عبداللہ بن موہب کہتے ہیں کہ عثمان رضی الله عنہ نے ابن عمر رضی الله عنہما سے کہا: جاؤ ( قاضی بن کر ) لوگوں کے درمیان فیصلے کرو، انہوں نے کہا: امیر المؤمنین! کیا آپ مجھے معاف رکھیں گے، عثمان رضی الله عنہ نے کہا: ”تم اسے کیوں برا سمجھتے ہو، تمہارے باپ تو فیصلے کیا کرتے تھے؟“ اس پر انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”جو قاضی ہوا اور اس نے عدل انصاف کے ساتھ فیصلے کئے تو لائق ہے کہ وہ اس سے برابر سرابر چھوٹ جائے“ ( یعنی نہ ثواب کا مستحق ہو نہ عقاب کا ) ، اس کے بعد میں ( بھلائی کی ) کیا امید رکھوں، حدیث میں ایک قصہ بھی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث غریب ہے، میرے نزدیک اس کی سند متصل نہیں ہے۔ اور عبدالملک جس سے معتمر نے اسے روایت کیا ہے عبدالملک بن ابی جمیلہ ہیں، ۲- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو قضاء کا مطالبہ کرتا ہے وہ اپنی ذات کے حوالے کر دیا جاتا ہے ( اللہ کی مدد اس کے شامل حال نہیں ہوتی ) اور جس کو جبراً قاضی بنایا جاتا ہے، اللہ اس کے پاس ایک فرشتہ بھیجتا ہے جو اسے راہ راست پر رکھتا ہے“۔
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو قضاء کا طالب ہوتا ہے اور اس کے لیے سفارشی ڈھونڈتا ہے، وہ اپنی ذات کے سپرد کر دیا جاتا ہے، اور جس کو جبراً قاضی بنایا گیا ہے، اللہ اس کے پاس ایک فرشتہ بھیجتا ہے جو اس کو راہ راست پر رکھتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اور یہ اسرائیل کی ( سابقہ ) روایت سے جسے انہوں نے عبدالاعلیٰ سے روایت کی ہے زیادہ صحیح ہے۔
حدیث 1325 — جامع الترمذي 15:5
صحیحصحیححسنحسن
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ وَلِيَ الْقَضَاءَ أَوْ جُعِلَ قَاضِيًا بَيْنَ النَّاسِ فَقَدْ ذُبِحَ بِغَيْرِ سِكِّينٍ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ . وَقَدْ رُوِيَ أَيْضًا مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کو منصب قضاء پر فائز کیا گیا یا جو لوگوں کا قاضی بنایا گیا، ( گویا ) وہ بغیر چھری کے ذبح کیا گیا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس طریق سے حسن غریب ہے، ۲- اور یہ اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی ابوہریرہ سے مروی ہے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب حاکم ( قاضی ) خوب سوچ سمجھ کر فیصلہ کرے اور صحیح بات تک پہنچ جائے تو اس کے لیے دہرا اجر ہے ۱؎ اور جب فیصلہ کرے اور غلط ہو جائے تو ( بھی ) اس کے لیے ایک اجر ہے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں عمرو بن العاص اور عقبہ بن عامر سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- ابوہریرہ کی حدیث اس طریق سے حسن غریب ہے۔ ہم اسے بسند «سفيان الثوري عن يحيى بن سعيد الأنصاري» إلا من حديث «عبدالرزاق عن معمر عن سفيان الثوري» روایت کی ہے۔
حدیث 1327 — جامع الترمذي 15:7
ضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ الثَّقَفِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ رِجَالٍ، مِنْ أَصْحَابِ مُعَاذٍ عَنْ مُعَاذٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ فَقَالَ " كَيْفَ تَقْضِي " . فَقَالَ أَقْضِي بِمَا فِي كِتَابِ اللَّهِ . قَالَ " فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي كِتَابِ اللَّهِ " . قَالَ فَبِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . قَالَ " فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " . قَالَ أَجْتَهِدُ رَأْيِي . قَالَ " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَفَّقَ رَسُولَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " .
معاذ بن جبل رضی الله عنہ کے شاگردوں میں سے کچھ لوگوں سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ کو ( قاضی بنا کر ) یمن بھیجا، تو آپ نے پوچھا: ”تم کیسے فیصلہ کرو گے؟“، انہوں نے کہا: میں اللہ کی کتاب سے فیصلے کروں گا، آپ نے فرمایا: ”اگر ( اس کا حکم ) اللہ کی کتاب ( قرآن ) میں موجود نہ ہو تو؟“ معاذ نے کہا: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے فیصلے کروں گا، آپ نے فرمایا: ”اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں بھی ( اس کا حکم ) موجود نہ ہو تو؟“، معاذ نے کہا: ( تب ) میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا۔ آپ نے فرمایا: ”اللہ کا شکر ہے جس نے اللہ کے رسول کے قاصد کو ( صواب کی ) توفیق بخشی“۔
اس سند سے بھی معاذ سے اسی طرح کی حدیث مرفوعاً مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کو ہم صرف اسی طریق سے جانتے ہیں، ۲- اور اس کی سند میرے نزدیک متصل نہیں ہے، ۳- ابو عون ثقفی کا نام محمد بن عبیداللہ ہے۔
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب اور بیٹھنے میں اس کے سب سے قریب عادل حکمراں ہو گا، اور اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ اور اس سے سب سے دور بیٹھنے والا ظالم حکمراں ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابو سعید خدری رضی الله عنہ کی حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی طریق سے جانتے ہیں، ۲- اس باب میں عبداللہ بن ابی اوفی رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
عبداللہ بن ابی اوفی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ قاضی کے ساتھ ہوتا ہے ۱؎ جب تک وہ ظلم نہیں کرتا، اور جب وہ ظلم کرتا ہے تو وہ اسے چھوڑ کر الگ ہو جاتا ہے۔ اور اس سے شیطان چمٹ جاتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اس کو صرف عمران بن قطان کی روایت سے جانتے ہیں۔
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تمہارے پاس دو آدمی فیصلہ کے لیے آئیں تو تم پہلے کے حق میں فیصلہ نہ کرو جب تک کہ دوسرے کی بات نہ سن لو ۱؎ عنقریب تم جان لو گے کہ تم کیسے فیصلہ کرو“۔ علی رضی الله عنہ کہتے ہیں: اس کے بعد میں برابر فیصلے کرتا رہا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔