قرآني·Qurani
اردو

التفسير

774 احادیث · #2950–3723

حدیث 3060 — جامع الترمذي 47:112
صحیحصحیحصحیح Bukhari
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنِ ابْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْقَاسِمِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ خَرَجَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَهْمٍ مَعَ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ وَعَدِيِّ بْنِ بَدَاءٍ فَمَاتَ السَّهْمِيُّ بِأَرْضٍ لَيْسَ فِيهَا مُسْلِمٌ فَلَمَّا قَدِمَا بِتَرِكَتِهِ فَقَدُوا جَامًا مِنْ فِضَّةٍ مُخَوَّصًا بِالذَّهَبِ فَأَحْلَفَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ وُجِدَ الْجَامُ بِمَكَّةَ فَقِيلَ اشْتَرَيْنَاهُ مِنْ عَدِيٍّ وَتَمِيمٍ فَقَامَ رَجُلاَنِ مِنْ أَوْلِيَاءِ السَّهْمِيِّ فَحَلَفَا بِاللَّهِ لَشَهَادَتُنَا أَحَقُّ مِنْ شَهَادَتِهِمَا وَأَنَّ الْجَامَ لِصَاحِبِهِمْ ‏.‏ قَالَ وَفِيهِمْ نَزَلَتْ ‏:‏ ‏(‏ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ ‏)‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَهُوَ حَدِيثُ ابْنِ أَبِي زَائِدَةَ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ بنی سہم کا ایک شخص، تمیم داری اور عدی بن بداء کے ساتھ ( سفر پر ) نکلا اور یہ سہمی ( جو تمیم داری اور عدی کا ہم سفر تھا ) ایک ایسی سر زمین میں انتقال کر گیا جہاں کوئی مسلمان نہ تھا، جب اس کے دونوں ساتھی اس کا ترکہ لے کر آئے تو اس کے گھر والے ( ورثاء ) کو اس کے متروکہ سامان میں چاندی کا وہ پیالہ نہ ملا جس پر سونے کا جڑاؤ تھا، چنانچہ ( جب مقدمہ پیش ہوا ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے قسم کھلائی۔ ( اور انہوں نے قسم کھا لی کہ ہمیں پیالہ نہیں ملا تھا ) لیکن وہ پیالہ سہمی کے گھر والوں کو مکہ میں کسی اور کے پاس مل گیا، انہوں نے بتایا کہ ہم نے تمیم اور عدی سے اسے خریدا ہے۔ تب سہمی کے وارثین میں سے دو شخص کھڑے ہوئے۔ اور انہوں نے اللہ کی قسم کھا کر کہا کہ ہماری شہادت ان دونوں کی گواہی سے زیادہ سچی ہے۔ اور پیالہ ہمارے ہی آدمی کا ہے۔ ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں: انہیں لوگوں کے بارے میں «يا أيها الذين آمنوا شهادة بينكم» والی آیت نازل ہوئی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، یہ ابن ابی زائدہ کی روایت ہے۔
حدیث 3061 — جامع الترمذي 47:113
ضعیف Isnaadضعیف
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خِلاَسِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أُنْزِلَتِ الْمَائِدَةُ مِنَ السَّمَاءِ خُبْزًا وَلَحْمًا وَأُمِرُوا أَنْ لاَ يَخُونُوا وَلاَ يَدَّخِرُوا لِغَدٍ فَخَانُوا وَادَّخَرُوا وَرَفَعُوا لِغَدٍ فَمُسِخُوا قِرَدَةً وَخَنَازِيرَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ‏.‏ قَدْ رَوَاهُ أَبُو عَاصِمٍ وَغَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ خِلاَسٍ عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ مَوْقُوفًا وَلاَ نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ الْحَسَنِ بْنِ قَزَعَةَ ‏.‏ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حَبِيبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، نَحْوَهُ وَلَمْ يَرْفَعْهُ وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ الْحَسَنِ بْنِ قَزَعَةَ وَلاَ نَعْلَمُ لِلْحَدِيثِ الْمَرْفُوعِ أَصْلاً ‏.‏
عمار بن یاسر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( عیسیٰ علیہ السلام کی قوم پر ) آسمان سے روٹی اور گوشت کا دستر خوان اتارا گیا اور حکم دیا گیا کہ خیانت نہ کریں نہ اگلے دن کے لیے ذخیرہ کریں، مگر انہوں نے خیانت بھی کی اور جمع بھی کیا اور اگلے دن کے لیے اٹھا بھی رکھا تو ان کے چہرے مسخ کر کے بندر اور سور جیسے بنا دئیے گئے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کو ابوعاصم اور کئی دوسرے لوگوں بطریق: «سعيد بن أبي عروبة عن قتادة عن خلاس عن عمار ابن ياسر» موقوفاً روایت کیا ہے۔
حدیث 3062 — جامع الترمذي 47:114
صحیح Isnaadصحیح Isnaadحسن Sahihضعیف
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ تَلَقَّى عِيسَى حُجَّتَهُ وَلَقَّاهُ اللَّهُ فِي قَوْلِهِِ ‏:‏ ‏(‏ وَإِذْ قَالَ اللَّهُ يَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ إِلَهَيْنِ مِنْ دُونِ اللَّهِ ‏)‏ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَلَقَّاهُ اللَّهُ ‏:‏ ‏(‏ سُبْحَانَكَ مَا يَكُونُ لِي أَنْ أَقُولَ مَا لَيْسَ لِي بِحَقٍّ ‏)‏ الآيَةَ كُلَّهَا ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
حدیث 3063 — جامع الترمذي 47:115
ضعیف Isnaadضعیف IsnaadحسنIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ حُيَىٍّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ آخِرُ سُورَةٍ أُنْزِلَتْ سُورَةُ الْمَائِدَةِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏ وَرُوِيَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ آخِرُ سُورَةٍ أُنْزِلَتْ ‏:‏ ‏(‏إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ ‏)‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ سب سے آخر میں نازل ہونے والی سورت سورۃ المائدہ ( اور سورۃ الفتح ) ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اور ابن عباس رضی الله عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: آخری سورۃ جو نازل ہوئی ہے وہ «إذا جاء نصر الله والفتح» ہے ۱؎۔
حدیث 3064 — جامع الترمذي 47:116
ضعیف Isnaadضعیف Isnaadضعیف
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ نَاجِيَةَ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّ أَبَا جَهْلٍ، قَالَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِنَّا لاَ نُكَذِّبُكَ وَلَكِنْ نُكَذِّبُ بِمَا جِئْتَ بِهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ ‏:‏ ‏(‏ إِِنَّهُمْ لاَ يُكَذِّبُونَكَ وَلَكِنَّ الظَّالِمِينَ بِآيَاتِ اللَّهِ يَجْحَدُونَ ‏)‏ ‏.‏ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ نَاجِيَةَ، أَنَّ أَبَا جَهْلٍ، قَالَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ عَلِيٍّ وَهَذَا أَصَحُّ ‏.‏
علی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ابوجہل نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: ہم آپ کو نہیں جھٹلاتے ہیں، بلکہ آپ جو ( دین قرآن ) لے کر آئے ہیں اسے جھٹلاتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ نے آیت «فإنهم لا يكذبونك ولكن الظالمين بآيات الله يجحدون» ”وہ لوگ تجھ کو نہیں جھٹلاتے ہیں بلکہ ظالم لوگ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں“ ( الانعام: ۳۳ ) ۔
حدیث 3065 — جامع الترمذي 47:117
صحیحصحیححسن Sahihصحیح Bukhari
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ ‏:‏ ‏(‏قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِكُمْ أَوْ مِنْ تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ ‏)‏ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَعُوذُ بِوَجْهِكَ ‏"‏ ‏.‏ فَلَمَّا نَزَلَتْْ ‏(‏ أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَكُمْ بَأْسَ بَعْضٍ ‏)‏ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ هَاتَانِ أَهْوَنُ - أَوْ - هَاتَانِ أَيْسَرُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ جب آیت «قل هو القادر على أن يبعث عليكم عذابا من فوقكم أو من تحت أرجلكم» ”کہہ دیجئیے، وہ ( اللہ ) قادر ہے اس بات پر کہ وہ تم پر کوئی عذاب بھیج دے اوپر سے یا نیچے سے“ ( الانعام: ۶۵ ) ، نازل ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تیری ذات کی پناہ لیتا ہوں“ پھر جب آگے «أو يلبسكم شيعا ويذيق بعضكم بأس بعض» ”یا تم کو مختلف فریق بنا کر ایک کو دوسرے کی طاقت کا مزہ چکھا دے“ ( الانعام: ۶۵ ) کا ٹکڑا نازل ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ دونوں ہی باتیں ( اللہ کے لیے ) آسان ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدیث 3066 — جامع الترمذي 47:118
ضعیف Isnaadضعیف Isnaadضعیف
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ الْغَسَّانِيِّ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي هَذِهِ الآيَةِ‏:‏ ‏(‏قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِكُمْ أَوْ مِنْ تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ ‏)‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَمَا إِنَّهَا كَائِنَةٌ وَلَمْ يَأْتِ تَأْوِيلُهَا بَعْدُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «قل هو القادر على أن يبعث عليكم عذابا من فوقكم أو من تحت أرجلكم» ”کہہ دو ( اے محمد! ) وہ ( اللہ ) قادر ہے کہ تم پر تمہارے اوپر سے عذاب بھیج دے یا تمہارے پیروں کے نیچے سے“ ( الانعام: ۶۵ ) ، کے متعلق فرمایا: ”آگاہ رہو یہ تو ہو کر رہنے والی بات ہے اور ابھی تک اس کا وقوع و ظہور نہیں ہوا ہے“ ( یعنی یہ عذاب نہیں آیا ہے ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدیث 3067 — جامع الترمذي 47:119
صحیحصحیححسن Sahihصحیح - Agreed Upon
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ ‏:‏ لَمَّا نَزَلَتْ‏:‏ ‏(‏ الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ ‏)‏ شَقَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأَيُّنَا لاَ يَظْلِمُ نَفْسَهُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ لَيْسَ ذَلِكَ إِنَّمَا هُوَ الشِّرْكُ أَلَمْ تَسْمَعُوا مَا قَالَ لُقْمَانُ لاِبْنِهِ ‏:‏ ‏(‏ يَا بُنَيَّ لاَ تُشْرِكْ بِاللَّهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ ‏)‏ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت «الذين آمنوا ولم يلبسوا إيمانهم بظلم» ”جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان میں ظلم ( شرک ) کی آمیزش نہ کی“ ( الأنعام ۸۲ ) ، نازل ہوئی تو مسلمانوں پر یہ بات گراں گزری، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم میں کون ایسا ہے جس سے اپنی ذات کے حق میں ظلم و زیادتی نہ ہوئی ہے۔ آپ نے فرمایا: ” ( تم غلط سمجھے ) ایسی بات نہیں ہے، اس ظلم سے مراد صرف شرک ہے، کیا تم لوگوں نے سنا نہیں کہ لقمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو کیا نصیحت کی تھی؟ انہوں نے کہا تھا: «يا بني لا تشرك بالله إن الشرك لظلم عظيم» ”اے میرے بیٹے! شرک نہ کر، شرک بہت بڑا گناہ ہے“ ( لقمان: ۱۳ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدیث 3068 — جامع الترمذي 47:120
صحیحصحیححسن Sahihصحیح - Agreed Upon
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الأَزْرَقُ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ كُنْتُ مُتَّكِئًا عِنْدَ عَائِشَةَ فَقَالَتْ يَا أَبَا عَائِشَةَ ثَلاَثٌ مَنْ تَكَلَّمَ بِوَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ فَقَدْ أَعْظَمَ عَلَى اللَّهِ الْفِرْيَةَ مَنْ زَعَمَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَأَى رَبَّهُ فَقَدْ أَعْظَمَ الْفِرْيَةَ عَلَى اللَّهِ وَاللَّهُ يَقُولُ ‏:‏ ‏(‏ لَا تُدْرِكُهُ الأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الأَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ ‏)‏ ، ‏(‏ مَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلاَّ وَحْيًا أَوْ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ ‏)‏ وَكُنْتُ مُتَّكِئًا فَجَلَسْتُ فَقُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَنْظِرِينِي وَلاَ تُعْجِلِينِي أَلَيْسَ يَقُولُ اللَّهُ ‏:‏ ‏(‏ وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى ‏)‏، ‏(‏ وَلََقَدْ رَآهُ بِالأُفُقِ الْمُبِينِ ‏)‏ قَالَتْ أَنَا وَاللَّهِ أَوَّلُ مَنْ سَأَلَ عَنْ هَذَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِنَّمَا ذَاكَ جِبْرِيلُ مَا رَأَيْتُهُ فِي الصُّورَةِ الَّتِي خُلِقَ فِيهَا غَيْرَ هَاتَيْنِ الْمَرَّتَيْنِ رَأَيْتُهُ مُنْهَبِطًا مِنَ السَّمَاءِ سَادًّا عِظَمُ خَلْقِهِ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ ‏"‏ ‏.‏ وَمَنْ زَعَمَ أَنَّ مُحَمَّدًا كَتَمَ شَيْئًا مِمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَقَدْ أَعْظَمَ الْفِرْيَةَ عَلَى اللَّهِ يَقُولُ اللَّهُ ‏:‏ ‏(‏ يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ ‏)‏ وَمَنْ زَعَمَ أَنَّهُ يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ فَقَدْ أَعْظَمَ الْفِرْيَةَ عَلَى اللَّهِ وَاللَّهُ يَقُولُ ‏:‏ ‏(‏قُلْ لاَ يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ الْغَيْبَ إِلاَّ اللَّهُ ‏)‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَمَسْرُوقُ بْنُ الأَجْدَعِ يُكْنَى أَبَا عَائِشَةَ وَهُوَ مَسْرُوقُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَهَكَذَا كَانَ اسْمُهُ فِي الدِّيوَانِ ‏.‏
مسروق کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کے پاس ٹیک لگا کر بیٹھا ہوا تھا، انہوں نے کہا: اے ابوعائشہ! تین چیزیں ایسی ہیں کہ ان میں سے کسی نے ایک بھی کیا تو وہ اللہ پر بڑی بہتان لگائے گا: ( ۱ ) جس نے خیال کیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ( معراج کی رات میں ) اللہ کو دیکھا ہے تو اس نے اللہ کی ذات کے بارے میں بڑی بہتان لگائی۔ کیونکہ اللہ اپنی ذات کے بارے میں کہتا ہے «لا تدركه الأبصار وهو يدرك الأبصار وهو اللطيف الخبير» ”کہ اسے انسانی نگاہیں نہیں پا سکتی ہیں، اور وہ نگاہوں کو پا لیتا ہے ( یعنی اسے کوئی نہیں دیکھ سکتا اور وہ سبھی کو دیکھ لیتا ہے ) اور اس کی ذات لطیف و خبیر ہے“، «وما كان لبشر أن يكلمه الله إلا وحيا أو من وراء حجاب» ”کسی انسان کو بھی یہ مقام و درجہ حاصل نہیں ہے کہ اللہ اس سے بغیر وحی کے یا بغیر پردے کے براہ راست اس سے بات چیت کرے“، ( وہ کہتے ہیں ) میں ٹیک لگائے ہوئے تھا اور اٹھ بیٹھا، میں نے کہا: ام المؤمنین! مجھے بولنے کا موقع دیجئیے اور میرے بارے میں حکم لگانے میں جلدی نہ کیجئے گا، کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا: «ولقد رآه نزلة أخرى» ”بیشک محمد نے اسے تو ایک مرتبہ اور بھی دیکھا تھا“ ( النجم: ۱۳ ) «ولقد رآه بالأفق المبين» ”بیشک انہوں نے اسے آسمان کے روشن کنارے پر دیکھا“ ( التکویر: ۲۳ ) تب عائشہ رضی الله عنہا نے کہا: قسم اللہ کی! میں وہ پہلی ذات ہوں جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا۔ آپ نے فرمایا: ”وہ تو جبرائیل علیہ السلام تھے ( ان آیتوں میں میرے دیکھنے سے مراد جبرائیل علیہ السلام کو دیکھنا تھا، اللہ کو نہیں ) ان دو مواقع کے سوا اور کوئی موقع ایسا نہیں ہے جس میں جبرائیل علیہ السلام کو میں نے ان کی اپنی اصل صورت میں دیکھا ہو۔ جس پر ان کی تخلیق ہوئی ہے، میں نے ان کو آسمان سے اترتے ہوئے دیکھا ہے، ان کی بناوٹ کی بڑائی یعنی بھاری بھر کم جسامت نے آسمان و زمین کے درمیان جگہ کو گھیر رکھا تھا“، ( ۲ ) : اور دوسرا وہ شخص کہ جو اللہ پر جھوٹا الزام لگانے کا بڑا مجرم ہے جس نے یہ خیال کیا کہ اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر جو چیزیں اتاری ہیں ان میں سے کچھ چیزیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے چھپا لی ہیں۔ جب کہ اللہ کہتا ہے «يا أيها الرسول بلغ ما أنزل إليك من ربك» ”جو چیز اللہ کی جانب سے تم پر اتاری گئی ہے اسے لوگوں تک پہنچا دو“ ( النساء: ۶۷ ) ، ( ۳ ) : وہ شخص بھی اللہ پر جھوٹا الزام لگانے والا ہے جو یہ سمجھے کہ کل کیا ہونے والا ہے، محمد اسے جانتے ہیں، جب کہ اللہ خود کہتا ہے «قل لا يعلم من في السموات والأرض الغيب إلا الله» ”کہ آسمان و زمین میں غیب اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدیث 3069 — جامع الترمذي 47:121
صحیحصحیححسنحسن
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْبَصْرِيُّ الْحَرَشِيُّ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَكَّائِيُّ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَتَى أُنَاسٌ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَأْكُلُ مَا نَقْتُلُ وَلاَ نَأْكُلُ مَا يَقْتُلُ اللَّهُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ ‏(‏ فَكُلُوا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ كُنْتُمْ بِآيَاتِهِ مُؤْمِنِينَ ‏)‏ إِلَى قَوْلِهِ ‏:‏ ‏(‏وَإِنْ أَطَعْتُمُوهُمْ إِنَّكُمْ لَمُشْرِكُونَ ‏)‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَيْضًا وَرَوَاهُ بَعْضُهُمْ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مُرْسَلاً ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم وہ جانور کھائیں جنہیں ہم قتل ( یعنی ذبح ) کرتے ہیں، اور ان جانوروں کو نہ کھائیں جنہیں اللہ قتل کرتا ( یعنی مار دیتا ) ہے، تو اللہ نے «فكلوا مما ذكر اسم الله عليه إن كنتم بآياته مؤمنين» سے «وإن أطعتموهم إنكم لمشركون» ۱؎ تک نازل فرمائی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اور یہ حدیث اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی ابن عباس رضی الله عنہما سے مروی ہے، ۳- بعض نے اسے عطا بن سائب سے اور عطاء نے سعید بن جبیر کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کی ہے۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔