قرآني·Qurani
اردو

الأطعمة

73 احادیث · #1788–1860

حدیث 1828 — جامع الترمذي 25:44
ضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ الأَعْرَجُ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُمَرَ بْنِ سَفِينَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ أَكَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَحْمَ حُبَارَى ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ سَفِينَةَ رَوَى عَنْهُ ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ وَيُقَالُ بُرَيْهُ بْنُ عُمَرَ بْنِ سَفِينَةَ ‏.‏
سفینہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حباری کا گوشت کھایا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۳- ابراہیم بن عمر بن سفینہ سے ابن ابی فدیک نے بھی روایت کی ہے، انہیں برید بن عمر بن سفینہ بھی کہا گیا ہے۔
حدیث 1829 — جامع الترمذي 25:45
صحیحصحیححسن SahihIsnaad Sahih
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا، قَرَّبَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَنْبًا مَشْوِيًّا فَأَكَلَ مِنْهُ ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلاَةِ وَمَا تَوَضَّأَ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ وَالْمُغِيرَةِ وَأَبِي رَافِعٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھنی دست پیش کی، آپ نے اس میں سے تناول فرمایا، پھر نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور وضو نہیں کیا۔ امام ترمذی کہتے: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن حارث، مغیرہ اور ابورافع رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدیث 1830 — جامع الترمذي 25:46
صحیحصحیححسن Sahihصحیح
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الأَقْمَرِ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَمَّا أَنَا فَلاَ آكُلُ مُتَّكِئًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ عَلِيِّ بْنِ الأَقْمَرِ ‏.‏ وَرَوَى زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَغَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الأَقْمَرِ هَذَا الْحَدِيثَ وَرَوَى شُعْبَةُ عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الأَقْمَرِ ‏.‏
ابوجحیفہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ہم اسے صرف علی بن اقمر کی روایت سے جانتے ہیں، علی بن اقمر سے اس حدیث کو زکریا بن ابی زائدہ، سفیان بن سعید ثوری اور کئی لوگوں نے روایت کیا ہے، شعبہ نے یہ حدیث سفیان ثوری سے علی بن اقمر کے واسطہ سے روایت کی ہے، ۳- اس باب میں علی، عبداللہ بن عمرو اور عبداللہ بن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدیث 1831 — جامع الترمذي 25:47
صحیحصحیححسن Sahihصحیح - Agreed Upon
حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، وَأَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُحِبُّ الْحَلْوَاءَ وَالْعَسَلَ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ ‏.‏ وَقَدْ رَوَاهُ عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ وَفِي الْحَدِيثِ كَلاَمٌ أَكْثَرُ مِنْ هَذَا ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میٹھی چیز اور شہد کو پسند کرتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- اسے علی بن مسہر نے بھی ہشام بن عروہ کے واسطہ سے روایت کی ہے، ۳- حدیث میں اس سے زیادہ باتیں ہیں۔
حدیث 1832 — جامع الترمذي 25:48
ضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فَضَاءٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا اشْتَرَى أَحَدُكُمْ لَحْمًا فَلْيُكْثِرْ مَرَقَتَهُ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ لَحْمًا أَصَابَ مَرَقَةً وَهُوَ أَحَدُ اللَّحْمَيْنِ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ فَضَاءٍ ‏.‏ وَمُحَمَّدُ بْنُ فَضَاءٍ هُوَ الْمُعَبِّرُ وَقَدْ تَكَلَّمَ فِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ وَعَلْقَمَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ هُوَ أَخُو بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ ‏.‏
عبداللہ مزنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی گوشت خریدے تو اس میں ( پکاتے وقت ) شوربا ( سالن ) زیادہ کر لے، اس لیے کہ اگر وہ گوشت نہ پا سکے تو اسے شوربا مل جائے، وہ بھی دو گوشت میں سے ایک گوشت ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں ابوذر سے بھی روایت ہے، ۲- ہم اسے صرف اسی سند سے محمد بن فضاء کی روایت سے جانتے ہیں، محمد بن فضاء «معبر» ( یعنی خواب کی تعبیر بیان کرنے والے ) ہیں، ان کے بارے میں سلیمان بن حرب نے کلام کیا ہے، ۳- یہ حدیث غریب ہے۔
حدیث 1833 — جامع الترمذي 25:49
صحیحصحیححسن Sahihصحیح
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الأَسْوَدِ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْقَزِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ صَالِحِ بْنِ رُسْتُمَ أَبِي عَامِرٍ الْخَزَّازِ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ يَحْقِرَنَّ أَحَدُكُمْ شَيْئًا مِنَ الْمَعْرُوفِ وَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيَلْقَ أَخَاهُ بِوَجْهٍ طَلِيقٍ وَإِنِ اشْتَرَيْتَ لَحْمًا أَوْ طَبَخْتَ قِدْرًا فَأَكْثِرْ مَرَقَتَهُ وَاغْرِفْ لِجَارِكَ مِنْهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ‏.‏
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگوں میں سے کوئی شخص کسی بھی نیک کام کو حقیر نہ سمجھے، اگر کوئی نیک کام نہ مل سکے تو اپنے بھائی سے مسکرا کر ملے ۱؎، اور اگر تم گوشت خریدو یا ہانڈی پکاؤ تو شوربا ( سالن ) بڑھا لو اور اس میں سے چلو بھر اپنے پڑوسی کو دے دو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- شعبہ نے بھی اسے ابوعمران جونی کے واسطہ سے روایت کیا ہے۔
حدیث 1834 — جامع الترمذي 25:50
صحیحصحیححسن Sahihصحیح - Agreed Upon
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ كَمُلَ مِنَ الرِّجَالِ كَثِيرٌ وَلَمْ يَكْمُلْ مِنَ النِّسَاءِ إِلاَّ مَرْيَمُ ابْنَةُ عِمْرَانَ وَآسِيَةُ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ وَفَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ وَأَنَسٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مردوں میں سے بہت سارے مرد درجہ کمال کو پہنچے ۱؎ اور عورتوں میں سے صرف مریم بنت عمران اور فرعون کی بیوی آسیہ درجہ کمال کو پہنچیں اور تمام عورتوں پر عائشہ کو اسی طرح فضیلت حاصل ہے جس طرح تمام کھانوں پر ثرید کو“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عائشہ اور انس سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدیث 1835 — جامع الترمذي 25:51
ضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ أَبِي أُمَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ زَوَّجَنِي أَبِي فَدَعَا أُنَاسًا فِيهِمْ صَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ انْهَسُوا اللَّحْمَ نَهْسًا فَإِنَّهُ أَهْنَأُ وَأَمْرَأُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْكَرِيمِ ‏.‏ وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي عَبْدِ الْكَرِيمِ الْمُعَلِّمِ مِنْهُمْ أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ ‏.‏
عبداللہ بن حارث کہتے ہیں کہ میرے باپ نے میری شادی کی اور لوگوں کو مدعو کیا، ان میں صفوان بن امیہ رضی الله عنہ بھی تھے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گوشت کو دانت سے نوچ کر کھاؤ اس لیے کہ وہ زیادہ جلد ہضم ہوتا ہے، اور لذیذ ہوتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کو ہم صرف عبدالکریم کی روایت سے جانتے ہیں اور عبدالکریم المعلم کے حافظہ کے بارے میں اہل علم نے کلام کیا ہے، کلام کرنے والوں میں ایوب سختیانی بھی ہیں، ۲- اس باب میں عائشہ اور ابوہریرہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدیث 1836 — جامع الترمذي 25:52
صحیحصحیححسن Sahihصحیح - Agreed Upon
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم احْتَزَّ مِنْ كَتِفِ شَاةٍ فَأَكَلَ مِنْهَا ثُمَّ مَضَى إِلَى الصَّلاَةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ‏.‏
عمرو بن امیہ ضمری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے بکری کی دست کا گوشت چھری سے کاٹا، اور اس میں سے کھایا، پھر نماز کے لیے تشریف لے گئے اور وضو نہیں کیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں مغیرہ بن شعبہ سے بھی روایت ہے۔
حدیث 1837 — جامع الترمذي 25:53
صحیحصحیححسن Sahihصحیح - Agreed Upon
حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أُتِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِلَحْمٍ فَرُفِعَ إِلَيْهِ الذِّرَاعُ وَكَانَتْ تُعْجِبُهُ فَنَهَسَ مِنْهَا ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَعَائِشَةَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ وَأَبِي عُبَيْدَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَأَبُو حَيَّانَ اسْمُهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدِ بْنِ حَيَّانَ وَأَبُو زُرْعَةَ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ اسْمُهُ هَرِمٌ ‏.‏
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گوشت لایا گیا اور آپ کو دست پیش کی گئی، آپ کو دست بہت پسند تھی، چنانچہ آپ نے اسے دانت سے نوچ کر کھایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن مسعود، عائشہ، عبداللہ بن جعفر اور ابوعبیدہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- ابوحیان کا نام یحییٰ بن سعید بن حیان ہے اور ابوزرعہ بن عمرو بن جریر کا نام ہرم ہے۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔