ان سے ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ ) حدیث بیان کی۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے ( اپنے بیٹے ) عبداللہ سے ایسا کہا۔
حدیث 203 — صحيح البخاري 4:69
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ أَبِيهِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ خَرَجَ لِحَاجَتِهِ فَاتَّبَعَهُ الْمُغِيرَةُ بِإِدَاوَةٍ فِيهَا مَاءٌ، فَصَبَّ عَلَيْهِ حِينَ فَرَغَ مِنْ حَاجَتِهِ، فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ‏.‏
ہم سے عمرو بن خالد الحرانی نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے یحییٰ بن سعید کے واسطے سے نقل کیا، وہ سعد بن ابراہیم سے، وہ نافع بن جبیر سے وہ عروہ ابن المغیرہ سے وہ اپنے باپ مغیرہ بن شعبہ سے روایت کرتے ہیں وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں۔ ( ایک دفعہ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم رفع حاجت کے لیے باہر گئے تو مغیرہ پانی کا ایک برتن لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے گئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم قضاء حاجت سے فارغ ہو گئے تو مغیرہ نے ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کراتے ہوئے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( کے اعضاء مبارکہ ) پر پانی ڈالا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور موزوں پر مسح فرمایا۔
حدیث 204 — صحيح البخاري 4:70
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ، أَنَّ أَبَاهُ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، رَأَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ‏.‏ وَتَابَعَهُ حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ وَأَبَانُ عَنْ يَحْيَى‏.‏
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبان نے یحییٰ کے واسطے سے نقل کیا، وہ ابوسلمہ سے، انہوں نے جعفر بن عمرو بن امیہ الضمری سے نقل کیا، انہیں ان کے باپ نے خبر دی کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا۔ اس حدیث کی متابعت میں حرب اور ابان نے یحییٰ سے حدیث نقل کی ہے۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔