قرآني·Qurani
اردو

التفسير

774 احادیث · #2950–3723

حدیث 3170 — جامع الترمذي 47:222
ضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَغَيْرُ، وَاحِدٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّمَا سُمِّيَ الْبَيْتُ الْعَتِيقَ لأَنَّهُ لَمْ يَظْهَرْ عَلَيْهِ جَبَّارٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مُرْسَلاً ‏.‏ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ ‏.‏
عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خانہ کعبہ کا نام «بيت العتيق» ۱؎ ( آزاد گھر ) اس لیے رکھا گیا کہ اس پر کسی جابر و ظالم کا غلبہ و قبضہ نہیں ہو سکا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث زہری کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل طریقہ سے آئی ہے۔
حدیث 3171 — جامع الترمذي 47:223
صحیح Isnaadصحیح Isnaadصحیح
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبِي وَإِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الأَزْرَقُ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ لَمَّا أُخْرِجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مِنْ مَكَّةَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ أَخْرَجُوا نَبِيَّهُمْ لَيَهْلِكُنَّ فَأَنْزَلَ اللَّهُ ‏:‏ ‏(‏أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ ‏)‏ الآيَةَ ‏.‏ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ لَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّهُ سَيَكُونُ قِتَالٌ ‏.‏ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏ وَقَدْ رَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ وَغَيْرُهُ عَنْ سُفْيَانَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ مُرْسَلاً لَيْسَ فِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے نکالے گئے تو ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا کہ ان لوگوں نے اپنے نبی کو ( اپنے وطن سے ) نکال دیا ہے، یہ لوگ ضرور ہلاک ہوں گے، تو اللہ تعالیٰ نے آیت «أذن للذين يقاتلون بأنهم ظلموا وإن الله على نصرهم لقدير» ”ان لوگوں کو بھی لڑنے کی اجازت دے دی گئی جن سے مظلوم ( و کمزور ) سمجھ کر جنگ چھیڑ رکھی گئی ہے، اللہ ان ( مظلومین ) کی مدد پر قادر ہے“ ( الحج: ۳۹ ) ، نازل فرمائی ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا: ( جب یہ آیت نازل ہوئی تو ) میں نے یہ سمجھ لیا کہ اب ( مسلمانوں اور کافروں میں ) لڑائی ہو گی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حدیث 3172 — جامع الترمذي 47:224
صحیح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ لَمَّا أُخْرِجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مِنْ مَكَّةَ قَالَ رَجُلٌ أَخْرَجُوا نَبِيَّهُمْ فَنَزَلَتْ ‏:‏ ‏(‏ أذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ * الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍّ ‏)‏ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابُهُ ‏.‏
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے نکالے گئے، ایک آدمی نے کہا: ان لوگوں نے اپنے نبی کو نکال دیا تو اس پر آیت «أذن للذين يقاتلون بأنهم ظلموا وإن الله على نصرهم لقدير الذين أخرجوا من ديارهم بغير حق» ”ان لوگوں کو بھی لڑنے کی اجازت دے دی گئی جن سے مظلوم ( و کمزور ) سمجھ کر جنگ چھیڑ رکھی گئی ہے، اللہ ان ( مظلومین ) کی مدد پر قادر ہے“ ( الحج: ۳۹ ) ، نازل ہوئی، یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو ناحق نکال دیا گیا ۱؎۔
حدیث 3173 — جامع الترمذي 47:225
ضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، وَغَيْرُ، وَاحِدٍ الْمَعْنَى، وَاحِدٌ، قَالُوا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رضى الله عنه يَقُولُ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْىُ سُمِعَ عِنْدَ وَجْهِهِ كَدَوِيِّ النَّحْلِ فَأُنْزِلَ عَلَيْهِ يَوْمًا فَمَكَثْنَا سَاعَةً فَسُرِّيَ عَنْهُ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ وَقَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ زِدْنَا وَلاَ تَنْقُصْنَا وَأَكْرِمْنَا وَلاَ تُهِنَّا وَأَعْطِنَا وَلاَ تَحْرِمْنَا وَآثِرْنَا وَلاَ تُؤْثِرْ عَلَيْنَا وَأَرْضِنَا وَارْضَ عَنَّا ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أُنْزِلَ عَلَىَّ عَشْرُ آيَاتٍ مَنْ أَقَامَهُنَّ دَخَلَ الْجَنَّةَ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَرَأَ ‏:‏ ‏(‏ قدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ ‏)‏ حَتَّى خَتَمَ عَشْرَ آيَاتٍ ‏.‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا أَصَحُّ مِنَ الْحَدِيثِ الأَوَّلِ سَمِعْتُ إِسْحَاقَ بْنَ مَنْصُورٍ، يَقُولُ رَوَى أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَعَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، هَذَا الْحَدِيثَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَمَنْ سَمِعَ مِنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، قَدِيمًا فَإِنَّهُمْ إِنَّمَا يَذْكُرُونَ فِيهِ عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ وَبَعْضُهُمْ لاَ يَذْكُرُ فِيهِ عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ وَمَنْ ذَكَرَ فِيهِ يُونُسَ بْنَ يَزِيدَ فَهُوَ أَصَحُّ وَكَانَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ رُبَّمَا ذَكَرَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ يُونُسَ بْنَ يَزِيدَ وَرُبَّمَا لَمْ يَذْكُرْهُ وَإِذَا لَمْ يَذْكُرْ فِيهِ يُونُسَ فَهُوَ مُرْسَلٌ ‏.‏
عبدالرحمٰن بن عبدالقاری کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی الله عنہ کو کہتے ہوئے سنا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جب وحی نازل ہوتی تھی تو آپ کے منہ کے قریب شہد کی مکھی کے اڑنے کی طرح آواز ( بھنبھناہٹ ) سنائی پڑتی تھی۔ ( ایک دن کا واقعہ ہے ) آپ پر وحی نازل ہوئی ہم کچھ دیر ( خاموش ) ٹھہرے رہے، جب آپ سے نزول وحی کے وقت کی کیفیت ( تکلیف ) دور ہوئی تو آپ قبلہ رخ ہوئے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر یہ دعا فرمائی: «اللهم زدنا ولا تنقصنا وأكرمنا ولا تهنا وأعطنا ولا تحرمنا وآثرنا ولا تؤثر علينا وارضنا وارض عنا» ”اے اللہ! ہم کو زیادہ دے، ہمیں دینے میں کمی نہ کر، ہم کو عزت دے، ہمیں ذلیل و رسوا نہ کر، ہمیں اپنی نعمتوں سے نواز، اپنی نوازشات سے ہمیں محروم نہ رکھ، ہمیں ( اوروں ) پر فضیلت دے، اور دوسروں کو ہم پر فضیلت و تفوّق نہ دے، اور ہمیں راضی کر دے ( اپنی عبادت و بندگی کرنے کے لیے ) اور ہم سے راضی و خوش ہو جا“ پھر آپ نے فرمایا: مجھ پر دس آیتیں نازل ہوئی ہیں جو ان پر عمل کرتا رہے گا، وہ جنت میں جائے گا، پھر آپ نے «قد أفلح المؤمنون» ( سورۃ المومنون: ۱- ۱۰ ) سے شروع کر کے دس آیتیں مکمل تلاوت فرمائیں۔
حدیث 3174 — جامع الترمذي 47:226
صحیحصحیححسن Sahihصحیح Bukhari
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، رضى الله عنه أَنَّ الرُّبَيِّعَ بِنْتَ النَّضْرِ، أَتَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَكَانَ ابْنُهَا حَارِثَةُ بْنُ سُرَاقَةَ أُصِيبَ يَوْمَ بَدْرٍ أَصَابَهُ سَهْمٌ غَرَبٌ فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ أَخْبِرْنِي عَنْ حَارِثَةَ لَئِنْ كَانَ أَصَابَ خَيْرًا احْتَسَبْتُ وَصَبَرْتُ وَإِنْ لَمْ يُصِبِ الْخَيْرَ اجْتَهَدْتُ فِي الدُّعَاءِ ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ يَا أُمَّ حَارِثَةَ إِنَّهَا جِنَانٌ فِي جَنَّةٍ وَإِنَّ ابْنَكِ أَصَابَ الْفِرْدَوْسَ الأَعْلَى وَالْفِرْدَوْسُ رَبْوَةُ الْجَنَّةِ وَأَوْسَطُهَا وَأَفْضَلُهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ أَنَسٍ ‏.‏
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ربیع بنت نضر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، ان کے بیٹے حارث بن سراقہ جنگ بدر میں شہید ہو گئے تھے، انہیں ایک انجانا تیر لگا تھا جس کے بارے میں پتا نہ لگ سکا تھا، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: آپ مجھے ( میرے بیٹے ) حارثہ کے بارے میں بتائیے، اگر وہ خیر پاس کا ہے تو میں ثواب کی امید رکھتی اور صبر کرتی ہوں، اور اگر وہ خیر ( بھلائی ) کو نہیں پاس کا تو میں ( اس کے لیے ) اور زیادہ دعائیں کروں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حارثہ کی ماں! جنت میں بہت ساری جنتیں ہیں، تمہارا بیٹا جنت الفردوس میں پہنچ چکا ہے اور فردوس جنت کا ایک ٹیلہ ہے، جنت کے بیچ میں ہے اور جنت کی سب سے اچھی جگہ ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث انس کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے۔
حدیث 3175 — جامع الترمذي 47:227
صحیحصحیححسن
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ الْهَمْدَانِيِّ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ هَذِهِ الآيَةِ ‏:‏ ‏(‏ والَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا آتَوْا وَقُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ ‏)‏ قَالَتْ عَائِشَةُ أَهُمُ الَّذِينَ يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ وَيَسْرِقُونَ قَالَ ‏"‏ لاَ يَا بِنْتَ الصِّدِّيقِ وَلَكِنَّهُمُ الَّذِينَ يَصُومُونَ وَيُصَلُّونَ وَيَتَصَدَّقُونَ وَهُمْ يَخَافُونَ أَنْ لاَ يُقْبَلَ مِنْهُمْ أُولَئِكَ الَّذِينَ يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَهُمْ لَهَا سَابِقُونَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَ هَذَا ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت «والذين يؤتون ما آتوا وقلوبهم وجلة» ”جو لوگ اللہ کے لیے دیتے ہیں، جو دیتے ہیں اور ان کے دل خوف کھا رہے ہوتے ہیں ( کہ قبول ہو گا یا نہیں ) “ ( المؤمنون: ۶۰ ) ، کا مطلب پوچھا: کیا یہ وہ لوگ ہیں جو شراب پیتے ہیں، اور چوری کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں، صدیق کی صاحبزادی! بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو روزے رکھتے ہیں، نمازیں پڑھتے ہیں، صدقے دیتے ہیں، اس کے باوجود ڈرتے رہتے ہیں کہ کہیں ان کی یہ نیکیاں قبول نہ ہوں، یہی ہیں وہ لوگ جو خیرات ( بھلے کاموں ) میں ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کی کوشش کرتے ہیں، اور یہی لوگ بھلائیوں میں سبقت لے جانے والے لوگ ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: عبدالرحمٰن بن سعید نے بھی اس حدیث کو ابوحازم سے، ابوحازم نے ابوہریرہ سے اور ابوہریرہ رضی الله عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے۔
حدیث 3176 — جامع الترمذي 47:228
ضعیفضعیفحسن Sahihحسن
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ أَبِي شُجَاعٍ، عَنْ أَبِي السَّمْحِ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏:‏ ‏(‏وهُمْ فِيهَا كَالِحُونَ ‏)‏ قَالَ ‏"‏ تَشْوِيهِ النَّارُ فَتَقَلَّصُ شَفَتُهُ الْعُلْيَا حَتَّى تَبْلُغَ وَسَطَ رَأْسِهِ وَتَسْتَرْخِي شَفَتُهُ السُّفْلَى حَتَّى تَضْرِبَ سُرَّتَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ ‏.‏
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت: «وهم فيها كالحون» ”اور وہ اس میں ڈراونی شکل والے ہوں گے“ ( المومنون: ۱۰۴ ) ، کے سلسلے سے فرمایا: ”جہنم ان کے منہ کو جھلسا دے گی، جس سے اوپر کا ہونٹ سکڑ کر آدھے سر تک پہنچ جائے گا اور نچلا ہونٹ لٹک کر ناف سے ٹکرانے لگے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حدیث 3177 — جامع الترمذي 47:229
حسن Isnaadحسن IsnaadحسنIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الأَخْنَسِ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ كَانَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ مَرْثَدُ بْنُ أَبِي مَرْثَدٍ وَكَانَ رَجُلاً يَحْمِلُ الأَسْرَى مِنْ مَكَّةَ حَتَّى يَأْتِيَ بِهِمُ الْمَدِينَةَ قَالَ وَكَانَتِ امْرَأَةٌ بَغِيٌّ بِمَكَّةَ يُقَالُ لَهَا عَنَاقُ وَكَانَتْ صَدِيقَةً لَهُ وَإِنَّهُ كَانَ وَعَدَ رَجُلاً مِنْ أُسَارَى مَكَّةَ يَحْمِلُهُ قَالَ فَجِئْتُ حَتَّى انْتَهَيْتُ إِلَى ظِلِّ حَائِطٍ مِنْ حَوَائِطِ مَكَّةَ فِي لَيْلَةٍ مُقْمِرَةٍ ‏.‏ قَالَ فَجَاءَتْ عَنَاقُ فَأَبْصَرَتْ سَوَادَ ظِلِّي بِجَنْبِ الْحَائِطِ فَلَمَّا انْتَهَتْ إِلَىَّ عَرَفَتْهُ فَقَالَتْ مَرْثَدُ فَقُلْتُ مَرْثَدُ ‏.‏ فَقَالَتْ مَرْحَبًا وَأَهْلاً هَلُمَّ فَبِتْ عِنْدَنَا اللَّيْلَةَ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ يَا عَنَاقُ حَرَّمَ اللَّهُ الزِّنَا ‏.‏ قَالَتْ يَا أَهْلَ الْخِيَامِ هَذَا الرَّجُلُ يَحْمِلُ أَسْرَاكُمْ ‏.‏ قَالَ فَتَبِعَنِي ثَمَانِيَةٌ وَسَلَكْتُ الْخَنْدَمَةَ فَانْتَهَيْتُ إِلَى كَهْفٍ أَوْ غَارٍ فَدَخَلْتُ فَجَاءُوا حَتَّى قَامُوا عَلَى رَأْسِي فَبَالُوا فَطَلَّ بَوْلُهُمْ عَلَى رَأْسِي وَأَعْمَاهُمُ اللَّهُ عَنِّي ‏.‏ قَالَ ثُمَّ رَجَعُوا وَرَجَعْتُ إِلَى صَاحِبِي فَحَمَلْتُهُ وَكَانَ رَجُلاً ثَقِيلاً حَتَّى انْتَهَيْتُ إِلَى الإِذْخِرِ فَفَكَكْتُ عَنْهُ كَبْلَهُ فَجَعَلْتُ أَحْمِلُهُ وَيُعِينُنِي حَتَّى قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْكِحُ عَنَاقًا مَرَّتَيْنِ فَأَمْسَكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلَمْ يَرُدَّ عَلَىَّ شَيْئًا حَتَّى نَزَلَتِ ‏:‏ ‏(‏الزَّانِي لاَ يَنْكِحُ إِلاَّ زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً وَالزَّانِيَةُ لاَ يَنْكِحُهَا إِلاَّ زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ وَحُرِّمَ ذَلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ ‏)‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَا مَرْثَدُ الزَّانِي لاَ يَنْكِحُ إِلاَّ زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً وَالزَّانِيَةُ لاَ يَنْكِحُهَا إِلاَّ زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ فَلاَ تَنْكِحْهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ مرثد بن مرثد نامی صحابی وہ ایسے ( جی دار و بہادر ) شخص تھے جو ( مسلمان ) قیدیوں کو مکہ سے نکال کر مدینہ لے آیا کرتے تھے، اور مکہ میں عناق نامی ایک زانیہ، بدکار عورت تھی، وہ عورت اس صحابی کی ( ان کے اسلام لانے سے پہلے کی ) دوست تھی، انہوں نے مکہ کے قیدیوں میں سے ایک قیدی شخص سے وعدہ کر رکھا تھا کہ وہ اسے قید سے نکال کر لے جائیں گے، کہتے ہیں کہ میں ( اسے قید سے نکال کر مدینہ لے جانے کے لیے ) آ گیا، میں ایک چاندنی رات میں مکہ کی دیواروں میں سے ایک دیوار کے سایہ میں جا کر کھڑا ہوا ہی تھا کہ عناق آ گئی۔ دیوار کے اوٹ میں میری سیاہ پرچھائیں اس نے دیکھ لی، جب میرے قریب پہنچی تو مجھے پہچان کر پوچھا: مرثد ہونا؟ میں نے کہا: ہاں، مرثد ہوں، اس نے خوش آمدید کہا، ( اور کہا: ) آؤ، رات ہمارے پاس گزارو، میں نے کہا: عناق! اللہ نے زنا کو حرام قرار دیا ہے، اس نے شور مچا دیا، اے خیمہ والو ( دوڑو ) یہ شخص تمہارے قیدیوں کو اٹھائے لیے جا رہا ہے، پھر میرے پیچھے آٹھ آدمی دوڑ پڑے، میں خندمہ ( نامی پہاڑ ) کی طرف بھاگا اور ایک غار یا کھوہ کے پاس پہنچ کر اس میں گھس کر چھپ گیا، وہ لوگ بھی اوپر چڑھ آئے اور میرے سر کے قریب ہی کھڑے ہو کر۔ انہوں نے پیشاب کیا تو ان کے پیشاب کی بوندیں ہمارے سر پر ٹپکیں، لیکن اللہ نے انہیں اندھا بنا دیا، وہ ہمیں نہ دیکھ سکے، وہ لوٹے تو میں بھی لوٹ کر اپنے ساتھی کے پاس ( جسے اٹھا کر مجھے لے جانا تھا ) آ گیا، وہ بھاری بھر کم آدمی تھے، میں نے انہیں اٹھا کر ( پیٹھ پر ) لاد لیا، اذخر ( کی جھاڑیوں میں ) پہنچ کر میں نے ان کی بیڑیاں توڑ ڈالیں اور پھر اٹھا کر چل پڑا، کبھی کبھی اس نے بھی میری مدد کی ( وہ بھی بیڑیاں لے کر چلتا ) اس طرح میں مدینہ آ گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ کر میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں عناق سے شادی کر لوں؟ ( یہ سن کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے مجھے کوئی جواب نہیں دیا، پھر یہ آیت «الزاني لا ينكح إلا زانية أو مشركة والزانية لا ينكحها إلا زان أو مشرك وحرم ذلك على المؤمنين» ”زانی زانیہ یا مشرکہ ہی سے نکاح کرے اور زانیہ سے زانی یا مشرک ہی نکاح کرے، مسلمانوں پر یہ نکاح حرام ہے“ ( النور: ۳ ) ، نازل ہوئی آپ نے ( اس آیت کے نزول کے بعد مرثد بن ابی مرثد سے ) فرمایا: ”اس سے نکاح نہ کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، اور ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
حدیث 3178 — جامع الترمذي 47:230
صحیحصحیححسن Sahihصحیح - Bukhari And Muslim
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ سُئِلْتُ عَنِ الْمُتَلاَعِنَيْنِ، فِي إِمَارَةِ مُصْعَبِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا فَمَا دَرَيْتُ مَا أَقُولُ فَقُمْتُ مِنْ مَكَانِي إِلَى مَنْزِلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَاسْتَأْذَنْتُ عَلَيْهِ فَقِيلَ لِي إِنَّهُ قَائِلٌ فَسَمِعَ كَلاَمِي فَقَالَ لِي ابْنَ جُبَيْرٍ ادْخُلْ مَا جَاءَ بِكَ إِلاَّ حَاجَةٌ قَالَ فَدَخَلْتُ فَإِذَا هُوَ مُفْتَرِشٌ بَرْدَعَةَ رَحْلٍ لَهُ فَقُلْتُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُتَلاَعِنَانِ أَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا فَقَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ نَعَمْ إِنَّ أَوَّلَ مَنْ سَأَلَ عَنْ ذَلِكَ فُلاَنُ بْنُ فُلاَنٍ أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ أَحَدَنَا رَأَى امْرَأَتَهُ عَلَى فَاحِشَةٍ كَيْفَ يَصْنَعُ إِنْ تَكَلَّمَ تَكَلَّمَ بِأَمْرٍ عَظِيمٍ وَإِنْ سَكَتَ سَكَتَ عَلَى أَمْرٍ عَظِيمٍ قَالَ فَسَكَتَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ يُجِبْهُ فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنَّ الَّذِي سَأَلْتُكَ عَنْهُ قَدِ ابْتُلِيتُ بِهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ هَذِهِ الآيَاتِ فِي سُورَةِ النُّورِ ‏:‏ ‏(‏والَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَدَاءُ إِلاَّ أَنْفُسُهُمْ ‏)‏ حَتَّى خَتَمَ الآيَاتِ قَالَ فَدَعَا الرَّجُلَ فَتَلاَهُنَّ عَلَيْهِ وَوَعَظَهُ وَذَكَّرَهُ وَأَخْبَرَهُ أَنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الآخِرَةِ فَقَالَ لاَ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا كَذَبْتُ عَلَيْهَا ‏.‏ ثُمَّ ثَنَّى بِالْمَرْأَةِ وَوَعَظَهَا وَذَكَّرَهَا وَأَخْبَرَهَا أَنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الآخِرَةِ فَقَالَتْ لاَ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا صَدَقَ ‏.‏ فَبَدَأَ بِالرَّجُلِ فَشَهِدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ وَالْخَامِسَةَ أَنَّ لَعْنَةَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَ ثُمَّ ثَنَّى بِالْمَرْأَةِ فَشَهِدَتْ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنَ الْكَاذِبِينَ وَالْخَامِسَةَ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ ثُمَّ فَرَّقَ بَيْنَهُمَا ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
سعید بن جبیر سے روایت ہے کہ مصعب بن زبیر رضی الله عنہ کی امارت کے زمانے میں مجھ سے پوچھا گیا: کیا لعان کرنے والے مرد اور عورت کے درمیان جدائی کر دی جائے گی؟ میری سمجھ میں نہ آیا کہ میں کیا جواب دوں میں اپنی جگہ سے اٹھ کر عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کے گھر آ گیا، ان کے پاس حاضر ہونے کی اجازت طلب کی، مجھ سے کہا گیا کہ وہ قیلولہ فرما رہے ہیں، مگر انہوں نے میری بات چیت سن لی۔ اور مجھے ( پکار کر ) کہا: ابن جبیر! اندر آ جاؤ، تم کسی ( دینی ) ضرورت ہی سے آئے ہو گے، میں اندر داخل ہوا، دیکھتا ہوں کہ وہ اپنے کجاوے کے نیچے ڈالنے والا کمبل بچھائے ہوئے ہیں، میں نے کہا: ابوعبدالرحمٰن! کیا دونوں لعان کرنے والوں کے درمیان جدائی کرا دی جائے گی؟ انہوں نے کہا: سبحان اللہ! پاک اور برتر ذات ہے اللہ کی، ہاں، ( سنو ) سب سے پہلا شخص جس نے اس بارے میں مسئلہ پوچھا وہ فلاں بن فلاں تھے، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، کہا: اللہ کے رسول! بتائیے اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو بدکاری میں مبتلا یعنی زناکاری کرتے ہوئے دیکھے تو کیا کرے؟ اگر بولتا ہے تو بڑی بات کہتا ہے اور اگر چپ رہتا ہے تو بڑی بات پر چپ رہتا ہے، آپ یہ سن کر چپ رہے اور انہیں کوئی جواب نہیں دیا۔ پھر جب اس کے بعد ایسا واقعہ پیش ہی آ گیا تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور عرض کیا: میں نے آپ سے جو بات پوچھی تھی، اس سے میں خود دوچار ہو گیا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے سورۃ النور کی آیات «والذين يرمون أزواجهم ولم يكن لهم شهداء إلا أنفسهم» ۱؎ سے ختم آیات تک «والخامسة أن غضب الله عليها إن كان من الصادقين» نازل فرمائیں، ابن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو بلایا اور اسے یہ آیتیں پڑھ کر سنائیں اور اسے نصیحت کیا، اسے سمجھایا بجھایا، اسے بتایا کہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے ہلکا ہے، اس نے کہا: نہیں، قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے! میں نے اس عورت پر جھوٹا الزام نہیں لگایا ہے، پھر آپ عورت کی طرف متوجہ ہوئے، اسے بھی وعظ و نصیحت کی، سمجھایا بجھایا، اسے بھی بتایا کہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب کے مقابل میں ہلکا اور آسان ہے ۲؎، اس نے کہا: نہیں، قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے! اس نے سچ نہیں کہا ہے، پھر آپ نے لعان کی شروعات مرد سے کی، مرد نے چار بار گواہیاں دی کہ اللہ گواہ ہے کہ وہ سچا ہے، پانچویں بار میں کہا کہ اگر وہ جھوٹا ہو تو اس پر اللہ کی لعنت ہو، پھر آپ عورت کی طرف متوجہ ہوئے اور اس نے بھی اللہ کی چار گواہیاں دیں، اللہ گواہ ہے کہ اس کا شوہر جھوٹوں میں سے ہے اور پانچویں بار کہا: اللہ کا غضب ہو اس پر اگر اس کا شوہر سچوں میں سے ہو، اس کے بعد آپ نے ان دونوں کے درمیان تفریق کر دی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں سہل بن سعد رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدیث 3179 — جامع الترمذي 47:231
صحیحصحیحصحیح Bukhari
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ هِلاَلَ بْنَ أُمَيَّةَ، قَذَفَ امْرَأَتَهُ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِشَرِيكِ بْنِ السَّحْمَاءِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ الْبِيِّنَةَ وَإِلاَّ حَدٌّ فِي ظَهْرِكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَقَالَ هِلاَلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذَا رَأَى أَحَدُنَا رَجُلاً عَلَى امْرَأَتِهِ أَيَلْتَمِسُ الْبَيِّنَةَ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ الْبَيِّنَةَ وَإِلاَّ حَدٌّ فِي ظَهْرِكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَقَالَ هِلاَلٌ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنِّي لَصَادِقٌ وَلَيَنْزِلَنَّ فِي أَمْرِي مَا يُبَرِّئُ ظَهْرِي مِنَ الْحَدِّ فَنَزَلَ ‏:‏ ‏(‏والَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَدَاءُ إِلاَّ أَنْفُسُهُمْ ‏)‏ فَقَرَأَ حَتَّى بَلَغَ ‏:‏ ‏(‏ والْخَامِسَةَ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ ‏)‏ قَالَ فَانْصَرَفَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمَا فَجَاءَا فَقَامَ هِلاَلُ بْنُ أُمَيَّةَ فَشَهِدَ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبٌ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَامَتْ فَشَهِدَتْ فَلَمَّا كَانَتْ عِنْدَ الْخَامِسَةِ ‏:‏ ‏(‏ أنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ ‏)‏ قَالُوا لَهَا إِنَّهَا مُوجِبَةٌ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَتَلَكَّأَتْ وَنَكَسَتْ حَتَّى ظَنَنَّا أَنْ سَتَرْجِعُ فَقَالَتْ لاَ أَفْضَحُ قَوْمِي سَائِرَ الْيَوْمِ ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَبْصِرُوهَا فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَكْحَلَ الْعَيْنَيْنِ سَابِغَ الأَلْيَتَيْنِ خَدَلَّجَ السَّاقَيْنِ فَهُوَ لِشَرِيكِ بْنِ السَّحْمَاءِ ‏"‏ ‏.‏ فَجَاءَتْ بِهِ كَذَلِكَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَوْلاَ مَا مَضَى مِنْ كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لَكَانَ لَنَا وَلَهَا شَأْنٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ وَهَكَذَا رَوَى عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ وَرَوَاهُ أَيُّوبُ عَنْ عِكْرِمَةَ مُرْسَلاً وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہلال بن امیہ رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی بیوی پر شریک بن سحماء کے ساتھ زنا کی تہمت لگائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گواہ لاؤ ورنہ تمہاری پیٹھ پر حد جاری ہو گی، ہلال نے کہا: جب ہم میں سے کوئی کسی شخص کو اپنی بیوی سے ہمبستری کرتا ہوا دیکھے گا تو کیا وہ گواہ ڈھونڈتا پھرے گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے رہے کہ تم گواہ پیش کرو ورنہ تمہاری پیٹھ پر حد جاری ہو گی۔ ہلال نے کہا: قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں سچا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے اس معاملے میں کوئی ایسی چیز ضرور نازل فرمائے گا جو میری پیٹھ کو حد سے بچا دے گی، پھر ( اسی موقع پر ) آیت «والذين يرمون أزواجهم ولم يكن لهم شهداء إلا أنفسهم» سے «والخامسة أن غضب الله عليها إن كان من الصادقين» تک نازل ہوئی آپ نے اس کی تلاوت فرمائی، جب آپ پڑھ کر فارغ ہوئے تو ان دونوں کو بلا بھیجا، وہ دونوں آئے، پھر ہلال بن امیہ کھڑے ہوئے اور گواہیاں دیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں سمجھانے لگے: اللہ کو معلوم ہے کہ تم دونوں میں سے کوئی ایک جھوٹا ہے تو کیا تم میں سے کوئی ہے جو توبہ کر لے؟ پھر عورت کھڑی ہوئی، اور اس نے بھی گواہی دی، پھر جب پانچویں گواہی ”اللہ کی اس پر لعنت ہو اگر وہ سچا ہو“ دینے کی باری آئی، تو لوگوں نے اس سے کہا: یہ گواہی اللہ کے غضب کو واجب کر دے گی ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں: ( لوگوں کی بات سن کر ) وہ ٹھٹکی اور ذلت و شرمندگی سے سر جھکا لیا، ہم سب نے گمان کیا کہ شاید وہ ( اپنی پانچویں گواہی ) سے پھر جائے گی، مگر اس نے کہا: میں اپنی قوم کو ہمیشہ کے لیے ذلیل و رسوا نہ کروں گی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس عورت کو دیکھتے رہو اگر وہ کالی آنکھوں والا موٹے چوتڑ والا اور بھری رانوں والا بچہ جنے تو سمجھ لو کہ دہ شریک بن سحماء کا ہے، تو اس نے ایسا ہی بچہ جنا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر کتاب اللہ ( قرآن ) سے اس کا فیصلہ ( لعان کا ) نہ آ چکا ہوتا تو ہماری اور اس کی ایک عجیب ہی شان ہوتی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے ہشام بن حسان کی روایت سے حسن غریب ہے، ۲- اس حدیث کو عباد بن منصور نے عکرمہ سے اور عکرمہ نے ابن عباس رضی الله عنہما کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، ۳- ایوب نے عکرمہ سے مرسلاً روایت کی ہے اور اس روایت میں ابن عباس کا ذکر نہیں کیا ہے۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔