عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ام المؤمنین سودہ رضی الله عنہا کو ڈر ہوا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں طلاق دے دیں گے، تو انہوں نے عرض کیا: آپ ہمیں طلاق نہ دیں، اور مجھے اپنی بیویوں میں شامل رہنے دیں اور میری باری کا دن عائشہ رضی الله عنہا کو دے دیں، تو آپ نے ایسا ہی کیا، اس پر آیت «فلا جناح عليهما أن يصلحا بينهما صلحا والصلح خير» ”کوئی حرج نہیں کہ دونوں ( میاں بیوی ) صلح کر لیں اور صلح بہتر ہے“ ( النساء: ۱۲۸ ) ، تو جس بات پر بھی انہوں نے صلح کر لی، وہ جائز ہے۔ لگتا ہے کہ یہ ابن عباس رضی الله عنہما کا قول ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
براء بن عازب رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ آخری آیت جو نازل ہوئی یا آخری چیز جو نازل کی گئی ہے وہ یہ آیت ہے «يستفتونك قل الله يفتيكم في الكلالة» ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حدیث 3042 — جامع الترمذي 47:94
صحیحصحیححسن
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ : ( يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلاَلَةِ ) فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " تُجْزِيكَ آيَةُ الصَّيْفِ " .
براء بن عازب رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: اللہ کے رسول! «يستفتونك قل الله يفتيكم في الكلالة» کی تفسیر کیا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے سلسلہ میں تو تمہارے لیے آیت صیف ۱؎ کافی ہو گی“۔
طارق بن شہاب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی نے عمر بن خطاب رضی الله عنہ سے کہا: امیر المؤمنین! اگر یہ آیت «اليوم أكملت لكم دينكم وأتممت عليكم نعمتي ورضيت لكم الإسلام دينا» ”آج میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو کامل کر دیا اور تم پر اپنا انعام بھرپور کر دیا اور تمہارے لیے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہو گیا“ ( المائدہ: ۳ ) ، ہمارے اوپر ( ہماری توریت میں ) نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید بنا لیتے جس دن وہ نازل ہوئی تھی، عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے اس سے کہا: مجھے خوب معلوم ہے کہ یہ آیت کس دن نازل ہوئی تھی۔ یہ آیت یوم عرفہ ( نویں ذی الحجہ ) کو جمعہ کے دن نازل ہوئی تھی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
عمار بن ابی عمار کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی الله عنہما نے آیت «اليوم أكملت لكم دينكم وأتممت عليكم نعمتي ورضيت لكم الإسلام دينا» پڑھی، ان کے پاس ایک یہودی بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے کہا: اگر یہ آیت ہم ( یہودیوں ) پر نازل ہوئی ہوتی تو جس دن یہ آیت نازل ہوئی ہے اس دن کو ہم عید ( تہوار ) کا دن بنا لیتے یہ سن کر ابن عباس رضی الله عنہما نے کہا: یہ آیت عید ہی کے دن نازل ہوئی ہے۔ اس دن جمعہ اور عرفہ کا دن تھا۔ ( اور یہ دونوں دن مسلمانوں کی عید کے دن ہیں ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث ابن عباس کی روایت سے حسن غریب ہے۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کا داہنا ہاتھ بھرا ہوتا ہے، ( کبھی خالی نہیں ہوتا ) بخشش و عطا کرتا رہتا ہے، رات و دن لٹانے اور اس کے دیتے رہنے سے بھی کمی نہیں ہوتی، آپ نے فرمایا: ”کیا تم لوگوں نے دیکھا ( سوچا؟ ) جب سے اللہ نے آسمان پیدا کیے ہیں کتنا خرچ کر چکا ہے؟ اتنا کچھ خرچ کر چکنے کے باوجود اللہ کے ہاتھ میں جو کچھ ہے اس میں کچھ بھی کمی نہیں ہوئی۔ اس کا عرش پانی پر ہے، اس کے دوسرے ہاتھ میں میزان ہے وہ اسے بلند کرتا اور جھکاتا ہے ( جسے چاہتا ہے زیادہ دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے کم ) “۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ یہ حدیث اس آیت «وقالت اليهود يد الله مغلولة غلت أيديهم ولعنوا بما قالوا بل يداه مبسوطتان ينفق كيف يشاء» ۱؎ کی تفسیر ہے، اس حدیث کے بارے میں ائمہ دین کی روایت یہ ہے کہ ان پر ویسے ہی ایمان لائیں گے جیسے کہ ان کا ذکر آیا ہے، ان کی نہ کوئی تفسیر کی جائے گی اور نہ ہی کسی طرح کا وہم و قیاس لڑایا جائے گا۔ ایسا ہی بہت سے ائمہ کرام: سفیان ثوری، مالک بن انس، سفیان بن عیینہ، ابن مبارک وغیرہم نے کہا ہے۔ یہ چیزیں ایسی ہی بیان کی جائیں گی جیسی بیان کی گئی ہیں اور ان پر ایمان رکھا جائے گا لیکن ان کی کیفیت کے بارے میں سوال نہیں کیا جائے گا ۲؎۔
حدیث 3046 — جامع الترمذي 47:98
حسنحسنحسن
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُحْرَسُ حَتَّى نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ : ( وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ) فَأَخْرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأْسَهُ مِنَ الْقُبَّةِ فَقَالَ لَهُمْ " يَا أَيُّهَا النَّاسُ انْصَرِفُوا فَقَدْ عَصَمَنِي اللَّهُ " . حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ . وَرَوَى بَعْضُهُمْ، هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُحْرَسُ وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ عَنْ عَائِشَةَ .
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت و نگرانی کی جاتی تھی۔ یہاں تک کہ جب آیت «والله يعصمك من الناس» ”اور آپ کو اللہ تعالیٰ لوگوں سے بچائے گا“ ( المائدہ: ۶۷ ) ، نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر خیمہ سے باہر نکالا اور پہرہ داروں سے کہا: تم ( اپنے گھروں کو ) لوٹ جاؤ کیونکہ میری حفاظت کی ذمہ داری خود اللہ نے لے لی ہے ۱؎۔
حدیث 3047 — جامع الترمذي 47:99
ضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَمَّا وَقَعَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ فِي الْمَعَاصِي نَهَتْهُمْ عُلَمَاؤُهُمْ فَلَمْ يَنْتَهُوا فَجَالَسُوهُمْ فِي مَجَالِسِهِمْ وَوَاكَلُوهُمْ وَشَارَبُوهُمْ فَضَرَبَ اللَّهُ قُلُوبَ بَعْضِهِمْ بِبَعْضٍ وَلَعَنَهُمْ عَلَى لِسَانِ دَاوُدَ وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ ذَلِكَ بِمَا عَصَوْا وَكَانُوا يَعْتَدُونَ " . قَالَ فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكَانَ مُتَّكِئًا فَقَالَ " لاَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ حَتَّى تَأْطِرُوهُمْ عَلَى الْحَقِّ أَطْرًا " . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ يَزِيدُ وَكَانَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ لاَ يَقُولُ فِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي الْوَضَّاحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ وَبَعْضُهُمْ يَقُولُ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مُرْسَلٌ .
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب بنی اسرائیل گناہوں میں مبتلا ہو گئے تو انہیں ان کے علماء نے روکا مگر وہ لوگ باز نہ آئے، اس کے باوجود وہ ( علماء ) ان کی مجلسوں میں ان کے ساتھ بیٹھے، ان کے ساتھ مل کر مل کر کھائے پئے تو اللہ نے بعض کے دل بعض سے ملا دیئے ۱؎ اور ان پر داود اور عیسیٰ بن مریم کی زبان سے لعنت بھیجی، اور ایسا اس وجہ سے ہوا کہ وہ نافرمانی کرتے تھے اور مقررہ حدود سے آگے بڑھ جاتے تھے“، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سنبھل کر بیٹھ گئے۔ حالانکہ آپ ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے، آپ نے فرمایا: ”نہیں، قسم اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے! تم اس وقت تک نجات نہ پاؤ گے جب تک کہ ”تم ان بدکاروں کو برائی سے روک نہ دو“۔ ان کو بھلائی کی طرف موڑ نہ دو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- عبداللہ بن عبدالرحمٰن دارمی کہتے ہیں: یزید نے کہا کہ سفیان ثوری اس روایت میں عبداللہ بن مسعود کا نام نہیں لیتے ہیں، ۳- یہ حدیث محمد بن مسلم بن ابی الوضاح سے بھی روایت کی گئی ہے، وہ علی بن بذیمہ سے، علی بن بذیمہ ابوعبیدہ سے اور ابوعبیدہ عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کرتے ہیں، ۴- بعض راوی اسے ابوعبیدہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل روایت کرتے ہیں۔
ابوعبیدہ (بن عبداللہ بن مسعود) سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بنی اسرائیل میں جب کوتاہیاں و برائیاں پیدا ہوئیں تو اس وقت حال یہ تھا کہ آدمی اپنے بھائی کو گناہ میں مبتلا دیکھتا تو اسے اس گناہ کے کرنے سے روکتا، لیکن جب دوسرا دن آتا تو جو کچھ اس نے اسے کرتے دیکھا تھا وہ چیز اسے اس کا ہم نوالہ و ہم پیالہ اور ہم مجلس ہونے سے نہ روکتی، نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے ان کے دل ایک دوسرے سے ملا دیئے اور انہی لوگوں کے متعلق قرآن نازل ہوا، آپ نے «لعن الذين كفروا من بني إسرائيل على لسان داود وعيسى ابن مريم ذلك بما عصوا وكانوا يعتدون» سے لے کر «ولو كانوا يؤمنون بالله والنبي وما أنزل إليه ما اتخذوهم أولياء ولكن كثيرا منهم فاسقون» ۱؎ تک پڑھا۔ یہ باتیں کرتے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ٹیک لگائے ہوئے بیٹھے تھے، لیکن جب گفتگو اس مقام پر پہنچی تو آپ سنبھل کر بیٹھ گئے اور فرمایا: ”نہیں، تم نجات نہ پاؤ گے، تم عذاب الٰہی سے بچ نہ سکو گے جب تک کہ تم ظالم کا ہاتھ پکڑ نہ لو، اور اسے پوری طرح حق کی طرف موڑ نہ دو“۔
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے دعا کی اے اللہ شراب کے بارے میں ہمارے لیے تسلی بخش صاف صاف حکم بیان فرما، تو سورۃ البقرہ کی پوری آیت «يسألونك عن الخمر والميسر» ۱؎ نازل ہوئی۔ ( جب یہ آیت نازل ہو چکی ) تو عمر رضی الله عنہ بلائے گئے اور انہیں یہ آیت پڑھ کر سنائی گئی۔ ( یہ آیت سن کر ) عمر رضی الله عنہ نے پھر کہا: اے اللہ! ہمارے لیے شراب کا واضح حکم بیان فرمایا: تو سورۃ نساء کی آیت «يا أيها الذين آمنوا لا تقربوا الصلاة وأنتم سكارى» ۲؎ نازل ہوئی، عمر رضی الله عنہ پھر بلائے گئے اور انہیں یہ آیت بھی پڑھ کر سنائی گئی، انہوں نے پھر کہا: اے اللہ! ہمارے لیے شراب کا حکم صاف صاف بیان فرما دے۔ تو سورۃ المائدہ کی آیت «إنما يريد الشيطان أن يوقع بينكم العداوة والبغضاء في الخمر والميسر» سے «فهل أنتم منتهون» ۳؎ تک نازل ہوئی، عمر رضی الله عنہ پھر بلائے گئے اور آیت پڑھ کر انہیں سنائی گئی، تو انہوں نے کہا: ہم باز رہے ہم باز رہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اسرائیل سے مرسل طریقہ سے آئی ہے۔